شیرو دادا کی سیکس ایجوکیشن


inam-rana-3

اگر کوئی پوچھے کہ کالج سے میں نے کیا کمایا تو بلا توقف کہوں گا شیرو دادا۔ شیرو دادا کالج کے پہلے دن میرا دوست بنا اور آج تک روح کا بھی ساتھی ہے۔ اب میرے ایک کرم فرما کی طرح شیرو دادا کی اصل دھونڈنے نہ نکل پڑیے گا۔ صاحبو شیرو دادا ہو، پروفیسر یا تائب میرزا، یہ نام اصل نہیں ہیں گو یہ کردار حقیقی ہیں اور میری زندگی میں رنگ ان ہی سے ہے۔ شیرو اور میں پہلے ہی دن دوست بنے اور دوسرے ہی دن نئے نئے بنے ’پیس مال‘ میں بھونڈی کرنے پہنچ گئے۔ اگر آپ ’بھونڈی‘ لفظ سے واقف نہیں تو فورا فرہنگ آصفیہ کے بجائے فون ڈائرکٹری تلاش کیجیے اور کسی لاہوری دوست کو فون ملائیں۔ شیرو دادا نے مجھے ملک شیک پلایا، اور دو تین گھنٹے سبحان اللہ ماشا اللہ کا ورد کرنے کے بعد ہم شیرو کی موٹر بائیک پر کالج واپس آئے۔ رستے میں شیرو نے کہا، بھائی کیا کمال جگہ ہے، ہم روز آئیں گے۔ میں نے کہا ہاں ضرور۔ کچھ دیر بعد بولا ملک شیک اچھا تھا۔ میں نے کہا ہاں۔ بولا تو بس پھر ایک دن تم پلانا ایک دن میں پلاؤں گا۔ میرا بے اختیار قہقہ نکلا اور معصوم شیرو میرا عمر بھر کا دوست بن گیا۔

شیرو کو دادا ہم اسکے ڈیل ڈول کی وجہ سے کہتے تھے۔ قدرتی طور پر ایسے کسرتی جسم کا مالک کہ لگتا تھا روز جم کرتا ہے۔ کھانے پینے کا شوقین تھا اور سادہ دل اتنا کہ اکثر ہماری وجہ سے پھنس جاتا۔ ایک دن یونہی پیس مال کی فوڈ کورٹ میں بیٹھے ایک پیاری سی لڑکی نظر آئی۔ میں نے کہا دادا اگر تو اس لڑکی سے پانچ منٹ بات کر لے تو ملک شیک میری طرف سے۔ دادا نے دو منٹ سوچا، ملک شیک کا ذائقہ تصور کیا، ایک سسکی اس کے لبوں سے نکلی اور دادا تیر کی رفتار سے اس لڑکی کی طرف گیا۔ ابھی دادا اس لڑکی سے شروع ہی ہوا تھا کہ ایک مرد ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا جو اتفاقاً لڑکی کا خاوند بھی تھا۔ ایک ہنگامہ برپا ہوا مگر شکر ہے کہ وہاں موجود باقی دوستوں نے معاملہ سنبھال لیا۔ ’اتفاق‘ سے جب لڑکی کا شوہر آیا اور دادا کا گریبان پکڑا تو مجھے باتھ روم جانے کی حاجت ہوئی۔ سو میں باقی کا منظر خود دیکھنے سے محروم رہا۔ دادا نے جب عین وقت پہ باتھ روم جانے پر ہر قسم کی گالی اور طعنہ دے دیا تو بولا چل اب ملک شیک پلا اور دو بنتے ہیں، ایک لڑکی کا اور دوسرا اس کے شوہر کا۔ اگرچہ دادا نے پورے پانچ 13059462_10154125922156667_424679519_nمنٹ بات نہیں کی تھی مگر میں نے دوستی کا پاس رکھا اور ملک شیک پلا دیا۔

ایک دن دادا انتہائی رونی صورت بنائے ہوے میرے پاس آیا۔ کچھ دیر افسردہ رہنے کے بعد بولا، یار رانے مجھے کوئی بیماری لگ گئی ہے۔ کیا ہوا دادا؟ میں نے فکر سے پوچھا۔ یار دو دن سے میں سوتا ہوں تو مجھے خواب میں گندی گندی باتیں آتی ہیں، درد ہوتا ہے اور میرا پیشاب نکل جاتا ہے۔ اتنا کہ کر دادا نے میرے کندھے پہ سر رکھا اور باقاعدہ آنسووں سے رو پڑا۔ اپنے دوست کی اس بیماری، اور اسکی ممکنہ موت کا سوچ کر میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔ میرے حوصلہ دینے پر وہ سنبھلا اور بتایا کہ پرسوں رات جوہی چاولہ کی فلم دیکھی تھی جس میں اس نے گہرے گلے والی قمیض پہنی تھی۔ میرے دل میں آیا کہ اگر یہ تھوڑا اور جھک کر ڈانس کرے تو۔۔۔۔ بس یار لگتا ہے اللہ میاں اسی گندی 13059558_10154125922311667_912154386_nبات سوچنے کی سزا دے رہے ہیں۔ یہ کہتے ہی دادا کی ہچکیاں پھر سٹارٹ ہونے لگیں۔

میں نے حوصلہ دیا کہ اللہ رحیم ہے اس سے معافی مانگ اور اس جمعرات میرے ساتھ داتا دربار چل۔ ویسے دادا پیشاب تو بچوں کا بھی نکل جاتا ہے، پریشان نہ ہو۔ دادا نے روہانسا ہو کر کہا کہ نہیں یار یہ مختلف بیماری ہے۔ میں نے چیک کیا ہے شلوار اکڑ گئی ہے جیسے کلف لگی ہو۔ اور اتنا بڑا نشان۔ پہلے دن تو میں نے چھپا کر دھو دی تھے پر کل رات والی لایا ہوں۔ یہ کہ کر دادا نے کالج بیگ کھولا اور دائیں بائیں دیکھتے رازداری سے مجھے شلوار دکھائی جس پر کلف سے ہندوستان کا نقشہ بنا تھا اور کشمیر کی لائن آف کنٹرول کی درست نشان دہی ہو رہی تھی البتہ چین  ہندوستان کا حصہ ظاہر ہو رہا تھا۔ میں بیماری کی اس نوعیت، شدت اور پھیلاؤ پر مزید پریشان ہو گیا۔ صاحبو یہ اندازہ تو آپ کو ہو گیا ہو گا کہ میں بھی دادا جیسا ہی معصوم تھا بلکہ ابھی تک ’محروم‘ بھی تھا۔

دادا کا ایک بڑا بھائی بھی تھا۔ میں نے کہا شاذب بھائی کو بتا وہ کسی ڈاکٹر وغیرہ پہ لے جائیں۔ دادا نے فورا کہا نہیں نہیں وہ سو سوال کرے گا اور امی ابو کو بھی بتا دے گا۔ اور میرے باپ نے تو میری ہی غلطی نکال کر مارنا ہے۔ خبردار اس کو نہ بتائیں۔ بلکہ تجھے آنٹی کی قسم ہے کسی کو بھی اگر بتایا تو۔ کافی سوچ بچار کے بعد طے پایا کہ کسی دور کے علاقے کے کسی انجان ڈاکٹر کے پاس جایا جائے تاکہ راز راز ہی رہے اور علاج ہو سکے۔ اب ہم بائیک پہ بیٹھے اور مختلف جگہیں سوچتے مسترد کرتے سمن آباد کے ایک کلینک پہنچے۔ مگر وہاں رش زیادہ تھا۔ ایک اور کلینک میں ڈاکٹر سرعام ہی بیٹھا تھا اور ہماری گفتگو دوسرے بھی سنتے جس سے 12992764_10154125922351667_1851293700_nہمیں شرم آتی۔

آخر ملتان روڈ کے ایک ویران سے کلینک پہنچے جہاں پر ایک ایسا ڈاکٹر بیٹھا تھا جو نہ جانے کیوں بیٹھا تھا۔ چھوٹے سے کلینک میں بس ڈاکٹر تھا یا اس کا کمپاونڈر اور دونوں ہی گرمیوں کی دوپہر میں نیم غنودگی میں تھے۔ ہماری آواز سن کر پہلے تو کمپاونڈر جاگا اور پھر ڈاکٹر جو کرسی میں نیم دراز مریض ہی لگتا تھا، فورا ڈاکٹر ہو گیا۔ دونوں نے حیرت اور خوشی بھری آنکھوں سے ہمیں اور ایک دوسرے کو دیکھا اور ڈاکٹر نے فورا رائٹنگ پیڈ پر کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ پھر بولا جی کیا مسئلہ ہے؟ اب ہم دونوں جو ڈاکٹر کے پاس سٹول پر بیٹھے تھے گم سم ہی بیٹھے رہے۔ ڈاکٹر نے پھر زرا زور سے پوچھا، کیا تکلیف ہے؟

اب کے دادا نے التجائی نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں ممننایا کہ سر یہ میرے دوست کو عجیب سی بیماری لگ گئی ہے۔ ڈاکٹر نے دادا کا ڈیل ڈول دیکھا اور ایک لمبا سا اچھاااا کہا۔ پھر بولا تم خود بتاؤ کیا ہوا۔ میں نے بھی کہا ہاں دادا کھل کر بتاؤ تاکہ ڈاکٹر صاحب صحیح طرح سمجھ سکیں۔ اب دادا نے آنکھیں جھکائیں اور ساری داستان یوں شرمندہ سا ہو کر تیز تیز سنائی جیسے سولہ دسمبر سن اکہتر کی شام نیوز کاسٹر نے خبریں پڑھیں ہوں گی۔ بات کرتے کرتے دادا نے بیگ سے شلوار بھی نکال لی۔ آنکھیں شرم سے میری بھی 13014896_10154125922456667_1861475314_nجھکی تھیں۔

اچانک ایک قہقہے کی آواز آئی اور ساتھ ہی ٹھاہ کی ایک آواز۔ دیکھا تو ڈاکٹر کرسی سمیت فرش پر گرا ہوا تھا اور پیٹ پکڑ کر زور زور سے ہنس رہا تھا۔ گھبرا کر نظر گھمائی تو کمپاونڈر بھی منہ پر ہاتھ رکھے یوں ہنستا تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ ہم گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوتے ڈاکٹر اٹھا اور اگلا ایک گھنٹہ اس نے ہمیں وہ سب کچھ بتایا، سمجھایا بلکہ کاغذ پہ بنا کر دکھایا جو کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ شرم سے ہمارے کان لال ہوتے تھے اور جسم میں چیونٹیاں دوڑتی تھیں۔ اور ہاں اس ڈاکٹر نے ہم سے فیس بھی نہ لی اور جاتے جاتے مشورہ دیا کہ کیلے اور دودھ زیادہ استعمال کرو۔

بلاشبہ ہمارے معاشرے میں جنسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ تاکہ نوجوانی کے اسرار ایک زحمت سے زیادہ فطری چیز لگیں اور ہم ان بدنی تبدیلیوں کے لیے تیار ہوں جو قدرت لاتی ہے۔ وہ خواہ لڑکے کے مسائل ہوں یا لڑکی کے۔ ہماری تہذیب کو مدنظر رکھتے ہوے ان معلومات کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ مجھے حیرت ہے اگر کوئی مذہب کے نام پر اس کی مخالفت کرے کہ خود صحائف مین بھی جنسی تعلیم دی گئی ہے اور عربی بولنے سمجھنے والے بچے چھوٹی عمر سے اسے پڑھتے ہیں۔ خود مدارس میں رائج درس نظامی میں جنسی تعلیم موجود ہے۔ بلکہ عزیزم شاد مردانوی نے بتایا کہ تقریباً نابالغ عمر میں ہی ان کو مدارس میں یہ تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ یقین کیجیے جنسی تعلیم ایک نوجوان ہوتے بچے/بچی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ دینی یا دنیاوی تعلیم۔

صاحبو، آج دادا کے تین بچے ہیں، میں بھی شادی شدہ ہوں اور اس بات کو پندرہ سال بیت گئے۔ لیکن ہم آج بھی اس واقعہ کو یاد کر کے ہنستے ہیں کہ ہم اپنی لاعلمی کی وجہ سے کتنا خجل ہوئے۔ سوچتا ہوں کاش ہم ایف سی کالج کے بجائے بیکن ہاوس میں ہوتے تو میں شیرو دادا کی شلوار دیوار پر لگا دیتا اور لکھتا ’یہ بھی فطری ہے‘۔ شاید کوئی ہمارے ’مسائل‘ پر بھی کالم لکھ دیتا۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

12 thoughts on “شیرو دادا کی سیکس ایجوکیشن

  • 17-04-2016 at 5:34 pm
    Permalink

    hahahhaha kamal

  • 18-04-2016 at 2:08 am
    Permalink

    سیکس ایجوکیشن کے بارے میں‌ یہ کہہ سکتی ہوں‌ کہ یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ پاکستان اور انڈیا جیسے ملکوں‌میں‌جہاں‌ آبادی ہاتھوں‌ سے نکلی جارہی ہے اس موضوع کو ایسا دبایا کیوں‌ جاتا ہے۔ جو ساؤتھ کی قدامت پسند امریکی ریاستیں‌ ہیں وہاں تعلیم کی کمی بڑی وجہ ہے۔ نو اور دس سال کے تھے میرے بچے جب میں‌ نے ان دونوں‌ کو بٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ ان کے جسم میں‌ کیا کیا تبدیلیاں‌ آنے والی ہیں۔ کہاں‌ پر اگر کوئی آپ کو چھوئے تو غلط ہوتا ہے اور امی ابو کو فورا” بتائیں۔
    یہاں‌ امریکہ میں اسلامی ، عیسائی اور دیگر قدامت پسند تنظیمیں‌ سیکس ایجوکیشن کے خلاف اجلاس بلاتی ہیں‌ اور وہاں‌ لوگ پہنچ جاتے ہیں ثواب سمجھ کر الٹے سیدھے سبق سیکھنے۔ ٹین ایج حمل ایک بڑا مسئلہ ہے یہاں‌ اوکلاہوما میں‌بھی اور پاکستان اور انڈیا میں‌بھی۔ جنوبی ایشیا میں‌ بچے گرا کر اور بچیاں‌ مار کر صحن میں‌ گاڑ کر اس مسئلے کو حل کیا جاتا ہے۔یہاں‌ پر عزت کے نام پر قتل نہیں‌ ہوتے اور ان کی تعداد کو دکھا کر خود کو بڑا اچھا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب ہم جس دنیا میں‌ زندہ ہیں‌ وہاں‌ بارہ تیرہ سال کے بچوں‌کا تو بیاہ نہیں‌ کرسکتے۔ وہ کیسے بچارے رہیں‌گے، اپنے بچے کیسے وہ پالیں‌ گے؟ آج کل کے ماڈرن زمانے میں‌ جب ایک فیملی کو مکان ، نوکری ، سڑکوں‌، بینکوں‌ اور اسکولوں‌ کی ضرورت ہے تو اسی کے لحاظ سے دنیا کے شہریوں‌ کو اپنے جسم ، بائیولوجی اور صحت کے بارے میں‌ جاننا ہوگا۔ بچوں‌ کی تعداد کو کم کرنا ہوگا اور ان کی نارمل فزیالوجی اور ضروریات کو سمجھنا ہوگا۔

    • 18-04-2016 at 3:19 am
      Permalink

      Rightly said

  • 18-04-2016 at 6:11 am
    Permalink

    رانا صاحب یہ شاد صاحب بھی شیرو داد ہی ہیں پتہ نہیں کس مدرسے میں چھوٹی عمر میں سیکس کی تعلیم دی جاتی ہے ؟
    درس نظامی میں داخلہ ہی میٹرک یا مڈل کے بعد ملتا ہے یا اگر مڈل نہیں تو وہاں اعدادیہ کے نام سے پانچویں کے بعد تین سالہ کورس ہوتا ہے پھر درس نظامی کا پہلا سال شروع ہوتا ہے اس وقت بچے کی عمر ٹین ایج میں آجاتی ہے پہلے سال تو گرائمر میں گزرجاتا ہے فقہ کی کوئی چھوٹی موٹی کتاب پڑھائی جاتی ہے
    دوسرے سال سے فقہ کی کتاب قدوری پڑھائی جاتی ہے جسمیں آپکی سیکس ایجوکیشن اور ہماری اخلاقی تعلیم شروع ہوتی مطلب کہ کتاب الطہارت میں احتلام پیشاب پاخانہ حیض نفاس مینسز وغیرہ کے مسائل اور انکے احکام زیر بحث آتے ہیں اور پھر یہ چلتے ہیں ھدایہ تک مکمل شرح وبسط کے ساتھ
    اس میں پیشاب کے علاوہ آلہ تناسل سے نکلنے والی جملہ رطوبتوں پر فقہی بحث ہوتی ہے مثلا مذی ودی منی وغیرہ
    لیکن فرق یہ ہے کہ مغرب کی سیکس ایجوکیشن کے بعد وہاں کی بچی ماں بننے کو ترجیح دیتی ہے اور بچہ باپ بننے کو ایسا ھیلری کلنٹن نے پاکستان میں کہا تھا
    ہمارے مشرقی اور مذہبی اخلاقی تعلیم کے بعد بچے اس معاملے میں سنجیدہ ہوجاتے ہیں استثنائی کیس ہر جگہ ہوتے ہیں ہمارے بزرگوں نے “آداب مباشرت “کے نام سے کتب لکھی ہیں
    یہ اعتراض مدارس کی حد تک تو بلکل لغو ہے کہ وہاں اس متعلق تعلیم نہیں دی جاتی
    مسئلہ سیکس ایجوکیشن سے نہیں بھائی جنسی آوارگی سے ہے جنسی باولے پن سے ہے صنفی درندگی سے ہے مغرب کی سیکسی تعلیم سے بیکن ہاوس کی دیواریں نئی صدی کے عجیب قسم کی ڈیکوریشن سے سجتی ہیں اور کاکیاں داغدار پھرتی ہیں
    اور مشرقی تعلیم الاخلاق سے اس فطری چیز کو بھی عورت فطری شرم وحیا سے ہی ڈیل کرتی ہیں
    ہمارے ایک بہت ہی معتبر عالم نے اس مسئلہ پر تبصرہ کیا ہے میں انکے اس وقیع تبصرے کو کاپی پیسٹ کرتا ہوں
    سمجھ نہیں آرہی کہ ناراضگی کس بات کی ہے؟؟۔۔۔
    اسلام نے نہ تو “ماہواری” کے ایام میں عورت کو ناپاک قرار دیا ہے نہ اسکے ہاتھوں پکے کھانے کو۔۔
    نہ اسکے ساتھ رہنا منع کیا ،نہ بستر بدلااور نہ اسے معاشرے سے کاٹا۔بلکہ اس بارے میں رائج معاشرتی ناانصافیوں کا سختی سے ازالہ کیا۔
    “ان ایام کے احکام تو اسلام کی طرف سے عورت کے لئے عظیم تحفہ تھے کہ اللہ تعالی نے اسے اپنی عبادت میں بھی رخصت دے کر آرام دیا اور شوہر کے حقوق سے بھی راحت بخشی۔
    ان ایام میں نماز روزہ وتلاوت کی ممانعت ہے اور حقوق زوجیت کی۔ باقی عورت اسی طرح سلامت ہے اور مرد پر اس کے تمام حقوق اور ذمہ داریاں بھی بحال ہیں۔
    تو پھر لبرل بیبیوں کا اور ان کے بھائیوں کا اسلام کے احکام حیض ونفاس پر غصہ کس وجہ سے ہے؟۔
    نماز روزے کی اجازت نہ ہونے کا غم تو ہونہیں سکتا تو پھر۔۔۔؟؟؟؟
    بات تو ایک ہی رہ جاتی ہے۔
    کوئی تو سمجھادیوے۔۔۔۔
    باقی رہی بات اپنی اس حالت کو چھپانے کی تو یہ کام عورت کی طبعی اور فطری حیاء نے خود کیا اسلام نے کہیں اسکا حکم نہیں دیا۔اب اگر کسی کی مسخ شدہ طبیعت اسے اظہار پر آمادہ کررہی ہے تو وہ کرگذرے پہلے کون سی کسر چھوڑ رکھی ہے۔لیکن یہ دھبے اپنے دامن پر رہنے دے اسلام کے دامن پر نہ لگائے۔” مولانا طلحہ السیف صاحب

    • 18-04-2016 at 6:05 pm
      Permalink

      ہی اچھا جواب،، اپ لکھتے رہیں ، اچھا رہے گا پڑھا اپ کا

  • 18-04-2016 at 9:07 am
    Permalink

    واقعتاً..ہمارے ہاں بنیادی طور پر سماجی روئے اس سلسلے میں تنگ نظری کا شکار ہے..
    سکول کالجز کے مقابلے میں مدارس میں اپنی ذات سے متعلق مسائل کا احاطہ تعلیم الاسلام اور بہشتی زیور کے ساتھ بروقت ہوتا ہے..
    میرا خیال ہے کہ تعلیم الاسلام اور بہشتی زیور کے یہ متعلقہ حصے آٹھویں، نویں میں پڑھانے چاہیئے کہ “خواب میں پیشاب نکلنے ” کا زمانہ یہی ہے..
    یعنی ہر دو جنس کے طالب علم کو آئندہ دیدھ ایک سال کے اندر ہونے والی جسمانی تبدیلی اور اس سے متعلق شرعی و سماجی احکام سے باخبر کرنا ضروری ہے..
    اسکول کاـاسلامیات پریڈ اس کے لئے کافی ہے، بشرطیکہ سمجھدار اساتذہ مہیا بھی کئے جائین.

  • 18-04-2016 at 1:25 pm
    Permalink

    واہ جناب قلم ہے آپ کا ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے،

  • 18-04-2016 at 5:55 pm
    Permalink

    بچوں کو مناسب وقت پر ایسی تعلیم دینا چاہتے ورنہ یہ بات وہ گلیوں سے سیکھیں گے اور اس کا نقصان زیادہ ھوگا.

  • 18-04-2016 at 6:04 pm
    Permalink

    میرا خیال کے تصویریں ڈالنا ضروری تھا. اس کے بگڑ بھی بات بن سکتی تھی،،،

  • 18-04-2016 at 8:40 pm
    Permalink

    رانا بھائی ، مصروفیت کچھ ایسی رہی کہ ہم سب سے تھوڑا دور رہا۔ آج سب کالم بلاگ پڑھے ہیں۔ شیرو والا تو کمال ہی ہے۔ سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کی وجہ ہر بندے کو جنسی شناسائی کا وکھرا ہی تجربہ ہوتا ہے لیکن ہر کوئی لیکھک نہیں ہوتا کہ تحریر میں لا سکے ۔
    کیلے کا چھلکا اچھا مضمون رہا کہ پس منظر آپ نے کمال کھینچا ۔ البتہ اس پر میرا مئوقف اس مضمون کے نیچے قاضی صاحب کی رائے سے مطابقت رکھتا ہے۔
    بہرحال تباہیاں پھیر رہے ہیں۔ چھتیں اڑا رہے ہیں ۔ کمال کر رہے ہیں

  • 18-04-2016 at 11:42 pm
    Permalink

    واقعی ایک اہم بات ہے جس سے سب کو ( لڑکوں اور لڑکیوں دونوں مراد ہیں) مستفید ہونا ضروری ہے
    اہم بات یہ ہے کہ فطری تقاضے اور معصومیت دونوں طرف ہی مشترکہ ہیں
    لڑکیاں ہوں یا لڑکے دونوں ہی ڈرتے رہتے تھے کہ خدا جانے کیا قیامت آگئ
    لیکن بعد میں سب کو سمجھ آجاتی تھی اور انٹرنیٹ کی بدولت یہ بعد والا مسئلہ حل ہوچکا ہے لہذا سب ہی اب منتظر ہوتے ہوں گے کہ کب دھماکہ ہو اور اب بس گود بھرائ کی طرز پر پارٹیز تھرو کرنے کا مسئلہ باقی رہ گیا ہے کہ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے جس کی تلفی مسلسل باوا آدم اور ماں حوا سے اب تک ہوتی چلی آرہی ہے
    ذرا تصور کریں لڑکے کی خاطر اس پارٹی کا نام کیا ہوسکتا ہے : آغاز جوانی پارٹی ، رسم ابتداء مباشرت خوابی یا بے خوابی ، فرسٹ شاٹ پارٹی، فرسٹ سپرم بریک ڈاؤن پارٹی بروزن نروس بریک ڈاؤن ، ویٹ ڈریم پارٹی اور اردو میں رسم گیلا خواب و علی ھذا القیاس۔۔۔۔۔۔
    مثالی کارڈ : آج ہمارے لڑکی کی رسم گیلا خواب ہونا قرار پائ ہے ۔۔۔
    لڑکی کے لئے تھرو کی جانے والی پارٹی کا نام تجویز کرتے ہم کو شرم آوے ہے لہذا اس کو بیکن ہاؤس والیوں سے کرنے کو کہا جائے

  • 25-04-2016 at 2:07 pm
    Permalink

    رانا صاحب آپ کے بلاگ پر اپنے تاثرات کے اظہار کیلئے (Emotions) ڈالنے کی بھی گنجائش ہونی چاہیئے، کوئی بندہ کچھ نا کہنے اور کچھ نا لکھ سکنے کی کیفیت میں تو بھی تو ہو سکتا ہے۔ 😀

Comments are closed.