سیکولرازم، مذھب اور انسان


عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ سیکولر ازم ایک ایسا نظام ہے جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے آزادی کے ساتھ ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں\"hamza
اور ہر ایک کو یہ آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے , سیکولر ازم مذاھب کے مقابلے میں ایک مستقل نظام ہے جو تمام مذاھب کو معطل کر کے ان سے اپنی برتری منواتا ہے اور انہیں اپنی عبادت گاہوں تک معدود کر دیتا ہے . سیکولر ازم مذاھب کو رواں دواں زندگی سے ان کا رشتہ کاٹ کر انہیں ایک کھلونا بنا کر رکھ دیتا ہے۔ اسلام میں قرآن و سنت ماخذ قانون ہے جبکہ سیکولر ازم اسلام کی جگہ ھیومن رائٹس کو ماخذ قانون مان کر اسلام کی چھٹی کروا دیتا ہے۔ سیکولر ازم مذاھب کو ان کی اپنی فطرت اور طاقت کے ساتھ آزادی نہیں دیتا بلکہ ان کے پر کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ مذاھب کا یہ دعوی ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود رب کے بتائے ہوئے طریقے میں ہے جبکہ سیکولر ازم کہتا ہے کہ انسان کی فلاح و بہبود ھیومن رائٹس کو مان لینے میں ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ ممکن نہیں کہ سیکولر ازم اور مذاھب کو ایک ساتھ چلایا جا سکے …..

 

اسی طرح یہ بات بھی بڑے زور و شور کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ سیکولر ازم انسان کو آزادی دیتا ہے اور اس پر کوئی جبر نہیں کرتا جب کہ یہ بات بھی درست نہیں اس لیے کہ سیکولرازم صرف اپنے مطلوب انسان کو آزادی دیتا ہے۔ جس طرح مذاھب کسی چیز کو اپنے تشخص اور انفرادیت کے خلاف سمجھتے ہوئے اسے بعض اوقات پابند کر دیتے ہیں اسی طرح سیکولر ازم بھی جس چیز کو اپنی مجموعی فکر کے خلاف دیکھتا ہے اس پر پابندی عائد کر دیتا ہے جیسے فرانس میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی، اسی طرح سیکولر ازم صرف فرد کو دیکھتا ہے وہ معاشرے کی بالکل پرواہ نہیں کرتا اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ فرد کی حد سے زیادہ آزادی معاشرے کی تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال حقوق نسواں بل ہے . اس بل میں صرف ایک فرد کو دیکھا گیا ہے یہ نہیں دیکھا گیا کہ اس سے معاشرے اور خانگی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے . غرض سیکولرازم کوئی منطقی اور معقول نظام نہیں ہے کہ جس کی خواہش کی جائے اور اسے مسائل کا حل سمجھا جائے بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے کہ جس سے خود سیکولر ممالک کے سنجیدہ احباب اب پریشان دکھائی دیتے ہیں .


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔