صحت کا انصاف کے نام پر پی ٹی آئی کے کارنامے


خیبرپختونخواکے عوام اگرچہ دوسرا موقع نہ دینے کے حوالے سے مشہور ہیں تاہم ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ انتخابی تبدیلی کے نتیجے میں جو بھی ’’دشمنِ جاں ‘‘ ملتا ہے وہی ’’پختہ کارِجفا‘‘ ہوتا ہے۔2002 میں ایم ایم اے سے فریب کھایا ،2008میں اے این پی سے خود کو زخمایا اور 2013 میں تبدیلی سرکار کا دورآیا تو بھی کچھ نہ پایا ۔

یوں تو تحریک انصاف کی حکومت نے بہت سے گُل کھلائے اور چن چڑھائے ہیں مگر تعلیم اور صحت کا شعبہ جسے اولین ترجیح قرار دیا گیا تھا آج سب سے زیادہ ابتر حالت انہی شعبوں میں دکھائی دیتی ہے ۔سیاسی تشہیر کے بجائے کارکردگی پر یقین رکھنے والی تحریک انصاف نے 2014میں کروڑوں روپے خرچ کرکے ایک بھرپورمہم چلائی جس کا عنوان تھا ’’صحت کا انصاف‘‘ پشاور سمیت کئی شہروں میں بل بورڈز اور اسٹیمر لگے ،اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع ہوئے جنہیں دیکھ کر یوں لگا جیسے صحت کے شعبے میں انقلاب برپا ہونے کو ہے عوام کی خاطر تو کوئی انقلاب نہ آیا البتہ تحریک انصاف کے رہنماجہانگیر ترین نے خوب منافع کمایا ۔

جب وہ پرویز مشرف کے دور میں وفاقی وزیر تھے تو انہوں نے People’s primary healthcare initiativeیعنی PPHIکے نام سے ایک این جی او بنائی اور حکومت کو تجویز دی کہ بنیادی مراکز صحت کی حالت سُدھارنے کا ٹھیکہ اس تنظیم کو دیدیا جائے ۔

رحیم یار خان سے پی پی ایچ آئی نے کام کا آغاز کیا اور جب خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ’’صحت کا انصاف‘‘ نامی مہم آئوٹ سورس کرکے اس کا ٹھیکہ پی پی ایچ آئی کو دیدیا گیا ۔اس وقت شوکت یوسفزئی وزیر صحت تھے جب انہوں نے بغیر بڈنگ کے ٹھیکہ دینے سے متعلق سوالات اٹھائے تو انہیں فارغ کرکے شاہرام ترکئی کو وزیر صحت بنا دیا گیا ۔

میڈیا نے سوالات اٹھائے تو یہ جواب دیا گیا کہ حکومت کا اشتراک سرحد رورل پروگرام نامی ادارے سے ہے ،پی پی ایچ آئی اس پروگرام پر عملدرآمد کرنے والی این جی او ہے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔بہر حال اس منصوبے سے نہ صرف پی پی ایچ آئی نے اربوں روپے کمائے بلکہ جب 2016ء کے آخر میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس پروگرام کو ختم کرنے کا اعلان کیا تو پی پی ایچ آئی کے 200ملازمین بھی صوبائی حکومت کو قبول کرنا پڑے کیونکہ پشاور ہائیکورٹ نے انہیں مستقل کرنے کا حکم دیدیا ۔

جس طرح پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے سندھ کے عوام کو بینظیر کارڈ کا لولی پاپ دیا اسی طرح خیبر پختونخوا نے انصاف صحت کارڈ جاری کرکے سیاسی شعبدہ بازی کی ۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب تک 60ہزار افراد کو انصاف صحت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔یہ دراصل ضرورت مند افراد کی ہیلتھ انشورنس ہے ۔حکومت ہر کارڈ پر اسٹیٹ لائف کو 1500روپے بطور پریمئم ادا کرتی ہے جبکہ اس کے عوض 5لاکھ 40ہزار روپے تک علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔جن حضرات کو انشورنس کا تجربہ ہے انہیں یہ بات بہت اچھی طرح معلوم ہو گی کہ انشورنس کلیم کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اور پھر اگر آپ ایک عام آدمی ہیں تو کوئی آپ کی بات ہی نہیں سنتا ۔

وہی سرجری جو کسی پرائیویٹ اسپتال میں ایک لاکھ روپے میں ہوسکتی ہے انشورنس کی صورت میں کئی گنا زیادہ بل بن جاتا ہے اور آپ کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں ۔اگر تو انشورنس کا رجحان عام ہو جائے اور کمپنیوں کی ملی بھگت سے لوٹ مار کا بازار گرم نہ ہو ،عام آدمی کو کسی جھمیلے میں پڑے بغیر علاج کی سہولت میسر آ جائے تو یقیناً یہ کارڈ رحمت ہے لیکن عملاً جو صورتحال پیش آرہی ہے اسے دیکھا جائے تو سراسر زحمت ہے ۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں تین بڑے اسپتال ہیں ،لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل جو وائسرائے لارڈ ریڈنگ نے 52000روپے کا ذاتی عطیہ دیکر 1927میں تعمیر کروایا ،خیبر ٹیچنگ ہاسپٹل جس کا افتتاح 1976میں ہوا ،اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس 1981 میں آئی ہاسپٹل کے طور پر تعمیر ہوا لیکن اسے جنرل ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ 1993میں ہوا اور اس کے 2مختلف حصوں کا افتتاح یکے بعد دیگرے فروری 1997اور جون 1998میں ہوا۔

بالفاظ دیگر آبادی میں بے تحاشا اضافے کے باوجود گزشتہ 20سال میں کوئی بڑا اسپتال تعمیر نہیں ہوا۔یہاں امراض قلب کا کوئی اسپتال موجود نہیں،حاجی کیمپ میں ایک بہت ہی محدود سطح کا چھوٹا مرکزبرائے طفلاں موجود ہے مگر کوئی چلڈرن اسپتال دستیاب نہیں، پورے صوبے میں کوئی برن اسپتال نہیں اور جل جانے کی صورت میں مریضوں کو پنجاب کے مختلف اسپتالوں میں بھیجنا پڑتا ہے ۔اگر صحت کا شعبہ واقعی صوبائی حکومت کی ترجیح تھا تو کیا کوئی ایک بڑا اسپتال بنایا گیا جس سے ایل آر ایچ ،کے ٹی ایچ اور ایچ ایم سی پر مریضوں کا دبائو کم ہو سکے ؟جواب ہے ،نہیں۔

صوبائی حکومتوں کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 15سال پہلے برن یونٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ایم ایم اے کے دور میں3جولائی 2003 کو وزیر اعلیٰ اکرم خان دُرانی نے اس کا سنگ بنیاد رکھا لیکن ابھی تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا ۔جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو دعویٰ کیا گیا کہ برن ہاسپٹل کو بہت جلد آپریشنل کر دیا جائے گا لیکن تادم تحریر اس برن یونٹ کی عمارت مقفل ہے ۔

گزشتہ برس یوایس ایڈ کو شعبہ صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال پر ترس آیا تو 3ارب روپے کے تخمینے سے صحت کے دو منصوبے مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا جس میں برن ہاسپٹل کا قیام بھی شامل ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ اورنج لائن ٹرین اور میٹرو منصوبوں پر پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والی تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے وژن کے برعکس اسپتال یا یونیورسٹیاں بنانے کے بجائے جنگلہ بس یعنی بی آر ٹی چلانے کا فیصلہ کیوں کیا ؟

سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر واقعی صحت کے شعبے میں انقلاب برپا ہو چکا ہے ،بنیادی مراکز صحت کام کر رہے ہیں ،تحصیل اور ضلع کی سطح کے چھوٹے اسپتال کام کر رہے ہیں تو پھر لوگوں کی بڑی تعداد پشاور کا رُخ کیوں کرتی ہے ؟کیا کسی کے پاس اس بات کا جواب ہے کہ بلا ناغہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مریض علاج کے لئے لاہور اور راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں کیوں جاتے ہیں ؟

ابھی کل ہی لوئر دیر کے علاقے منڈا سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے رابطہ کیا اور کہا کہ ان کے والد کی کمر میں تکلیف ہے ڈاکٹر عامر عزیز یا لاہور کے کسی اور آرتھو پیڈک سرجن سے وقت لے دیں ۔آپ پنجاب کے کسی بھی بڑے اسپتال کے اعداد وشمار کا جائزہ لے کر دیکھ لیں ،خیبر پختونخوا سے ہر روز بڑی تعداد میں مریض یہاں آتے ہیں۔

پنجاب سے متصل خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں چلے جائیں یا خواتین کے لئے مخصوص اسپتال کا رُخ کرلیں ،آپ کو یوں لگے گا جیسے یہاں تعینات ڈاکٹر بس مریضوں کے ورثا کو یہ بتانے کے لئے بیٹھے ہیں کہ اسے نشتر اسپتال ملتان لے جائو ،اس کی حالت بہت خراب ہے ۔اختصار کے پیش نظر تبدیلی سرکار کے کئی ’’کارہائے نمایاں ‘‘کا تذکرہ نہیں ہو سکا ۔

موقع ملا تو کسی کالم میں تعلیم کے انصاف کی حقیقت بھی بیان کروں گا ۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں