جینز والی لڑکی بے شرم اور پاجامے والی باحیا؟


قوم کے نیکوکار مردوں کی اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جینز پہننے والی لڑکیاں شرم حیا سے تہی دامن ہوتی ہیں جبکہ پاجامہ پہننے والیوں کے اعلی اخلاق اور مشرقی روایات کی پاسداری میں کسی کو شک نہیں ہوتا۔ ذی شعور افراد جینز پہننے کو ہمیشہ مغرب کی اندھی نقالی قرار دیتے ہیں اور پاجامے والیوں کو شرم و حیا کی جیتی جاگتی عفت مآب پتلیاں گردانتے ہیں۔ جبکہ کم شعور والے یہ کہتے ہیں کہ جینز بھی اتنا ہی جسم ڈھانپتی ہے جتنا پاجامہ تو پھر جینز کیسے بے شرمی کو فروغ دیتی ہے اور پاجامہ کیونکر عفت کی حفاظت کا ضامن ہے؟

جینز کے مخالفین بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ لباس بدلتے ہی اقدار اور اخلاقیات بدل جاتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی لڑکی جینز پہنتی ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ مغربی اخلاقیات کا چولا بھی چڑھا لیتی ہے۔ اسے نہایت ہی آزاد خیال سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس پر بھی وہی ارمان چسپاں کر دیے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں گوریوں سے مخصوص کیے جاتے ہیں۔ یہ یقین ہو جاتا ہے کہ بس جیسے ہمارے عمومی تصور کے مطابق گوریاں صبح دوپہر شام بوائے فرینڈ تلاش کرتی رہتی ہیں ویسے ہی یہ دیسی جینز والیاں بھی ان کی مقلد ہوں گی۔

جینز کی بات چلے تو اردو ادب کے ایک مشہور ناول کی ہیروئن پر بات جائے گی۔ آپ کو مشہور ناول راجہ گدھ یاد ہو گا۔ اس کی ہیروئن سیمی نیم مغربی تھی مگر اس میں کچھ کچھ شرم حیا باقی تھی۔ اسی وجہ سے وہ جینز کے اوپر کرتا پہنتی تھی۔ مکمل مغربی ہوتی تو ٹی شرٹ پہنتی۔ بہرحال اسی کنفیوژن اور مغربی خیالات کی وجہ سے اسے خودکشی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ حالانکہ اس نے صرف عشق کیا تھا اور کوئی دیگر برا کام اس نے خود نہیں کیا تھا۔ جبکہ ناول کا ہیرو قیوم مکمل مشرقی تھا۔ اس نے بڑھ بڑھ کر برے کام تو بہت کیے، بلکہ سیمی سمیت اپنے قرب و جوار کی ہر خاتون کے ساتھ کیے، لیکن اس نے خودکشی نہیں کی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ مغرب کی بے راہ رو فکر کا پیروکار نہیں تھا اور جینز نہیں پہنتا تھا۔

بہرحال صوفیانہ ناول راجہ گدھ کی مثال سے یہ تو طے ہو گیا کہ نیکوکاروں کی رائے میں جینز پہن کر نہ کردار باقی بچتا ہے اور نہ عزت۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر موٹے کپڑے والی جینز کی بجائے مشرقی لباس کو ترجیح دیتے ہوئے لان یا نفیس قسم کے مہین سے لٹھے کا چوڑی دار پاجامہ پہن لیا جائے تو پھر حیا باقی بچ جائے گی یا اس پاجامے پر بھی اعتراض کیا جائے گا؟

یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ طالبات پر یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ وہ شلوار قمیض، لہنگا، پشواز، غرارہ، شرارہ، ساڑھی اور اسی قسم کے دیگر دیسی لباس پہن کر یونیورسٹی جایا کریں۔ اس سے کسی کو شائبہ تک نہیں ہو گا کہ وہ مغرب زدہ ہیں اور آزاد خیالی کی پیروکار ہیں۔ لوگ ان کو مغرب زدہ حسینہ سمجھ کر نہیں دیکھا کریں گے بلکہ بلاوجہ ہی دیکھا کریں گے اور مشرقی تہذیب کے پے پناہ حسن کی تعریف میں ہر وقت رطب اللسان ہوں گے۔

بہرحال ہم پنجاب حکومت کو اساتذہ کے جینز پہننے پر پابندی لگانے پر مبارک باد دیتے ہیں۔ اور ان نصف درجن بڑی یونیورسٹیوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں جنہوں نے طالبات کے جینز پہننے پر پابندیاں لگائی ہیں۔ یاد پڑتا ہے کہ چند برس پہلے لاہور کے ایک مشہور زنانہ ادارے کو تو لڑکیوں کے جینز پہننے پر اس لئے بھی پابندی لگانی پڑی تھی کہ طالبات کے اخلاق سے زیادہ ادارے کی عمارت تباہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ دہشت گردوں نے اپنے خط میں یہی لکھا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1036 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar