ایرانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک، پانچ گرفتار


ایرانی فوجی

Getty Images
جیش العدل نامی شدت پسند گروپ ماضی میں بھی ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملے کرتا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں ایرانی حکام نے دو پاکستانی شہریوں کی لاشوں کے علاوہ گرفتار ہونے پانچ شہری حکام کے حوالے کیے ہیں۔

گوادر میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں اور گرفتار شہریوں کو ضلع گوادر کے سرحدی علاقے ٹو ففٹی کے علاقے میں لیویز فورس کے حکام کے حوالے کیے گئے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد ایرانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بلوچستان: پنجگور میں ایرانی فائرنگ سے چار پاکستانی ہلاک

’پاکستانی سرحد کے قریب حملے میں دو ایرانی ہلاک‘

ایرانی جنرل کی دھمکی پر پاکستان کا ایران سے احتجاج

اہلکار کے مطابق ایرانی حکام نے یہ بتایا کہ ہلاک اور گرفتار افراد بلوچستان کی سرحدی حدود سے غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہو رہے تھے۔

ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی شناخت شاہزیب خان اور صادق کے ناموں سے ہوئی ہے جن کا تعلق خیبر پشتونخوا کے علاقے بنوں سے بتایا گیا ہے۔

گرفتار افراد میں سے تین کا تعلق بنوں، ایک کا تعلق پنجاب کے علاقے جھنگ جبکہ ایک کا تعلق کشمیر سے ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو گوادر شہر منتقل کرنے کے بعد ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ گرفتار افراد کو تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے حکام کے حوالے کیا گیا۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ افراد ایران جا رہے تھے یا ایران کے راستے یورپی ممالک جانا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے پانچ اضلاع کی مغرب ایرانی سرحد کے ساتھ واقع ہیں۔ان اضلاع میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

پاکستان اور افغانستان سے جو افراد غیر قانونی طور پر ایران یا ایران کے راستے ترکی اور یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں انھیں انسانی سمگلر ان ہی اضلاع کے دشوار گزار راستوں سے ایران پہنچاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5677 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp