کیا ہم بے حس ہو چکے ہیں؟


منظور پشتین کے سماجی شعور کی جڑیں شاید ان کی پشتون شناخت میں ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پشتون ساتھیوں کی تکالیف سے متاثر ہوں جو انہوں نے اپنے بچپن سے دیکھی ہیں۔ مگر جو سوالات وہ پوچھ رہا ہے وہ ہم سب کے لئے اہم ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ سے جس مکالمے نے جنم لیا ہے اس کا تعلق ہماری ریاست کے اپنے شہریوں سے جابرانہ روئے سے ہے اور ہماری ریاست کے کردار، ترجیحات اور اقدامات سے متعلق ہے جن سے شہریوں کے تین بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں  اور جن پر ان کے باقی دوسرے حقوق کی عمارت کھڑی ہے، یعنی آزادی، احترام اور برابری سے جینے کے حقوق۔

کچھ لوگ پشتین اور پی ٹی ایم کو بیرونی ایجنٹ کہنے میں مصروف ہیں، کچھ اسے دیوتا بنانے پر مصر ہیں۔ پشتین اور اس کی پی ٹی ایم کے ساتھی حیرت انگیز طور پر سارے نوجوان ہیں، جن کے خلوص کو عمر اور تجربے نے ابھی بگاڑا نہیں ہے۔ یہ لوگ اپنے شہریوں کے لئے ریاست کی ذمہ داری سے متعلق بنیادی سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کیا ریاست اور اس کی اشرافیہ نے ایسے فیصلے لئے ہیں اور کیا ایسی پالیسیاں اختیار کی ہیں جو ہمارے بہترین مفاد میں تھیں؟ ان کا ذکر چھوڑ بھی دیا جائے مگر ان کا پیغام ایسا ہے جو پاکستانیوں میں اپنا اثر رکھتا ہے۔ ایسا بہت کچھ ہے جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ روح سے محروم ہوچکے ہیں۔

عشروں پر محیط جنگ اور تشدد کے بعد ہی کہیں جا کر ہمارے بیچ ایک امن کی تحریک پیدا ہوئی۔ جب کہ ابھی امریکا اور اس کے حلیفوں نے افغانستان اور عراق پر جنگیں مسلط کرنے کا اعلان ہی کیا تھا کہ ہم نے لاکھوں لوگوں کو لندن اور نیو یارک کی سڑکوں پہ جنگ کی مخالفت میں مارچ کرتے دیکھا۔ جن لوگوں نے ان عاقبت نااندیش جنگوں کی مخالفت کی، اور جن جنگوں سے دنیا بھر میں تشدد کی لہر پھیل گئی، انہیں بھی دشمنوں کے ایجنٹ قرار نہیں دیا گیا تھا۔ ایسی ریاست کو جو احتساب کی عادی نہیں پی ٹی ایم کے سوالات بہت چبھ رہے ہیں۔ مگر ہماری ریاست کا ردعمل اس بات کی اشد ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ سوالات ضرور پوچھے جانے چاہئے۔

ہم کس قسم کے لوگ ہوں گے کہ اگر ہم نے پاکستان بھر میں تعصب، نفرت اور تشدد کی آگ سے مارے جانے والے ہزاروں شہریوں اور فوجیوں کی موت کے ذمہ داروں کا تعین نہ کیا؟ اور اگر ہم نے یہ پتہ کرنے کی کوشش نہ کی کہ ان درندوں کی پیدائش کے اسباب کیا تھے جن کی وجہ سے ہماری فوج اپنے ہی ملک میں جنگ لڑ لڑ کر تھک چکی ہے؟ یا اگر ہم اس جنگ کے لڑنے کے ذرائع دیکھ کر ششدر نہیں ہوجاتے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہی پائلٹ ہمارے اپنے جنگی جہازوں کو اڑاتے ہوئے، ہمارے ہی بم ہماری سرحدوں کے بیچ ہماری آبادیوں پر برسا رہے ہیں۔

یہ بات اہم نہیں ہے کہ پی ٹی ایم کی شناخت پختون ہے۔ پی ٹی ایم آسانی سے پاکستان تحفظ موومنت بن سکتی ہے کیوں کہ امن تو سب کو چاہئے۔ پی ٹی ایم کو پشتون بمقابلہ پنجابی کی بحث میں بھی الجھانا نہیں چاہئے نہ ہی اس بحث مین پڑنا چاہئے کہ اشرافیہ میں پشتون نمائندگی کتنی ہے اور ان پالیسیوں کو بنانے والوں میں کتنے پشتون شامل تھے۔ یہ بحث وہی لوگ شروع کرتے ہیں جو خود احتسابی سے مبرا ریاست کی بدترین پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہوں۔

کیا ہم آرٹیکل 25 جو آئین میں تمام شہریوں کو برابری کی یقین دہانی کرواتا ہے کو آرٹیکل 247 سے تطبیق دے سکتے ہیں؟ کیا فاٹا کے شہری اس ملک کے مکمل اور برابر کے شہری کہلا سکتے ہیں جب کہ ہمارا آئین ہی فاٹا کو ایک نوآبادیاتی حیثیت دیتا ہے جس میں اس سے سیلف گورننس کا حق چھین لیا جاتا ہے اور یہ علاقہ عدالتوں کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے، جب کہ ہمارے لئے اپنے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے عدالتیں موجود ہیں۔ کراچی کے حالات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوگئے ہوں کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ جرائم پیشہ محلوں پر ایف سولہ طیارے بمباری کریں گے؟ ایسی ریاست کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو اپنے شہریوں کو (چاہے وہ بدترین ہی کیوں نہ ہوں) جنگی قیدی نہ صرف سمجھتی ہو بلکہ ان سے جنگی قیدیوں سا معاملہ بھی کرتی ہو؟

جبری گمشدگیوں کا مسئلہ صرف پشتونوں کا نہیں ہے اگرچہ اس سے سب سے زیادہ پشتون ہی متاثر ہوئے ہیں۔ ایسی ریاست، جو کچھ شہریوں کی جبری گمشدگی کو دوسرے شہریوں کی حفاظت کی ضمانت سمجھتی ہو یا جو خود سے ہی، بلا کسی طے کردہ طریقہ کار پر چلے یہ طے کر لے کہ کس کے جینے  اور آزادی کے حقوق کی حفاظت کرنی چاہئے اور کس سے یہ حقوق چھین لینے چاہئیں اپنے آپ میں قانون کی حکمرانی کے حامل معاشرے کا الٹ ہے۔ اور یہ حقیقت ہمارے متشدد اذہان کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہم میں سے بہت سے یہ سوچتے ہیں کہ ایسے حقوق آسائشی ہیں جنہیں شہریوں کی جانب سے برے رویے کی پاداش میں چھینا جا سکتا ہے۔

ہم سیف سٹی پراجیکٹس پر اپنا پیسہ خرچ رہے ہیں اور شہروں میں جگہ جگہ کیمرے حفاظت کی غرض سے لگا رہے ہیں چاہے اس سے شہریوں کا احترام اور آسانی کا حق غصب ہوجائے۔ کیا ہم یہ سوچ بھی سکتے ہیں کہ ہر ایک (جی ہاں! ہر ایک) اسلام آباد اور کینٹونمنٹس میں پھیلی ہوئیں چیک پوسٹس پر صبح کام پر جانے سے پہلے اپنا شناختی کارڈ تھامے جسمانی تلاشی دے رہا ہو؟ ایسا کیوں ہے کہ جہاں جہاں ہماری اشرافیہ رہتی ہے وہاں سیکیورٹی ایجنسیاں بہترین رویہ اختیار رکھتی ہیں، کیوں؟ اس لئے کہ ایسا ہی ہونا چاہئے۔ آرٹیکل 14 میں جو حقوق دیئے گئے ہیں (احترام اور پرایویسی) اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر جب فاٹا کی بات آئے، اجی زمینی حقیقتیں، جنگی ضرورتیں۔۔۔

ہماری ان شہریوں کی جانب بے حسی جنہیں ریاستی ڈھانچہ اپنے ظلم کا نشانہ بنائے رکھتا ہے (اس کی وجہ ان کا جنس، نسل یا مذہبی شناخت کی وجہ سے معاشرے کے سب سے نچلے یا کمزور ترین درجے پہ ہونا ہے) مجھے میتھیو میکاناہے کی فلم ’’اے ٹائم ٹو کل‘‘ کے اس دلخراش منظر کی یاد کرواتا ہے جس میں وہ سیموئیل جیکسن کے دفاع میں ایک جیوری سے مخاطب ہو کر تقریر کر رہا ہوتا ہے۔ سیموئل جیکسن نے چند سفید فام مردوں کو اس لئے قتل کر دیا تھا کہ انہوں نے اس کی آٹھ برس کی بیٹی کا ریپ کیا تھا۔ میتھیو میکاناہے اس سفید فام باشندوں پہ مشتمل جیوری سے کہتا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں بند کریں اور اس منظر کو اپنے ذہن میں سوچیں:

’’یہ ایک ایسی بچی کی کہانی ہے جو ایک دوپہر کو گروسری سٹور سے اپنے گھر کی روزمرہ کی ضروریات کی چیزیں لے کر واپس آ رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اس چھوٹی سی بچی کا خاکہ اپنے ذہن میں بنائیں۔ اچانک ایک ٹرک پاس رکتا ہے، دو مرد باہر کودتے ہیں، اسے دبوچ لیتے ہیں۔ وہ اسے پاس ہی ایک کھیت میں گھسیٹتے ہوئے لے جاتے ہیں اور اسے باندھ کر اس کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں۔ پھر وہ باری باری اس پر چڑھتے ہیں۔۔۔۔ اور جب وہ فارغ ہو جاتے ہیں، جب وہ اس کے ننھے رحم کو قتل کر چکتے ہیں، اس کے کبھی بھی ماں بننے کی امید کو قتل کر چکتے ہیں، یہ کہ وہ اب کبھی بھی کوئی زندگی جنم نہیں دے سکتی۔ وہ اسے اپنے نشانہ بازی کی مشق کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

وہ اس پر بھرے ہوئے بیئر کے کین پھینکتے ہیں۔ وہ اس پر اس قدر زور زور سے پھینکتے ہیں کہ اس کا گوشت پھٹ کر ہڈیاں نمایاں ہوجاتی ہیں۔ وہ اس پر پیشاب کرتے ہیں۔ پھر اسے لٹکانے کی باری آتی ہے۔ ان کے پاس ایک رسی ہے۔ وہ پھندا باندھتے ہیں۔ لٹکانے کے لئے درخت کی شاخ اتنی مضبوط نہیں ہے۔ تو وہ اسے اپنے ساتھ ٹرک پر بٹھاتے ہیں۔ اور دھند والی ندی کے پل تک ڈرائیو کرتے ہیں۔ اور اسے کنارے سے پھینک دیتے ہیں۔

وہ اس ندی میں تیس فٹ نیچے جا کر گرتی ہے۔ کیا آپ اسے دیکھ سکتے ہیں؟ اس کا ریپ اور تشدد زدہ، ٹوٹا پھوٹا جسم جو ان کے پیشاب سے اور اس کے اپنے خون سے بھیگا ہوا ہے، اور وہاں مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیا آپ اسے دیکھ سکتے ہیں؟ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بچی کا خاکہ اپنے ذہنوں میں بنائیں۔۔۔ اور اب یہ تصور کریں کہ وہ بچی سفید فام ہے۔‘‘

یہ حیران کن ہے کہ جیسے ہی آپ مظلوم سے اپنا تعلق جوڑ سکتے ہیں تو سوچنے کے زاوئے کیسے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ہم نے ایسا ہی کیا جب اے پی ایس کا المیہ رونما ہوا کیوں کہ وہ ہمارے بچے بھی ہوسکتے تھے۔ اگر ہم ان لوگوں کا درد محسوس نہیں کر سکتے جن کی زندگیاں تشدد کی وجہ سے ضائع ہوگئی ہیں، جنہوں نے اپنے خاندان دہشت گردوں یا آئی ای ڈیز کے ہاتھوں گنوایا ہے یا جن کے پیارے غائب ہوگئے ہیں، گھر اور مال مویشی تباہ ہوگیا ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم روح اور دل سے محروم ہوچکے ہیں۔

(ترجمہ: ملک عمید)

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بابر ستار

بشکریہ روز نامہ جنگ

babar-sattar has 36 posts and counting.See all posts by babar-sattar