انڈیا میں رپپ، معاشرے کی بے حسی

سوتک بسواس - بی بی سی نیوز


بچی

Reuters
انڈیا میں بچیوں کے خلاف جرائم کا تناسب چالیس فیصد ہے

انڈیا میں پولیس ریپ کے ایک مجرم کی تلاش میں ہے جس نے ایک ایسی بچی کو درندگی کا نشانہ بنایا جس کی کوئی شناخت نہیں ہے اور اس کا چہرہ بھی پہچانا نہیں جا سکا ہے۔

اس بچی، جس کی عمر نو سے گیارہ برس کے درمیان تھی، کی مسخ شدہ لاش انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے ہیروں کی کٹائی کے لیے مشہور شہر سورت میں کھیل کے ایک میدان میں جھاڑیوں سے کچھ دن قبل ہی ملی ہے۔

اس بچی کے جسم پر زخموں کے چھیاسی نشانات پائے گئے۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے سرجن کے مطابق بچی کے جسم پر لگائے جانے والے زخم اس کی ہلاکت سے ایک دن سے ایک ہفتے پہلے تک کے درمیانی عرصے میں لگائے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بچی کو یرغمال بنا کر رکھا گیا جس دوران اس پر تشدد اور اس کا ریپ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

کٹھوعہ ریپ کیس کی منتقلی پر حکومت سے جواب طلب

اس کی لاش ملنے کے دس دن گزر جانے کے بعد بھی اس کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے۔ انھوں نے ریاست میں آٹھ ہزار سے زیادہ گمشدہ بچوں کے کوائف دیکھے لیکن یہ بچی ان میں شامل نہیں ہے۔ پولیس کے مقامی سربراہ کا کہنا ہے کہ جس جگہ لاش پائی گئی وہاں پر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جن سے یہ اندازہ ہو سکے کہ بچی نے کوئی مزاحمت کی ہو۔

انڈیا میں جہاں ریپ کو طاقت کے اظہار اور بے کس اور بے سہارا لوگوں کو دبانے کے لیے کثرت سے استعمال کیا جانے لگا ہو وہاں اس کے خلاف آواز اٹھانا بے سود دکھائی دیتا ہے۔ طبقات میں بٹے، منقسم اور پدری سماج میں جہاں لوگوں کو مزید تقسیم کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے نفرت پھلائی جاتی ہو وہاں ایسے واقعات رونما ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

احتجاج

Reuters
معاشرے میں ریپ کے بارے میں کسی حد تک بے حسی بھی پائی جاتی ہے

غیر قانونی طور پر جنس کی بنیاد پر اسقاط حمل عام ہونے کی وجہ سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آبادی میں مردوں کا تناسب ضرورت سے زیادہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ملک میں ہر سو بچیوں کی پیدائش کے مقابلے میں ایک سو بارہ بچے جنم لیتے ہیں۔ لڑکوں کی پیدائش کو ترجیح دیے جانے کی وجہ سے ملک کی مجموعی آبادی میں چھ کروڑ تیس لاکھ خواتین کم ہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ آبادی میں خواتین کے کم تناسب کی وجہ سے خواتین کے خلاف جرائم زیادہ ہوتے ہیں۔

ملک کی شمالی ریاست ہریانہ جہاں گینگ ریپ کی سب سے زیادہ وارداتیں ہوتی ہیں وہاں آبادی میں عورتوں کی تعداد ملک کے باقی علاقوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔

صرف جنوری کے مہنیے میں، ایک پچاس سالہ مرد کو دس سالہ لڑکی سے زیادتی کرنے پر گرفتار کیا گیا، ایک پندرہ سالہ لڑکے نے ایک ساڑھے تین سال کی بچی کا ریپ کیا، ایک بیس سالہ شادی شدہ لڑکی کے ساتھ دو مردوں نے جنسی زیادتی کی، ایک چوبیس سالہ مرد کو ایک طالب کو اغوا اور یرغمال بنانے پر گرفتار کیا گیا اور ایک نو عمر بچی کی مسخ شدہ لاش کھیتوں سے برآمد ہوئی۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اس سال جنوری میں ایک آٹھ سالہ مسلمان بچی کے ریپ اور قتل کا واقعہ ایک بڑے جھگڑے کا سبب بن گیا۔ اس بچی کو اغوا کیا گیا، ایک مندر میں یرغمال بنا کر رکھا گیا جہاں اس معصوم کا ریپ کیا جاتا رہا اور پھر اس کی لاش کو جنگل میں پھینک دیا گیا۔ ملک کے ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی بنیادوں پر نفرتیں سلگ رہی ہیں وہاں یہ واردات اصل میں مسلمان چرواہوں کے لیے ایک تنبیہہ تھی کہ وہ ہندوؤں کی زمینوں پر اپنے مویشی چرانا بند کر دیں۔

آٹھ ہندو مردوں کو کشمیر کے اس گینگ ریپ اور قتل کی بہیمانہ واردات میں ملوث پایا گیا اور ان کا مقدمہ جلد سماعت مکمل کرنے والی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

احتجاج

Reuters
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بچی کے ساتھ ریپ کے واقع پر شدید احتجاج ہوا ہے

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو منتخب نمائندوں کی ملزمان کی کھلے عام حمایت کرنے پر حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر پائے جانے والے غم و غصے سے مجبور ہو کر نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اس واقعہ کی مذمت کی۔

ملک کی جنوبی ریاست کریلا میں ایک بینک مینیجر نے اپنے فیس بک صفحے پر ایک پیغام میں لکھا کہ اچھا ہوا کہ اس بچی کو قتل کر دیا گیا کیونکہ کل یہی لڑکی انڈیا کے خلاف ایک بم بن سکتی تھی۔

نریندر مودی نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ انڈیا کی بیٹیوں کو انصاف ملے گا۔ اکثر لوگوں کے خیال میں مودی کی یہ یقین دہانی کھوکھلی ہے۔ ان کی اپنی جماعت کے کئی منتخب نمائندوں پر ریپ کے الزامات ہیں یا وہ ریپ کے ملزمان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے خلاف صرف وسیع پیمانے پر احتجاج کی صورت میں ہی کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔

دوسرے سیاست دانوں کا حال بھی کوئی اچھا نہیں ہے۔ سنہ دو ہزار چودہ میں جب تین مردوں کو ایک خواتین صحافی کا ریپ کرنے پر سزا سنائی گئی تو سماج وادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادیو نے کہا تھا کہ ‘لڑکے غلطیاں کرتے ہیں، انھیں اس جرم میں پھانسی پر نہیں لٹکایا جا سکتا اور ہم ریپ کے خلاف قوانین میں تبدیلی کر دیں گے۔’

انڈیا میں خواتین کو اس حقیقت سے سمجھوتہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں، مناسب لباس پہنیں، بغیر کسی ساتھی کے گھر سے نہ نکلیں یا گھر پر رہیں اور یوں محفوظ رہیں۔

جو امر سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے وہ ہے بچوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ۔ انڈیا میں جرائم کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنہ دو ہزار بارہ سے سنہ دو ہزار سولہ کے درمیان بچوں کے خلاف جرائم دگنے ہو گئے ہیں۔

جنسی زیادتی کی چالیس فیصد سے زیادہ وارداتیں کم عمر بچیوں کے خلاف ہوئی ہیں۔ جنسی زیادتی کی وارداتوں میں اضافے کا ایک سبب مقدمات درج کرانے کے رجحان میں اضافہ اور ذرائع ابلاغ پر ان خبروں کی اشاعت کی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ملک کے دارالحکومت دہلی میں سنہ دو ہزار بارہ میں ایک تیئس برس کی طالبہ کے ساتھ زیادتی کی واردات کے بعد قانون کو زیادہ سخت بنا دیا گیا تھا۔

ریپ کو جائز قرار دینا

انڈیا وہ واحد ملک نہیں ہے جہاں ریپ کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن عام خیال یہی ہے کہ پدری سماج اور آبادی میں خواتین کی کم تعداد سے صورت حال زیادہ بگڑ گئی ہے۔ لوگوں کی لاتعلقی اپنی جگہ لیکن خواتین کے حقوق اور ان کا معاشرے میں تحفظ کبھی بھی الیکشن کا معاملہ نہیں بن سکا۔

بعض معاشروں میں یہ برائی قدیم زمانے سے پائی جاتی ہے اور اس کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ چار سو دس قبل مسیح میں جب جرمنی کے خطے میں بسنے والے گاتھس نے روم پر حملہ کیا تو سینٹ آگسٹین نے ریپ کو ایک قدیم اور روایتی برائی کے طور پر بیان کیا۔

ایک امریکی پروفیسر ویڈی ڈوگنر کے مطابق انڈیا کے ایک تاریخی نسخے میں شادی کی غرض سے کسی عورت کو ریپ کرنے کو کسی حد تک قانونی جواز حاصل تھا۔

تو کیا سنہ دو ہزار بارہ میں دہلی میں ایک تیئس سالہ لڑکی کے ساتھ ہونے والی ریپ کی واردات کے بعد جس پر دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا تھا کوئی تبدیلی آئی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس نوعیت کی وارداتوں کو زیادہ اور بہتر طور پر رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ لیکن جو امر قابل تشویش ہے وہ شرمناک نظامِ انصاف ہے جو سیاسی دباؤ میں آ جاتا ہے اور اکثر سنگین جرائم میں ملزمان چھوٹ جاتے ہیں۔ انڈیا میں ریپ کے مقدمات میں چار میں سے صرف ایک میں سزا ہوتی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3280 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp