قیام پاکستان المیہ تھا یا معجزہ؟


ممتاز علی بخاری

mumtazابوالکلام آزاد کے حوالے سے مضامین کا جو سلسلہ جاری ہے۔ یہ مکالمہ اگر صحت مند تنقید پر مشتمل رہے تو کیا کہنے۔ میرے خیال میں قارئین کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ مکالمے کو ذاتیات اور انانیت پرحملہ بنا دیا جائے۔ سید عابد علی بخاری صاحب کے آزاد کے بارے میں لکھے مضامین کے جواب میں جناب شکیل چوہدری صاحب نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جو ان کے تکلم کے مخاطب ہیں وہ ضرور اس پر لکھیں گے اور یہ خوشگوار مکالمہ آگے بڑھے گا۔ چند ایک سوالات پر میں اپنی رائے کا اظہار مناسب سمجھتا ہوں۔ اس مکالمے کے ضمن میں لکھنے والوں کی خدمت میں چند سوالات اور قارئین کی توجہ کے لیے چند وضاحتیں پیش ِخدمت ہیں۔
انھوں نے پوچھا ہے کہ اگر میثاق لکھنو قائد اعظم محمد علی جناح کا عظیم ترین کارنامہ ہے تو علامہ محمد اقبال نے خطبہ الٰہ آباد میں اسے ایک گڑھے سے کیوں تشبیہ دی؟ جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ تاریخ برصغیر میں دو ایسے واقعات ہیں اگر وہ وقوع پذیر نہ ہوتے تو شاید نہ پاکستان آزاد ہوتا اور نہ ہم کانگریسی ذہنیت کو اتنے جلدی سمجھ پاتے۔ ان میں سے پہلا واقعہ میثاق لکھنو ہے۔ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو آپ جیسے کئی لوگ آج اعتراض اٹھا رہے ہوتے کہ ہندو مسلم اتحاد کی کوئی کوشش کی ہی نہیں گئی اگر ایسی کوئی کوشش کی جاتی تو شاید ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خلیج ختم ہو جاتی۔ یہ دونوں قومیں ایک ساتھ امن و سکون سے رہ رہی ہوتیں۔ یہ خلیج کیوں پڑی اور اس میں ہندوﺅں کا کیا کردار تھا اس پر شکیل چوہدری صاحب اپنے موقف کی وضاحت کر دیں؟
جہاں تک علامہ اقبال کے اس معاہدے پر اعتراض کی بات ہے تو وہ تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کی وہ کوشش بے سود ثابت ہوئی اور اس اتحاد کا خاتمہ کرنے میں کانگرنس کا عمل دخل زیادہ تھا۔ دوسرا واقعہ کانگرسی وزارتوں کا قیام ہے۔ اِن وزارتوں کے دوران مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کی مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی روایات کو مٹانے کی جو بھرپور کوششیں کی گئیں وہ بھی کوئی مخفی دستاویز نہیں۔ صرف کانگریسی وزارتیں پاکستان بننے کی وجہ نہیں تھیں ان کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی وجوہات تھی جو پاکستان کے بننے کا باعث بنیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کانگرسی وزارتوں نے تحریک آزادی کے سفر کو مہمیز دی۔
molan3 محترم شکیل چوہدری صاحب نے قائد اعظم کے کچھ بیانات بھی اس ضمن میں قارئیں کی نذر کیے ہیں جن میں قائد اعظم کا کہنا ہے کہ” پاکستان تب ہی معرض وجود میں آ گیا تھا جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ پاکستان تو ہمیشہ سے قائم تھا۔ ” بنیادی طور پر ان دونوں جملوں میں پاکستان ایک تمثیل، ایک استعارے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ پاکستان موجودہ پاکستان تھا بلکہ پاکستان سے مراد ایک ایسا خطہ جہاں مسلمان آزادی سے اپنی زندگی اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق بسر کر سکیں۔ یہاں پاکستان کا لفظ ایک نظریے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اتنے وسیع مطالعے اور علم والے لوگ الفاظ کو ان کے سیاق و سباق میں سمجھنے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں؟
قیامِ پاکستان کے ضمن میں ان کا ایک سوال تھا کہ” اگر اتنا ہی ضروری تھا تو محمد علی جناح نے کیبنٹ مشن پلان کیوں منظور کیا؟” میرا شکیل صاحب سے یہ سوال ہے کہ ان کے ممدوح مولانا آزاد کے مطابق 1929 میں کانگرس نے آزادی ہند کی قرارداد کیوں منظور کی تھی اور اس قرارداد کی منظوری کے باوجود وہ 1935 اور 1946 کی حکومتوں میں کیوں شامل ہوئے؟ میرے نزدیک اس کی وجہ صرف اورصرف یہ تھی کہ قائد اعظم گولی، ڈنڈا جیسی پُر تشدد سیاست کے مخالف تھے اور وہ چاہتے تھے کہ آزادی کی یہ جنگ میز پر لڑی جائے، ایوان میں قانونی طریقے سے اس کے لیے آواز بلند کی جائے۔ اس سلسلے میں قائد اعظم ستیاگرہ، بھوک ہڑتال، عدم تعاون اور سول نافرمانی جیسے قانون شکن طریقوں کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ دلیل کے ذریعے دوسروں کو قائل کرنے کے قائل رہے۔ اسی لیے قرارداد ِ پاکستان کی منظوری کے بعد بھی وہ سیاسی جدوجہد پر امن طریقے سے کرتے رہے جو قیام ِ پاکستان پر منتج ہوئی۔ میری نظر میں پاکستان دلیل کی قوت سے معرض وجود میں آیا۔ آپ قیام پاکستان کو المیہ قرار دیتے ہیں یا معجزہ؟
آزاد اپنی کتاب ” آزادی ہند” میں انیسویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار اور ان کا ہمنوا بنا کر پیش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ اس وقت ہندو انگریزوں کے ہم نوا تھے۔ ملازمتوں میں بھی مسلمان نہیں بلکہ ہندوؤں کا غلبہ تھا۔ مولانا جب بنگال کا ذکر کرتے ہیں تو اپنی انہی باتوں کی مخالفت میں دلائل دیتے کیوں نظر آتے ہیں؟
مسلمانوں کا جو استحصال ہندوﺅں کے ہاتھوں ہو رہا تھا جس کا ذکر وہ بنگال کے ضمن میں کر رہے تھے وہ تو پورے ہندوستان میں یہی حال تھا۔ وہ کہہ رہے ہیں”1910-12 کے اس دور میں مسلم سیاست دان جو علی گڑھ سے تعلق رکھتے تھے وہ مسلمانوں کو تاج برطانیہ کا وفادار اور تحریک آزادی سے لا تعلق رکھنا چاہتے تھے۔ “ان کی بات یہاں تک تو درست ہے کہ علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے مسلمان لیڈر مسلمانوں کو تاج برطانیہ سے وفاداری کا درس دے رہے تھے لیکن اس دور میں تو تحریک آزادی کا دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا ۔ مولانا آزاد خود جس پارٹی میں طویل عرصہ تک رہے ہیں وہ بھی ایک انگریز نے برطانیہ کے اقتدار کی طوالت کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر بنائی تھی۔ یہ سب واقعات مولانا آزاد کی ہندوؤں کے مفادات سے گہری وابستگی کے مظہر نہیں ہیں؟
قائد اعظم محمد علی جناح نے زندگی بھر مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کی ہے۔ ہر پلیٹ فارم، ہر جگہ اور ہر فورم پر مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔ ان کے مقابلے میں آزاد کی روش نے انہیں مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے سے روکے رکھا اور متحدہ قومیت کے نام پر وہ زندگی بھر ہندوؤں بالخصوص نہرو، گاندھی اور پٹیل کے ترجمان کا کردار ادا کرتے رہے۔ ایسے منظر نامے میں قائد اعظم کا آزاد سے تقابل کسی صورت میں بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔
شکیل صاحب کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں جناح صاحب نے تقسیم ہند کا مطالبہ زیادہ سے زیادہ رعایتیں لینے کے لیے کیا تھا تو جناب! معذرت چاہتا ہوں یہ طریقہ جناح صاحب کا نہیں بلکہ آزاد کا تھا۔ میری یہ بات مولانا پر بے بنیاد الزام نہیں بلکہ اظہر من الشمس ہے۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب آزادی ہند میں بھی کیا ہے۔ تحریک خلافت کے معاملے پر بھی مولانا کی دورنگی پالیسی سامنے ہے۔ ایک طرف انہوں نے وائسرائے کو پیش کی جانے والی عرضداشت پر دستخط کر دئیے دوسری طرف اس بنیاد پر اس وفد میں شامل نہ ہوئے کہ اب معاملہ بہت بگڑ چکا ہے اور ان چیزوں سے اس کی اصلاح ممکن نہیں۔ اگر معاملہ عرضداشت سے حل ہونے سے بڑھ چکا تھا تو اس سعی لاحاصل میں انہوں نے دستخط کیوں کیے اور اگر دستخط کیے تھے تو تھوڑی زحمت کر کے وفد میں شامل بھی ہو جاتے اور اگر شامل نہیں ہو سکے تھے تو اس کی مخالفت میں بیان ہی نہ دیتے۔ اس تضاد فکری کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟کیا آپ کے آئندہ کالم میں میرے ان سوالات کا کوئی علمی جواب مل پائے گا یا اسے بھی پھبتی اور ناشائستہ حملہ قرار دے کر مذاق میں اڑا دیا جائے گا؟


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “قیام پاکستان المیہ تھا یا معجزہ؟

  • 18-04-2016 at 12:19 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے بخاری صاحب
    شکیل صاحب نے جو سوالات اٹھائے تھے ان کے جوابات لکھ دئیے ہیں۔
    امید ہے آپ کی نگاہوں سے گرز چکے ہوں گے۔
    آپ نے باوقار انداز میں عمدگی کے ساتھ کچھ سوالات اٹھائے ہیں امید ہے کہ ان پر بھی لکھا جائے گا۔
    اس موضوع پر قلم اٹھانے اور مکالمے کو آگے بڑھانے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔

    • 18-04-2016 at 1:20 pm
      Permalink

      Boht Shukria

  • 18-04-2016 at 4:52 pm
    Permalink

    مولانا ابوالکلام کے بارے میں ساری بحث جو عابد بخاری صاحب نے شروع کی، پڑھنے کے بعد میرے اور شاید بہت سے پڑھنے والوں کے ذھن چند بنیادی سوالات پیدا ھونا قدرتی ھیں جن میں سے سر دست ایک سوال پیش خدمت ھے؟
    آخر وہ کیا وجہ یا وجوھات ھیں کہ پاکستان کے قائم کیے جانے کے جواز کو تقریبا ۷۰ سال بعد سوالات کا سامنا کرتا پڑتا ھے؟ ضمنی سوال یہ کیا پاکستان کا جواز صرف اور صرف مولانا آزاد کی مخالفت سے ہی ثابت کیا جا سکتا ھے؟
    ان سوالات کی اہمیت موجودہ بحث میں اس لیے بھ بڑھ جاتی ھے کہ عابد صاحب نے بغیر کسی کے کہے یا پوچھے پاکستان کے جواز کا مقدمہ مولانا آزاد کی ذات پر حملہ کی آڑ میں شروع کیا، جس کا جواب اور پھر جواب الجواب اور پھر مجودہ مضمون سامنے آیا

    آخر کیا وجہ ھے کہ دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں صرف پاکستان اور اسرائیل ھی دو ایسے ملک ھیں جن کے وجود کے جواز کو اپنے قیام کے وقت سے لیبکر آج تک مسلسل سوالات کا سامنا ہے؟

    کہیں ایسا تو نہیں، کہ خدانخواستہ بقول غالب،

    میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی ۔۔۔۔!!!! ؟؟؟

    مندجہ بالا سوالات کے جواب دینا کسی پر بھی فرض نہیں لیکن اگر مضمون نگار یا جو بھی کوئی جواب دینے کی زحمت کرے ان کی خدمت میں اتنی استدعا دست بستہ ہے کہ جواب میں “سازشی نظریات” اور اغیار کی سازش وغیرہ جیسے دلائل کا سہارا لینے سے پرہیز کریں اور یہ یاد رکھیں کہ جو بھی دلیل دی جائے گی وہ کم وبیش وہیسے ھی اسرائیل کے جواز پر بھی اپلائی ھوگی جو کہ ایک ایسا ملک ہے جسے ہاکستان نے اور اس نے پاکستان کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔
    منتظر

  • 25-04-2016 at 9:33 pm
    Permalink

    ممتاز علی بخاری صاحب: اس بحث میں حصہ لینے پر خوش آمدید۔ آپ کا مکالمہ کو خوش گوار رکھنے اور اسے آگے بڑھانے کا جذبہ قابل قدر ہے۔ لیکن آپ نے میرے ان بہت سے سوالوں کے جواب نہیں دئے جو میں نے عابد بخاری صاحب اور سید انورمحمود صاحب سے پوچھے تھے ۔ مثلاً ۱۰ مارچ ۱۹۴۱ کو جناح صاحب نےفرمایا تھا کہ ’پاکستان نہ صرف ایک قابل عمل مطمع نظر ہے بلکہ اس ملک میں اسلام کو مکمل تباہی سے بچانے کا واحد طریقہ ہے۔‘ کیاہندوستان میں اسلام مکمل تباہی سے دوچار ہوچکا ہے؟ اگر قیام پاکستان کے باوجود ایسا نہیں ہوا تو اس کے بغیر ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟ ۱۷مئی ۱۹۴۷ کو جناح صاحب نے ماؤنٹ بیٹن کو لکھا: ـ’مسلم لیگ بنگال اور پنجاب کی تقسیم سے اتفاق نہیں کرسکتی۔ اس کا کوئی تاریخی‘معاشی‘سیاسی یااخلاقی جواز ممکن نہیں۔ ان صوبوں نے اپنے انتظامی‘معاشی اور سیاسی نظاموں کو تعمیر کرنے میں تقریباً ایک صدی لگائی ہے۔ ‘

    اسی ماہ انہوں نے ماؤنٹ بیٹن سے یہ بھی کہا کہ ’عزت مآب سمجھ نہیں رہے کہ پنجابی ایک قوم ہیں اور بنگالی بھی ۔ پنجابی یا بنگالی ہندو یا مسلمان ہونے سے پہلے پنجابی یا بنگالی ہوتا ہے۔ اگر آپ ہمیں یہ صوبے دے رہے ہیں تو پھر کس بھی صورت انہیں تقسیم نہ کریں۔ اگر آپ نے انہیں تقسیم کیا تو پھر آپ انہیں معاشی طور پر تباہ کردیں گے اور بے پایاں خون خرابے اور فسادکو دعوت دے رہے ہوں گے۔ ‘یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہندو اور مسلمان ہندوستا ن کی سطح پر اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے تو پنجاب اور بنگال کی سطح پر انہیں اکٹھا رکھنے کی کوشش کیوں کی گئی؟ کیا یہ دوقومی نظریہ کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف نہیں تھا؟ چودھری رحمت علی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ان کے مطابق ۳ جون کا تقسیم ہند کا منصوبہ قبول کرکےمسلم لیگ نےعظیم غداری کا ارتکاب کیا تھا۔

    کچھ دیگر امور پر بھی آپ کی رہنمائی کا خواست گار ہوں۔ تقسیم ہند سے ان مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا ہوئے یا آسانیاں؟ پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر چودھری خلیق الزمان کی سوانح عمری ‘شاہراہ پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ تقسیم ہند سے ایک ہفتہ پہلے دہلی مسلم لیگ کے ایک عہدے دار نے جناح صاحب کو لاجواب کردیا تھا۔ چودھری صاحب کے خیال میں یہ اس گفتگو کا نتیجہ تھا کہ جناح صاحب نے اپنی ۱۱ اگست کی مشہور تاریخ میں دو قومی نظریہ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ چودھری صاحب نے حسین شہید سہروردی کا تائیدی انداز میں حوالہ دیا ہے کہ دو قومی نظریہ مسلمانان ہند کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔ میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ‘کیا یہ حقیقت نہیں تقسیم ہند کےبعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلم لیگی منہ چھپاتے پھرتے تھے؟لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) سکندر خان بلوچ نے ۲۶جولائی ۲۰۱۳ کے نوائے وقت میں لکھا کہ کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کی سب سے بڑی وجہ اکتوبر ۱۹۴۷ میں کیا جانے والا کشمیر پر قبائلیوں کا حملہ تھا۔ اس کے بعد بھی ہندوستان کے نائب وزیر اعظم سردار پٹیل نے پاکستان کو پیش کش کی کہ وہ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ میں مداخلت نہ کرے تو انہیں کشمیر کے پاکستان سے الحاق پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ سردار شوکت حیات اپنی سوانح عمری ‘گم گشتہ قوم‘ میں لکھتے ہیں کہ اس پیش کش کے جواب میں لیاقت علی خان نے کہا تھا: ‘کیا سمجھتے ہو کہ میں پاگل ہوگیا ہوں جو یہ تجویز مان لوں کہ حیدرآباد جو صوبہ پنجاب سے بڑاہے کو کشمیر کی چند پہاڑیوں کے عوض چھوڑ دوں؟‘

    بہرحال بات آگے بڑھاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہے کہ تاریخ برصغیر میں دو ایسے واقعات ہیں اگر وہ وقوع پذیر نہ ہوتے تو شاید نہ پاکستان آزاد ہوتا اور نہ ہم کانگرسی ذہنیت کو اتنے جلدی سمجھ پاتے۔ ان میں سے پہلا واقعہ میثاق لکھنو ہے۔آپ نے میرے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ اقبال نے اسے گڑھا کیوں قراردیا تھا؟ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس اتحاد کا خاتمہ کرنے میں کانگرس کا عمل دخل زیادہ تھا۔ اس کامطلب ہے کہ کچھ عمل دخل مسلم لیگ کا بھی تھا۔براہ مہربانی کسی مستند حوالے کی مدد سے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ دونوں جماعتوں نے اسے ناکام بنانے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟کانگرسی ذہنیت سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا اس میں اور ہندو ذہنیت میں کچھ فرق ہے کہ نہیں؟ کیا مسلم لیگی یا مسلم ذہنیت کا بھی وجود ہے کہ نہیں ؟ کیا یہ کانگرسی ذہنیت اس وقت موجود نہیں تھی جب جنا ح صاحب اس جماعت میں شامل ہوئے تھے؟ وہ اتنے برس تک اس ذہنیت کا ادراک کیوں نہ کرسکے ؟ اور کیا کانگرس چھوڑتے وقت انہوں نے ایسی کوئی بات کی تھی؟ انہوں نے ۳۰مارچ ۱۹۴۱کو یہ ضرور فرمایا تھی کہ کانگرس قومی جماعت نہیں بلکہ فاشسٹ گرینڈ کونسل ہے۔ کیا یہ ۱۹۰۶اور ۱۹۲۰کے درمیان ایک قومی جماعت تھی؟ کیا اس وقت بھی یہ فاشسٹ گرینڈ کونسل تھی؟ واضح رہے کہ فاشسٹ گرینڈ کونسل نے۱۹۲۸ سے ۱۹۴۳ تک اٹلی پر ظالمانہ طریقہ سے حکومت کی تھی۔ مولانا آزاد ۱۹۴۰ سے ۱۹۴۶ تک کانگرس کے صدر رہے۔ کیا وہ فاشسٹ تھے؟ کیا گاندھی اور نہرو فاشسٹ تھے؟

    آپ کے بقول کانگرسی وزارتوں دوران مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔آپ کے خیال میں کیا ۱۹۷۱ میں بھی کوئی ظلم وستم ہواتھا؟ کیا یہ بھی تاریخ کا حصہ ہےیا نہیں؟ آپ دونوں کا کس طرح موازنہ کرتے ہیں؟ دونوں میں کتنے کتنے لوگ موت کے گھاٹ اتارے گئے ؟

    جناح صاحب نے فرمایا تھا کہ پاکستان تب ہی معرض وجود میں آ گیا تھا جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ پاکستان تو ہمیشہ سے قائم تھا۔اس بارے میں آپ کا ارشاد ہے کہ اس سے مراد نظریہ ہے۔ براہ مہربانی اس کا کوئی ثبوت یا حوالہ دے دیں تو مہربانی ہوگی۔کیا مغلوں کے دور میں اور اس سے پہلے بھی یہ نظریہ موجود تھا؟ اگر تھا تو اس کے علم بردار کون تھے؟ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ پاکستان سے مراد ایک ایسا خطہ ہے جہاں مسلمان آزادی سے اپنی زندگی اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق بسر کر سکیں۔کیا اس وقت پاکستان کے مسلمان اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کررہے ہیں؟ باقی ملکوں کی کیا صورت حال ہے؟ کیا پاکستان کے مسلمان اپنے ہندوستانی بھائیوں سے بہتر مسلمان ہیں؟ جنا ح صا حب کے اس ارشاد کا پہلا حصہ آپ گول کرگئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’پاکستان ہندوؤں کےطرزعمل یا برےسلوک کی پیداوار نہیں۔‘ کیا یہ بات دانشورانہ دیانت کے تقاضوں کے خلاف نہیں؟ آپ نے فرمایا ہے کہ جناح صاحب نے کیبنٹ مشن پلان صرف اور صرف اس لئے منظور کیا تھا کہ وہ گولی، ڈنڈا جیسی پُر تشدد سیاست کے مخالف تھے اور وہ چاہتے تھے کہ آزادی کی یہ جنگ میز پر لڑی جائے، ایوان میں قانونی طریقے سے اس کے لیے آواز بلند کی جائے۔ وہ ستیاگرہ، بھوک ہڑتال، عدم تعاون اور سول نافرمانی جیسے قانون شکن طریقوں کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ دلیل کے ذریعے دوسروں کو قائل کرنے کے قائل رہے۔

    کیا آپ نے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کا ذکر کبھی نہیں سنا؟ یہ دن آل انڈیا مسلم لیگ نے ۱۶ اگست ۱۹۴۶ کو کیوں منایا تھا؟ کیا یہ درست ہے اس کے نتیجہ میں کلکتہ میں پانچ ہراز لوگ موت کے گھاٹ اتار دئے گئے تھے؟ کیا یہ وہی آگ نہیں جس نے بالاآخرہزاروں بلکہ لاکھوں گھر اجاڑ دئے؟کیا اس وقت کلکتہ میں مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی؟ آپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ دوہفتے کے اندراندر کیبنٹ مشن پلان کی مذمت اور پھر اس کی منظوری کے کیا معنی ہیں؟ جہاں تک کانگرس کے مکمل آزادی کے مطالبہ کا تعلق ہے تو دونوں باتوں میں کوئی تعلق نہیں ۔ اگر کانگرس نے اس مطالبہ سے چند ماہ قبل مکمل آزادی کے مطالبہ کی مذمت کی ہوتی تو آپ کی دلیل میں بہت وزن ہوتا۔

    آپ نے لکھا ہے کہ ’میری نظر میں پاکستان دلیل کی قوت سے معرض وجود میں آیا۔‘آپ کس دلیل کی طرف اشارہ کررہے ہیں؟ دوقومی نظریہ؟ آپ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ’آپ قیام پاکستان کو المیہ قرار دیتے ہیں یا معجزہ؟‘ یہ کس طرح کا سوال ہےاور اس کا مقصد کیا ہے؟ فیروزاللغات کے مطابق معجزہ وہ کام ہے جو انسانی عقل و فکر اور طاقت سے باہر ہو۔ اب آپ ہی ہماری رہنمائی فرمادیں۔ہمیں یہ بھی بتادیں کہ اسرائیل ‘ بنگلہ دیش ‘ مشریق تیمور اور جنوبی سوڈان کے قیام کے لئے کون سا لفظ درست ہے ؟ تقسیم کے وقت جو قتل و غارت ہوئی تھی اس کے لئے آپ کیا لفظ استعمال کریں گے؟ کیا یہ کہنا درست نہیں کہ پنجاب میں فسادات کا آغاز مارچ ۱۹۴۷ میں ضلع راولپنڈی سے ہواتھا؟

    آپ کے مطابق جناح صاحب نے تما م عمر مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کی ۔ ’ہر پلیٹ فارم، ہر جگہ اور ہر فورم پر مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔‘یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوئی؟ ہماری درسی کتابیں بتاتی ہیں کہ۱۹۰۵ میں ہونے والی تقسیم بنگال مسلمانوں کے مفاد میں تھی اور ہندوؤں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے اس کی مخالفت کی ۔ کانگرس بھی اس کی مخالف تھی۔ کیا اس وقت جناح صاحب نے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی؟اس وقت انہوں نےمسلمانوں کی دشمن جماعت کا نگرس میں شمولیت کیوں اختیا ر کی؟ اگر کرہی لی تھی توجلد ہی کانگرس سے پیچھا کیوں نہ چھڑایا؟ تحریک خلافت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کی تحریک تھی؟ اس کے بارے میں جناح صاحب کاکیا موقف تھا؟ کیا یہ درست ہے کہ جناح صاحب نےاپنےایک قریبی دوست سر تیج بہادر سپرو سے کہا تھا آپ اپنے پنڈت کو اور ہم اپنے ملا کو تباہ کردیں تو مذہبی امن قائم ہوجائے گا؟ http://www.mainstreamweekly.net/article2993.html

    آپ نے اس بات کو بالکل غلط قراردیا ہے کہ جناح صاحب نے تقسیم ہند کا مطالبہ زیادہ سے زیادہ رعایتیں لینے کے لیے کیا تھا ۔ آپ کے بقول ’یہ طریقہ جناح صاحب کا نہیں بلکہ آزاد کا تھا۔‘میر اخیال تھا کہ آپ ان تاریخی مباحث سے کچھ آگہی رکھتے ہوں گے۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ عائشہ جلال کی کتا ب The Sole Spokesmanدیکھ لیجئے گا پھرآپ کو یہ بات اتنی بے بنیاد نہیں لگے گی۔

    آپ نے فرمایا ہے کہ مولانا آزاد نےاپنی کتاب’ آزادی ہند‘ میں انیسویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار اور ان کا ہمنوا بنا کر پیش کیا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔بخاری صاحب‘ آپ نے یہ بہت بڑا دعویٰ کردیا ہے اور بغیر کسی ثبوت کے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا نے یہ بات انیسویں نہیں بیسویں صدی کے حوالے سے کی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے مولانا کی کتاب غور سے نہیں پڑھی ورنہ آپ یہ اعتراض قطعاً نہ کرتے۔انہوں نے اس کی وجہ کافی تفصیل سے بتا ئی ہے۔ انہوں نے مشرقی بنگال کے لیفٹیننٹ گورنر کی اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ مسلم کمیونٹی ہمار ی پسندیدہ بیوی ہے۔ بنگال کے انقلابی یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان ملک کی آزادی کے راستہ میں رکاوٹ تھے۔مولانا نے اس تاثر کو زائل کرنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔ بنگال کی حکومت نے ان انقلابیوں کی جاسوسی کے لئے یوپی کے مسلمان اہل کاروں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ آپ کا یہ فرمانا بھی درست نہیں کہ اس دور میں تحریک آزادی کا دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا۔ اس کی بحث بھی اس کتاب میں موجود ہے۔

    آپ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس وقت ہندو مسلمانوں کا استحصا ل کررہے تھے۔ کیسے؟ ذرا یہ فرما دیں کہ اس وقت مسلمان یوپی کی آبادی کا کتنے فیصدتھےاور وہ کتنے فیصد زرعی زمین کے مالک تھے؟ آپ نے فرماہے کہ ’ملازمتوں میں بھی مسلمان نہیں بلکہ ہندوؤں کا غلبہ تھا۔‘ اس صورت حال کی وجوہ پر بھی آپ کچھ روشنی ڈال دیتے تو بہت سے لوگوں کا فائدہ ہوجاتا۔ کیا یہ درست ہے کہ مسلمانوں میں جدید تعلیم کی بہت مخالفت پائی جاتی تھی؟ آپ نے فرمایا ہے کہ ’یہ سب واقعات مولانا آزاد کی ہندوؤں کے مفادات سے گہری وابستگی کے مظہر نہیں ہیں؟‘آپ کن واقعات کی طرف اشارہ کررہے ہیں؟ ذرا یہ بھی فرمادیں کہ کیا مولاناآزاد نے زندگی بھر کوئی اچھا کام بھی کیا یا وہ تمام عمرمسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سازشیں ہی کرتےرہے؟

  • 25-04-2016 at 9:41 pm
    Permalink

    شکیل صاحب،
    آپ نے بہت قابل غور نکات بہت عمدہ پیرائے میں اٹھائے ہیں، برائے مہربانی اسے ’ہم سبـ‘ کو بطور مضمون بھینجنے پر غور فرمائیں تاکہ زیادہ قاری اس سے مستفید ہو سکیں اور مکالمہ آگے بڑھے

  • 26-04-2016 at 5:55 am
    Permalink

    سلمان صاحب‘ میں نے یہ گزارشات ’ہم سب‘ کو بطور مضمون ۲۰ اپریل کو بھیج دیں تھیں۔ لیکن یاددہانی کے باوجود جب انہیں شائع نہ کیا گیا تو مجبوراً مجھے یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔

Comments are closed.