امریکہ کے شام پر حملے کی حقیقت



جمعہ کی صبح امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام میں تین مخصوص مقامات پر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ دمشق کے قریب امریکا اور فرانس کی طرف سے شام پر میزائل داغے گئے جب کے حمص میں ایک فوجی اڈے پر برطانوی طیاروں نے بمباری کی۔ یہ حملے 8 اپریل کو شام کے دوما پر ایک ایسے حملے کے بعد کیے گئے جس میں امریکہ نے شام پر ممنوعہ کیمیائی گیس استعمال کرنے کا الزام لگایاتھا۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں امریکی عوام کو مشن مکمل کی خوشخبری بھی سنا دی۔ یہ مشن کس حد تک مکمل اور کامیاب ہے اس پر بات کرنے سے پہلے ان محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہے جن کی وجہ سے شام اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی موجودہ صورتحال پیدا ہوئی

شام کی سرکاری فوج نے روس کے ساتھ مل کر جب غوطہ میں باغیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تو ان کے سامنے باغیوں کے دو بڑے گروپ جیش اسلام اور فلیق الرحمن تھے۔ جیش اسلام غوطہ میں شامی فوج کے خلاف لڑنے والا باغیوں کا سب سے بڑا گروپ ہے جس کے قبضہ میں مشرقی غوطہ کا علاقہ تھا۔ جیش اسلام کو امریکہ اور سعودی عرب کی صرف اخلاقی حمایت حاصل نہیں بلکہ سعودی عرب اور امریکہ جیش اسلام کی کھلے عام مالی اور عسکری دونوں طرح کی حمایت کرتے ہیں۔

جون 2016 میں اس وقت کے امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے اپنے ایک بیان میں جب جیش اسلام کو القاعدہ اور جبھة النصرة کا ذیلی گروپ کہہ کر بین کرنے کی بات کی تو ایک لمحے میں ہی امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے اس بیان کی وضاحت آ گئی کہ جان کیری کا مقصد یہ نہیں تھا۔ بعد ازاں اس بیان کو ہی واپس لے لیا گیا۔

اسی سال جب مصر، شام، روس اور ایران نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگائی تو سب سے زیادہ ردعمل بھی سعودی عرب اور امریکہ کی طرف سے آیا۔
آخری بار جب امریکہ نے کیمیائی گیس کے استعمال کا الزام لگا کر 7 اپریل 2017 کو شام پر میزائل فائر کیے تھے اس وقت بھی کیمیائی گیس کے استعمال کا دعوی جیش اسلام نے ہی کیا تھا۔
غوطہ میں سرکاری اور روسی افواج سے لڑنے والا دوسرا بڑا گروپ فلیق الرحمن ہے۔ یہ گروپ فری سیرین آرمی کا ایک ذیلی گروپ ہے جس کے قبضہ میں جنوبی اور مغربی غوطہ کا پورا علاقہ تھا۔ فلیق الرحمن کو ترکی کی حمایت حاصل ہے۔

فلیق الرحمن کو ترکی کی کتنی حمایت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 2018 کے آغاز میں ترکی نے عفرین میں فری سیرین آرمی کی مدد سے آپریشن اولیو برانچ شروع کیا تو ترکی نے اس گروپ کو اپنی فوج کے لئے ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔

پچھلے کچھ عرصے سے یہ دو گروپ روسی اور شامی افواج کے لئے درد سر بنے تھے۔ دمشق کے داخلی راستوں اور اہم شاہراہوں پر ان کے قبضے سے سرکاری اتحادی افواج کی پورے ملک میں جاری کارروائیاں متاثر ہو رہی تھی۔ صرف ماہ جنوری فروری میں ان دونوں گروپوں نے شامی فوج کے آٹھ قافلوں کو نشانہ بنایا۔ آخر کار شامی سرکاری افواج نے روس کو ساتھ لے کر ان کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی۔ سعودی عرب ترکی اور امریکی حمایت کے باوجود شامی اتحادی طیاروں کی بمباری کے سامنے کھڑا ہونا ان تنظیموں کے لئے آسان نہ تھا۔ اور کچھ ہی دنوں میں ان کو پسپا ہونا پڑا۔

اس میں کوئی شک نہیں شامی اور روسی فوج نے غوطہ پر وحشیانہ بمباری کی۔ سویلین اور عسکری تنصیبات کے درمیان کوئی فرق نہ رکھا گیا۔ غوطہ کی محصور عوام پر جیٹ طیاروں سے آگ برسائی گئی کئی سو بچے خواتین بزرگ اور نہتے جوان اس کارپٹ وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنے۔ کوئی بھی درد دل رکھنے والا انسان اس ظالمانہ کارروائی کا دفاع نہیں کر سکتا۔
اسی دوران 8 اپریل کو شامی سرکاری اتحادی افواج نے دمشق سے 10 میل کے فاصلے پر آباد شہر دوما پر جیش اسلام کے ایک ممکنہ ٹھکانے پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی جس میں تقریباً ساٹھ سے ستر لوگ مارے گئے۔

تمام لوکل شامی اور انٹرنیشنل میڈیا ذرائع سے جانکاری حاصل کرنے کے بعد میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کے اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں نوے فیصد عام شہری تھے۔
حملے کے بعد جیش اسلام نے شام پر کیمیائی گیس کے استعمال کا الزام لگایا جس پر یورپی ممالک اور امریکہ کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ دوسری طرف روس ایران اور شام نے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

روسی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق دوما میں شامی فوج کی کارروائی کے دوران کیمیائی گیس یا ہتھیار کا استعمال نہیں کیا گیا مگر غوطہ میں موجود باغی گروپ جیش اسلام کے پاس برطانوی ساختہ خطرناک کیمیائی ہتھیار ضرور موجود ہیں جن کو کسی بھی وقت استعمال کر کے الزام سرکاری افواج پر لگایا جا سکتا ہے۔

خود امریکی سیکٹری دفاع جمیز میٹس نے بھی ایک پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کے ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ دوما میں کیمیائی گیس کا استعمال کیا گیا۔
ٹرمپ کا مشن کتنا مکمل ہے اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں شام کی طرف داغے گئے ایک سو انیس ہتھیاروں میں سے انسٹھ ٹوما ہاک میزائل تھے۔ جن میں سے صرف 23 ہی شام میں اپنے ہدف تک پہنچ پاے باقی کو روسی ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعہ ناکارہ بنا دیا گیا اور ان کی ویڈیوز بھی شامی اور روسی میڈیا پر نشر کی گئیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ اور اتحادی ملکوں کی کارروائی سے چھ شامی مگ ہوائی جہاز اور 3 ٹریننگ کمپس تباہ کیے گئے جب کہ حمص کے قریب برطانوی طیاروں کی بمباری سے کیمیائی گیس کی تیاری کے لئے استعمال ہونے والے پرزوں کے ایک ریسرچ سنٹر کو تباہ کر دیا گیا۔ روسی آرمی چیف نے اپنے ایک بیان میں ان تمام دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

اگر ایک لمحے کے لئے امریکی دعوؤں کو سچ مان بھی لیا جائے تو بھی یہاں سوچنے کی بات یہ ہے امریکہ کی طرف سے ایک سو انیس ہتھیار بشمول انسٹھ ٹوما ہاک میزائل داغے گئے۔ ایک ٹوما ہاک میزائل کی قیمت ایک اشاریہ چار ملین ڈالر ہے اگر یہ قیمت ٹوٹل کی جائے تو بیاسی اشاریہ چھ بنتی ہے۔ باقی دیگر ہتھیاروں کی اگر ایک محتاط قیمت لگا کر بھی حساب لگایا جائے تو امریکہ کو یہ کارروائی ایک سو بارہ ملین ڈالر میں پڑی۔ اگر ایک سو بارہ ملین لگا کر تیس سال پرانے چھ مگ اور کچھ ٹریننگ کمپس کو تباہ کرنا کامیابی ہے تو امریکہ کو یہ کامیابی مبارک ہو۔

دوما میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے والی بات تو شاید امریکہ بھی ثابت نہ کر پاے مگر سعودی عرب ترکی اور اسرائیل نے جس طرح اس امریکی کارروائی کی حمایت کی ہے اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ غوطہ میں جیش اسلام اور فلقین الرحمن کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں