انتہا پسندی کیخلاف سیمینار


ویژن فورم ناروے اور پاکستان فیملی نیٹ ورک کے زیر اہتمام ہفتہ 19 دسمبر کو مذہبی انتہا پسندی ، دہشت گردی اور اسلام دشمنی کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت ناروے میں پاکستان کی سفیر محترمہ رفعت مسعود نے کی اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اس موقع پر شریک ہو کر انتہا پسندی اور عقیدہ کی بنیاد پر نفرت کے سماجی و سیاسی رجحان کو مسترد کیا۔

پاکستان فیملی نیٹ ورک کے نثار بھگت نے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یورپ میں آباد مسلمان جس دباﺅ کا شکار ہیں، اس سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور عقیدہ یا برادری اور ذات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو مسترد کرنے کا رویہ ترک کریں۔ تب ہی ہم مقامی معاشرہ پر یہ واضح کر سکیں گے کہ ہم بھی مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہیں۔

ویژن فورم کے ارشد بٹ نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہماری لڑائی دو طرفہ ہے۔ اگر کوئی نسل پرستی کی بنا پر ہم پر حملہ کرے گا تو ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہے لیکن اگر کوئی عقیدہ کے نام پر دہشت گردی کرے گا تو ہمیں اسے بھی مسترد کرنا ہے۔ ہم اسلام فوبیا کو مسترد کرتے ہیں تو اسلام کی آڑ میں قتل و غارت گری کے بھی خلاف ہیں۔ پاکستان نژاد سیاستدان رعنا اسلم نے کہا کہ ہمیں خود اسلام کی تعلیم حاصل کرنے اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارا عقیدہ سراپا محبت ہے، اس میں نفرت کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن یہ کام اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر ہم خود قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں اور اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ سماجی کارکن اور مصنفہ عاصمہ چوہدری نے انتہا پسندی اور نفرت کے خلاف گھر اور خاندان کے رول پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ ہمیں اپنے بچوں کو انتہا پسندانہ نظریات سے محفوظ رکھنے کے لئے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

مقامی سیاستدان اور پاکستانی نژاد ڈاکٹر مبشر بنارس نے کہا کہ انصاف کی عدم فراہمی اور بنیادی انسانی حقوق سے گریز کی وجہ سے دنیا میں انتشار اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے ہمیں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے مقامی سیاسی عمل کا حصہ بننا بھی اہم ہے تا کہ ہم اپنی آواز مقتدر حلقوں تک پہنچا سکیں۔

کاروان کے ایڈیٹر سید مجاہد علی نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نتیجہ میں سامنے آنے والی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں ہم آہنگی پیدا کرنے ، ایک دوسرے کو سمجھنے اور تصادم سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی جاننا ہو گا کہ پاکستان جیسے معاشروں میں عقیدہ و مذہب کی بنیاد پر پروان چڑھنے والی انتہا پسندی پر عمل کرتے ہوئے ہم مغربی معاشروں میں اپنا تحفظ نہیں کر سکتے۔

اجلاس کے آخر میں سفیر پاکستان رفعت مسعود نے بتایا کہ اس وقت جس صورتحال کا ہم سامنا کر رہے ہیں وہ عقیدے یا اسلام کی جنگ نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی کھیل ہے جس میں مختلف قوتیں اپنا رول ادا کر رہی ہیں۔ ہمیں خود کو اور اپنے بچوں کو اس شدت پسندی سے محفوظ رکھنا ہے اور مقامی معاشرہ میں احترام حاصل کرنے کے لئے بین العقیدہ تفہیم کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب تو محبت کا پیغام دیتا ہے لیکن عقیدہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔

سیمینار کے اختتام پر حاضرین نے بھی اس موضوع پر اظہار خیال کیا اور انتہا پسندی سے گریز اور اسلام کے بارے میں بہتر تفہیم کی ضرورت پر زور دیا۔ ممتاز شاعر اور متحرک ادیب آفتاب وڑائچ نے خوبصورتی سے اس شام کی میزبانی کے فرائض انجام دئیے۔


Comments

FB Login Required - comments