آخر ثمینہ سندھو کو مارنے کی وجہ کیا تھی؟


لاڑکانہ کی لوک فنکارہ ثمینہ سندھو محفل موسیقی میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھی کہ اسی دوران مبینہ طور پر لاڑکانہ کے جتوئی خاندان کے نوجوان نے اسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ ثمینہ سندھو کی ہلاکت پر سندھ سمیت پورے ملک میں غم و غصہ کا اظہار کر کے قاتل کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ لاڑکانہ کی ثمینہ سندھو کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا جہاں پر ثمینہ سندھو اور اس جیسے خاندان کی کئی خواتین اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے گلو کاری کرتی ہیں۔ اکثر و بیشتر مالی مشکلات کا شکار خواتین اپنے گزر بسر کے لے لیے اپنی آواز کو بیچتی ہیں جن میں بعض خواتین اپنی آواز کے ساتھ اپنے جسم کو بیچنے پر بھی مجبور ہو جاتی ہیں۔

ان خواتین گلوکاراؤں کے جسمانی استحصال کی شروعات ان کو گلوکاری سکھانے والے استادوں سے ہوتی ہے اور پھر یہ اسپانسر کرنے والوں کا شکار بنتی رہتی ہیں۔ اکثر ایسے خاندان چھوٹے علاقوں سے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں جہاں پر تماشبین اور جسموں کے سوداگر ان کی تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ لاڑکانہ کی مقتول ثمینہ کے لیے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ قاتل نے ثمینہ کے ساتھ رات گذارنے کی خواہش کی تھی اور ثمینہ کے انکار پر اسے تنگ کیا جا رہا تھا کہ وہ اٹھ کر گائے اور ٹھمکے لگا کر تماشبینوں کو خوش کرے اور جیسے ہی ثمینہ تماشبینوں کو خوش کرنے میں ناکام ہوتے دکھائی دیتی ہے اس کو جتوئی قبیلے کا ایک بھیڑیا نما انسان گولیاں مار کر ہلاک کر دیتا ہے۔

میڈیا اور سول سوسائٹی اور اعلیٰ عدالت کے ازخود نوٹس پر ابھی تو ثمینہ کا قاتل قانون کی گرفت میں ہے مگر زیادہ دیر تک اسے شاید قانوں بھی اپنی گرفت میں نہیں رکھ سکے گا کیونکہ جتوئی قبیلے کے با اثر لوگ ثمینہ کے خاندان والوں کو صلح صفائی کے لیے کہہ رہے ہیں اور عنقریب ہی خبر مل جائے گی کہ ثمینہ کے خاندان نے اس قاتل کو خدا واسطے معاف کر دیا ہے اور ثمینہ کا بیہمانہ قتل ایک حادثہ تھا۔ اور ایک دن آئے گا جب ثمینہ اور اس کے پیٹ میں پلنے والے بچے کا خون بہا لے کر خاندان والے سب کچھ بھول جائیں گے اور اس کا شوہر ایک اور ثمینہ سے شادی رچا کر اسے بھی رقص و سرور کی محفلوں کی میں کمائی کا ایک ذریعہ بنا دے گا۔ اور اگر وہ بھی کسی دن کسی پیسے یا طاقت والے کے آگے اپنا جسم بیچنے سے انکار کرے گی تو پھر اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو ثمینہ کا ہوا۔

ان جیسی گلوکاراؤں کو اکثر و بیشتر پولیس والوں، جاگیرداروں، بدمعاشوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جن کو جھیلنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اور آخرکار وہ کمزور گلوکارائیں جن کے دم سے ان کا گھر چلتا ہے اپنی عزت و آبرو نیلام کرواتی رہتی ہیں۔ کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اس ظالم سماج میں کون سنے گا ایک کمزور کی آواز اور کون لڑے گا ان بدمعاش قیبلوں کے ساتھ جو دن دیہاڑے گاؤں کے گاؤں ویران کر دیتے ہیں اور سینکڑوں خون کر کے بھی پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر آزاد پھرتے رہتے ہیں اور سر عام ہندو برداری، بیوپاریوں سے بھتہ لیتے ہوں اور جن کی یاری پولیس اور کچھری والوں سے ہو، جو وڈیرے کے آنکھ کا تارہ ہوں اور جو ایم این ایز اور ایم پی ایز کے لینڈ کروزرز میں ان کے باڈی گارڈ بنے پھرتے ہوں تو کیا مجال ہے لاڑکانہ کی مقتول ثمینہ کے خاندان والوں کی جو لاڑکانہ میں رہ کر جتوئی قیبلے سے دشمنی مول لے کر اپنی موت کو دعوت دیں۔ اس لیے اکثر کمزور لوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو قسمت کا فیصلہ سمجھ کر خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں