پاکستانی فلم اور سینما انڈسٹری کا مستقبل


سن 2018ء کو پاکستانی فلمی صنعت کے لیے خوش آئند اور مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ریلیز ہونیوالی فلموں نے درمیانے درجے کا بزنس کیا۔ تازہ ترین ریلیز کردہ فلم ’کیک‘ اس وقت نمائش پزیر ہے اور عوام اسے پسند کر رہے ہیں۔ 20 اپریل کو فلم ’موٹر سائیکل گرل ‘ ریلیز ہونیوالی ہے۔ عیدین کے موقع پر کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے جب آزادی، سات دن محبت اِن، جوانی پھر نہیں آنی ٹو وغیرہ دیکھنے کو ملیں گی۔ ان کے علاوہ مولا جٹ ٹو، جیک پاٹ، ضرار، پرواز ہے جنوں، وجود، شور شرابہ، طیفا ان ٹربل بھی اسی سال ریلیز ہوں گی۔ ان تمام فلموں سے خاصی توقعات وابستہ ہیں۔ عیدین کے موقع پر تو فلم بینوں کی بڑی تعداد سینما کا رخ کرتی ہے اور نارمل درجے کی فلمیں بھی اچھا خاصا بزنس کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

اس وقت فلمسازی لاہور سے زیادہ کراچی میں ہو رہی ہے۔ کراچی کے فلمسازوں نے اگرچہ فلمی صنعت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ لیکن ان کی فلموں پر تخلیقی اور فنی اعتبار سے کئی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ چند ایک ڈراماز بنانے کے بعد جن ہدایتکاروں نے فلمسازی کے میدان میں قدم رکھا، اُنکا تجربہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ جس کی وجہ سے وہ ڈراموں جیسی فلمیں ہی بنا سکے۔ ان فلموں کا ٹریٹمنٹ، کہانی، اور سینماٹوگرافی دیکھ کر لگتا تھا جیسے ہم بڑی سکرین پر ڈراما یا ٹیلی فلم دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوآموز فلمسازوں نے سینما کی رونق تو ضرور بڑھائی لیکن تکنیکی، تخلیقی، اور فنی لحاظ سے چند ایک کے سوا باقی کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ نبیل قریشی اور یاسر نواز کا کام اس حوالے سے دیگر کی نسبت کافی بہتر تھا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے فلمساز و ہدایتکار لالی وڈ کے سینئر فلمسازوں کی رہنمائی میں فلمیں بنائیں مثلاً جاوید شیخ، مسعود بٹ، سید نور، سنگیتا بیگم، حسن عسکری وغیرہ۔ بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ لاہور اور کراچی کی فلمی صنعت یکجا ہو کر کام کریں تاکہ جونیئر اور سینئر کے تعاون و اشتراک سے اعلیٰ درجے کی فلمیں دیکھنے کو ملیں۔ نہ کہ یہ کہ کراچی والے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ رہیں اور لاہور والے کام نہ ہونے کے سبب پریشان۔

اسی حوالے سے ایک اور نکتہ ء نظر یہ بھی ہے کہ فلم اور ٹی وی چونکہ دو مختلف شعبے ہیں سو ان دونوں شعبوں کے پروڈیوسرز اور ہدایتکار بھی الگ الگ ہونے چاہئیں۔ یعنی ڈراما ڈائریکٹرز کو صرف ڈراما بنانا چاہیے اور فلم صرف فلمساز بنائے۔ دونوں میڈیمز کے تقاضے الگ الگ ہونے کی بنا پر ٹی وی فنکاروں اور پروڈیوسرز کے لیے بہت مشکل ہے کہ فلم کو فلم ہی کے طریقے سے بنائیں جو ٹی وی ڈرامے جیسی نہ لگے۔

اس وقت لالی وڈ کوئین، اداکارہ و ہدایتکارہ ریما خان اپنی تیسری فلم کا سکرپٹ خلیل الرحمن قمر سے لکھوا رہی ہیں۔ توقع ہے کہ پہلی دو فلموں کی طرح وہ تیسری فلم میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گی کیونکہ وہ فلم کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کی گذشتہ دو فلموں کی موسیقی اور نغمات بھی فلمی معیار پر پورا اترتے تھے۔ ہمارے سینما کی ضرورت بھی ایسے ہی لوگ پوری کر سکتے ہیں جنہوں نے طویل عرصہ فلم انڈسٹری میں گذارا ہو۔ فلم کی ہدایات، کہانی نویسی، اور پروڈکشن کے لیے جس تجربے اور علم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ صرف فلمی صنعت سے وابستہ فنکاروں ہی کے پاس ہے۔ فلمی تقاضے پورے کرنے کے لیے انہی لوگوں کا دوبارہ فعال ہونا ضروری ہے۔ صرف اسی طرح پاکستانی سینما کے مستقبل پر لگا ہوا سوالیہ نشان ہٹایا جا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں