کیا مرد اور عورت دوست ہو سکتے ہیں؟


معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ ہمارے ہاں اس سوال کی جڑیں انسانی حقوق اور شخصی آزادی سے ہوتی ہوئی ریاست اور مذہب کو علحیدہ رکھنے تک جا پہنچتی ہیں۔ اب ظاہر ہے یہ سوال کہ عورت اور مرد دوست ہو سکتے ہیں یا نہیں اگر بہن بھائی، ماں بیٹے، میاں بیوی، باپ بیٹی کے تناظر میں کیا جائے تو جواب بالکل آسان سا ہے جی بالکل مرد اور عورت بہت اچھے دوست ہو سکتے ہیں بلکہ ان رشتوں کی خوبصورتی بہت حد تک باہمی دوستانہ اور مخلصانہ رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔

لیکن مرد اور عورت کی وہ دوستی جو نسب سے نہیں بلکہ سبب سے جڑی ہو یہ سوال اس کے متعلق ہے اور اگر سبب جسمانی تعلقات کی حد تک پہنچ جائے تو کیا ایسی صورت میں قانونی طور پر مردوں اور عورتوں کو دوستی کی اجازت ہونی چاہیے؟

یہی وہ نقطہ ہے جس کی فرمائش اقوام متحدہ کی جانب سے چند دن قبل پیش کی گئی یعنی مرد اور عورت اگر باہم مرضی سے جنسی تعلقات قائم کرنا چاہیں تو قانون یعنی ریاست کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے اگر وہاں پر کوئی یہ کہتا کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا تو یقیناً جواب ملتا دیکھیں مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے اسے ریاست کے امور سے سے علحیدہ رکھیں۔ اور پاکستانی مندوب نے اس کو ”نوٹ ” کرنے کا عندیہ دیا جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے ”ہمیں تھوڑا وقت درکار ہے“۔

یہ سوال ہمارے معاشرے میں تضادات کو بہت بھرپور طریقے سے بے نقاب کرتا ہے۔ کسی لبرل حضرت یا خاتون سے یہ سوال کریں تو قریب از قیاس ہے کہ وہ پہلے تو آپ کو اوپر سے نیچے تک ایسے دیکھے گا جیسے کوئی اکیسویں صدی کا انسان غاروں میں رہنے والے کو دیکھے گا۔ ان کی نظر میں سوال کرنے والے۔ کی ذہنی کیفیت کے متعلق شک اور شبھات بھی ہوں گے اور جواب کچھ ایسا ہو گا میاں کس دنیا میں رہتے ہو زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے۔ مرد اور عورت اچھے دوست ہو سکتے نہیں بلکہ ہوتے ہیں۔

لو جی یہاں تو فیصلہ آ گیا لہٰذا آپ بھی پتلی گلی سے نکل کر کسی مذہبی رحجانات والے صاحب کے پاس پہنچ جائیں اور یہی سوال ان کے سامنے رکھیں۔ تو خطبہ نما جواب کچھ ایسا ہو گا کہ شریعت کے اعتبار سے مرد اور غیر محرم عورتوں کی دوستی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے معامالات ہیں اور ایسی دوستی خرابی اور فساد کا موجب ہے۔ یہاں بھی جواب نہیں فیصلہ آگیا۔

ہمارے یہاں عمومی طور پر مرد کا کسی عورت کا دوست ہونے کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں، یا تو یہ دوستی کوئی پروفیشنل، دفتری، سماجی نوعیت کی ہو گی جس کا دور دور تک جنس سے تعلق نہیں ہو گا اور یا پھر دوستی وہ راستہ ہے جو جنسی آزادی کی طرف جاتا ہے۔

اردو زبان ابھی تک اس دوستی کو کوئی نام دینے سے قاصر ہے تاہم انگریزی میں اس کے لئے گرل فرینڈ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ کسی لڑکی کے ”فرینڈ ” ہونے اور ”گرل فرینڈ ” ہونے میں یہی فرق ہے۔ لہذا بیوی کے لئے
lawfully weded wife
اور رکھیل کے لئے مسٹریس کی اصطلاح تو ہے لیکن اردو گرل فرینڈ کے ترجمے سے قاصر ہے۔

اس دوستی کی سب سے جدید شکل انگریزی میں پارٹنرشپ کہلاتی ہے جہاں دونوں“ دوست ” ایک ساتھ رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی پارٹنر شپ کے لئے بھی فل حال اردو کوئی لفظ دینے سے قاصر ہے۔ سو جب یہ فرمائش سر اٹھے گی کہ مرد اور عورت کو اپنی مرضی سے جنسی اختلاط کی اجازت ہونی چاہیے تو دراصل ہم دوست یا، گرل فرینڈ سے زیادہ پارٹنر شپ کی اجازت کا مطالبہ کر رہیں ہیں۔ لہذا یہ مرد اور عورت کی دوستی والا پینڈورا باکس نہ کھولیں۔ اس رشتے کو بے نام ہی چھوڑ دیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں