‎صحافت کھا گئی آسمان کیسے کیسے


‎آج صبح اٹھتے ہی فیس بک پر جو خبر پڑھنے کو ملی وہ دنیا نیوز کے سینئیر صحافی سہیل جاوید صاحب کی وفات کی تھی، پڑھ کر دھچکا لگا کہ وہ تو ابھی اس عمر کو نہ پہنچے تھے کہ دنیا چھوڑ جاتے۔ دنیا نیوز ہیڈ آفس کی اسائنمنٹ سے منسلک سہیل جاوید صاحب {اللہ مرحوم کے درجات بلند کرے} کو ہمیشہ بڑے انہماک سے کام کرتے دیکھا، نیوز روم کے ٹینس ماحول میں بھی تسلی سے کام کرتے دیکھا۔ لیکن ان کی اچانک موت جیسے دماغ کو جنجھوڑ گئی ہو۔ جب سے اس فیلڈ میں قدم رکھا ہے، ایسے ہی کسی دن اٹھتے ہیں اور کسی تعلق والے کے جہان فانی سے رخصت ہونے کی خبر ملتی ہے۔ صحافی جو ہر خبر رونما ہونے سے پہلے ہی بھانپ لیتا ہے کہ کچھ ہونیوالا ہے اور خبر نکال لیتا ہے، انہی صحافیوں کے ناک کے نیچے سے ان کے اپنے ساتھی۔ بغیر پیشگی اطلاع کے ہی روانہ ہوجاتے ہیں۔ اور سب کے پاس اپنے بچھڑے دوست کی یادیں لکھنے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ سہیل صاحب کے جانے سے رمان احسان صاحب یاد آگئے۔

‎سال دو ہزار آٹھ کی بات ہے، جب رومان احسان صاحب کو دنیا نیوز کے بیورو سیکشن سے گزرتے دیکھا، یوں تو بیورو میں اکثر لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ میری صحافتی زندگی کا آغاز تھا، یونیورسٹی سے نکل کر کسی بڑے ادارے میں کام کرنے کے ساتھ نئے اور منفرد چہروں سے شناسائی کا موقع بھی مل رہا تھا۔ خیر ساتھ بیٹھے ساتھی نے بتایا کہ یہ ہمارے بیورو چیف ہیں۔ اور موصوف ڈان نیوز، جیو نیوز سمیت بڑے بڑے اداروں کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں۔ خبریں گردش میں تھیں کہ چینل اب لانچ ہونے کے آخری مراحل میں ہے۔ دنیا نیوز کی بانی ٹیم کے ساتھ ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ابھی تک ہم بغیر بیورو چیف کے ہی ان ہاؤس کام کر رہے تھے، کتابوں میں یہ اصطلاح تو پڑھی تھی، لیکن بیورو چیف ہوتا کیا ہے، معلوم نہ تھا۔

‎ایک دن بعد رومان احسان صاحب سے تمام رپورٹرز کی تعارفی ملاقات ہوئی، کام معمول کے مطابق چلتا رہا، تین روز بعد نیا مہینہ شروع ہوا، پہلی بار ڈیوٹی روسٹر لگا اور اس میں میرے نام کے آگے ایوننگ اسائنمنٹ لکھا تھا، نیچے بیورو چیف کے دستخط تھے۔ پڑھ کر حیرانی بھی ہوئی اور پریشانی بھی کہ میں تو رپورٹر ہوں تو میرے نام کے آگے اسائنمنٹ کیوں لکھا ہے۔

‎جذباتی کیفیت میں جا پہنچی رومان صاحب کے پاس، انہیں اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ سر میں رپورٹر ہوں اور میری بنائی رپورٹس کو میاں عامر اور انگریز ٹرینرز سمیت سب کولیگز سراہتے ہیں۔ حالانکہ دل و دماغ میں غصے کا ایک طوفان سا برپا تھا، ساتھیوں سے سن رکھا تھا کہ اسائنمنٹ پر بیٹھے لوگ تو کلرک ہوتے ہیں، تو کیا میں کلرک بننے جا رہی تھی، میری صحافتی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ایک ایسے بیورو چیف کے ہاتھوں ختم ہونے جا رہی تھی، جسے ابھی اس ادارے میں آئے چند دن ہی ہوئے ہیں اور جو نہ مجھے جانتا ہے اور نہ میرے کام کو، اور اس نے میرے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ کر لیا تھا، وہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر۔ خیر میرے ظاہری اور باطنی سوالات کا جواب رمان صاحب نے مختصر الفاظ میں یہ دیا کہ روسٹر لگ چکا ہے، اور آپ ایوننگ شفٹ ہی سنبھالیں گی۔

‎اپنا سا منہ لے کر باہر آئی، ساتھی کولیکگز کے ساتھ رونا رویا اور سوچا جو کام اب گلے پڑا ہے وہ شروع کیا جائے۔ کیوں کہ اس سے پہلے نیوز روم اور بیورو کے معاملات تقریبا اکٹھے چل رہے تھے تو اسائنمنٹ کا کوئی سسٹم نہیں بنا تھا۔ مارننگ شفٹ کے اسائنمنٹ کے ساتھی ساجد ناموس کے ساتھ مل کر اسائنمنٹ شیٹس اور رجسٹرز بنانا شروع کیے، اسٹاف اور اہم شخصیات اور اداروں کے فون نمبرز مرتب کیے، غرض کہ اسائنمنٹ کو ایک شکل دی اور ہم اس میں کامیاب بھی ہوئے۔

رپورٹرز کی اگلے روز کی ڈیوٹیاں لگانے کے ساتھ ان کے لئے بروقت کیمرہ مین اور ڈرائیور کا انتظام کرنا بھی ذمہ داری سے نبھایا۔ آہستہ آہستہ کام سمجھ آیا تو مزہ بھی آنے لگا۔ جس کام کو کرنے سے پہلے ڈر تھا کہ شمائلہ جعفری، ارسلان بھٹی، زاہد عابد، سلیم شیخ جیسے بڑے رپورٹرز ہیں، انہیں میں اسائنمنٹ پر بیٹھ کر کیسے کہوں گی کہ آج آپ اس ڈیوٹی پر چلے جائیں یا پھر ابھی آپ انتظار کریں، میرے پاس آپ کو دینے کے لئے گاڑی یا کیمرہ نہیں۔ لیکن سب نے ایسا تعاون کیا کہ کام آسان سے آسان تر ہوتا چلا گیا اور رومان احسان صاحب کی وہ دوراندیشی سمجھ آنے لگی، جسے میں ان کا جلدی میں کیا گیا فیصلہ مان بیٹھی تھی۔

ایسا نہیں کہ کبھی بات بگڑی نہیں، ایک بار ایک رپورٹر کے ساتھ ان بن ہوئی، معاملہ تلخ کلامی تک پہنچا، میں غصے میں تلملائی رمان صاحب کا انتظار کرنے لگی کہ ابھی سر آئیں گے اور انہیں کہوں گی کہ بس بہت ہو گیا، اب مجھے اسائینمنٹ پر نہیں بیٹھنا۔ کچھ دیر بعد رمان صاحب آئے اور میں نے فریادی لہجہ لئے واقعہ بیان کیا اور کہا کہ بس آپ مجھے واپس رپورٹنگ میں بھیج دیں۔ انہوں نے اپنے روایتی پنجابی لہجے میں کہا کہ ”کل اوہنوں واہگہ بارڈر پجوا دئیں اور گڈی واپس منگوا لئیں، فیر رات تکر اوہنوں گڈی نہ دئیں، اوہنوں وی پتہ لگے اسائنمنٹ نال پنگا لین دا نتیجہ، تیرے کول تے طاقت اے، رپورٹنگ اچ اے طاقت تے نئیں ہوئے گی (کل اسے واہگہ بارڈر بھجوا دینا اور گاڑی واپس منگوا لینا، اور پھر رات تک اسے گاڑی نہ دینا، اسے بھی پتہ لگے اسائنمنٹ کے ساتھ پنگا لینے کا نتیجہ، تمہارے پاس تو طاقت ہے، رپورٹنگ میں طاقت تو نہیں ہو گی)“۔ اور ان کا ٹھنڈا لہجہ میرا غصہ بہالے گیا۔ ایک دفعہ ان کے پاس رپورٹنگ میں واپسی کی درخواست لے کر گئی تو کہنے لگے، ”چنگا نئیں اندرے بیہہ کر رنگ گورا ہوندا پئیا، رشتہ وی کرانا اے کہ نئیں، اک دن یاد کریں گی کہ کوئی مینوں چنگا کم سکھا کر گیا اے (اچھا نہیں اندر بیٹھ کر رنگ گورا ہو رہا ہے، رشتہ بھی کروانا ہے یا نہیں۔ ایک دن یاد کرو گی کہ کوئی مجھے اچھا کام سکھا کر گیا ہے)“۔

‎جتنا ان کے ساتھ کام کرتے جاتے، دل میں انکی عزت بڑھتی جاتی، ہر صبح ہونیوالی میٹنگ میں وہ جس طرح رپورٹس اسائن کرتے، پیکجز کے اینگل بتاتے، انکی ہر بات متاثر کن ہوتی تھی، جس قدر سنجیدہ معاملہ لے کر ان کے پاس چلے جاتے، وہ اس کا جواب اس تسلی سے دیتے کہ جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ دنیا نیوز میں رہتے ہر کچھ عرصہ بعد نئے ڈائریکٹر نیوز اور ان کی ٹیم آتی اور پہلے سے کام کرتے لوگوں کو اپنی فکر ستانے لگتی، ستانی چاہئیے بھی تھی کہ نئی ٹیم کے آتے ہی بہت سے لوگ ایک ساتھ فائر کر دیے جاتے۔ ایسے میں بیورو کے ہیڈ پر بھی لازم ہے کہ دباؤ ہوتا ہوگا کہ ہمیں ان لوگوں کے نام دیں جو کسی کام کے نہیں لیکن سلام رومان احسان صاحب کو کہ ان کے ہوتے ایک بیورو ممبر بھی حصار میں نہیں آیا اور وہ ڈھال بنے اپنے اسٹاف کے آگے ڈٹے رہتے اور گولیوں کا رخ واپس موڑتے رہے۔

‎اپنے وعدوں کے سچے تھے، مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس دن دنیا آن ائیر ہوگا، تم اسکرین پر ہوگی۔ لانچنگ سے دس روز قبل مجھے ڈیسک سے اٹھایا، جلال پور جٹاں بھیج کر ایڈز کے ایشو پر نوے سیکنڈ کی نہیں بلکہ خصوصی رپورٹ تیار کرائی۔

‎پھر ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ رمان صاحب کو برین ہیمبرج ہوا ہے اور وہ اسپتال میں داخل ہیں۔ روزانہ کسی نہ کسی کولیگ سے انکی طبیعت میں آنے والی تبدیلی معلوم چلتی رہتی، کچھ دن گزرنے کے بعد بھی جب وہ آفس نہ آئے تو ایک روز چھٹی کرنے کے فورا بعد ہم کولیگس خیریت دریافت کرنے اسپتال پہنچے، پتہ چلا تھا کہ انہیں ہوش آیا ہے، معلوم نہ تھا کہ وہ رمان صاحب سے ہماری آخری ملاقات تھی۔ ایک صبح اسائنمنٹ پر بیٹھی ہی تھی کہ فون آیا کہ رومان صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ یقین نہیں آیا کہ چند ہی روز میں ایک ہنستا ہنساتا انسان کیسے دنیا چھوڑ جا سکتا ہے۔ اس دن بیورو میں سب غمگین تھے، نیوز روم سے بھی لوگ آ آ کر خبر کی تصدیق کر رہے تھے، سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ جس نے ٹکرز لکھنے کے قابل بنایا تھا، آج اسی شخص کے جہان فانی سے کوچ کر جانے کی بریکنگ ٹائپ کر رہے تھے، انکا پروفائل پیکج تیار کرا رہے تھے۔

‎رمان صاحب کے جانے کے بعد بہت سے لوگوں کو کہتے سنا کہ وہ اوپر سے آنے والا پریشر خود پر لے لیتے تھے۔ اور یہ بات ہر گزرتے وقت کے ساتھ سچ ثابت ہوتی دکھائی دی۔ دو ہزار نو سے لے کر دو ہزار اٹھارہ تک کئی جان پہچان والوں کو دور جاتے دیکھا۔ کبھی ہم لوگ سٹی فورٹی ٹو کے اسد ساہی کو یاد کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی جیو/ جنگ سے وابستہ کیمرہ مین سعید چوہدری کا تذکرہ چھڑ جاتا ہے۔ سما ٹی وی کے پروگرامنگ کے کیمرہ مین مرتجز اعجاز کو ہی لیجیے، وفات سے ایک دن قبل کام پر آئے، دفتری ذمہ داریاں بنھائیں اور اگلے دن دوستوں کی تعزیتی پوسٹس کا حصہ بن گئے۔ کوئی برین ہیمرج توکسی کو ہارٹ اٹیک اچانک سے موت کی وادی میں لے جاتا ہے۔ دنیا ٹی وی کے کیمرہ مین ممتاز کھوکھر صاحب اور سما ٹی وی کے کیمرہ مین امتیاز چاچو کی حادثاتی موت بھی ساتھیوں کو کبھی نہ بھولے گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ثمن خان کی دیگر تحریریں
ثمن خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ثمن خان

ثمن خان کا تعلق نجی ٹی وی چینل سے ہے اور وہ بارہ سال سے صحافتی فرائض انجام دے رہی ہیں

saman-iqbal-khan has 1 posts and counting.See all posts by saman-iqbal-khan