نواز شریف کے اڑتے پنچھی، مجبور جیالا اور کپتان کا امپائر


اک زرداری سب پہ بھاری۔ ان کا ان کی پارٹی پی پی کا سین کوئی نہیں لگ رہا۔ لیکن انہیں فوکس ضرور کر لیا گیا ہے۔ پارٹی کے پلے کچھ بچا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ پھر بھی زرداری صاحب کوئی کام دکھا نہ دیں۔ یہ سوچ کر وہ سب ان پر پوری نظر رکھ رہے ہیں۔ جن کو پاکستان کی سیاست سے دلچسپی ہے۔

اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں ہلچل ہے۔ لڑھکتے پھر رہے ہیں یہ جاننے کو کہ ہماری سیاست الیکشن کا کیا ہوگا۔ پی پی کے اک نو منتخب سینیٹر اچانک رش لینے لگ گئے ہیں۔ پی پی اہم ہے؟ یہ سوچا پھر احوال لینے کو کال ملا ہی لی۔ کراچی نواب شاہ نوشہرو اور گوٹھ گوٹھ۔

سندھ بدل رہا ہے۔ کروٹ لے رہا ہے۔ پی پی کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں۔ اس کا کوئی سنجیدہ مدمقابل دور دور تک نہیں۔ ووٹر ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا کہ کوئی آئے، سبق سکھاؤں زرداری کو۔ کسی نے نہیں آنا کوئی نہیں آ رہا۔ پی پی کو جیت جانا چاہیے۔ اک باریک کام ہو رہا اس کا ذکر رہنے دیتے ہیں۔

کراچی کی صورتحال دلچسپ ہے۔ الطاف بھائی آج کل شکاری والی وردی چڑھا کر لندن سے ویڈیو پوسٹ کر رہے ہیں۔ لوگ دھڑا دھڑ پی ایس پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ متحدہ میں جوتا چل رہا ہے۔ کسی کا دل چاہتا تو بوٹ کہہ لے۔

نوازشریف مجھے کیوں نکالا گا رہے ہیں۔ انہیں کوئی نہ بتائے کہ کراچی میں ان کے لیے امکانات کا اک نیا جہان ہے۔ یہ ان کے لیے سندھ کے اور اسلام آباد کے راستے کھول سکتا ہے۔ کراچی کو سلیم ضیا، مشاہد اللہ، رانا مشہود سے مسلم لیگ نون بچا لے۔ مسلم لیگ نون باہر باہر سے اسلام آباد پہنچ سکتی دوبارہ وہ بھی نان سٹاپ۔
مشاہد اللہ خان صاحب آپ مائنڈ نہ کریں بس جملے کی داد دیں۔

ایسا کچھ ہونے والا نہیں کراچی میاں صاحب کی ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔ مسلم لیگ نون والوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ لیاری سے جیت نہ بھی سکیں تو ان کو ہرانے والا بھی الیکشن لڑ مر کے ہی جیتے گا۔ یہ سوچا ہے کیسے؟ جائیں پھر کراچی جیسا ہے ویسا ہی رہے گا کچھ کرو نہ کرو وہی نتیجہ آنا ساٹھ ساٹھ ستر ستر ٹوٹل ووٹ وہ بھی امیدوار قومی اسمبلی کے۔
الیکشن پنجاب میں ہو رہا ہے۔ فیصلہ بھی یہیں ہونا ہے۔

کپتان کا ہر حلقے میں اپنا اک ووٹ بنک بن گیا ہے۔ یہ دس سے پندرہ ہزار تک ہے کہیں اس سے بھی زیادہ۔ الیکشن لڑنا جاننے والے امیدوار درکار ہیں۔ جو اپنا ووٹ رکھتے ہوں۔ وہ سیٹ نکال سکتے ہیں، نکال بھی لیں گے۔ کپتان کے اس بار پنجاب میں امیدوار پچھلے الیکشن سے کہیں بہتر ہیں۔

کے پی میں بھی کپتان شاید وہ پہلا لیڈر ہو جس کو ووٹر دوسرا چانس دے دے۔ پر کپتان کو کپتان سے کون بچائے۔ اب اک نہ دو پورے بیس دانے اٹھا کر پارٹی سے باہر پھینک دیے ہیں۔ اس دعوے کے ساتھ کہ انہوں نے ووٹ بیچا تھا۔ اعلان پہلے کر دیا ہے وضاحت بعد میں مانگی ہے۔ ان متاثرہ ممبران میں سے درجن کے آس پاس وہ ہیں جو ڈائریکٹ منتخب ہوئے ہیں۔

ان سب نے اب اپنے حلقوں میں پی ٹی آئی کا بہترین سیاپا کرنا ہے۔ یہ تقریباً سارے ہی حلقے پی ٹی آئی اب ہارے گی۔ تھینکس ٹو کپتان۔ پرویز خٹک کو اس بار بجٹ پاس ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کپتان نے اعلی اخلاقی سٹینڈ لیا کہ جو الیکشن جیت کر آئے وہی اگلا بجٹ بنائے۔ واہ واہ ہو گئی ہونی چاہیے تھی۔ بیس ایم پی اے نکال دیے پھر واہ واہ ہو گئی اور انے واہ ہوئی، شاباش کپتان۔

اک نایاب پرندہ ہوتا ہے جسے سرکاری ملازم کہتے ہیں۔ وہ اپنی قسمت کو بیٹھا اب رو رہا ہے۔ بجٹ نہیں آئے گا اس کی تنخواہ میں اضافہ نہیں ہو گا۔ وہ ووٹر بھی ہے۔ لاکھ ملازم تو ہوں گے صوبائی حکومت کے؟ یعنی اتنے ہی خاندان۔ فی خاندان کتنے ووٹر ہوتے ہیں۔ حساب لگا لیں۔ چھوڑیں کپتان کی کپتان ہی جانے ہم واپس پنجاب چلتے ہیں۔

پنجاب والے ایسے بھی بہت ہیں جو اب شریفوں کے اقتدار سے تنگ آ چکے ہیں۔ لاہور کے وہ صحافی جنہیں کبھی شریف فیملی منہ لگاتی تھی یا جنہیں کبھی منہ نہیں لگایا سب مسلم لیگ نون کے خلاف ہیں۔ سرائیکی بیلٹ کے زمیندار بھی خلاف ہیں۔ پھلتے پھولتے پرائیویٹ سیکٹر میں اچھی نوکریاں کرنے والی یوتھ بھی خلاف ہے۔ بیروزگار یوتھ بھی خلاف ہے۔ لڑکیاں بھی خلاف ہیں۔

ان سب کا ایک اتحاد ہے جس کا چہرہ کپتان ہے۔ اس چہرے کو افسروں کی سپورٹ ہے۔ افسر بلڈی سویلین کی کرپٹ حکومت سے نکو نک عاجز آئے ہوئے ہیں۔ اوپر سے نوازشریف کی حب الوطنی مطلوبہ معیار کی نہیں رہی۔ روز تو کہتے رہتے ہیں کہ میں بھی آلو گوشت کھاتا اور بھارت والے بھی۔ افسر بھی کیا کریں قومی مفاد شوربے کی پلیٹ میں ہی ڈبو دیں۔

پنجاب کا احوال یہ ہے کہ مسلم لیگ نون کا ہر قومی حلقے میں اپنا پچیس سے چالیس ہزار ووٹ ہے۔ پندرہ ہزار پی پی کا ووٹ بنک ہے جس میں سے کہیں ایک تہائی اور کہیں دو تہائی نون کو ہی جا پڑنا۔ جیالے کو کام بھی پڑتے ہیں زرداری صاحب وہ سولر پر نہیں چلتا۔ آپ کا امیدوار جب حکومت ہی نہیں بنا سکتا تو وہ ووٹ کو اگ کب تک لگاتا رہے۔

پی پی کا ایک مستقل اور پکا ووٹ اہل تشیع کا ہوا کرتا تھا۔ مسلم لیگ نون اس ووٹ کو بس حسرت سے ہی دیکھا کرتی تھی۔ اس ووٹ کیک کا کافی بڑا پیس اب نون لیگ کی طرف مائل ہے ہر حلقے میں۔ وجہ یہ لوگ مزاجاً انٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔ باقی آپ لوگ خود ہوشیار ہیں سمجھ جائیں۔

مسلم لیگ نون کے پرانے پرانے ٹلے ٹلے ممبران اسمبلی اک اور انکشاف بھی فرما رہے ہیں۔ وہ بتا رہے ہیں کہ اب پانچ ہزار سے بارہ ہزار تک ووٹ ”مجھے کیوں نکالا“ کا بھی ہو گیا ہے۔ یہ خلائی ووٹر ہے جو سمجھ رہا کہ میاں صاحب سے زیادتی ہو گئی ہے۔ بدلہ لینا اسی پر فرض ہے۔ یہ ووٹر بھونترا ہوا آئے گا پولنگ سٹیشن یہ گاتا ہوا کہ روک سکو تو روک لو۔

اس ووٹر کو دیکھ دیکھ کر نون لیگ کے ممبران اسمبلی نہال ہو رہے ہیں۔ اسی کی وجہ سے پارٹی میں ٹکے رہنے کی ہمت بھی پا رہے ہیں۔
افسر کوئی آرام سے تھوڑی بیٹھے ہیں۔ کم کر رہے ہیں دن رات۔ فون کر کر بیلنس مکا رہے ہیں۔ پیار محبت سے سمجھا رہے ہیں کہ دیکھو نون لیگ کی کہانی ختم ہے۔

اب ڈھیٹ قسم کے نون لیگی ممبران سے عاجز آ کر حکمت عملی پھر بدل لی گئی ہے۔ اب یہ ہو گا کہ مسلم لیگ نون کے کچھ امیدوار کاغذات واپس لینے والے دن پر ٹکٹ واپس کر کے آزاد کھڑے ہو جائیں گے۔ یہ صدمہ نون لیگ سے سہا نہیں جانا۔ ویسے افسرو ترکیب تو اچھی سوچی ہے لیکن ایسا ہونا چاہیے کیا۔ چلو خیر ہے آپ کے پیار میں یہ بھی گوارا ہے یہ بھی کر کے دیکھ لیں۔

یہ ممبران کون کون سے ہیں بتائے تو جا سکتے ہیں۔ کیوں بتاؤں مینوں نوٹ وخاؤ میرا موڈ بنے۔
بلاگ کی دم۔ مائی باپ یہ نوٹ لکھا ہے اسے بوٹ پڑھنا منع ہے۔ ہم تو ویسے بھی پیالی چائے کی پی کر کچھ بھی انٹ شنٹ لکھ دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 306 posts and counting.See all posts by wisi