عقیدت کے چند نوٹ


adnan Kakar

تو صاحبو ہوا یوں کہ ایک دن خیال آیا کہ ہمارے جیسے عالم بے مثل اور فوٹوگرافر بے بدل کو چاہیے کہ تاریخ اور آثار قدیمہ کی طرف توجہ کر کے ان علوم کی سرپرستی بھی کرے کہ یہ علوم پڑے پڑے مردہ ہوئے جا رہے ہیں۔ ملکی آثار قدیمہ کا جائزہ لیا تو ان میں سے بیشتر سینکڑوں میل کی دوری پر تھے، لیکن ایک مقام نے توجہ کھینچ لی۔ بخدا پہلے کبھی خیال ہی نہیں آیا تھا کہ لاہور میں ایک عجائب گھر بھی ہے۔

خیر کیمرہ سنبھالا، دل تھاما اور عازم عجائب گھر ہوئے۔ ٹکٹ گھر پر ہی معلوم ہو گیا کہ عجائب گھر والے زندوں سے زیادہ بے جان چیزوں کو گرانقدر جانتے ہیں، کہ جو ٹکٹ ہمیں اپنے لیے خریدنا پڑا تو اس سے زیادہ قیمت ادا کر کے ایک اور ٹکٹ اپنے کیمرے کے لئے خریدنا لازم ٹھہرا۔

اندر داخل ہوئے تو ہمارے استقبال کی خاطر راہگزر کے دونوں اطراف میں مغل شاہزادیاں اور شہنشاہ صف آرا تھے۔ لیکن اس درویش کی طبیعت دربار شاہی میں نہیں بہلتی۔ یہ مغل شہزادیاں گو اپنے زمانے میں خوبصورت سمجھی جاتی ہوں گی، لیکن آج کے دور میں تو ان سے کہیں خوبرو اور دلکش شاہ زادیاں عجائب گھر کے پرلی طرف انارکلی میں نظر آ جاتی ہیں۔ درویش تعجب ہی کرتا رہ جاتا ہے کہ میک اپ کی صنعت کے بھی قوم پر کیا کیا احسانات ہیں، کہ جان کو جان جاں، اور جان جاں کو جان جاناں بنا ڈالتی ہے۔

بہرحال شہزادیوں سے ہٹا کر عجائب گھر پر توجہ مرکوز کی تو اس مغلیہ دربار سے کچھ آگے ہمیں سپید سنگ مرمر کے بنے ہوئے دو روشن و تاباں مجسمے نظر آئے۔ بخدا درویشوں کے ان مجسموں سے نور چھلکا پڑ رہا تھا۔ ہم خوش ہوئے کہ عجائب گھر والے بھی ہماری مانند صوفیا کو مانتے ہیں، کہ پورے عجائب گھر میں ان دو مجسموں کے علاوہ کسی اور پر اس طرح اہتمام سے سفید روشنی نہیں ڈالی گئی تھی۔ آلتی پالتی مارے، دھونی رمائے، لانبے گیسو سر پر باندھے، ہاتھ گود میں دھرے، سندھی صوفیا کے سے انداز میں سر پر کپڑا باندھے، ہونٹوں پر ایک ملکوتی مسکراہٹ سجائے، یہ بزرگ سامنے ہمیں ہی تک رہے تھے۔ ہم کشاں کشاں ان کی طرف کھنچے چلے گئے اور ان کی تصویر کھینچنے کا ارادہ کیا۔

لیکن کچھ دقت پیش آئی، کہ دائیں طرف والے بابا جی کے سامنے دو افراد کھڑے تھے۔ یہی کوئی بیس پچیس سالہ کی عمر ہو گی۔ شلوار قمیض میں ملبوس، اور چال ڈھال سے ہی پڑھے لکھے نظر آ رہے تھے۔ اس کی تائید ان کے انداز سے بھی ہوئی کہ کم از کم دس منٹ تک وہ ان بزرگ کے مجسمے کے سامنے کھڑے فن کے اس نادر نمونے کا تجزیہ کرتے رہے۔ صاف ظاہر تھا کہ یہ دو افراد آثار قدیمہ اور تاریخ میں خاص دلچسپی رکھنے کے علاوہ فن مجسمہ سازی کے ناقد و مداح بھی تھے۔ گو کہ ان کے کپڑوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ دو افراد سفید پوش ہیں، لیکن معیشت میں ان کی پسماندگی سے زیادہ علم میں ان کی دلچسپی نے اس ناچیز کو متاثر کیا۔

خیر ہم نے ان کی محویت میں خلل ڈالنا مناسب نہ جانا اور بائیں طرف والے بابا جی کے مجسمے کے سامنے حاضری دی اور ان کی تصاویر اتارنے لگے کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ کچھ دیر بعد پہلے والے بابا جی کے مجسمے کے سامنے سے وہ دو افراد ہٹے تو ہم نے ان بابا جی کے سامنے حاضری دی۔

آلتی پالتی مارے، دھونی رمائے، لانبے گیسو سر پر باندھے، ہاتھ گود میں دھرے، سندھی صوفیا کے سے انداز میں سر پر کپڑا باندھے، ہونٹوں پر ایک ملکوتی مسکراہٹ سجائے، یہ صوفی بزرگ سامنے ہمیں ہی تک رہے تھے۔ اور ان کی گود میں رکھے ہاتھوں میں دJainStatue18thCenturyس دس کے چند
نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ اور مجسمے کے نیچے ایک تختی پر رقم تھا کہ ‘جین مت کا ایک پیشوا، تاریخ انیسویں صدی عیسوی، گجرانوالہ’۔

معلوم ہوا کہ ہم سے پہلے وہاں گزرنے والے افراد ان جینی بزرگ کے آستانے پر نذرانہ پیش کر گئے تھے اور اتنی دیر کھڑے رہ کر غالباً وہ ان بابا جی سے من کی مرادیں مانگتے رہے تھے۔ کچھ تشویش ہوئی کہ پہلی گیلری میں ہی ان غریبوں کو نذرانہ دینا پڑ گیا ہے تو عجائب گھر کے باقی کمروں میں جا کر وہ کیا کریں گے جہاں سینکڑوں ایسے جین، ہندو اور بدھ بزرگ تشریف فرما ہیں۔ لیکن جلد ہی ہماری سوچ کا مرکز ایک اور نقطہ بن گیا۔

سوال یہ تھا کہ ان بزرگ کے ہاتھوں میں دھرا تبرک ہم اپنے کھیسے میں کیسے منتقل کریں کہ ہمارے لیے یہ متبرک ہدیہ کافی باعث برکت ثابت ہو سکتا تھا اور ہمیں اس سرد موسم میں ایک گرما گرم چائے کا کپ پلا کر قلب و روح کو گرمانے کا باعث ہو سکتا تھا۔ دل تو یہی تھا لیکن فکر یہ بھی تھی کہ بیش قیمت قبا زیب تن کیے اور امرا کا سا انداز اختیار کیے، اگر ہم یہ نوٹ اچکتے پکڑے گئے تو کیا ہو گا۔ ناچار ہم نے گارڈ کو بلایا اور خودی کو نہایت بلند کرتے ہوئے پرفکر انداز میں اسے کہا کہ دیکھو میاں، کوئی ناسمجھ اور بدعقیدہ شخص یہاں کچھ پیسے دھر گیا ہے، ان کا کچھ کر لو، ورنہ کوئی اچکا ان کو اپنے کھیسے میں ڈالنے کے چکر میں مجسمے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ گارڈ نے قوم کی اخلاقی حالت پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے نوٹ اپنی جیب میں ڈالے اور ان کا بندوبست کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہوا اپنی سیٹ پر واپس پہنچا۔

ہم حیران ہوئے کہ کیا ان بے جان مجسموں کو نذرانہ پیش کرنا بہتر ہے یا زندہ پیروں کو، یا پھر دونوں کا ایک ہی معاملہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar