چلو، لے چلو میری ڈولی، کہارو


حضرت منٹو فرماتے ہیں کہ کسی مرد کو فرضی یا منہ بولا بھائی بنانا ایسا ہے جیسا کسی سڑک پر بورڈ آویزاں کرنا کہ یہ شارع عام نہیں۔ میں نے ایک آئین خاص عورت بنایا ہے اس کی شق نمبر 17 کی خود ہی خلاف ورزی کر بیٹھی ہوں ۔ اصل میں کچھ ایسا ہے کہ میں حضرت منٹو کی مرید ہوں اور سلسلہ جون ایلیا سے بھی گہری روحانی وابستگی ہے ۔ حضرت منٹو کے زریں اقوال کو مد ِنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی زندگی کا آئین ترتیب دیا ہے۔ مجھے تو اُن کی مے نوشی سے بھی عقیدت ہے۔ کیوں نہ ہو۔ میرا پیر ومرشد، مائع حالت میں خمر کا عادی تھا۔ اور میں سالڈ فارم میں لیتی ہوں۔ ارے نیند کی گولیاں اور اینٹی ڈپرسینٹ اور کیا۔ اب جو آگہی کا نزول ہوجائے جب کہ بندہ بشر سند یافتہ صاحب معرفت نہ ہو اور مخالفین کو تو گولی ماریں، اپنے  احباب بھی سدھرنے پر تیار نہ ہوں تو کیا کیا جائے۔ خود کو سلایا ہی جا سکتا ہے۔ سو منٹو کے اتباع میں، میں بھی اپنی سوچوں کے ہاتھوں تنگ آکر اپنے دماغ کو مدہوشی کے سپرد کر دیتی ہوں۔ احباب ایسے کٹھور کہ جہالت کی روایت پر مضبوطی سے قائم ہیں، دلیل وہی کہ کہتے تو تم ہو صحیح مگر ہم مان کیسے لیں اور اپنے بزرگوں کی روحوں کو شرمائیں۔ ہماری رائے میں تو ان احباب کے انکار حق سے ان کے مفروضہ بزرگوں کی روحیں زیادہ تڑپ رہی ہوں گی۔ شاید کسی تودہ خاک سے صدا بھی آ رہی ہو کہ ہم بھی وقت گنوا کے سمجھے تھے، تم تو وقت پر سمجھ جاﺅ۔ خیر کتنے منٹو گزر گئے جہاں سے، مجھ جیسے متابعین چھوڑ کر۔ سو پیرو مرشد منٹو کے سچے موتیوں جیسے افکار واقوال سے میں نے اپنی زندگی کا آئین مرتب کیا ہے اور پوری ایمانداری سے اس پر عمل کرتی ہوں۔

مگر اب اپنے خلاف ایف آئی آر کٹوانے کا ارادہ ہے۔ بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے کہ خود آئین بناﺅ اور خود ہی توڑ دو۔ میں صائمہ ملک ہوں کوئی جدہ کا جادوگر نہیں، ہری پور کا فیلڈ مارشل نہیں۔ میں خاص آدمی ہوں کچھ تو فرق قائم رکھنا چاہیے عامیوں، خاکیوں، اجلاف اور اہل حرفہ سے۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ جب میں نے تعزیراتِ خاص عورت پاکستان کی شق نمبر17کی خلاف ورزی کی۔ رکیے، پہلے شق نمبر 17 پڑھ لیں۔

شق نمبر : 17کسی منہ بولے رشتے کی نہ کوئی شرعی اہمیت ہے اور نہ معاشرتی

ذیلی دفعات

(a.۔ایسے رشتوں میں ملوث افراد کے دل میں چور ہوتا ہے۔

(b.۔جو بھی ایسے کسی منہ بولے رشتے میں ملوث پایا جائے اس پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ نقص امن قلب و جگر کا خدشہ جاتا رہے۔

(c.۔کسی کو قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی مرد اور عورت اپنی حدود اور رشتے سے آگے بڑھے اور کسی اور رشتے میں قدم رکھے۔

(d.۔ جو جہاں ہے اُسے اُسی مقام پر رہ کر اپنا فرض بحیثیت انسان پوری ایمانداری سے نبھانا چاہیے۔

تو ایسا ہوا کہ میرے سکول میں ایک بے حد چرب زبان، کسی حد تک ندیدے اور انتہائی حد تک ٹھرکی استاد کی بھرتی ہوئی ۔ اُس کی آمد کا مقصد ہم باقی استاتذہ کو کچھ لمحے آرام کے مہیا کرنا تھا۔ ہم سب بھی بہت خوش تھے کہ ایک آرٹسٹ بندہ ہماری ٹیم میں شامل ہو گیا ہے۔ اب سکول ایونٹس میں ہم زیادہ سے زیادہ اپنا  Inputدے سکیں گے۔ استاد مکرم کی عمر تیس کے پیٹے میں ہے۔ گھر میں اکیلے قیام پذیر ہیں کیونکہ ایک تو ابھی تک کنوارے ہیں، دوسرا گھر والے ڈیرہ غازی خان میں رہتے ہیں۔ حضرت حال ہی میں سعودیہ سے ملتان وارد ہوئے اور آن گرے ہمارے سکول میں ۔ آتے ہی سب کے ساتھ دوستانہ ماحول پیدا کر لیا ۔ جو کہ ایک رفیق کار کے لئے نہایت ضروری اور سود مند فعل ہے۔ اُڑتی اُڑتی خبر ملی کہ صاحب ایک موٹی تازی معمر ٹیچر کے ساتھ ٹانکے میں ہیں۔ موصوفہ ایک پولیس افسر کی اہلیہ ہونے کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔ آئین خاص عورت کی شق نمبر 232 کے مطابق یہ اُن دونوں کا ذاتی مسئلہ ہے ۔ ٹوہ لگانے کی ممانعت کے ساتھ ایسی افواہ پر کان دھرنا قابل دست اندازی ضمیر جرم ہے۔ غیبت اور افواہ کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ سو اب اس بات کی مجھے پرواہ بھی نہ ہوئی۔

بات تب بڑھی جب ایک روز وہ صاحب میرے پاس آئے اور آرٹ روم میں چلنے اور معائنہ کرنے کا کہا جو کہ میری ڈیوٹی میں شامل تھا ۔ میں گئی انہوں جو ہاتھی گھوڑے ان کے بنائے ہوئے تھے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کوئی غلطی نکالیں ۔ میں نے کہا ”کس میں؟“حضرت بولے کس (مراد kiss) میں کیسے کوئی غلطی ہو سکتی ہے آپ کے ساتھ۔ وہ تو شاندار ہو گی ۔آپ ہاتھی کے کان میں غلطی نکالیں، میں اُس سے زیادہ گھاک اور سمجھدار ہوں، سنی ان سنی کرتے ہوئے ہاتھی کے کان میں غلطی کی نشاندہی کی اور واپس وہیں لائبریری میں آگئی ۔ وہ صاحب شائد شوہر سے محروم اور خود مختار خواتین کو اپنی باتوں میں الجھا کر لذتِ ذہنی و قلبی پر یقین رکھنے والوں میں سے ہوں گے۔ مذکورہ بالا بیگم صاحبہ کے شوہر بھی شہر میں قیام پذیر نہیں جب کہ میں سرے سے شوہرلیس ہوں۔

ٹن ٹن ٹن۔ یہ سکول کی گھنٹی نہیں خطرے کی گھنٹی ہے جو میرے دماغ میں بج اٹھی۔ مجھے خطرہ اُس استاد سے بالکل نہیں تھا۔ وہ غریب دو کرارے جملوں کی مار تھا لیکن۔۔۔۔۔۔ بات نکلے گی تو لذت گوش کے عادی افراد تک بھی جائے گی۔ لذت گوش ایک قدیم اور کسی قدر بے ضرر شغل ہے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے انٹونی اینڈ کلوپیٹرا کا وہ مکالمہ تو آپ نے پڑھ رکھا ہو گا۔

Ram thou thy fruitful tidings in mine ears

That long time have been barren

جان  لیجئے کہ محترمہ کلوپیٹرا نے اس مکالمے میں لذت گوش ہی کی فرمائش کی تھی۔

خطرہ تو آکاش وانی کی خود ساختہ رپورٹر استانیوں سے تھا۔ کہ اگر پولیس افسر کی بیگم کے افسانے بن لئے ہیں تو میں کونسی زیب النسا مخفی ہوں۔ کسی پر تہمت لگانے میں ٹکے بھر کی زبان ہی تو ہلانا ہوتی ہے کسی کی کردار کشی ہو گئی اور کسی کے لئے گھڑی بھر کی تفریح ٹھہری۔ مرد حضرات کا مذاق بھونڈا ہی کیوں نہ ہو، عورت کے لئے لمحوں میں وبال جان بن سکتا ہے۔ بس اسی کشاکش میں پھر مجھ سے ایک بہت بڑا جرم ہو گیا اپنی حفاظت کے خیال سے۔ میں نے استاد مذکور کو دو دن کے اندراندر منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ آفت تو ٹل گئی لیکن اب طے یہ پایا کہ آئین جواں مرداں سے کچھ غرض اور نہ آئین خاص عورت کا کچھ پاس، ہم تو ریختی سے جی بہلائیں گے۔۔۔

جو ہونی تھی، سو بات ہو لی، کہارو
چلو لے چلو میری ڈولی، کہارو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں