چھوٹو گینگ سینڈروم میں مبتلا قوم


edit1برس ہا برس سے چھوٹو گینگ کو پالنے اور پھر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوششیں کرنے کے بعد پنجاب پولیس اور صوبے کے سیاسی حکمرانوں نے بالآخر فوج کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اور اسے مجرموں کے اس خطرناک گروہ کا خاتمہ کرنے کے لئے ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے آٹھ برس صرف کئے ہیں۔ اس دوران چھوٹو گینگ کو پولیس کے طریقے سے پکڑنے کے لئے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کی نگرانی میں جو ایکشن 13 اپریل کو کیا گیا تھا، اس میں 7 پولیس اہلکار جاں بحق اور 25 سے 27 اغوا کر لئے گئے تھے۔ فوج نے اگرچہ اب آپریشن ضرب آہن کی کمان سنبھال لی ہے اور ابتدائی طور پر اس جزیرہ نما علاقے کو حصار میں لے کر ہیلی کاپٹر گن شپ سے فائرنگ کا آغاز کیا ہے۔ فوج کے لئے سب سے بڑا چیلنج ان پولیس اہلکاروں کو بحفاظت واپس لانا ہے جو کرپشن اور بدانتظامی کے دیمک سے ناکارہ پولیس قیادت اور صوبائی حکومت نے اپنی حماقتوں کی وجہ سے مضبوط دفاعی حصار کے طور پر چھوٹو گینگ کے حوالے کر دئیے ہیں۔

چھوٹو گینگ 200 افراد پر مشتمل مجرموں کا گروہ ہے۔ اس کی قیادت روجھان کے علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص غلام رسول کر رہا ہے جسے بہن بھائیوں میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے چھوٹو کہا جاتا تھا اور وہ اسی نام سے مشہور ہے، اگرچہ وہ 6 فٹ لمبا لحیم شحیم شخص ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران وہ ایک مقامی ایم پی اے کا سکیورٹی گارڈ تھا اور اس دوران پولیس ٹاﺅٹ کے طور پر بھی کام کرتا رہا تھا۔ البتہ 2007 کے بعد سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے اس کا مقابلہ کرنے پر تیار ہو گیا۔ اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ خود مقامی پولیس کے ”مستعد اور حریص“ پولیس افسروں نے ہی اسے چھوٹے موٹے جرم کرنے اور ”حفاظت“ کے لئے بھتہ فراہم کرنے کی اجازت دی ہو۔ تاہم تقریباً ایک دہائی سے پولیس اور چھوٹو کے درمیان چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔ اس دوران متعدد مقابلوں میں پولیس کے 30 سے زائد اہلکار مارے جا چکے ہیں جبکہ پولیس بھی اس گینگ کے کئی ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

تاہم یہ بات طے ہے کہ پولیس اس گینگ کو کمزور کرنے یا اس کی اصل قوت کا اندازہ کر کے مناسب وسائل کے ساتھ مناسب حکمت عملی سے کام لینے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال بدھ کو ہونے والا پولیس آپریشن ہے، جس کی ناکامی کی وجہ سے دو درجن سے زائد پولیس اہلکار اس وقت مجرموں کے چنگل میں ہیں اور یہ گروہ میڈیا اور مقامی لوگوں کے ذریعے یہ پیغام بھیجنے میں مصروف ہے کہ اگر ان پر حملہ جاری رہا تو ہم تو مریں گے ہی لیکن ایک ایک پولیس والے کی لاشیں بھی حکام کو واپس کریں گے۔ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے یہ اعزاز حاصل کرنے کی جلدی میں تھے کہ ان کے زیر کمان فورس کسی بھی گروہ کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ بہت جلدی میں تھے کیونکہ وزیراعلیٰ شہباز شریف مسلسل یہ دباﺅ محسوس کر رہے تھے کہ صوبے میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف فوج کی کارروائی کو قبول کر کے رینجرز کو پولیس کے اختیارات تفویض کریں۔ مشتاق سکھیرا نے اس بحران میں وزیراعلیٰ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے اور وزیر قانون کی مونچھ اونچی رکھنے کے لئے اپنے جوانوں کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔

اب یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ مشتاق سکھیرا تمام اعلیٰ پولیس قیادت کے ساتھ راجن پور میں موجود تھے۔ مقامی پولیس افسروں نے انہیں صورتحال کی سنگینی، چھوٹو گینگ کی صلاحیت اور بہتر حربی پوزیشن سے آگاہ کرتے ہوئے عجلت میں آپریشن کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ تاہم ”بہادر“ انسپکٹر جنرل پولیس نے اعلان کیا کہ اگر دوسرے لوگ انکار کریں گے تو وہ خود چھوٹو پر حملہ کرنے اور اسے گرفتار کرنے کے لئے میدان عمل میں کود پڑیں گے۔ اس پر ان کے ماتحت افسروں نے سپاہیوں اور سب انسپکٹروں کی منت سماجت کر کے انہیں دو کشتیوں میں سوار ہو کر چھوٹو گینگ کی پناہ گاہ تک پہنچنے پر آمادہ کیا۔ ان افسروں کا خیال تھا کہ رات کے سناٹے میں پولیس خاموشی سے محصور مجرموں تک پہنچ جائے گی اور بے خبری میں انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر کے اپنی کارکردگی ، بہادری اور وفاداری کی دھاک بٹھا دے گی۔ لیکن ان افسروں میں سے کوئی اس آپریشن میں شامل نہیں تھا۔ وہ آئی جی کے ہمراہ اس کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جبکہ چھوٹے رینک کے پولیس اہلکاروں کو مرنے کے لئے دریا پار کر کے چھوٹو کے جزیرے تک پہنچنے کے مشن پر روانہ کر دیا گیا۔

ڈاکوﺅں اور دہشت گرد مجرموں نے اونچائی پر قائم اپنے مورچوں سے ان کشتیوں کو دیکھ لیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح پولیس مجرموں کے گروہوں میں کئی ”چھوٹو“ چھوڑ دیتی ہے۔ اسی طرح چھوٹو نے بھی کچھ ”چھوٹو“ پولیس میں چھوڑ رکھے ہوں، جو اسے لمحہ بہ لمحہ خبر فراہم کر رہے ہوں۔ البتہ یہ آپریشن شروع ہوتے ہی انجام کو پہنچا اور جمعرات کے اخبار 7 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور دو درجن سے زائد کے اغوا ہونے کی خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔ اس المیہ کے بعد ہی فوج کو اس گروہ کا خاتمہ کرنے کے لئے طلب کیا گیا اور آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے آج اس آپریشن کی کمان سنبھالنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کوئی ذمہ داری اور شرم محسوس کئے بغیر اعلان کیا کہ 48 گھنٹے میں چھوٹو گینگ کا صفایا کر دیا جائے گا۔ حالانکہ بدھ کو بے گناہ پولیس اہلکاروں کی موت کا سبب بننے اور کثیر تعداد میں پولیس اہلکاروں کو مجرموں کے حوالے کرنے کے بعد آئی جی پولیس ، وزیر قانون اور وزیراعلیٰ کا اس عہدہ پر قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لیکن یہ احساس ذمہ داری ان ملکوں میں ظاہر کیا جاتا ہے جہاں قانون کا احترام اور اپنے فرائض سے آگاہی کا کلچر موجود ہو۔ پاکستان کے سماجی رویوں اور سیاسی کلچر میں یہ خصوصیات عنقا ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ملک میں اگر رانا ثناءاللہ جیسے کردار سامنے آتے ہیں جو ماڈل ٹاﺅن میں پندرہ افراد کی بے وجہ ہلاکت کی ذمہ داری یوں محسوس کرتے ہیں کہ چند ماہ کے لئے اپنے عہدے سے ”معطل“ رہ کر پوری شان سے دوبارہ اسی عہدے پر واپس آ جاتے ہیں تو دوسری طرف چھوٹو جیسے لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں جو معاشرے سے ناانصافی ، بدعنوانی اور بدانتظامی و نااہلی کا خاتمہ کرنے کے لئے بزعم خویش خود قانون اور منصف کا روپ دھار لیتے ہیں اور اپنے ہر جرم کو انصاف کے حصول کا نام دیتے ہیں۔ اسے ہم ”چھوٹو گینگ سینڈروم“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ملک میں اگرچہ کوئی ایک آدھ شخص ہی قانون شکنی کی اس انتہا کو پہنچا ہے جو غلام رسول چھوٹو کے حصے میں آئی ہے۔ لیکن ہمارے اردگرد ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو سیاستدانوں کی کمزوری ، بدعنوانی اور سماج کی برائیوں کا علاج یوں تجویز کرتے ہیں کہ ہر چوک میں پھانسی گھاٹ نصیب ہو اور ذرا سا قصور کرنے والے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ اسی لئے ملک میں موت کی سزا بحال کرنے کے ایک سال بعد جبکہ پاکستان دنیا میں پھانسی دینے والے ملکوں میں دوسرا نمبر حاصل کر چکا ہے …. حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ موت کی سزا کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ حالانکہ کسی بھی معاشرے میں جرائم سخت قانون اور جابرانہ سزاﺅں کی وجہ سے نہیں سماجی انصاف ، تعلیم اور ذہنی تربیت کی بنیاد پر کم ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کا موقف درست مان لیا جائے تو ان تمام ترقی پذیر ملکوں میں جرائم نہ ہوں جہاں انسانوں کو مار دینا معمول کی بات ہے اور وہ معاشرے ہر قسم کے جرائم کی آماجگاہ ہوں جہاں قانون سماجی انصاف فراہم کرنے اور انسانوں کی اصلاح کے مقصد سے بنائے جاتے ہیں۔

اصلاح احوال کا یہی رویہ دراصل معاشرے میں بے چینی اور اس کے مسلمہ اصولوں اور ڈھانچے سے باغی چھوٹو گینگ جیسے گروہوں کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ دس بارہ برس تک پولیس کے مخبر کا کام کرنے والا چھوٹو اس وقت کسی مملکت کے حکمران کی طرح بات کر رہا ہے۔ 35 مربع کلومیٹر علاقے پر اس نے اپنی ”بادشاہی“ قائم کی ہوئی ہے۔ وہاں آباد دس ہزار لوگ اس کے ساتھی نہیں لیکن اس کے دست و بازو ضروربنے رہے ہیں۔ اس گینگ کے 200 افراد میں سندھ اور جنوبی پنجاب کی متعدد برادریوں کے لوگ شامل ہیں۔ لیکن وہ دریائے سندھ میں واقع اپنی پناہ گاہ کی آبادی کے ساتھ مروت کا برتاﺅ کرتے ہیں اور ان کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نہ پولیس کو اس خطرناک گروہ کے بارے میں اطلاع دیتے ہیں اور نہ ہی پولیس کسی طور چھوٹو اور اس کے ساتھیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

قلم یہ لکھتے ہوئے کانپتا ہے لیکن سچ یہی ہے کہ چھوٹو نے اپنے علاقے میں رحم اور حسن سلوک کے طرز عمل سے لوگوں کو اپنی ڈھال بنایا ہے …. وہی اصول معاشرے اور سماج میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس ہو یا انتظامیہ ، وہ جب تک ظلم اور ناانصافی کی علامت بنی رہے گی، لوگ اس سے دور بھاگتے رہیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali