خادم حسین کے خلاف مقدمات کی نئے سرے سے تفتیش کی جارہی ہے: سرکاری وکیل


خادم حسین

AFP

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد میں دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر افراد کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ان مقدمات کو التوا میں ڈالنے کا حکم اس مقدمے کے سرکاری وکیل کی درخواست پر دیا ہے۔

اس سے پہلے متعقلہ عدالت ملزم خادم حسین رضوی کو عدالت میں عدم پیشی پر نہ صرف اُنھیں اشتہاری قرار دے چکی ہے بلکہ ان کے ناقبابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر چکی ہے۔

حکومت سے معاہدے کے بعد تحریک لبیک کا احتجاج ختم

خادم رضوی کی گرفتاری: پولیس نے جگہ جگہ اشتہار لگا دیے

’ایجنسی کی رپورٹ کے بعد ملکی تحفظ کیلیے خوف آنے لگا ہے‘

تحریک لبیک یا رسول اللہ کے نام پر جھگڑا

پیر کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جب ان مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات کی نئے سرے سے تفتیش کی جارہی ہے جبکہ اس ضمن میں ایک نئی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فیص آباد میں دھرنے کے دوران نئے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کی تفتیش کرنا بہت ضروری ہے۔

سرکاری وکیل کا مذید کہنا تھا کہ تفتیش کی روشنی میں نیا چالان عدالت میں جمع کروایا جائے گا ۔ اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک تفتیش کا عمل مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک اس مقدمے کو التوا میں ڈال دیا جائے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ خادم حسین رضوی کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو التوا میں ڈالنا اسی معاہدے کی کڑی ہے جو پنجاب حکومت اور لاہور میں دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ کی قیادت کے درمیان چند روز قبل ہوا ہے۔

اس معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اس جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو واپس لے لیا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت فیض آباد دھرنے کے دوران قانون نافد کرنے والے اداروں کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے چھ افراد کے قتل کا مقدمہ بھی راولپنڈی کے ایک تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

لاہور میں اس جماعت کی طرف سے دیے گئے دھرنے کے دوران اس جماعت کی قیادت کی طرف سے صوبے بھر میں احتجاجی مظاہرے کی کال دے دی گئی جس پر لبیک یا رسول اللہ کی جماعت کے کارکنوں نے اہم شاہراوں کو بلاک کردیا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

فیض آباد دھرنا

AFP

اسلام آباد پولیس کی طرف سے فیض آباد دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں جو رپورٹس پیش کی گئی تھیں اس کے مطابق دھرنے کے دوران احتجاجی مظاہرین نے سرکاری املاک کو جو نقصان پہنچایا اس کی مالیت 15کروڑ روپے ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ ملزم خادم حسین رضوی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اس لیے ایسے مقدمات میں نہ تو فریقین کے درمیان صلح ہوسکتی ہے اور نہ ہی ان دفعات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملک کے خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اُٹھائے ہیں۔

فیض آباد دھرنے کے دوران ملزم خادم حسین رضوی سمیت اس جماعت کی قیادت نے نہ صرف عدالتی احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ ملک کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر ججز کے خلاف نازیبا کلمات بھی کہے تھے تاہم ان کے خلاف توہین عدالت کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3273 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp