طیبہ کیس: سابق جج اور ان کی اہلیہ کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا


طیبہ کیس

AFP
ملزم راجہ خرم علی کی بیوی ماہین ظفر جن پر ملازمہ طیبہ پر تشدد کی زیادہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد ثابت ہونے پر اسلام آباد کے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو ایک ایک سال قید کی سزا اور پچاس پچاس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

دونوں مجرموں کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا جبکہ مجرم راجہ خرم علی کے وکلا نے اس عدالتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج عامر فاروق نے منگل کے روز اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجرمان کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد میں ملوث پائے گئے ہیں۔

نامہ نگا شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے گھریلو ملازمہ پر تشدد اور پھر بارہ سال سے کمسن بچے سے جبری مشقت کروانے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 328 کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ اس قانون میں زیادہ سے زیادہ سزا سات سال ہے۔

اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل طارق محمود جہانگیری کے مطابق اس سزا کے بعد راجہ خرم علی دوبارہ اپنی نوکری پر بحال نہیں ہوسکتے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی پہلے ہی مجرم راجہ خرم علی کے خلاف تحقیقات کرر ہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کمیٹی عدالتی فیصلے کا انتظار کر رہی تھی جو اب آگیا ہے جس کے بعد جلد ہی انتظامی کمیٹی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

عدالت نےرواں برس 27 مارچ کو اس مقدمے میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جو منگل کو سنایا گیا۔ ملزم راجہ خرم علی اور ان کی بیوی ماہین ظفر پر گذشتہ برس مئی میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کے دوران فریقین کی جانب سے صلح نامے کی خبریں سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کی چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے کر معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھجوا دیا تھا۔

تشدد کا شکار ہونے والی بچی طیبہ کے والدین کی طرف سے صلح نامہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں صلح نامہ ایک دباؤ کے تحت کیا گیا تھا جسے کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم نے راجہ خرم علی کی اہلیہ پر طیبہ پر تشدد کی زیادہ ذمہ داری عائد کی تھی جبکہ سابق ایڈشنل سیشن جج پر تشدد کے واقعے پر خاموشی اور طیبہ کو فوری پر طبی امداد کے لیے ہسپتال نہ لے جانے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

چیف جسٹس کے حکم پر تشدد کا شکار ہونے والی طیبہ کو سویٹ ہوم بھجوایا دیا گیا تھا۔

ملزم راجہ خرم علی کو ایڈشنل سیشن جج کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج ہونے پر وکلا کے ایک دھڑے نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5701 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp