سیکولر حضرات کے کچھ مزید مغالطے


mujeeb tahirبرادر سمیع اللہ سعدی نے سیکولر حضرات کے دس مغالطے اہلِ علم و فضل اور مجھ جیسے کم علم قارئین کے استفادے کی غرض سے ارزاں فرماۓ ہیں۔ اس پر تشکر واجب ہے۔ تاہم شکوہ یہ ھے کہ اس جامع تحریر کے براہین قاطع سے متعدد نئے مغالطے پیدا ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر ان سوالات کے جواب بھی مل جائیں تو سیکولر حضرات کے حقیقی معنوں میں دانت کھٹے کئے جا سکیں گے۔

1۔ ’’سیکولر ازم کی بحث میں مسلم سیاسی افکار میں سے ایک فکر پر تنقید یا اس کے نقائص کی نشاندہی‘‘۔۔۔۔ ’’اس لیے خوب سمجھنا چاہیے مودودی صاحب کی سیاسی فکر بے شمار مسلم سیاسی مفکرین میں سے ایک مفکر کی تعبیر ہے، اسے ’اسلامی سیاسی فکر‘ کے مترادف سمجھنا پہلا مغالطہ ہے۔‘‘ ۔ مسلم سیاسی فکر سے آپ کی کیا مراد ہے اور ہم اس کے بارے میں کہاں سے جان سکتے ہیں؟ یا وہ کون سا مسلم مفکر ھے جس کی پیش کردہ تعبیر کو آپ مسلم سیاسی فکر کہہ رھے ہیں؟

2۔ ’’خارجی سیاسی فکر‘ کو ’اسلامی سیاسی فکر‘ سمجھنا دوسرا مغالطہ ہے “۔۔۔۔ مین سٹریم اسلامی مکاتب اسے صدیوں پہلے رد کر چکے ہیں۔‘‘ فرمایۓ گا کہ مین سٹریم اسلامی مکاتب فکر نے کون سی اسلامی سیاسی فکرکو متفقہ طور پرقبولیت سے سرفراز کیا ھے؟

3  – ’تھیوکریسی‘ اور ’اسلامی سیاسی فکر‘ کو مترادف سمجھنا تیسرا مغالطہ ہے۔۔۔۔”اسلام کی ٹھیٹھ سیاسی فکر اور مذہبی پاپائیت میں اتنا ہی بعد ہے جتنا کہ خود سیکولر ازم اور اسلام میں ہے۔‘‘۔ یہ کون سی ٹھیٹھ سیاسی اسلامی فکر ھے جس کی جانب آپ اشارہ فرما رھے ہیں؟

۔4 – ’مسلم سیاسی فقہ میں ذمی اور جزیہ کے تصور کو ’دوسرے درجے کی شہریت‘ کے مترادف سمجھنا چوتھا مغالطہ ہے‘۔ ان ’ ٹھیٹھ اسلامی سیاسی اصطلاحات‘ سے بھی سیکولر حضرات کو آگاہ فرمایئے جن سے انہیں علم ھو جائے کہ اسلامی ریاست میں ذمی اور جزیہ کا اصل تصور ویسا نہیں جو وہ سمجھتے ہیں بلکہ وہ ھے جو آپ سمجھ رھے ہیں۔ کسی کے تصور کو غلط کہہ دینا کافی نہیں ھوتا، درست تصور کی نشاندہی بھی ضروری ھے۔ تاکہ آپ کا فریقِ مخالف ’اُس تصور‘ کے حوالے سے اپنے دلائل سامنے لائے اور غیر جانبدار قارئین کو استفادے کا موقع میسر آئے۔

5۔ ’’سیکولر ازم کو ’عدم محض‘ سمجھنا پانچواں مغالطہ ہے،سیکولر ازم خود ایک مذہب، ایک فکر اور ایک ضابطہ ہے‘‘۔ یہ سیکولرازم اگر ایک مذہب ھے تو اس کا ایک خدا بھی ھوگا جس کی یہ سیکولر حضرات بندگی/ پرستش کرتے ھوں گے۔ از راہِ کرم اس بارے میں آگاہ فرمایئے تاکہ ھماری راہنمائی ھو۔۔۔۔۔ مزید یہ کہ ’عدم محض‘ یا ’لا نفرق بین احد‘ (البقرہ 285) کہنے سے کیا کوئی نیا مذہب تخلیق ھو جاتا ھے؟ ذرا یہ بھی فرمایئے کہ رحمِ مادر میں کس مذہب کا نظام کار فرما ھوتا ھے جو کسی مذہبی تفریق کو در خور اعتناء نہیں گردانتا اور کسی اقلیتی یا اکثریتی گروہ کی طرفداری نہیں کرتا۔ اسلامی یا کسی بھی اچھی ریاست کا یہی حقیقی تصور ھونا چاہیئے (احقر کی راۓ ھے، جانے آپ متفق ھوں یا نہ ھوں)

6 ۔ ’اسلام اور سیکولر ازم کے اجتماع کو ممکن سمجھنا چھٹا مغالطہ ہے‘۔ آپ نے اسلام اور سیکولر ازم کو مد مقابل گردانا ھے، یہ آپ کا مغالطہ ھے۔ اگر آپ یہ فرمائیں کہ مذہب اور سیکولر ازم کے اجتماع کو ممکن سمجھنا۔۔۔ تو بات قدرے واضح اور دوسرے مذاہب کو بھی محیط ھو جائے گی، اور تب آپ کی نگاہ اس امر پر بھی جائے گی کہ بھارت میں مسلم علما کی ایک تعداد سیکولرازم کی حمایت کرتی ھے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ھے؟

7۔ ’مسلم سیاسی فقہ کے بعض مسائل کی جدید جمہوری ریاستوں میں تطبیقی مشکلات سے ’اسلامی ریاست‘ کے عدم امکان کا نتیجہ نکالنا ساتواں مغالطہ ہے‘۔  ھم کم علم قارئین کی تفہیم کے لۓ ارشاد فرمایئے کہ مسلم سیاسی فقہ کے وہ کون سے بعض مسائل ہیں جن کو جدید جمہوری ریاستوں میں ’تطبیقی مشکلات‘ کا سامنا ھے؟ اور وہ کون سی جدید جمہوری ریاستیں ہیں؟

8۔ ’مذہبی شخصیات، ادارے اور جماعتوں کے طرز عمل اور طریقہ کار میں نقائص سے اسلامی ریاست کی خامیوں پر استدلال آٹھواں مغالطہ ہے‘ آپ کا یہ آٹھواں مغالطہ تو عجب حیرانیاں اپنے جلو میں لئے ھوۓ ہے۔ حضور، اگر مذہبی شخصیات، اداروں اور جماعتوں کے طرزِ عمل اور طریقۂ کار کے حسن و قبح، خصائص یا نقائص پر نقد و جرح نہیں ھوگی تو کسی بھی نظریاتی یا مذہبی ریاست کی کارکردگی (کامیابی یا ناکامی کے تخمینے) جانچنے کے پیمانے کیا ھوں گے؟

9۔ ’’خلافت کے ادارے کے ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت سے ’اسلامی ریاست‘ کی ناکامی پر استدلال نواں مغالطہ ہے‘‘ آپ نے درست فرمایا۔ تاہم نشاندہی فرمایئے گا کہ ’ریاست کا اسلامی بنیادی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے چاہے اس کی شکل جو بھی ہو اور اس کا جو بھی نام رکھا جائے‘۔ سے آپ کی کیا مراد ھے؟ اگر آپ مثالوں سے واضح فرما دیں تو ہم کم سواد، کم نظر تلامیذ کی احسن  طور پر رہنمائی ہو سکے گی

10۔ ’اسلامی سیاسی فقہ کے اٹل اور منصوص احکام، کلیات اور قواعد کلیہ کو جزیاتی مسائل، عارضی احکام، عرف پر مبنی فیصلے اور فقہا کے مستنبط اجتہادی مسائل کے ساتھ خلط کرنا دسواں مغالطہ ہے‘۔ اسلامی سیاسی فقہ کے ’ان اٹل اصولوں اور کلیات‘ کی نشاندہی بھی فرما کر شکریے کا موقع دیجئے۔۔۔

محترم بخت محمد برشوری نے بجا فرمایا ھے کہ ’اس حوالے سے مزید لکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایک ایک مغالطے پر تفصیلی کلام کیا جانا چاہیے ۔‘ ۔ امید ھے کہ آپ اپنے گنجینہ فکر کے گہر ھاۓ علم سے فیض یاب فرمائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

38 thoughts on “سیکولر حضرات کے کچھ مزید مغالطے

  • 17-04-2016 at 6:49 pm
    Permalink

    گویا یہ بھی میرے دل میں ہے!

    • 17-04-2016 at 8:22 pm
      Permalink

      اب یہ سلسلہ شروع ھو ھی گیا تو سنچری پوری ھونی چاہیے 🙂

  • 17-04-2016 at 9:03 pm
    Permalink

    شاباش ….یہ ایک اہم مسلے پر بہتر نتیجے تک پہنچنے کا صحیح طریقہ ہے …. سوال/جواب

  • 17-04-2016 at 9:08 pm
    Permalink

    بہترین

  • 17-04-2016 at 10:05 pm
    Permalink

    تمام احباب کا مشکور ھوں۔ وجاہت مسعود صاحب کا ممنون ھوں کہ انہوں نے اس تحریر کو یہ اعزاز عطا کیا کہ وہ معزز قارئین کے بوسۂ نگاہ سے ھمکنار ھو سکے۔

  • 17-04-2016 at 10:09 pm
    Permalink

    نیز خارجی سیاسی فکر اور اسلامی سیاسی فکر میں وجہ تفریق بھی وضاحت طلب ہے۔

  • 18-04-2016 at 1:24 am
    Permalink

    نہایت خوبصورت، دل جیت لیا سر، باقی ایک چیز کے بارے میں کنفرم رہیں، ہم جانتے ہیں جو وہ لکھیں گے جواب میں، اگر مگر چونکہ چنانچہ

  • 18-04-2016 at 6:36 am
    Permalink

    بہت شکریہ وسیم علی۔
    مگر لکھواۓ کوئی اسکو خط تو ھم سے لکھواۓ
    ھوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

  • 18-04-2016 at 3:16 pm
    Permalink

    جناب بہت خوب. آپ سے مزید مضامین کی گزارش ھے. مدلل اور مفصل موتی بکھریں اپنے خزانہ سخن طراز سے. جیتے رہیں لکھتے رہیں.

  • 18-04-2016 at 5:41 pm
    Permalink

    میرا خیال ہے سمیع اللہ سعدی صاحب ایک ایسے موضوع کو ہاتھ لگابیٹھے ہیں جس سے نمٹنا ان کے بس سے باہر ہوگا ۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

  • 18-04-2016 at 8:10 pm
    Permalink

    لاجواب تحریر ہے! وہ کیا کہتے ہیں:
    رُوح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی
    چھٹے مغالطے کے جواب کو مزید باوزن بنانے کو رسالتمآبؐ کا حوالہ کیسا رہے گا!۔ یہ خوبصورت حدیثِ مبارکہ ہارون الرشید صا حب کے ایک کالم میں پڑھی تھی:
    “سوشلزم کی بحث کو لپیٹنے کو سرکار کا ایک قول کافی تھا کہ “ریاست کا کام نہیں کہ کاروبار کرے۔””

  • 19-04-2016 at 12:34 am
    Permalink

    “امریکہ میں 70فیصد لوگ سمجھتے ہیں مذھب ان کی زندگیوں میں اہم ہے.
    81فیصد خود کو کسی مذھب سے منسلک سمجھتے ہیں. (پروٹسٹنٹ، کیتھولک، یہودی، مسلمان، ہندو، بدھ وغیرہ)
    امریکا کا یہ مذہبی تنوع قابل ذکر ہے، جہاں ساری دنیا سے تارکین وطن آباد ہوئے ہیں.
    اس لیے اس کا آئین کسی عقیدے کو سپانسر کرنے کی اجازت نہیں دیتا.” Sociology by Macionis

    سو، نہ ہی کسی کو عددی اکثریت کی صورت میں اپنا عقیدہ اقلیتوں پر تھوپنا چایئے؛
    نہ عددی اقلیت کی شکل میں بنیاد پرستی کو آڑ بنا کر نہتی اکثریت کو دہشت زدہ کرنا چایئے.

    سوال یہ امریکیوں نے سیکولر ازم کے بانی سے اختلاف کی جرات کیسے کر لی! اورکتنی ہٹ دھرمی سے کہتے ہیں ہم تو سیکولر ہیں.
    اور امریکا میں خدا کو کیسے define کریں! because in God they trust

  • 19-04-2016 at 6:49 pm
    Permalink

    سیکولرازم عقیدوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کا خون کرنے کی بجاۓ احترام اور قبولیت کا درس دیتا ہے. اور ایک حکومت عقیدے سے ماورا سب کو برابری کی نظرسے دیکھتی ہے. جدیدیت کے فطری عمل کا تحفظ کرتا ہے. اس کی افادیت کو آپ جتنا محدود کر لیں آپ کی صوابدید. آپ کسی بھی نام سے انسانی بہتری کا پریکٹیکل نظام دیں یا اس کا خاکہ پیش کر دیں تو لبیک. جہاں تک بات ہے الحاد کی، تو بل گیٹس بھی ایک ملحد ہے اس کا بنایا ہوا نظام کمپوٹر کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟ اور پولیو کے خلاف جو جہاد وہ کر رہا ہے، حوروں کے لالچ میں نہتی عوام کو خون میں نہلانے والے نہیں سمجھ سکتے.
    افادیت کے پہلو سے دیکھا جاۓ تو مدینہ کی ریاست بھی سیکولر تھی. سیکولر ازم معاشرے کو ٹوٹ پھوٹ سے بچا کر اقدار کو مضبوط کرتی ہے. یہی وجہ ہے وہاں قبولیت، تنوع و کثرت پائی جاتی ہے اور یوں معاشرے ترقی کرتے ہیں. اسلام اگر ابتدا میں خارجی نوعیت کا ہوتا تو اس کا کیا بنتا. اسلام نے صبر کرنا سکھایا، بدلہ لینے کی طاقت ہوتے معاف کرنا سکھایا. رنگ و زبان و نسل کے بتوں کو توڑا. کوئی اس ظرف کا سامنے آئے تو لبیک.
    کچھ لوگوں کو ان کے سارے نظام اور تهذیب پر تطبیق کرنا دلیل کی زیادتی ہے. میں نے شماریات پیش کی تھیں جس سے آپ صرف نظر کر گۓ. اسرائیل نظریاتی حکومت ہے تو پھر آپ بھی اس کے گن گائیے نا. اچھا، آپ کو تو صرف اور صرف اپنی ہی نظریاتی حکومت چاہیے.
    اور اب آنکھیں پھاڑ کر دیکھیے اپنے so-called مذہبی معاشے کو: تفریق – دوسرے کو مان نہیں سکتے، تعصب – اپنی ناک سے آگے کبھی دیکھا نہیں، غربت – کھل کر سوچا نہیں. روٹی، کپڑے، مکان کو ترستے ہوئے. حکمرانوں سے پیٹتے ہوئے. اپنے ہی محافظوں سے لٹتے ہوئے، اپنے ہی ہم عقیدوں سے مرتے ہوئے. یہ ہے آپ کے کھوکھلے افکار کا ثمر.
    حقیقت سے ابھی بھی نظریں ملا نہیں سکتے: اور خود کو اور دوسروں کو مغالطوں میں ڈال کر غم غلط کرتے رهتے ہیں.

  • 20-04-2016 at 7:34 am
    Permalink

    سیکولر اور اسلامسٹ نطقہ نظر کے حامل مسلمانوں کو ایک دوسرے کو مضبوط کرنا چاہیے نا کہ صرف آپس میں لڑتے رہیں. اس طرح ہم شدت پسند عناصر) جنہیں عالمی و علاقائی قوتیں اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرتی ہیں( کو با آسانی single out کر سکیں گے.

    ‘ہم سب’ کا فورم شاید اسی لئے بنایا گیا ہے.

  • 21-04-2016 at 1:02 am
    Permalink

    شکر ہے خدا نے فطرت کے قوانین پر کسی ٹھیکیدار کو نہیں بٹھایا.

    سچ جب ‘بس یہی سچ’ بن جاۓ تو سچائی سے دور ہو جاتا ہے.
    تاریخ جب ‘بس یہی تاریخ’ بن جاۓ تو حقیقت سے دور ہو جاتی ہے.
    سچائی اور حقیقت کا آئینہ دکھایا جاۓ تو جو عکس دکھایا جاۓ وہی الزام دھر دیا جاتا ہے.

    سچائی اور حقیقت یہی ہے کہ سچ ایک نہیں، حقیقت ایک نہیں ہے.
    جنگ اچھے اور برے کی نہیں، جنگ دو اچھوں کی ہے، جو ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے پر مصر ہیں.

    سچائی اور حقیقت کا تعین اگر نا ہو سکے تو کیا ایک دوسرے کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ لیا جاۓ!
    یا پھر… چلیں یہ تو وقت بیان کر ہی رہا ہے.

  • 21-04-2016 at 11:37 am
    Permalink

    آپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی سیکولر اور الحاد لوگوں کو جنگ و جدال ، استحصال ، بلوے ، ملک توڑنے ، ایٹم بم گرانے یا ریاستی جبر کرنے کی تلقین کرتا ہے. آپ کا یہ دعوی سرا سر غلط ہے.

    قرآن مجید کی ایک آیت کا مفہوم مسلمانوں نے یہ لیا ہوا ہے: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں . جو انھیں دوست بناے گا ان میں سے ہو جاۓ گا. آپ مسلمانوں میں ایک بے ترتیب نمونے کا سروے کریں . اکثریت اس کا لفظی ترجمے پر ایمان لاۓ گی. آپ انھیں بتائیں یہ جنگی حالات کے تناظر میں کہا گیا ہے. اسلام مکمل ہو گیا ہے اب حالات ویسے نہیں ہیں. یہود و نصاریٰ نے علم و تحقیق کے میدان میں کتنی ترقی کی ہے جس سے صرف ان کا ہی نہیں انسانیت کا فلاح ہوا ہے. اور انہوں نے اسلام سے بہت کچھ سکھا بھی ہے. وہ آپ کے لاکھ دلائل پر اسی لفظی ترجمے کو ترجیح دیں گے.

    دوسری طرف عقلی دلیل ہے کہ خدا کی ذات نے اسلام کی صورت میں )جو صرف عربوں پر نہیں، پہلے بھی قوموں پر ان کے حالات کے مطابق نازل ہوئی (ہدایت مکمل کر دی ہے. کسی نئے اسلام کی اب گنجائش نہیں.

    اسلام کو پورا کرنے کے لئے جنگ و جدل سے گزرنا پڑا، اس کے باوجود وہ مکمل ہو گیا. اب وہ مسلمانوں کے لئے ہی نہیں )جنہیں یہ وراثت میں مل گیا ہے ( نوع انسانی کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے. کوئی بھی اس سے بلا تفریق و رنگ و نسل و مذھب و فرقہ مستفید ہو سکتا ہے. اب کون سا نیا اسلام نافذ ہونے جا رہا ہے. چودہ صدیوں میں نہیں ہو سکا اب ہو جاۓ گا. کربلا میں اسلام کو آپس میں ٹکرنے سے بچائیے.

    مگر ہوا وہی جو ہر عقیدے کا ساتھ ہوا. لوگوں نے اپنی دکان چمکانے کے لئے فروعی مسائل کو جنم دیا. اسلام نے چونکہ نبوت کا دروازہ بند کر دیا ہے اس لیے عقیدے کے ٹھیکیدار فرقوں میں بٹ جاتے ہیں. بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں بنیادی عقائد ایک ہیں. ارے بھائی بنیادی عقائد تو عیسائی اور یہودی مذھب کے بھی یہی ہیں، ان سے کیا بیر ہے پھر. مگر اسلام نے فرقہ واریت کی بھی ممانعت کر دی تھی. پیغمبری کی ضرورت اس لیے بھی نہیں اب انسان اتنا بڑا ہو چکا ہے اپنے مسائل خدا کے الوہی اور فطری قوانین )جو یقینا ایک دوسرے کا تضاد بھی نہیں ہو سکتے( کی روشنی میں فیصلے کی صلاحیت رکھتا ہے. اب اسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مٹی کے بت یا قبروں میں مدفون مردے آپ کو سن نہیں سکتے، ان سے مرادیں ماننا بے کار عمل ہے. یا زمین چپٹی نہیں ہے اور کسی جانور کی سینگ یا دم پر کھڑی ہوئی نہیں ہے.

    اچھا، فروعی مسائل میں پڑ کر مسلمانوں نے کیا. وہ ڈھنگ کا کوئی کام دنیا میں نہیں کر سکے. اگر کسی نے کرنے کی کوشش کی بھی تو دین کے ٹھیکیداروں نے ان کی خوب مخالفت کی. جب الله کے ایک بندے نے کہا سچائی تک پہنچنے کے دو ذریعے ہیں: فلسفہ اور مذھب. تو اس کو نہیں سنا گیا. یہ وہ وقت تھا جب جدید دنیا ابھی صرف سانس لے رہی تھی. وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداروں کے پاس وہ قوت نہ رہی: ان کے فریبی نظام ان کے منہ پر مار دیے گۓ. آج یہ طبقہ اپنے آپ کو دنیا کا مظلوم ترین طبقہ بنا کر پیش کرتا ہے. یہ تو مکافات عمل ہے جناب. جمہوریت جیسی کوئی ایک قدر امہ کے ہاں نہیں پنپ سکی. جمہوریت چھوڑ خلافت کے حقیقی حقدار کا فیصلہ نہ ہو سکا. اور ایک کے بعد دوسری مطلق العنان حکومت آتی رہی. اس کی آپ کا مظلوم طبقہ حمایت کرتا رہا. آج کچھ لوگ سیکولر ازم کی لیپا پوتی کر کے، جدید لفظوں میں اسی پرانی سوچ کو ہم پر مسلط کر کے بیٹھے ہیں. تو آپ ان لفظوں کو دوش دیتے ہیں اور ان کے مطالب کی بحث میں الجھے ہیں. تاکہ حقیقت سے صرف نظر کا مزید کچھ وقت مل جاۓ.

    وقت کے آگے بڑھنے کے عمل کو سمجھیے. اگر آپ آج کی دنیا میں کچھ اپنا حصہ نہیں ملا سکتے تو خدارا اوروں کو تو کام کرنے دیجئے. ان کو گاڑیاں بنانے دیجۓ، پل تعمیر کرنے دیجیے، تعلیمی میدان میں بڑھنے دیجۓ. مت ان کے گلے کاٹیے. الٹی گنگا بہانے کی ضد چھوڑیے. خود بھی انہی فطری قوانین کے ذریعے دنیا کو مسخر کیجیے. ان میں آپ کو خدا کی ازان کیوں نہیں سنائی دیتی.

    ہم نے تو آپ کو کہا ہی نہیں آپ سیکولر ہوجائیے، ملحد ہو جائیے. صرف اتنی عرض کی ہے خدا کی زمین پر خدا کے سب لوگوں کے ساتھ امن و اشتی سے رہئے. مگر آپ کو ہماری آواز سنتی ہی کب ہے. آپ ہماری آواز سنیے یا رد کر دیجیے مگر لوگوں کو کافر )مغرب کے ایجنٹ ( بنانے کی روش چھوڑ دیجیے.

    رہی بات جنگوں کی تو یہ بھی کسی نے نہیں کہا کہ زمین جنت بن گئی ہے اور انسان فرشتے ہو چکے ہیں. ماضی میں بھی انسان خدا کے نام پر لڑتا تھا آج بھی اس نے کچھ نئے بت تراشے ہیں ان کے لئے لڑتا ہے. مگر سوچئے ہم اس غارت سے کیسے بچ سکتے ہیں. صرف اتنا سوچئے اگر کوئی جنونی ایٹم بم کا کوڈ سمجھ لے یا اپنے عقیدے کو بھلانے کے لئے کوئی حکومت اسے استعمال کرنے پر اتر آئے تو کیا ہوگا. جناب ابھی انسان اتنا مہذب ہے کہ زمین کو سینکڑوں دفع تباہ کر دینے والے اٹامک مواد کو اس نے دبا کے رکھا ہوا ہے، صرف دو شہر اس کے شکار ہوئے ہیں. اور جو ملک شکار ہوا ہے. وہ اس چکر میں نہیں پڑا کہ اس نےدشمن کے چار شہر تباہ کرنے ہیں. ان کے لئے کیا مشکل ہے ایسا کرنا. جوش کو ہوش سے توازن میں لائیے.

  • 21-04-2016 at 11:51 am
    Permalink

    گذارش ھے کہ راقم کی جانب سے کمنٹس میں تحریر کئے گئے نکات پر از سرِ نو غورکیا جاۓ۔ سیکولر ازم کے نظریے پر بات کرنا اور سیکولرسٹس کے رویوں اور عمل پر گفتگو دو الگ موضوعات ہیں، اُسی طرح جیسے خدا کے بناۓ ھوۓ قوانین پر تفکر اور انسانوں کے بناۓ ھوۓ قوانین کا تجزیہ کرنا دو مختلف عنوانات ہیں یا جس طرح اسلام کا بحیثیت ایک نظریہ یا نظام مطالعہ کرنا اور مسلم حکمرانوں کے رویوں اور عمل کا تاریخ کی روشنی میں جائزہ لینا دو جداگانہ مقدمات ہیں۔
    نیز آپ نے لکھا ھے “جیسا کہا، بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ سیکولروں اور لبرلوں کو انکے بڑوں نے جو “ہیون آن ارتھ” ، “ہیون” بذات خود ایک دینی اصطلاح ہے جو دین بیزار نظام کے ماننے والوں کو بری لگے، چلیں، جو اکابرین نے آپ کو ایلس کی ونڈرلینڈ کی سیر کروائ ہے وہ حقیقت سے بہت دور ہے۔” تو عرض ھے کہ آج کے دور میں یہی اعتراض اسلام کے مخالفین اسلامی حکومتوں کے حوالے سے بھی اٹھاتے ہیں۔ ایلس کا ونڈر لینڈ دنیا میں 57 سے زائد مسلم ممالک میں سے کس ملک کے ھاں موجود ھے؟؟ ذرا حوالہ دیجیئے۔ علمی بحث کو تعصب کی نذر نہیں کیا جانا چاہئیے۔ شکریہ

  • 21-04-2016 at 11:53 am
    Permalink

    اوپر اللہ کا بندہ ابن رشد کو کہا گیا ہے. جو ایک عظیم عالم دین، فلسفی، طبیب اور ریاضی دان تھا.

  • 21-04-2016 at 1:58 pm
    Permalink

    بلا تبصرہ
    جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
    بے ید بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
    عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف
    ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
    الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
    حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں
    موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے
    نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں
    (ابلیس کی مجلسِ شورٰی۔۔۔۔۔ حضرت علامہ اقبال)

  • 21-04-2016 at 2:36 pm
    Permalink

    برمحل، مجیب صاحب.

  • 21-04-2016 at 6:31 pm
    Permalink

    بہت بہت شکریہ فرھان خالد صاحب

  • 21-04-2016 at 6:34 pm
    Permalink

    نام غلط رقم ھوجانے پرمعذرت:
    جناب فرحان خالد

    خوش رہیں

  • 22-04-2016 at 5:25 am
    Permalink

    احقر بار ھا گذارش کر چکا کہ اس فورم “ھم سب” پر سیکولرازم کے حق یا مخالفت پر بات کرنے سے قبل سیکولرازم کی ایک متفقہ تعریف (جو دونوں اطراف کے دانشوروں کی نظر میں معتبرھو) کا فیصلہ ھو نا ناگزیر ھے۔ ایسی تعریف کے بغیر کوئی بھی مکالمہ اثر انگیز و نتیجہ خیز نہیں ھوگا۔ اسلامسٹ حضرات سیکولرازم اور الحاد (Atheism) کو اکٹھا کرکے اپنی پسند کا آمیزہ بناۓ ھوۓ ھیں۔ دوسری طرف سیکلرازم کی حمایت کرنے والے حضرات مذہب اور اسلام کو اکٹھا کرکے الوحی کلام اور تحریف شدہ انسانی کلام کو یکساں تنقید کا نشانہ بناۓ ھوۓ ھیں۔ مذاہب کا معاملہ سیکولرازم کے ساتھ بالکل الگ ھے، کیونکہ مذاہب سے ھماری مراد انسانی کلام پر مبنی تشریعی و تاریخی روایات و آثار ھیں (ان میں عیسائیوں، یہودیوں، پارسیوں، ھندوؤں، سکھوں، بدھ مت کے پیروکاروں اور اسی نوعیت کے دیگر تمام مذاہب شامل ھیں جو آج یہ دعوٰی نہیں کرسکتے کہ ان کے پاس الوحی کلام کے نام پر جو متون موجود ھیں وہ واقعی تحریف سے مامون ھیں)۔
    اسلام ھمارے ھاں ایک مذہب کے طور پر موسوم ھے۔ الوحی کلام میں اسے الدین کہا گیا ھے اور الدین کے مقابل جو بھی نظام ایستادہ تھے (یا ھیں) انہیں دین کہا گیا۔۔۔ دنیا میں رائج کوئی بھی ایسا عملی نظام جو خواہ مذہب کی شکل میں یا سیاسی نظام کی شکل میں متمکن ھو، اسے دین کہا گیا ھے۔ دین کے وسیع تر مفہوم میں ھم تمام مذاہب کے ساتھ ساتھ ھر نوع کے ازم کو بھی شامل سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا اسلام بطور الدین نہ صرف دنیا کے تمام مذاہب کے مقابل ایک جداگانہ مقام رکھتا ھے بلکہ وہ انسانی فکری ارتقاء کے نتیجے میں ابھرنے والے جدید نظاموں (ازمز) کو بھی محیط ھے بلکہ حقیقت میں وہ ان ازموں سے کہیں آگے (Advanced) کی بات کرتا ھے۔ ضرورت ھوئی تو اس موضوع پر دلائل پیش کر دۓ جائیں گے۔
    “ھم سب” ایک مؤثر اور ھردلعزیز فورم ھے جہاں ھر طرح کے نظریات کے حامل دوست احترام و شائستگی کا لحاظ رکھتے ھوۓ باہمی مکالمے اور مباحثے میں فعال انداز میں شرکت کرتے دکھائی دیتے ھیں۔ اس موضوع کی اہمیت اور قارئینِ فورم کی دلچسپی کے پیشِ نظر موزوں ھوگا کہ ھماری گذارشات پر توجہ دی جاۓ اور مقدمۂ حاضر کی مبادیات پر کلام کیا جاۓ اور عنوان کی نشاندھی کر لی جاۓ۔ راقم کا تجزیہ یہ ھے کہ دونوں طرف کے دانشور بباطن کٹر اسلامسٹ ھیں، فرق صرف تعبیر کا ھے۔ یہ فرق دور ھوگا تو بات اظہر من الشمس ھو جاۓ گی۔
    اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ھے
    شاید کہ اتر جاۓ ترے دل میں مری بات (علامہ اقبال)

  • 22-04-2016 at 4:26 pm
    Permalink

    “بابائے سیکولرازم جارج ہولیوک عقیدہ کے لحاظ سے اسلامسٹ نہیں بلکہ ملحد تھے۔ آپ آنجہانی مذاہب سے بیزار تھے، مذاہب کی تحقیر کرتے تھے اور کسی بھی مذہب کو ریاستی سطح پر لاگو کرنا جرم سمجھتے تھے۔ انکے آگے آنے والے برٹینڈ رسل وغیرہ بھی کہیں سے اسلامسٹ نہیں تھے۔”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کس نے کہا ھے کہ جارج بولیوک یا برٹینڈ رسل اسلامسٹ تھے؟؟؟؟؟؟؟
    ۔۔۔۔۔ جارج بولیوک یا برٹینڈ رسل وغیرہ اگر ملحد تھے تو اس کی وجہ اسلام نہیں بلکہ ان کا اپنا مذہب ( یا ان کی مذہبی پاپائیت کا طرزِ عمل) تھا۔ وہ لوگ اگر گہرائی کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کر پاتے تو یقیناًً الحاد کے قریب بھی نہ جاتے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔ تعصب کی عینک اتار کر معاملات کا تجزیہ کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ھے۔ اس کام کے لئے بڑا حوصلہ درکار ھوتا ھے، اور قوم کی کثیر تعداد کی مخالفت کو سہنا پڑتا ھے۔ ھر قوم کو اپنے بتوں سے بہت عقیدت ھوتی ھے کیونکہ وہ ان کی پوجا کرتی ھے۔ یہ بت الحاد کا بھی ھوسکتا ھے اور دہریت کا بھی، یا حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نعوذ بااللہ خدا کا بیٹا ماننے کا بھی۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔ حدیثِ مبارک ھے کہ حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث کی طرح ھے جہاں سے بھی ملے حاصل کرلو۔
    ۔۔۔۔۔۔ سچائی سچائی ھے خواہ کسی بھی مذہب والے نے یا کسی بھی انسان کی زباں سے ادا ھو، بات غلط نہیں ھوتی البتہ بولنے والا انسان منافق ھو سکتا ھے۔۔۔ یہ خوبصورت آیت اس کا ثبوت ھے۔۔۔(اذا جاءک المنافقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقون لکاذبون) (سورہ المنافقون/1) جب یہ منافقین آپؐ کے پاس آتے ہیں کہتے ہیں کہ ھم گواھی دیتے ھیں کہ بے شک آپؐ اللہ کے رسول ھیں، اور اللہ کو علم ھے کہ بے شک آپؐ اس کے رسول ھیں لیکن اللہ گواہی دیتا ھے کہ کسی شک کے بغیر یہ منافق لوگ کاذب (جھوٹے) ھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔ نبی کریم ﷺ کو تو اللہ عز وجل آگاہ فرماتے تھے کہ فلان فلان منافق ہیں اور جھوٹے ھیں، یا فلان فاسقین کی قبر پر نہیں کھڑے ھونا اور کبھی بھی ان کیلئے دعا نہیں کرنی ۔۔۔ وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ (84) سورہ التوبہ۔۔۔۔۔۔ اس فورم کے بعض احباب کو خدا جانے یہ الہام کہاں سے ھوتا ھے کہ فلان فلان لبڑل ھے، یا ملحد ھے یا جو بھی دل پسند لیبل وہ دوسرے پر لگانا چاہیں۔
    جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر۔۔۔۔۔ شہر کا شہر مسلمان ھُوا پھرتا ھے
    لیبل وہی حقیقی ھے جو کوئی انسان خود پرلگاۓ رکھنا پسند کرتا ھے۔ باقی دلوں کا حال تو بس اللہ ھی کو معلوم ھے۔ ھمیں دوسروں کے بارے اچھا گمان رکھنا چاہئے تا وقتیکہ کوئی خود سے اپنے ارتداد، الحاد یا نئے مسلک کا اعلان کردے۔۔
    اب ذرا کچھ بات دین و سیاست میں جدائی کی کرتے ھیں:
    جلال بادشاھی ھو کہ جمہوری تماشا ھو۔۔۔۔۔۔۔ جدا ھو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ھے چنگیزی (حضرت اقبالؒ)
    انسان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ھو اپنے عمل میں اپنے نظری عقائد سے متاثر ھوۓ بغیر نہیں رہ سکتا اس لئے فرمایا گیا تھا کہ انماالاعمال باالنیّات ۔ سیاسی امور میں قانون سازی ھو یا امور مملکت کی انجام دھی، سیاست دان اپنے نظری عقائد کے اثرات کے خلاف طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ نظریہ/عقیدہ و عمل میں تفاوت منافقت کہلاتا ھے۔ ھر مذہب اخلاقی اقدار فراھم کرتا ھے اور انہی کی بنیادوں پر انسانی کردار کی تعمیر کرنا اس کا مقصود ھوتا ھے۔ اگر کوئی انسان اپنی عملی زندگی میں قدم قدم پر اپنے مذہب کی عطا کردہ اخلاقی اقدار کی (عملاً) پامالی کرتا ھو تو ایسے طرزِ عمل کو قرآنِ حکیم کے الفاظ میں “تکذیبِ دین” کہا جاۓ گا اور یہ ایسے لوگ ھوتے ھیں جن کی صلوٰۃ درست نشانے پر نہیں بیٹھتی اور وہ ساھون میں شمار ھوتے ھیں اور اس نوع کے طرزِ عمل کا منطقی انجام ” ویل” ھوتا ھے۔
    دین کو سیاست سے جدا کرنے کا مفہوم یہ ھے کہ انسان اپنی سیاسی زندگی کو اخلاقی اقدار سے جدا کردے۔ مثال کے طور پر مذہبی عقیدہ/ نظریہ یہ رکھے کہ جھوٹ بولنا گناہ ھے لیکن عملی سیاسی زندگی میں قدم قدم پر جھوٹ سے کام لے- یتیموں کا مال ھڑپ کرنا مذہبی طور پر گناہ سمجھے لیکن عملی زندگی میں شیر مادر سمجھ کر پیتا جاۓ۔ ایسے طرزِ عمل والے لوگ اخلاقی اقدار کی قدم قدم پر پامالی کرتے ھیں اور انسانی جان کی بھی ان کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ھوتی۔ اخلاقی اقدار سے محروم سیاست “چنگیزی” سے معنون کی جاسکتی ھے، جبکہ سیاست کا اصل مقصد عوام الناس کی سیاسی معاملات میں رہنمائی اور مدد کرنا ھے تاکہ وہ ایک مطمئن اور خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔ کوئی بھی طرزِ حکمرانی ھو (خواہ ملوکیت/ بادشاہت کا نظام ھو یا جمہوریت یا کوئی اور) اس پر عمل درآمد انسانوں کے ھاتھوں ھوتا ھے فرشتوں کے ھاتھوں نہیں، لہٰذا اخلاقی اقدارکی اہمیت مسلّم ھے۔ جس معاشرے میں اخلاقی اقدار قدم قدم پر پامال ھوں وہ کسی بھی طور انسانی معاشرہ کہلاۓ جانے کا مستحق نہیں۔ مذہب سب سے پہلے انسان بناتا ھے پھر مسلمان، عیسائی یا ھندو وغیرہ۔ عملی تعبیر میں انسان کو خدا ۓ بزرگ و برتر کے اس فرمودے کی سچائی کا مظہر بننا ھے کہ “لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وما علینا الاالبلاغ

  • 22-04-2016 at 4:37 pm
    Permalink

    چلیں آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ پاکستان کے مذہبی معاشرے میں عمومی طور پر مسائل کا حل دم دردوں سے ہوتا ہے، لوگوں کی مدد اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ آپ کی بخشش کرا سکیں، مفاد پرست طبقے گندی سیاست میں دین کو گھسیڑتے ہیں.

    یہی وجہ ہے کہ یہ ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی بجاۓ غیر ملکی قرضوں پر چلتا ہے. مگر کیا کریں صرف پیسے پھیکنے سے ملک ٹھیک نہیں ہوتے جب تک لوگ اپنی سوچ نہ بدلیں.

    سو ہمیں چاہیے مسائل کا حل ڈھونڈیں، دم درودوں سے ملک نہیں چلتے. اخلاقیات کو ذات پات سے بلند کر کے انسانیت تک لائیں . اور ریاست کے امور جدید خطوط پر چلائیں.

    building moderate Muslim networks کے بارے میں حتمی راۓ رپورٹ پڑھ کر قائم کی جا سکتی ہے. امریکا کبھی وہ شدت پسندوں کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے تو کبھی moderate لوگوں کے. جب چاہے آگ لگاۓ جب چاہے اسے بجھانے کی کوسش کرے .

  • 22-04-2016 at 11:45 pm
    Permalink

    moderation یا میانہ روی کا سبق ہم نے آنحضرت )ص( سے سیکھا ہے، جس کو ارسطو نے golden mean کا نام دیا تھا. سو ہمیں یہ آپ سے یا کسی امریکی ادارے سے سیکھنے کی ضرورت نہیں.

    حقیقی اسلام کی بڑھوتری ہمارے لئے بھی خوش آئند ہے. ویسے مغرب کا سیکولر، ملحد، کیپٹلسٹ، آزاد خیال، جمہوریت پسند معاشرہ ہمیشہ اسلام میں مسلمان ملکوں سے بازی لے جاتا ہے. یہ امر باعث تشویش ہونا چاہیے.

    آپ بس لفظوں کی لیپا پوتیوں )مثلا اسلامی بینکنگ جیسا خوشنما لفظ( اور مغالطوں )مثلا فکری بیداری ایک ٹھوس فطری حقیقت نہیں بلکہ یہ امریکی شوشہ ہے( میں الجھے رهیے.

    سو جناب تمہارے لئے تمہارا دین، میرے لئے میرا دین. وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کون صحیح ہے اور کون غلط.

  • 22-04-2016 at 11:57 pm
    Permalink

    مجیب صاحب، آپ کا شکریہ. آئینہ دکھاتے رہئے. المیہ یہ ہے کہ:

    توڑ کر آئینہ کرچی کرچی
    پھر لوگ کرچیوں میں آئینہ ڈھونڈتے ہیں.

  • 23-04-2016 at 2:29 am
    Permalink

    فرحان صاحب:
    اب کیا کریں کہ
    اپنے بھی خفا مجھ سے ھیں بیگانے بھی ناخوش
    میں زھرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

  • 23-04-2016 at 2:41 am
    Permalink

    درست فرمایا آپ نے.
    زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
    اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

  • 23-04-2016 at 4:06 am
    Permalink

    Lol

  • 23-04-2016 at 1:41 pm
    Permalink

    تصحیح: “لا اکراہ فی الدین”۔۔۔۔۔ کا حوالہ دیا گیا ھے
    ٹائپنگ کی غلطی ھوئی ھے۔۔۔۔ معذرت

  • 23-04-2016 at 2:01 pm
    Permalink

    ” بھائ جان جیسا اوپر عرض کیا کہ بات نظام کی ہورہی ہے۔ اس سے زیادہ احمقانہ بات نہیں کہ آپ ایک نظریہ اور نظام کو اسکے ماننے والوں کی بنا پر پرکھو۔ مغرب میں اگر ایسا ہوتا تو ہم اور آپ جیسے لوگوں کو دیکھ کر کافر رہنا پسند کرتے۔ اگر آپ ان تمام نو مسلم لوگوں کی کہانیاں پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہ سورس یعنی قرآن اور حدیث سے زیادہ اور دوسری چیزوں سے کم متاثر ہوئے۔ وہ جو کسی کو دیکھ بھی ایمان لائے تو اس لئے کو اس فرد میں اسلام کی عملی تشبیہ دیکھی۔ اس میں چنداں شک نہیں جب بات نظم و ضبط وغیرہ کو تو تو مغرب اس میں بہت اعلی ہے اور ایک عالم نے جیسے برملا کہا کہ ہر بات میں یہ نعرہ کہ “یہودی سازش” ہے، اپنی غلطی نہ ماننے والی بات ہے۔ مغرب میں اسلام کا پھیلاو کیپٹل ازم کی خوبی نہیں بلکہ اسکی برائ کا ردعمل ہے۔ امریکہ میں اسنے غربت میں جو اضافہ کیا ہے، ابھی دو دن پہلے پڑھا کہ پچھلے ۳۰ سال میں وہاں غربت چالیس فیصد سے زیادہ بڑھ گئ ہے۔

    میری جان، مغرب کے نومسلم وہ تمام غلاظت چکھ چکے ہیں جسکو ہمارا ترقی پسند طبقہ چکھنا یا چکھوانا چاہتا ہے۔ وہ پریشان ہیں، ان کو متبادل چاہئے۔ ڈھکن مسلمان خود دین پر نہیں تو اپنا دین کا کیس خاک پیش کریں گے؟ مگر اللہ کا اپنا طریقہ ہے، اسے مجھ “مومن” کی ضرورت نہیں۔ یہی وجہ ہے عجیب و غریب واقعہ سے لوگ اسلام میں آرہے ہیں۔ مثلا ایک صرف اسلئے مسلمان ہوا کہ ترکی میں اذان کی آواز سنی۔ وہ ایسا اثر کری کے مسلمان بن گیا۔ اس میں شک نہیں کہ مغرب کا مسلمان ہمیں صحابہ کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں اسلام کے نظم و ضبط تو پہلے ہی تھا، ایمان لاکر دو آتشہ ہوگیا۔ تقی عثمانی غلط نہیں جب وہ کہتے ہیں کہ مغرب کا کافر میں ایمان و کفر کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ ہے ورنہ ان میں تو تمام خوبیاں (ہیں) جو اسلام دیتا ہے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سو فیصد درست لکھا ھے آپ نے (مجیب)
    ” “سو جناب تمہارے لئے تمہارا دین، میرے لئے میرا دین. وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کون صحیح ہے اور کون غلط.”
    راقم آپ کی تائید میں ھے۔۔۔۔۔ (مجیب)
    “آپ الحاد کو دین میں گڈ مڈ کرکے ایک نظام پیش کرنا چاہتے ہیں اور میں اسکی نفی کررہا ہوں۔ ”
    کبھی الحاد کو دین میں گڈ مڈ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔ (مجیب)
    “بحیثیت مسلمان میرا عقیدہ ہے اور ساتھ ساتھ تاریخی شواہد بھی کہ اسلام سے زیادہ حقوق کوئ اور نظام غیر مسلموں کہ نہیں دیتا۔ ”
    یہی راقم کا بھی عقیدہ و نظریہ ھے۔۔۔۔۔ (مجیب) اسلام سے زیادہ کوئی اور دے بھی نہیں سکتا
    “PS: جہاد سے متعلق میرے سوال پر جس مزے سے آپ نے کنی کترائ وہ قابل تحسین ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے:)”
    ھاھاھا۔۔۔۔ کمال ھیں آپ! پہلے یہ تو واضح فرمائیے کہ جہاد سے آپکی مراد “جدو جہد” ھے یا “قتال”؟؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (69) العنکبوت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (4) الصف

  • 24-04-2016 at 1:14 pm
    Permalink

    I have nothing to say in disagreement with your last three comments.
    Pakistanis need to sit together, think together, work together and build together.

  • 24-04-2016 at 5:47 pm
    Permalink

    Dear Farhan Khalid:
    Your comments are appreciated
    Stay Blessed

  • 25-04-2016 at 9:50 am
    Permalink

    شکریہ، مجیب صاحب! نوازش.

  • 29-04-2016 at 11:20 pm
    Permalink

    Around 78 per cent of Pakistan’s population “strictly supports” that the teachings of Holy Quran should influence the country’s laws
    I fully support “that the teachings of the Holy Quran should influence the country’s
    laws

    • 02-05-2016 at 11:32 am
      Permalink

      کراچی: ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 78 فیصد پاکستانی ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں بنائے جانے کی ‘سختی سے حمایت’ کرتی ہے۔

      پیو ریسرچ سینٹر نے مسلم اکثریتی دس ممالک میں ایک سروے کیا گیا جس میں لوگوں سے ان کے ملک میں نافذ قوانین کو اسلام تعلیمات کے مطابق بنانے’ کے حوالے سے رائے لی گئی۔

      http://www.dawnnews.tv/news/1036547
      پاکستانیوں کی اکثریت اسلامی قوانین کی حامی

      سروے میں پوچھا گیا کہ ان میں سے کون سے بیان کی حمایت کرتے ہیں:

      آپ کے ملک کے قوانین سختی سے قرآن کی تعلیمات کی پیروی کریں؟

      آپ کے ملک کے قوانین اسلام کے اصولوں کی پیروی کریں لیکن قرآن کی تعلیمات کی سختی سے پیروی نہ کریں؟

      ملکی قوانین میں قرآن کی تعلیمات کا اثر نہیں ہونا چاہیے؟

      سروے میں پاکستان، فلسطین، اردن، ملائشیا اور سینیگال میں نصف سے زائد آبادی نے ملکی قوانین کی قرآن کی روشنی میں سختی سے پیروی کی حمایت کی۔

      پاکستان کے 78 فیصد افراد نے ‘سختی’ سے قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کرنے کی حمایت اور 16 فیصد نے اسلامی قوانین کی حمایت تو کی مگر ‘سختی’ کی مخالفت کی۔ سروے میں صرف 2 فیصد پاکستانیوں کا خیال تھا کہ ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں نہیں بنائے جانے چاہیے۔

      دوسری جانب برکینو فاسو، ترکی، لبنان اور انڈونیشیا میں سروے میں شامل افراد کی ایک چوتھائی یا اس سے بھی کم تعداد نے اسلامی قوانین کی حمایت کی۔

      دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم اکثریتی ترکی کی صرف 13 فیصد افراد نے ملکی قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کی حمایت کی۔

      • 02-05-2016 at 11:33 am
        Permalink

        سروے میں صرف 2 فیصد پاکستانیوں کا خیال تھا کہ ملکی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں نہیں بنائے جانے چاہیے۔

Comments are closed.