پیسے لے کر ریپ کیس واپس لینے کے لیے والدین کا لڑکی پر دباؤ


انڈیا کے دارالحکومت دلی میں ریپ ہونے والی لڑکی نے شکایت کی ہے کہ اس کے والدین ایک ملزم سے پیسے لینے کے بعد بیان بدلنے کے لیے اُس پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

پولیس نے متاثرہ لڑکی کی شکایت پر اُس کی والدہ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اُس کے والد مفرور ہیں۔ متاثرہ لڑکی نے مبینہ طور ملزم سے لیے گئے پانچ لاکھ روپے بھی پولیس کو جمع کروائے ہیں جو اُس کے مطابق ریپ کرنے والے مبینہ ملزم نے اُس کے والدین کو دیے تھے۔

اس بارے میں مزید جانیے

انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

انڈیا: دس سالہ بچی کا ریپ، بچی کے ماموں مجرم قرار

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی نے شکایت کی تھی کہ اُس کے والدین ملزمان سے رقم لینے کے بعد اُس پر بیان بدلنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والدین کو مجرمانہ اقدام کرنے اور غلط شواہد دینے کے لیے دھمکانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی کو گذشتہ سال اگست میں دو افراد نے اغوا کرنے کے بعد مبینہ طور پر متعدد بار گینگ ریپ کیا تھا۔ ریپ کے اس مقدمے میں نامزد دو ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔

انڈیا میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے اور سنہ دو ہزار سترہ میں دلی میں یومیہ ریپ کے پانچ مقدمات درج ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6090 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp