امریکی فوجی بھی باضمیر ہوسکتا ہے


”جوشوا“ ایک جوان امریکی فوجی ہے جس نے جارج بش کی عراق کے خلاف جنگ لڑنے سے انکار کر دیا تھا اور کنیڈا میں پناہ حاصل کی تھی۔ جوشوا نے عراق میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی کہانی اپنی کتاب THE DESERTER’S TALE میں بیان کی ہے۔ اس کتاب کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص حاضرِ خدمت ہے۔ خالد سہیل

***  ***

مجھے عراق پہنچتے ہی رماوہ کی جنگ میں بھیج دیا گیا۔ میں پہلے ہی خوفزدہ ہو گیا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہوائی فوج نے وہاں بمباری کر رکھی تھی۔ ہم وہاں پہنچے تو ہمیں گلیوں اور بازاروں میں گشت کرنے کا حکم دیا گیا۔ چونکہ میں نے سو پونڈ کا اسلحہ اٹھا رکھا تھا ا س لیے میں کسی گائے کی طرح سست رفتار تھا۔ ہم بیس سپاہی تھے جو عراقی گلیوں میں گشت کر رہے تھے، مجھے اس بات کا شدید احساس تھا کہ کسی مکان کی چھت سے کوئی مسلح نوجوان مجھے گولی مار کر ہلاک کر سکتا تھا۔ میرے ارد گرد عراقی بچے جمع ہونے لگے اور مجھ سے پانی اور کھانا مانگنے لگے۔ میرے کانوں میں میری بیوی کے الفاظ گونجنے لگے جو اس نے امریکہ سے رخصت ہونے سے پہلے مجھے کہے تھے ’تم ان دہشت گردوں کو اپنے قریب نہ آنے دینا۔ چاہے وہ بچے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے پہلے کہ وہ تم پر حملہ کریں تم انہیں قتل کر دینا۔ ‘

٭٭٭ ٭٭٭

اس رات مجھے تین بجے جگا کر بتایا گیا تھا کہ ہم نے ایک گھر پر حملہ کرنا ہے جس میں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ کیپٹن کونڈی نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو اس گھر کی تصویریں دکھائیں تا کہ حملہ کرنے سے پہلے اس کے اندر کے منظر نامے سے واقفیت ہو جائے۔ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ہم دروازہ توڑ کر اندر جائیں‘ دہشت گردی کا ساماں تلاش کریں اور مردوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے آئیں۔ اور ہم یہ کام جتنی جلد ہو سکے کریں کیونکہ اگر ہم نے زیادہ دیر انتظار کیا تو خطرہ ہے کہ کوئی دہشت گرد گرینیڈ پھینک کر ہمیں ہلاک نہ کر دے۔

میں اس حملے کے بارے میں کافی دیر تک سوچتا رہا۔ مجھے مستقبل کے خطرے کا بالکل اندازہ نہ تھا۔ کیا گھر میں داخل ہوتے ہی میں کسی گرینیڈ سے اڑا دیا جاؤں گا؟ کیا کوئی بچہ جس نے چند دن کی فوجی تربیت حاصل کی ہو مجھے اپنی بندوق کا نشانہ بنائے گا؟ مجھے ایک گھنٹے کے بعد حملہ کرنا تھا۔ انتطار کے دوران وقت کچھوے کی سست رفتاری سے رینگنے لگا اور وہ ایک گھنٹہ ایک صدی بن کر گزرا۔ جی چاہتا تھا کہ وقت تیزی سے گزرے تا کہ ہم اپنا کام کر سکیں۔ ایک دو فوجیوں نے ورزش کر کے اپنے آپ کو اس معرکے کے لیے تیار کیا۔

میں نے ایک فوجی دوست کا سی ڈی پلیر لیا۔ وقت کاٹنے کے لیے اوزی اوسبورن کی موسیقی سننے لگا اور ساتھ ہی شراب کے چند گھونٹ پینے لگا۔ اس موسیقی کی دھن اور شراب کے چند گھونٹوں نے میرے خون میں ہلچل پیدا کی اور مجھے حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر دیا۔

میں نے کیپٹن کی دی گئی ہدایات کو اپنے ذہن میں محفوظ کیا اور یاد رکھنے کی کوشش کی کہ اس گھرمیں کتنے دروازے‘ کتنی منزلیں اور کتنے کمرے ہیں اور جب ہم حملہ کریں گے تو سب سے پہلے کون اندر جائے گا۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ میں تیسرے نمبر پر ہوں گا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہم قتل ہوئے تو مجھ سے پہلے کوئی اور بھی قتل ہوگا۔ میرے ہاتھ میں M 249 کی بندوق تھی جو ضرورت کے وقت ایک منٹ میں دو ہزار گولیاں چلا سکتی تھی لیکن ایسا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ حرارت کی وجہ سے بندوق کی نالی مڑ سکتی تھی۔

٭٭٭ ٭٭٭

منزل پر پہنچ کر میں نے دھماکہ خیز پلاسٹک کا سی فور گرینیڈ دروازے پر پھینکا اور ہم دور ہٹ گئے تا کہ خود بم کی زد میں نہ آئیں۔ میں نے دروازہ توڑا اور ہم چھ سپاہی اندر گئے۔ سب سے پہلے جونز اندر گیا جو دبلا پتلا تھا لیکن ہیلمٹ جیکٹ اور مشین گن سے لیس تھا۔

میں اس حملے سے پہلے کسی عراقی کے گھر میں داخل نہ ہوا تھا۔ ہم ایک کمرے سے گزر کر باورچی خانے میں گھسے۔ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ہم ہر کمرے کے ہر کونے کو دیکھیں اور دہشت پسندوں کا چھپا ہوا اسلحہ تلاش کریں۔ ہم نے ہر کمرے کے ہر کونے کو دیکھا لیکن کچھ نہ پایا۔ میں نے فرج بھی کھول کر دیکھا جس میں تھوڑے سے کھانے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ہم دوسرے کمرے میں گئے تو ہمیں وہاں ایک عورت‘ ایک نوجوان لڑکی اور دو بچے نظر آئے۔ ہمیں دو نوجوان مرد بھی ملے جو دو بھائی لگتے تھے۔

میں چیخا گیٹ ڈاون، گیٹ ف ڈاؤن۔ میں نے بآوازِ بلند دوسرے سپاہیوں کو بلایا۔ عراقی شاید میری زبان نہ سمجھ رہے تھے۔ وہ بالکل نہ ہلے۔ میں نے ان دونوں مردوں کو زمین پر گرایا ان کی کمر پر اپنا گھٹنا رکھا اور انہیں ہتھکڑیاں لگا دیں۔ میں ان دونوں بھائیوں کو لے کر باہر آیا جہاں بارہ فوجی ہمارے منتظر تھے۔ ہم دونوں بھائیوں کو امریکی حوالات میں لے گئے جہاں ان کے ساتھ نجانے کیا سلوک کیا گیا کیونکہ وہ مجھے پھر ان سڑکوں پر نظر نہ آئے۔

ہم نے اس گھر کے ہر کمرے کو تہ و بالا کیا لیکن ہمیں کوئی اسلحہ نہ ملا۔ ہم نے فرنیچر توڑا‘ بستروں کو چاقو سے پھاڑا اور ہر کونے میں جھانکا لیکن کچھ نہ ملا سوائے ایک سی ڈی کے جس میں صدام حسین کی تقریریں تھیں۔ ہم اس گھر کو تہہ و بالا کر چکے تو فوجیوں کا ایک اور گروہ اسے تباہ و برباد کرنے اندر چلا گیا۔

میرے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ میں عورتوں کی نگہداشت کروں۔ اس دوران ایک لڑکی مجھے گھورنے لگی۔ میں نے اسے نظر انداز کرنا چاہا لیکن وہ مجھ سے بات چیت کرنے لگی۔ جب میں گھر کے اندر چیخ رہا تھا اور گالم گلوچ کر رہا تھا تو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہاں کوئی انگریزی نہیں جانتا۔ لیکن جب اس لڑکی نے انگریزی میں بات چیت کرنی شروع کی تو میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ اس کی نگاہیں مجھے چھیدتے گزر گئیں۔ میرے سراپا میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن ان کی نگہداشت میری ذمہ داری تھی۔ میں نے اس پر بندوق تانی ہوئی تھی۔ اس لڑکی نے ایک نیلے رنگ کا شب خوابی کا لباس اور ایک دوپٹہ زیبِ تن کیا ہوا تھا۔ چونکہ اس نے نقاب نہ پہنا تھا اس لیے مجھے اس کا پورا چہرہ نظر آ رہا تھا۔

اس کی کالی آنکھیں نفرت سے بھری ہوئی تھیں۔ اس نے میری بندوق کی نالی کو نظر انداز کرتے ہوئے مجھ سے انگریزی میں پوچھا
’تم لوگ میرے بھائیوں کو کہاں لے جا رہے ہو؟ ‘
’مس میں نہیں جانتا‘
تم انہیں کیوں لےجا رہے ہو؟
میں آپ کو نہیں بتا سکتا
تم انہیں کب واپس لاؤ گے؟
میں وہ بھی نہیں بتا سکتا
تم ہم سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو؟

میں خاموش رہا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ چیخنا چلانا نہ شروع کر دے اور دوسرے فوجیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول نہ کر لے جن میں سے دو ایک بندوق مار کر اس کے دانت توڑنے میں ذرا بھی توقف نہ کرتے۔

مجھے عراق آئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہ ہوئے تھے اور میں اس عجیب و غریب تجربے سے گزر رہا تھا۔ جہاں میں اس خاندان کی نگہداشت کر رہا تھا مجھے یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں سے بھی کوئی مجھے اپنی بندوق یا ہینڈ گرینیڈ کا نشانہ بنا سکتا تھا۔ میں پہلے ہی دن ندامت اور شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہم نے ایک معصوم خاندان کے گھر پر حملہ کیا تھا جہاں سے ہمیں دہشت گردی کا کوئی سامان نہ ملا تھا۔ ہم نے آدھ گھنٹے میں اس لڑکی کا گھر تباہ و برباد کر دیا تھا اور اس کے بھائیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے چبھتے ہوئے سوالوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ میں ان سوالوں کے جواب اسے کیا اپنے آپ کو بھی نہ دے سکتا تھا۔

٭٭٭ ٭٭٭

عراق کے قیام کے دوران مجھے معصوم شہریوں کے گھروں پر حملہ کرنے کا بار بار حکم دیا گیا۔ میں نے اپنے فوجی ساتھیوں کے ساتھ دو سو گھروں پر حملہ کیا ہوگا۔ ان گھروں میں سے ایک گھر میں بھی ہمیں دہشت گردی کا سامان یا اسلحہ و بارود نہ ملا۔ ان تمام حملوں کے دوران مجھے ان لوگوں کے گھروں پر حملہ کرنے کا کوئی جواز نظر نہ آیا۔

٭٭٭ ٭٭٭

پھر ایک ایسا وقعہ ہوا جس میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ واقعہ اب بھی مجھے ڈراؤنا خواب بن کر پریشان کرتا ہے۔ چار فوجی آئے اور چند عورتوں کو لے کر گھر کے اندر چلے گئے۔ انہوں نے دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں۔ ہم کچھ دیکھ تو نہ سکتے تھے لیکن ان معصوم عورتوں کی چیخیں سن سکتے تھے۔ عام حالات میں ہم آدھ گھنٹے میں واپس چلے جاتے تھے لیکن ان فوجیوں نے ہمیں ایک گھنٹہ انتظار کروایا۔ ہم ان عورتوں کی چیخیں سنتے رہے اور وہ فوجی اپنا کام کرتے رہے۔ آخر وہ باہر نکلے اور ہمیں دفع ہونے کا حکم دیا۔

اس دن مجھے احساس ہوا کہ دہشت گردوں کو تلاش کرتے کرتے ہم امریکی خود درندے اور دہشت گرد بن چکے ہیں۔ ہم عراقیوں پر ظلم کرتے ہیں جبر کرتے ہیں ان کو مارتے پیٹتے ہیں ان کے گھر تباہ و برباد کرتے ہیں اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر عراقی ہمیں اور سارے امریکیوں کو قتل کرنا چاہیں تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ اس دن کے بعد میرے من میں ایک تکلیف دہ احساس پیدا ہوا جو روز بروز سرطان کی طرح بڑھتا ہی چلا گیا اور وہ احساس یہ تھا کہ ہم امریکی عراق جا کر خود ظالم جابر اور دہشت گرد بن گئے ہیں۔

٭٭٭ ٭٭٭

جوشوا کی دسمبر 2005 میں دو ہفتوں کی چھٹی پر امریکہ گیا اور پھر کبھی واپس عراق نہ لوٹا۔ مارچ 2006 میں اس نے اپنے خاندان کے ساتھ نیاگرا فالز کا پل پار کر کے کینیڈا میں پناہ لی اور رفیوجی بننے کی درخواست دی۔

٭٭٭ ٭٭٭

جوشوا کی کی کہانی کا ترجمہ کرتے ہوئے مجھے اپنی وہ نظم یاد آئی جو امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد لکھی گئی تھی۔ وہ نظم آپ کی خدمت میں حاضر ہے
عراق
عراقی قوم کے معصوم بچے اپنی آنکھوں سے
دیارِ غیر سے آئے جہازوں اور توپوں کے
بموں کی زد میں آئے کوچہ و بازار سے اٹھتے
دھویں کے بادلوں کو دیکھ کر ماں باپ سے پوچھیں
ہمارے امن کے خوابوں میں کس نے زہر گھولا ہے؟
ہمیں آزاد کرنے کون سے جلاٌد آئے ہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 137 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail