پاناما پیپرز اور کرپشن کا بے ڈھنگا اونٹ


\"mujahid

حکومت نے بالآخر سپریم کورٹ کے ایک ایسے سابقہ جج کو تلاش کرلیا ہے جن کی شہرت بے داغ ہے لیکن اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اب یہ خبر سامنے لائے ہیں کہ جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی کی اہلیہ مسلم لیگ (ن) میں متحر ک ہیں ، اس لئے انہیں کمیشن کے سربراہ کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ملک میں پاناما پیپرز سکینڈل کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کو تیار نہیں ہے۔

حکومت کے بعض ارکان نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نگرانی میں کام کرتے ہوئے پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے الزامات کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن کے لئے بنیادی قواعد و ضوابط یعنی ٹی او آر یا ٹرمس آف ریفرنس TOR تیار کرلئے ہیں۔ سرکاری ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ ان قواعد کے تحت شعبہ جاتی ماہرین کو اس کمیشن کا حصہ بنایا جائے گا ۔ اس کے علاوہ کمیشن کے سربراہ کو تحقیقات کے دوران کسی بھی کسی قسم کے ماہر کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم کمیشن کی ساخت اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں ابھی سرکاری طور پر کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ حکومت کے ترجمان تو ابھی تک یہ تصدیق بھی کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں کہ جسٹس عثمانی کو اس مجوزہ کمیشن کا سربراہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت درپردہ اپوزیشن جس میں پیپلز پارٹی سر فہرست ہے، کے ساتھ اس معاملہ پر افہام و تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ کمیشن کا اعلان ہونے کے بعد اس پر بہت ذیادہ تنقید سامنے نہ آئے۔ حکومت اس حوالے سے دوسری پارٹیوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے جن میں مسلم لیگ (ق) بھی شامل ہے۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت پاکستان تحریک انصاف اور اس کے لیڈر عمران خان کو تنہا کرنا چاہتی ہے تاکہ ان کا سیاسی وزن کم ہوجائے اور سرکار کی طرف سے کمیشن کے اعلان کے بعد نکتہ چینی کرنے والی وہ واحد پارٹی ہو۔ بظاہر اس بات کا امکان بھی دکھائی دیتا ہے ۔ کیوں کہ پاناما پیپرز میں صرف نواز شریف کے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کا ہی ذکر نہیں ہے بلکہ دوسری پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے متعدد لوگ بھی اس قسم کی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ تاہم ملک میں زیادہ سیاسی ہنگامہ وزیر اعظم کے حوالے سے ہی برپا ہے ۔ عمران خان پاناما پیپرز کو پاکستانی عوام کے لئے اللہ کا تحفہ قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب حکمرانوں کی کرپشن کے ثبوت سامنے آگئے ہیں۔

حکومت نے جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں طے کیا تھا کہ اس بات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کہ تحقیقاتی کمیشن سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں قائم ہوگا۔ وزیر اعظم نے قوم کے نام خطاب میں یہی وعدہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے جمعرات کے اجلاس میں واضح کیا تھا کہ اپوزیشن کا یہ مطالبہ نہیں مانا جا سکتا کہ اس سوال پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کیا جائے۔ اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو مطلع کردیا ہے کہ وہ ایسے کسی کمیشن کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ تاہم عمران خان بھی اپنی ضد قائم ہیں کہ چیف جسٹس ہی یہ تحقیقات کریں۔ ہوسکتا ہے انہیں اپنی بات منوانے کے لئے رائے ونڈ سے پہلے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینا پڑے۔

اس دوران پیپلز پارٹی بھی بظاہر مفاہمت کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات عدالتی کمیشن کی بجائے پارلیمانی کمیٹی سے کروائی جائیں۔ خورشید شاہ نے اس مقصد کے لئے سینیٹ کے چئیرمین رضا ربانی کا نام تجویز کیا ہے۔ لیکن یہ بیل بھی منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔ اس بات کا امکان ہے کہ مزید چند روز یا ہفتے کھینچا تانی اور الزام تراشی کے بعد جب اینکرز اور عوام اس لایعنی مباحث سے بور ہونے لگیں گے تو حکومت کے تجویز کردہ عدالتی کمیشن پر ہی مفاہمت ہو جائے گی۔ حکومت اس کمیشن کے دائرہ اختیار کو صرف وزیر اعظم کے خاندان تک محدود نہیں رکھے گی بلکہ 200 سے زائد ایسے دیگر لوگوں کے خلاف بھی تحقیقات کروانا چاہے گی جن کا نام پاناما پیپرز میں سامنے آیا ہے۔ اس طرح شریف خاندان اور حکومت کو یقین ہوگا کہ پاناما پیپرز میں ہونے والے انکشافات کا بے ڈھنگا اونٹ بہر صورت اپنی ہی ’کمزوریوں ‘ کے سبب نامراد رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 500 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali