سعودی عرب نے یک دم سینما کھولنے کی اجازت کیوں دے دی؟

جین کیننمونٹ - چیتم ہاؤس


سعودی عرب میں 35 سال کی پابندی کے بعد ایک سینما کھلنے جا رہا ہے جس میں دکھائی جانے والی پہلی فلم بلیک پینتھر ہوگی۔ کئی دہائیوں کے پابندی کے بعد اب سینما جانا کیسے مناسب عمل ہو گیا؟

سعودی عرب میں سینما کھلنا اس معاشرے میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی عرب میں برِسراقتدار آل سعود کے پاس بیسویں صدی میں سیاسی طاقت کے دو اہم ستون تھے، ایک تیل کی بے پناہ دولت اور دوسرا قدامت پسند مذہبی قوتوں کے ساتھ ایک غیر رسمی معاہدہ۔

مگر اب اکیسویں صدی میں حکومتی اخراجات اور نئی ملازمتوں کے لیے نہ تو تیل کی دولت کافی ہوگی اور شاہی خاندان کی نئی قیادت پر مذہبی عناصر کا اس قدر اثر و رسوخ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب کی آبادی قدرے جوان ہے، اس کی 32 ملین شہریوں میں سے زیادہ تر کی عمر 30 سال سے کم ہے۔

شاہ سلمان کے اپنے نوجوان ترین بیٹوں میں سے ایک 32 سالہ محمد بن سلمان کو ولی عہد کا عہدہ دینا بھی جزوی طور اسی نوجوان آبادی سے تعلق قائم کرنے کے لیے دیا ہے۔

تاہم محمد بن سلمان کے سامنے مستقبل میں کئی مشکلات آ رہی ہیں۔

انھیں سعودی معیشت کو تبدیل کر کے اس کا تیل پر انحصار کم کرنا ہے اور نوجوان سعودی شاید وہ معیارِ زندگی نہ رکھ سکیں جو ان کے والدین کا تھا۔

انھیں سرکاری نوکریوں کی گارنٹی نہیں ہوگی اور انھیں نجی شعبے میں زیادہ کام کرنا پڑے گا۔

ملک میں گھروں کی قیمتیں ایک بڑھتا ہوا شکوہ ہے جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی نجکاری کی جا رہی ہے۔

مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب کو آخرکار اپنے شہریوں کو دی جانے والی رقوم میں کمی کرنا پڑے گی جس کے نتیجے میں سیاسی حقوق کی مانگ زور پکڑے گی۔

تاہم بظاہر محمد بن سلمان ایک مختلف ماڈل پیش کر رہے ہیں۔ وہ شاید لوگوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ ’زیادہ محنت کرو، نظام پر تنقید نہ کرو، تاہم اور تفریح کر لو۔‘ قریبی دبئی کی طرح وہ زیادہ سیاسی آزادی کے بجائے قدرے بہتر سماجی آزادی دے رہے ہیں۔ اور یہ سینما بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مگر کیا سعودیوں کو ایک زیادہ آزاد خیال معاشرہ چاہیے؟

کئی سالوں سے سعودی حکام کا کہنا تھا کہ ان کے لوگ انتہائی قدامت پسند ہیں، اور اب وہ ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ ان کے لوگ آزاد خیال اور ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں۔ حقیقتاً سعودی عرب میں معاشرتی پسند کے کئی مخلتف رنگ نظر آتے ہیں۔

ملک کی آبادی ایک بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں کے زندگی میں تجربات اور آمدنی میں بہت زیادہ فرق ہے۔ تقریباً دس لاکھ سے زیادہ سعودیوں نے اب بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رکھی ہے جبکہ بہت سے اور لوگ انتہائی روایتی ثقافت میں ہی رہے ہیں۔

خواتین کے اندازِ زندگی میں بھی بہت مختلف اقسام نظر آتی ہیں کیونکہ ان کے تعلیم حاصل کرنے، سفر کرنے، یا ملازمت کرنے کے فیصلے ان کے والد یا شوہر کرتے ہیں۔ اب چونکہ حکومت نے خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی ہٹا دی ہے، اور ساتھ میں کانسرٹس اور فلموں کی بھی حوصلہ افزائی شروع کر دی ہے، تبدیلی کی رفتار پر ایک بحث شروع ہوگئی ہے۔

ایسا معاملہ خاص کر خواتین کے حقوق کے بارے میں ہے۔ جہاں تک فلموں کا تعلق ہے، ٹیکنالوجی کی وجہ سے سیمنا گھروں پر پابندی تو شاید ایک بیوقوفی بن کر رہ گئی تھی۔ 2014 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً دو تہائی سعودی انٹرنیٹ صارفین ہفتے کی ایک فلم آن لائن دیکھتے ہیں۔ دس میں سے نو سعودیوں کے پاس سمارٹ فون ہیں۔ جو لوگ سستی فلائٹ لے کر دبئی یا بحرین جا سکتے ہیں، وہ وہاں پر سینما میں جا سکتے ہیں۔ ریاستی ایئر لائن سعودیہ ایئر ویز پروازوں کے دوران فلمیں دیکھاتی ہے تاہم غیر مناسب سینز سینسر کر دیے جاتے ہیں۔

عارضی سکرینز لگا کر فلم فیسٹیولز بھی ہوتے ہیں۔ اور کچھ سعودیوں نے تو فلمیں بنانا بھی شروع کر دی ہیں جیسے کہ ودجدا جنھوں نے کانز فلم فیسٹیول میں انعام جیتا اور رومانٹک کامیڈی ’برکۃ میٹس برکۃ‘ نامی فلم بھی بنائی۔

ایک حکومتی ادارے کے اندازے کے مطابق سعودیوں نے 2017 میں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں انٹرٹینمنٹ اور ہاسپٹیلٹی پر 30 ارب ڈالر خرچ کیے۔

یہ سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 5 فیصد کے قریب ہے۔

جب تیل کی آمدنی میں کمی آئی ہوئی ہے اور ملک ترقی کے لیے نئے معاشی راستے تلاش کر رہا ہے تو ایک بالکل ظاہر بات بن جاتی ہے کہ انٹرٹینمنٹ سیکٹر کو کھولا جائے اور یہ پیسے ملک میں لائے جائیں جہاں وہ ملازمتیں پیدا کر سکیں۔

بلکہ ملک میں کھلنے والا پہلا سینما میں حکومت کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے اور یہ عالمی کمپنی اے ایم سی کے اشتراک سے کھولا جا رہا ہے۔

حکومت صرف سینما کھولنا نہیں چاہ رہی بلکہ اس سے منافع بھی کمانا چاہ رہی ہے۔ بجائے اس کے ہم سوچیں اب کیوں ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اس میں اتنی دیر کیوں لگ گئی۔ مگر اس پر پابندی کبھی بھی صرف عوامی رائے کا معاملہ نہیں تھا اور اس کا مقصد بااثر مذہبی رہنمائوں کو خوش کرنا بھی تھا۔ اس غیر رسمی معاہدے میں مولوی حضرات حکمرانوں کی اطاعت سکھاتے تھے اور بدلے میں انھیں سماجی زندگی اور فیملی لا پر بہت زیادہ اثر و رسوخ حاصل تھا۔ مگر اب ان مذہبی رہنمائوں کا سیاسی اور سماجی کردارر بدل رہا ہے۔

ہاں ریاستی مولوی حضرات ابھی بھی موجود ہیں جو کہ اپنے قدامت پسند خیالات کا اظہار کر رہے ہیں مگر وہ سیاسی رہنمائوں کے فیصلوں کو مان لیتے ہیں۔ 2017 میں گرینڈ مفتی نے کہا تھا کہ سینما بے شرم اور غیر اخلاقی فلمیں نشر کرتے ہوں گے اور ان سے لڑکے لڑکوں میں ملنا جلنا بڑھے گا۔ ایک وقت تھا کہ ان کے اتنی بات کردینے سے یہ معاملہ ختم ہو جاتا۔ مگر آج ایسا نہیں ہے۔

سعودی عرب کی بنیاد رکھنے جانے سے اب تک مذہبی رہنمائوں کو شہریوں کی رائے تشکیل دینے میں انتہائی اہم تصور کیا جاتا رہا ہے اور وہ حکمرانوں کی اطاعت کو یقینی بناتے رہے ہیں۔ مگر مذہبی عناصر کے اثر و رسوخ کا مطلب ہے کہ جب وہ ناراض ہوتے ہیں تو وہ معاشرے کے اہم حصوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

موجودہ سیاسی قیادت کا خیال ہے کہ بااثر مولوی حضرات سیاسی طور پر خطرناک ہوسکتے ہیں، چاہے وہ اسلامی شدت پسندی کو جنم دیں، یا زیادہ سیاسی طاقت کا مطالبہ کریں۔ حکومت اس بات کے اشارے دے رہی ہے کہ اب ان کے پاس سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ کم ہوگی۔

اسی لیے ریاض میں دکھائی جانے والی اس ہفتے کی فلم یہ دکھائے گی کہ انٹرٹینمنٹ اور تفریح اہم سیاسی، اقتصادی، اور سماجی تبدیلی لا سکتی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3262 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp