ابوالکلام آزاد‘ قائد اعظم اور پاکستان (1)


Syed Abid Ali Bukhariآزاد کے حوالے سے جس مکالمے کا آغازکیا تھا۔ رفتہ رفتہ اس موضوع پر قلم اٹھانے والوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ میرے لیے خوشی کا مقام ہے کہ بہت سارے احباب سے رہنمائی اور سیکھنے کو مل رہا ہے۔ میرے آخری مکالمے کو بہت سے احباب نے سراہا ۔ ان سب کا تہ دل سے ممنون ہوں۔ میں ایک طالب علم ہوں اور اس نسبت سے علمی عاجزی ہی میرا ورثہ ہے۔ محبت، اکرام اور احترام کے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے مکالمے کو آگے بڑھانامقصود ہے۔ میرے اس جواب کا مقصد نہ کسی کو شرمندہ کرنا ہے نہ ہی لاجواب کرنا۔ یہ مناظرہ نہیں مکالمہ ہے۔ گو کہ محترم شکیل چودھری صاحب سے میں ملا نہیں لیکن وہ میرے لیے ایک بزرگ شخصیت ہیں۔ انہیں عمر، علم اور تجربے کے اعتبار سے مجھ پر فوقیت حاصل ہے۔ میں ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔ سوچ کے مختلف زاویے ہوتے ہیں۔ یہاں میں نے کوشش کی ہے کہ مولانا آزاد کی منظر نامہ سمجھنے کی غلطی‘ ”سیکولر بھارت “میں مسلمانوں کے حالات، قیام پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار اور قیام پاکستان کے تناظر میں دلیل کے پیرائے میں اپنا نقطہ نظر کی وضاحت کروں۔ نقطہ نظر کے اختلاف کو اگر صرف علمی اختلاف ہی سمجھا جائے تو سیکھنے کی روایت بڑھتی رہتی ہے۔ میں شکیل صاحب کا ممنون ہوں کہ لگے ہاتھوں مجھے کچھ مزید کتابیں پڑھنے کا موقع بھی مل گیا۔

شکیل چودھری صاحب نے حسب ِسابق میرے مکالمے کے دوسرے حصے کا بھی جواب دینا ضروری سمجھا۔ ان کی ساری گفتگو پر غور کرنے کے باوجود میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر وہ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ کیا ان کا مقصد قائد اعظم کی فکر اور قیام پاکستان کے لیے کی جانے والی ان کی انتھک کاوشوں کو باطل قرار دینا ہے؟ کیا پاکستان کا قیام اور نظریہ پاکستان کو غلط ثابت کرنا مقصد ہے؟ اگر پاکستان کا قیام انہیں پسند نہیں تو لگی لپٹی کے بغیر کہہ کیوں نہیں دیتے؟ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ابو اکلام آزاد نے منظر نامہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی؟

پاکستان ایک حقیقت ہے جو ابو اکلام آزاد اور ان کے ہم نوا گاندھی، نہرو اور پٹیل جیسوں کی مخالفت کے باوجود بن گیا۔ یہ کوئی افسانہ یا سراب نہیں کہ اس کے وجود سے انکار کیا جائے۔ حقیقت کو اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ کے ذریعے جھٹلانے کی جتنی بھی کوشش کی جائے سچائی چھپ نہیں جاتی۔ پاکستان کے وجود کے بارے میں وہ کون سی بات ہے جس نے انہیں تشکیک میں مبتلا کر رکھا ہے؟ شکیل صاحب نے نامورکالم نگار جناب ارشاد احمد عارف صاحب سے بھی مکالمہ کیا تھا ۔ وہی سوالات اٹھا کر ہر ایک کے منہ میں ڈالنے کا آخر مطلب کیا ہے؟ اس سے واضح بات جو ظاہر ہوتی ہے کہ مکالمے کی روایت کو آگے بڑھانا ان کا مقصد نہیں بلکہ اپنی بات منوانی اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا مقصد ہے ۔ خیال رہنا چاہیے کہ بحث و مباحثہ اور کج بحثی میں بڑا فرق ہے۔ تنقید اور تنقیص کے فرق کو اگر سمجھ لیا جائے تو نگاہ صرف نقص پر ہی نہیں پڑتی ۔

جناب شکیل صاحب کی نظر میں کم عمر ہونا یا طالب علم ہونا شاید کوئی گناہ ہے اس لیے وہ اپنی ہر تحریر میں ایک دو بار میرے ان جرائم کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔ مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہے اسی لیے ابوالکلام آزاد کے حوالے سے کچھ سوالات کھٹکتے ہیں ان سوالات پر شکیل صاحب کی راہنمائی درکار ہے۔ جواب دینے سے قبل اس بات کا خیال رکھیے گا کہ مشرق کے قلابے مغرب سے ملانے سے بات کو الجھایا جا سکتا ہے، سمجھایا نہیں جا سکتا۔

abid 01 1905ءمیں تقریباً اٹھارہ برس کی عمر میں آزاد کا شیام سندر چکرورتی اور بنگال کے دوسرے انقلابیوں سے ربط ضبط، ان کی عملی شرکت سے بمبئی اور شمالی ہند کے کئی شہروں میں خفیہ انجمنوں کے کیا معنی تھے؟ کیا قائد نے بھی کوئی ایسی خفیہ تحریک چلائی تھی؟ اپریل 1913ءکے ’الہلال‘ میں ان کے صریرِ خامہ کی ’امن انصاری الی اللہ‘ (خدا کی راہ میں کون ہیں جو میرے ساتھ ہیں !) کی پراسرار پکار، اور پھر ’حزب اللہ‘ کا اعلان اور ممبر سازی کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ یہ بھی واضح کیجئے گا کہ سیکولر ازم ان کی اس کیفیت کو کس نام سے یاد کرتا ہے؟ اور حزب اللہ کے قیام کے کیا مقاصد تھے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

1925ء میں یورپ کے سفر کے لیے ان کے پاسپورٹ کی درخواست کے ساتھ کلکتے کے نیشنل آرکائیوز میں رکھی سی آئی ڈی کی خفیہ رپورٹس میں آزاد کے (1921ء تا 1924ء کے دوران میں) پان اسلام ازم تحریک، سبھاش بوس کے انقلابی منصوبوں اور ینگ ٹرکس کی سرگرمیوں سے روابط کے انکشافات کے بارے میں بھی کچھ فرمائیے گا؟

آزاد نے 9 اکتوبر 1912 کے الہلال کے صفحہ 6 پر مسلمانوں کو یہ مشورہ کیوں دیا تھا کہ بہتر ہے کہ سرے سے اسلام ہی کو خیرباد کہہ دیا جائے۔ دنیا کو ایسے مذہب کی کیا ضرورت ہے جو صرف خطبہ نکاح میں چند آیتیں پڑھ دینے یا بسترِ نزع پر سورہ یاسین کو دہرا دینے ہی کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے؟ “ کیا آزاد اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات سمجھتے تھے؟ اگر نہیں تو اس تناقصِ فکری پر آپ کیا کہتے ہیں؟ وہ کون سا اسلام چاہتے تھے؟ اس حوالے کو مد نظر رکھ کر آزاد کے اسلام اور سیکولر ازم کے تصور کی کچھ وضاحت فرمائےے گا؟

جنوری 1920ءمیں دہلی میں گاندھی سے پہلی ملاقات کے بعد انھیں کیوں کلکّتے کی عید گاہ میں امامت اور عیدین کے خطبوں سے دست بردار ہو نا پڑا تھا؟ بنگال کے مسلمان ان سے مایوس ہو گئے تھے یا بد دل آپ کیا کہتے ہیں؟ پنڈت سندر لال کو کیوں لکھنا پڑا تھا کہ کبھی کبھی ہندوستانیوں سے آزاد کی جان بچانے کے لیے خاص انتظام کرنے پڑتے تھے؟ “ تاریخ بھی یہی کہتی ہے کہ آزاد کو آئے دن جیلوں کی ہوا بھی کھانا پڑتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ قائد ان ساری مصیبتوں کا شکار کیوں نہیں ہوئے؟ آزاد نے آخر کیوں لکھا تھا کہ” ’پاکستان‘ کا نام ہی میرے حلق سے نہیں اترتا۔ “پاکستان کا نام آخر آزاد کو اس قدر کڑوا کیوں لگتا تھا؟ وہ کیا اسباب تھے کہ محمد علی جناح نے امام الہند کہلانے والے ابوالکلام آزادکے ہاتھوں سے مسلمانوں کی قیادت چھین لی تھی؟

آزادی کے بعد عدم تشدّد کے سیکولرپیروؤں کی سیکولر دہشت گردی اور دلّی میں مسلمانوں کی قتل و غارت گری دیکھ کر آزاد کا کیا موقف تھا کچھ اس پر بھی ایک طائرانہ سی نگاہ ڈال دیں۔ گاندھی نے دہلی میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کے لیے سردار پٹیل کو کیوں ذمے دار مانا تھا اور فسادات رکوانے کے لیے اپنی ضعیفی میں گاندھی کو برت کیوں رکھنا پڑا تھا؟

 آزاد اور سردار پٹیل کا تقریباً تیس برس کے ساتھ کے باوجود شیخ عبداللہ کو اپنی سوانح ” آتشِ چنار“ کے باب ”سازشوں کے سائے “ میں کیوں لکھنا پڑا کہ سردار پٹیل ایک منہ پھٹ قسم کا آدمی تھا اور آزاد کی کبھی بھی اس سے نہ بنی؟ آزاد نے ’ہماری آزادی‘ میں ایسے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے جن سے اقلیتوں کے سلسلے میں سردارپٹیل کے غیر دوستانہ رویّے کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً 1935-36ء میں بمبئی کی صوبائی حکومت کی تشکیل کے وقت وہاں کے ممتاز پارسی راہ نما مسٹر نریمان کا حق تلفی کا واقعہ ہی پڑھ لیجئے گا۔ کیا آزاد کے سیکولر انڈیا کی یہی وہ تعلیمات تھیں جن پر مستقبل کے ہندستان کی عمارت تعمیر کی گئی؟

1946ءمیں مرکزی اسمبلی کے انتخابات میں ابوالکلام آزاد صوبہ سرحد سے منتخب ہو کر بھیجے گئے تھے۔ انہیں سرحد سے الیکشن کیوں لڑنا پڑا تھا؟ کیا وہ اسلام کے نام پر سرحد کے مسلمانوں کی ہمدردیاں اور ووٹ لینا چاہتے تھے؟ وہ سیکولر ہندستان کے کسی ہندو علاقے سے یا بنگال (جو کہ ان کا آبائی علاقہ بھی تھا)سے الیکشن کیوں نہیں لڑے تھے؟ کیا وجہ تھی کہ صرف ایک سال بعد صوبہ سرحد نے آزاد کے متحدہ ہندوستان کے خواب کو چکنا چور کر دیا؟ ڈاکٹر زکریا کو یہ کیوں لکھنا پڑا تھا کہ ’جمہوریت اور سیکولرزم کے عہدِ جدید میں فاشسٹوں نے بابری مسجد کو پیشگی علم و اطلاع کے ساتھ دن کے اجالے میں منہدم کر کے ملک اور قوم کا وقار ملیا میٹ کر دیا تھا؟ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہوں کے ساتھ یہ سلوک سیکولر ازم کی کس تعریف کے مطابق ٹھیک ہے؟ کیا یہی وہ سیکولر ازم تو نہیں جس کے لیے آزاد نے پاکستان کی بجائے ہندستان میں زندگی کی باقی ساعتیں گزارنا پسند کی تھیں؟

میں نے تشدد کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا ذکر کرتے ہوئے کشمیر کا حوالہ دیا تھا لیکن شکیل صاحب نے کشمیر کے موجودہ حالات پرلکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں نے لکھا تھا کہ” بھارت کی جمہوریت جس کی مثالیں تنقید نگار نے دی ہیں اس کی ایک جھلک کشمیر میں بھی ملاحظہ کر لیں تو غلامی کا تصور واضح ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ “اس کے جواب میں موصوف نے کشمیر کے موجودہ حالات پر نگاہ ڈالنے، جمہوری مظالم کا جائزہ لینے اور آزادی کی جدوجہد میں ٹرپنے والوں کی قربانیوں کا جائزہ لینے کا تکلف گوارا نہیں کیا۔ موصوف کا جواب تھا ” اسے کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ“۔ اگر موصوف نے دنیا کی سب سے بڑی کہلائی جانے والی جمہوریت اور سیکولر ازم کی پرچار مملکت کے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور کشمیریوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کا جائزہ لے لیا ہوتا تو نہ گھٹنا مارنے کی نوبت آتی نہ ہی آنکھ پھوڑنے کی۔

کشمیر کے حوالے سے موصوف نے مجھے تحقیق کا مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ” کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی سب سے بڑی وجہ اکتوبر 1948 ءمیں قبائلیوں کا حملہ تھا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ ان قبائلیوں نے بلا تقریق مذہب و ملت لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ “تاریخ کو جھٹلانے سے کیا حاصل؟ اگر کبھی فرصت ملے تو شیخ عبداللہ کی آپ بیتی پڑھیے گا وہ اس کے صفحہ272 پر لکھتے ہیں کہ14 اگست 1947 کوسری نگر کے ڈاک بنگلے پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا گیا تو جنرل جنک سنگھ کے حکم پر زبردستی پرچم اتار دیا گیا۔ صفحہ 276 پر لکھتے ہیں کہ” جب کشمیر کے عوام نے مہاراجہ سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیا تو اس نے اسے گستاخی پر محمول کیا اور ان لوگوں کو مزہ چکھانے کے لیے اپنی فوج کے ذریعے ان پر شدید مظالم توڑے۔ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا، گھروں کو آگ لگا دی، عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ “ اب جنرل جنک سنگھ کا تعلق کہاں سے تھا اور مہاراجہ کی فوج میں کتنے قبائلی تھے جنہوں نے کشمیر کے الحاق کو روکا یہ شائد تنقید نگار بہتر جانتے ہوں؟ لندن کے مقتدرہ روزنامہ ٹائمز  10 اگست 1948ء کی رپورٹ کے مطابق جموں کے دو لاکھ سے زائد شہدا ڈوگرہ راج اور ہندستان کی مسلح جتھوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گئے تھے؟ اور 90 کی دہائی سے اب تک لاکھوں کشمیریوں کو بے دریغ قتل کرنے والی سیکولر جمہوریت کے علمبردار بن کر کھڑے ہو نا کسی بھی دانا شخص کا فیصلہ تو نہیں ہو سکتا؟

مقبوضہ کشمیر سے معروف بیوروکریٹ خالد بشیر تیس سال مختلف مقامات، اور تحقیقی اداروں کی خاک چھاننے کے بعد کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام پر ایک تحقیق منظر عام پر لائے ہیں۔ ان کے بقول ڈوگرہ آرمی، رانی تارا دیوی اور آر ایس ایس کے بانی گرو گولوالکر کی مرتب کردہ سازش کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد مسلمان کشمیر میں شہید کر گئے گئے ۔ کٹھوعہ، اکھنور، سامبا، ماﺅ گام، جموں، سچیت گڑھ، میں ستر ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے۔ اس کی تفصیلات تاریخ کی کتابوں اور مختلف آپ بیتوں میں بکھری مل جاتی ہے۔ جموں کی سیاسی شخصیت رشی کمار کوشل کا تعلق شاید قبائلیوں کے علاقے مہمند ایجنسی سے تھا؟ 1953ء میں جب شیخ عبداﷲ گرفتار ہوئے تو بخشی غلام محمد نے ہندوﺅں کے گھروں میں جا جاکر ستم کا شکار 5000 مسلمان لڑکیوں کا پتہ لگایا۔ کیایہ سارے اغوا کار بھی قبائلی تھے؟

1941ء کی مردم شماری کے مطابق میں جموں ضلع کے مسلمانوں کی آبادی ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل تھی جو صرف بیس برسوں بعد کی جانے والی مردم شماری کے مطابق اکیاون ہزار رہ گئی تھی ۔ 1961ء کی مردم شماری کے مطابق 51 ایسے مسلم گاﺅں کا ذکر شامل ہے جن میں کوئی فرد نہیں رہ گیا تھا۔ ان سارے گاﺅں کے لوگوں کو شاید قبائلی اپنے ساتھ پکڑ کر لے گئے تھے؟ ادھم پور کے رام نگر میں تحصیل دار ادھے سنگھ اور مہاراجہ کے اے ڈی سی کے فرزند بریگیڈیئر فقیر سنگھ نے جو قتل عام رچایا تھا وہ بھی قبائلیوں کے کھاتے میں ڈال دینے چاہیں؟ جناب شکیل صاحب نے اکتوبر 1948ء میں قبائلیوں کے حملے کا ذکر کیا لیکن اکتوبر 1948ء سے پہلے جو مظالم ڈھائے گئے اس میں انہیں باجوڑ کے کس پٹھان کا ہاتھ نظر آتا ہے؟ اگر یہ سب پاکستان کا کیا دھرا ہے تو آر ایس ایس کے ایک لیڈر چونی لال کو توال اور امر ناتھ شرما بخشی کو کس خدمت کے صلے میں مقبوضہ کشمیر کا وزیر بنایا گیا تھا

ذکر تھا بھارت کے عدم برداشت اور تشدد کی علامت کا۔ موصوف کو میری رائے سے اتفاق نہیں۔ اگر بھارت تشدد کی علامت نہیں بنا ہوا تومقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبے ہندوارہ میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے چند دن قبل دو طالب علموں سمیت ایک بزرگ خاتون کی شہادت کے بعد ہندوارہ اور دوسرے قصبوں میں کشیدگی کی لہر کیوں پھیلی ہوئی ہے؟ وہاں کرفیو کیوں لگا ہوا ہے؟ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے رکن انجینیئر رشید نے چند دن قبل کیوں کہا کہ ’یہاں جو ظلم ہو رہا ہے، وہ نازی جرمنی میں یہودیوں پر بھی نہیں ہوا؟

دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی نے صرف تین دن قبل کیوں کہا ہے کہ بھارت بھر میں کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت اور جنونیت کی ایک نئی لہر پھیل گئی ہے جس کے تحت یہاں کے لوگوں بالخصوص طلبا کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو انتہائی تشویش اور فکر مندی کی بات ہے؟ سید علی گیلانی کیوں کہتے ہیں کہ کشمیری طلبا کو فرضی مقدمات میں پھنسانے اور انہیں مختلف مصائب سے دوچار کرنا بھارت میں معمول ہوچکا ہے؟

سیکولر انڈیا میں فروری 2002ء میں مودی نے وزیر اعلیٰ گجرات ہوتے ہوئے اردو کے پہلے شاعر ولی دکنی جو کہ ولی گجراتی کے نام سے بھی مشہور ہیں کی درگاہ صرف چوبیس گھنٹوں میں مسمار کر کے وہاں سڑک کیوں بنا دی تھی ۔ پھر انہی صاحب نے اپنے دور حکومت میں 230 سے زائد درگاہوں کو نشانہ بنا کر آزاد کے کس سیکولر ایجنڈے کی تکمیل کی تھی؟

سیکولر مودی کے ہاتھوں بھارت کی ریاست گجرات میں زندہ جلائے جانے والے مسلمان کیوں یاد نہیں رہتے؟ وہ تعداد کی الجھنوں میں جکڑے رہتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ کہتے ہیں کہ وہاں پانچ ہزار افراد مارے گئے ہیں بلکہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کہتی ہے کہ وہ 2500 ہی تھے۔ کیا خیال ہے قاتل کبھی مانتا ہے کہ اس نے کتنے انسانوں کو جلا کر راکھ کر دیا ہے؟

18فروری 1983ءمیں آسام کے ضلع نو گاﺅں کے قصبہ نیلی میں 10,000بنگالی مسلمانوں کو راتوں رات بے دردی سے قتل کیاگیا تھا سرکاری ذرائع کے مطابق ان کی تعداد 3ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے ۔ ان حقائق کو مدنظر رکھ کر اگر آپ آزاد اور گاندھی کے عطا کردہ بھارتی سیکولر ازم کے اصلی اور عملی نظام کی کچھ وضاحت فرما دیں تو عنایت ہو گی۔

جناب شکیل صاحب کو میری باتیں اس قدر ناگوار گزریں کہ انہوں نے اسے آزاد پر نا شائستہ حملہ قرار دیا ۔ شیخ محمد عبداللہ مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلی رہے ہیں۔ وہ آزاد کے ہم خیال لوگوں میں سے تھے ۔ انہیں آزاد سے دلی ہمدردی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب آتشِ چنار کے صفحہ 241 پر لکھا ہے ” آزاد عوامی مسائل کا میدانِ کارساز میں سامنا کرنے کی بجائے گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے تھے۔ “شیخ عبداللہ آگے لکھتے ہیں”جناح صاحب جہاں مسلم عوام کو اپنی جانب کھینچ لینے میں کامیاب ہو گئے وہاں مولانا آزاد اپنی خلوت گاہ سے غبار ِ کارواں کو دیکھتے رہ گئے۔ ‘ مولانا کی پوزیشن عجیب تھی، فرقہ پرست ہندو انہیں مسلمان سمجھ کر ان پر اعتبار نہ کرتے اور مسلمان انہیں ہندوﺅں کا بچہ جمہورا یعنی شو بوائے قرار دیتے۔ “ کیا شیخ عبداللہ کی اس رائے سے شکیل صاحب اتفاق کریں گے؟ کیا شیخ عبداللہ کے یہ الفاظ بھی تنقید نگار کی نظر پر آزاد پر ناشائشتہ حملہ ہیں؟

ابوالکلام آزاد کو ہندستان کی وکالت کا جو صلہ ملا اس کے حوالے سے شیخ عبداللہ اسی صفحے پر نہرو کی آزاد سے اوپر اوپر سے عزت کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ” نہرو آزاد کے جذبات و خیالات کا کس حد تک خیال رکھتے تھے اس کی ہلکی سی جھلک مولانا کی سوانحی کتاب ”انڈیا وِنز فریڈم“ کو پڑھ کر سامنے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں مولانا آزاد گوشہ نشین ہو کر رہ گئے تھے اور ان سے خال خال ہی کوئی شرف ملاقات کر سکتا تھا۔ “ میں کہوں گا تو شکایت ہو گی، تنقید نگار شیخ عبداللہ کے بارے میں کیا کہیں گے؟ ممکن ہے کہ موصوف کی نظر سے یہ کتاب نہ گزری ہو لیکن اب تو توجہ بھی دلائی ہے میری تحریر پر نتقیص نگاری سے پہلے ایک مضمون شیخ عبداللہ کے اس ناشائستہ حملے پر تو لکھ دیں؟

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

21 thoughts on “ابوالکلام آزاد‘ قائد اعظم اور پاکستان (1)

  • 18-04-2016 at 1:15 am
    Permalink

    Partition in 1947 was a reality but before that people were free to form their opinions. Maulana Abul Kalam Azad might have been a genius person but it remains to see what would have happened if India was not divided. Khalid Bin saeed’s book in such regard are revealing. Anyway it is good to see that we are raising important questions and trying our best to find answers. Good post by Bukhari Sahib.

    • 18-04-2016 at 1:30 am
      Permalink

      جناب سید طارق جاوید صاحب
      پوسٹ کو سراہنے کا بے حد شکریہ
      ابوالکلام آزاد مرحوم کے علم ، مقام اور قدرومنزلت کے حوالے سے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں میرے مدنظر مکالمے کو آگے بڑھانا ہے۔ کچھ سوالات چھوڑے ہیں امید ہے اس سے کچھ الجھنیں سلجھنے میں مدد ملے گی۔

  • 18-04-2016 at 3:54 am
    Permalink

    میں نے تاریخ کا اور خصوصًا تقسیم ہندوستان کی تاریخ کا اس قدر بغور مطالعہ نہیں کیا اس لئے ان سوالات کے میرے پاس تو جوابات نہیں ہیں جو سید عابد علی بخاری صاحب نے شکیل چودہری صاحب سے کئے ہیں لیکن میں سید عابد علی بخاری صاحب کے ایک جملہ پر ان سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ جملہ یہ ہے:
    ’’پاکستان ایک حقیقت ہے جو ابوالکلام آزاد اور ان کے ہم نوا گاندھی نہرو اور پٹیل جیسوں کی مخالفت کے باوجود بن گیا۔ (کاش بخاری صاحب تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے ان مخالفین میں مولانا مودودی صاحب، حسین احمد مدنی صاحب اور عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب وغیرھم کے نام بھی شامل کرلیتے) یہ کوئی افسانہ یا سراب نہیں کہ اس کے وجود سے انکار کیا جائے۔
    بخاری صاحب کے اس جملہ پر میرا سوال یہ ہے کہ اسرائیل بھی ایک حقیقت ہے جو عربوں بلکہ پورے عالم اسلام کی مخالفتوں کے باوجود بن گیا۔ اسرائیل کوئی افسانہ یا سراب نہیں کہ اس کے وجود سے انکار کیا جائے۔ تو پھر آج تک پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیوں نہیں کیا؟

  • 18-04-2016 at 5:06 am
    Permalink

    مولانا ابوالکلام کے بارے میں ساری بحث جو عابد محمود صاحب نے شروع کی، پڑھنے کے بعد میرے اور شاید بہت سےاور بھی پڑھنے والوں کے ذھن میں چند بنیادی سوالات پیدا ھونا قدرتی ھیں جن میں سے سر دست ایک سوال پیش خدمت ھے؟
    آخر وہ کیا وجہ یا وجوھات ھیں کہ پاکستان کے قائم کیے جانے کے جواز کو تقریبا ۷۰ سال بعد سوالات کا سامنا کرتا پڑتا ھے؟ ضمنی سوال یہ کیا پاکستان کا جواز صرف اور صرف مولانا آزاد کی مخالفت سے ہی ثابت کیا جا سکتا ھے؟
    ان سوالات کی اہمیت موجودہ بحث میں اس لیے بھ بڑھ جاتی ھے کہ عابد صاحب نے بغیر کسی کے کہے یا پوچھے پاکستان کے جواز کا مقدمہ مولانا آزاد کی ذات و سیاست پر حملہ کی آڑ میں شروع کیا، جس کا جواب اور پھر جواب الجواب اور پھر مجودہ مضمون سامنے آیا، اگر پاکستان کا قیام یا ھندوستان کی تقسیم قدرتی اصولوں یعنی مزھب کی بجائے زبان و جغرافیہ کی بنیادوں پر ہوتی تو کیا پھر بھی پاکستان کے قیام کو انھی لا ینحل سوالوں کا سامنا کرتا پڑتا؟

    آخر کیا وجہ ھے کہ دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں صرف پاکستان اور اسرائیل ھی دو ایسے ملک ھیں جن کے وجود کے جواز کو اپنے قیام کے وقت سے لے کر آج تک مسلسل سوالات کا سامنا ہے؟

    کہیں ایسا تو نہیں، کہ خدانخواستہ بقول غالب،

    میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی ۔۔۔۔!!!! ؟؟؟

    یا بقول اقبال،
    ”جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا’

    مندجہ بالا سوالات کے جواب دینا کسی پر بھی فرض نہیں لیکن اگر مجمون نگار یا جو بھی کوئی جواب دینے کی زحمت کرے ان کی خدمت میں اتنی استدعا دست بستہ ہے کہ جواب میں “سازشی نظریات” اور اغیار کی سازش وغیرہ جیسے دلائل کا سہارا لینے سے پرہیز کریں اور یہ یاد رکھیں کہ جو بھی دلیل دی جائے گی وہ کم وبیش وہیسے ھی اسرائیل کے جواز پر بھی اپلائی ھوگی جو کہ ایک ایسا ملک ہے جسے ہاکستان نے اور اس نے پاکستان کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔
    منتظر

    • 19-04-2016 at 12:03 pm
      Permalink

      جناب سلمان یونس صاحب
      یہ جو عابد محمود صاحب ہیں نہ جانے کون ہیں؟ بہرحال میری تحریر کا الزام ان پر لگائیں گے تو ان کو دکھ ہوگا۔
      جو سوالات آپ نے ان سے پوچھے ہیں وہی جواب دیں تو اچھا ہے۔ :

  • 18-04-2016 at 2:46 pm
    Permalink

    عابد صاحب ہندوستان کو جو مسائل دار پیش ہیں اس کے غیر منطقی دلائل دینے سے کچھ نہیں ہو گا. “تج کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو”

  • 18-04-2016 at 4:17 pm
    Permalink

    بہت خوب ۔۔۔۔ شیخ عبد اللہ کانگریس اور نہرو وغیرہ کے بہت گرویدہ تھے۔ لیکن زندگی کے آخری دنوں میں پچھتاوے کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

  • 18-04-2016 at 5:07 pm
    Permalink

    دو باتیں مجھے پسند آئیں۔ نوجوان عابد بخاری نے قبلہ شکیل چودھری صاحب کے سخت اور قدرے طنزیہ لہجے کے باوجود نہایت شائستگی سے کلام کیا ہے۔ خاص کر پہلا جملہ تو کلاسیکل رائٹسٹ لکھاریوں کی سی شائستگی کا عمدہ نمونہ ہے۔ مولانا ابوالحسن ندوی یاد آگئے، مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف کتاب لکھی تونبوت کے جھوٹے دعوے دار کو بھی نہایت شائستگی سے ہر بار مرزا صاحب کہہ کر پکارا۔ میرے خیال میں مکالمہ میں علمی شائستگی ہونا بہت ضروری ہے۔ دوسرا مجھے عابد بخاری کی محنت اور عرق ریزی اچھی لگی۔ ممکن ہے اس میں سےبعض نکات دینے زیادہ ضروری نہ ہوں، مگر بہرحال نوجوان نے محنت کر کے، مختلف کتابوں سے حوالے لے کر لکھا ہے۔ اس طرح پڑھنے والوں کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے وقت ضائع ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ بہت خوب عابد بخاری۔ اللہ آپ کی تحریر اور علم میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

    • 19-04-2016 at 12:04 pm
      Permalink

      محترم جناب عامر خاکوانی صاحب
      آپ کی رائےاور پسندیدگی کے اظہار کے لیے شکریہ
      آپ کی اس رائے سے مکمل اتفاق ہے کہ اس میں سےبعض نکات دینے زیادہ ضروری نہ تھے۔ میری نگاہ میں بعض نہیں بہت سے نکات دینے ضروری نہیں تھے کیونکہ ان کی وجہ سے تحریر طویل اور بوجھل ہو جاتی ہے۔
      دراصل اس کی بنیادی وجہ جناب شکیل چودھری صاحب کے وہ طویل سوالات تھے جو کہ انہوں نے آخری تحریر میں اٹھائے تھے۔
      اگر چھوڑ دئیے جاتے تو پہلے بھی وہ شکوہ کناں تھے کہ بخاری صاحب نے اس پر بات کرنا گوارا نہیں کی۔ میں جواب الجواب اور اس کے بعد پھر سے جواب، الجواب کے انداز گفتگو کو ویسے بھی پسند نہیں کرتا۔
      دوسری اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ قاری کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ایک دوسرے پر کیا تنقید کی جا رہی ہے۔ اصل بات مکالمے کو آگے بڑھانا اور اپنے موقف کی وضاحت کرنی ہوتی ہے۔
      آپ کی تجویز اور رائے کے پیش نظر مستقبل میں کوشش کروں گا کہ قارئین کو تحریر کی طوالت سے بچایا جا سکے۔
      تحریر اور علم میں برکت کی دعا کے لیے بے حد شکریہ

    • 25-04-2016 at 6:03 pm
      Permalink

      عامرخاکوانی صاحب‘ آپ نےعابد بخاری صاحب کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انہوں نے میرے سخت اور قدرے طنزیہ لہجے کے باوجود نہایت شائستگی سے کلام کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے ان کا یہ طولانی مضمون غور سے پڑھنے کی زحمت نہیں کی۔کونسا الزام ہے جو بخاری صاحب نے مجھ پر نہیں لگایا۔میں اپنے پرانے سوالات ہر ایک کے منہ میں ڈال دیتا ہوں۔ میرا مقصد کہ مکالمے کی روایت کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ اپنی بات منوانا اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا ہے۔میں بحث مباحثہ نہیں کج بحثی کرتا ہوں اور مجھے تنقید اورتنقیص کا فرق بھی معلوم نہیں۔

      بخاری صاحب کی شائستگی کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔’’ہم ایک ایسے دور ِ ستم سے گزر رہے ہیں جب اپنے بانیاںِ پاکستان کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ”چھڑک“ کر، قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا کر، قیام پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم سے دشمنی کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی خدمت سر انجام دی جا رہی ہے۔ مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں کو پیش کر کے یہ رونا روتے رہنا کہ ان کو حقائق چھپانے کے لیے نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے درست نہیں۔‘‘ کیا مولانا علی میاں کی تحریروں میں بھی اسی طرح کی شائستگی پائی جاتی ہے؟

      جہاں تک بخاری صاحب کی عرق ریزی اورمختلف کتابوں کے حوالے دینے کا تعلق ہےبرہ مہربانی اسیم کاویانی صاحب کا مضمون ’تقسیم ہند‘ (بزم اردو) اورفیروز بخت احمدکاجسونت سنگھ کے بارے میں ملی گزٹ میں شائع ہونے والی تحریردیکھ لیں تو بہت سی حقیقتیں کھل کرآپ کے سامنے آجائیں گی۔

      http://lib.bazmeurdu.net/%D8%AA%D9%82%D8%B3%DB%8C%D9%85-%DB%81%D9%86%D8%AF-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C/

      http://www.milligazette.com/news/5848-partition-jinnah-debate-dont-demonize-jaswant-singh

  • 18-04-2016 at 11:47 pm
    Permalink

    بھائی مجھے تو آپ کے تمام سوال صرف ایک مخصوص نظریے میں کھڑے ہو کر سمجھ آتے ہیں وہ ہے دو قومی نظریہ اس سے باہر تمام دلیلیں عدم دلیل میں بدل جاتی ہیں۔ نہرو اور گاندھی ہندو ہیں جبکہ جناح مسلمان اور آزاد کہیں بھی نہیں۔میرے خیال میں آپ لوگوں کی بحث اس وقت ہی کسی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے جب تاریخ کو اور اس میں اداروں، شخصیات اور نظریات کو علیحدہ رکھ کر دیکھا جائے اور اپنی نضریاتی پوزیشن کو ثابت کرنے کیلئے تاریخ کو ترتیب نہ دیا جائے- کہیں آپ کہتے ہیں کہ حقیقت حقیقت ہوتی ہے اس میں چوں، چراں، کونکہ چناچہ کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن بنگلہ دیش کی بابت کھلے عام چند دانشوروں کا دو قومی نظریے کو ماننے کی ضد کر رہے ہیں ۔ آپ کے ہی دلیل کی رو سے پھر ہمیں بنگلہ دیش کو بھی ماننا ہو گا اور دو قومی نظریے کو بھی-
    پاکستان سے علیحدہ رہنھے کی گنجائش جناح صاحب نے صرف بنگال کو دی تھی پنجاب اس میں شامل نہیں تھا۔
    جناح اور آزاد کے طریقئہ سیاست میں فرق تھا اور وہ ایک مزاجمتی اور پارلیمانی سیاست کا فرق ہے اس بات سے نہ تو جناح کا قد بڑا ہوتا ہے اور نہ آزاد کا چھوٹا۔
    جناح نے بھی تحریکِ خلافت میں مسلامانوں کا ساتھ نہیں دیا تھا بلکہ مزہب کو سیاست میں لانے کی شدید مخلفت کی تھی تاہم بعد میں گٹھ جوڑ بناے کیلئے تمام سیاسی اصول جناح نے بھی داو پہ لگائے اور مسلم ہے تو لیگ میں جیسا نعرہ لگا۔ اس بات سے جناح کی اپنی موقع پرستی بھی ظاہر ہوتی ہے۔
    آپ نے قرض کے کچھ اعدادع شمار دئے ہیں حضور انڈیا کی معشیت کا حجم پاکستان سے بہت بڑا ہے اس لیے اس کے GDP to debt ratioپاکستان سے بے حد کم ہے پاکستان آج تک کوئی بجٹ نہیں بنا سکا بنا بیرونی قرضوں یا امداد کے اور مقابلہ انڈیا سے۔ آزاد کا مطمع نظر یہ تھا کہ پاکستان کبھی بھی ایک معاشی طور پر مضبوط ملک نہیں بن پائے گا اور نہ ہی ایک سیاسی یونٹ تاریخ ان مفروضات کو سچ ثابت کر چکی ہے۔
    پاکستان کے نظریے کے بارے میں آپ کی سمجھ نہایت سادہ اور نظریاتی ہے جبکہ نیوٹرل دانشور یہ ثابت کر چکے ہیں کہ تحریکِ پاکستان ایک اشرافیائی تحریل تھی جسے نوکریوں کی مترلاشی مڈل کلاس نے آرگنائز کیا اور عوامی بنانے کیلئے مذہب کا چولا پہنایا اس لحاظ سے جناح مسلم سرمایہ دار طبقے کا spokes manتھا اور عائشہ جلال نی اس بات کا خوب احاطہ کیا ہے- پاکستان تحریک پہ تازہ ترین تحریر Pakistan a Paradox ہے اس کو پڑھ کے شاید یہ بات سمجھ آ جائے کہ آزاد کیمونل سوال میں نہیں بہنا چاہتے تھے اور انہوں نے اشرافیائی اور مزہبی موقع پرستانہ سیاست کا حصہ بننے سے انکار کیا- آخر مین عرض کروں گا جب جناح صاحب طیارے پہ سوار کراچی اتر چکے تھے تو بنگال کے مسلمانوں کے ساتھ پھر آزاد ہے کھڑے تھے اور جب سارے ہندوستان مین مسلمان سہمے ڈرے بیٹھے تھے تو دلی کی جامع مسجد کے منبر سے آنے والی آواز آزاد ہی کی تھی۔ اگر ایک انسان نے اپنے علم اور دوربینی کے سبسب خود کو ہندو اور مسلم کی بحث میں نہیں ڈالا تو اس کو دور اندیشی کو اس کا جرم تو مت بنائیں ۔
    انڈین نیشنلازم ہندو نیشنلازم نہیں ہے
    کانگرس صرف ہندووں کی جماعت نہیں ہے۔( برائے مہربانی تخیفیف پسندی سے گریر کریں)

    • 20-04-2016 at 1:50 am
      Permalink

      اسد صاحب،
      بہت اچھا تجزیہ کیا ھے آپ نے اس مضون کا ۔

  • 19-04-2016 at 9:58 pm
    Permalink

    سوالات ایسے ہیں جیسا کہ بریلوی حضرات دیوبند مکتبہ فکر کی عبارات کے حوالے سے کرتے ہیں۔۔۔

  • 19-04-2016 at 11:22 pm
    Permalink

    کیا بات ہے عابد علی صاحب، آ پ کی اکثر تحاریر میری نظر سے گزری ہیں۔ سچ بتاوں پہلی بار آپ کی تحریر سے متاثر ہوا ہوں۔ بہت شائستہ طرز تکلم۔ حوبصورت انداز، محنت اور عرق ریزی، دلائل اور حوالہ جات سے بھرپور تحریر۔ دوسروں کے ناشائستہ انداز کو اپنے پے اثر انداز نہ ہونے دینا۔ ما شا اللہ خوبیوں سے بھر پور تحریر ہے۔ شکیل صاحب تو گمان کیے بیٹھے تھے کہ شائد انڈیا سے آنے والی ہوا بھی آپ کے قریب سے نہیں گزری ہے لیکن ”مینار صاحب” کے ساتھ آپ کی تصویر بھی آپ کے خوبصوت جواب کا ہی ایک انداز ہے۔
    امید ہے اب شکیل چوہدری صاحب ون بائی ون آپ کے اٹھائے گئے ایک ایک سوال کا جواب اسی طرح دلائل کے ساتھ دیں گے۔ میدان چھوڑ کے بھاگیں گے نہیں۔ آپ کے سوالات کا جواب دینے کے بعد ہی کوئی بات کریں گے۔well done Abid Ali
    شکیل صاحب آپ کے جواب کا انتظار ہے۔

    • 20-04-2016 at 11:15 am
      Permalink

      جناب محمد علی صاحب
      قطب مینار کے لیے اچھا لفظ استعمال کی آپ نے۔ یہ وہ مینار ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کی فتح کی علامت کے طور پر بنایا گیا ہے۔ اسی احاطے میں مسجد قوت الاسلام بھی جو کسی زمانے میں مسلمانوں کی بڑی مساجد میں شمار کی جاتی تھی۔ اب کھنڈرات میں بدل چکی ہے۔
      تحریر پسند کرنے کا بے حد شکریہ

    • 28-04-2016 at 6:58 am
      Permalink

      محمد علی صاحب‘ شائستہ اورناشائستہ کی بحث میں بڑے بغیر آپ کو بتانا چاہتا ہوں اللہ کے فضل سے میں میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ جہاں تک بخاری صاحب کے ہندوستان کے دورے کا تعلق ہے تو میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بخاری صاحب اس حوالے سے جھوٹ بول رہے ہیں۔

      بخاری صاحب نے بڑے پرجوش انداز میں انکشاف کیا تھا ہے کہ وہ ‘مہا بھارت‘ کے چالیس سے زیادہ مقامات پر گھوم کر اور وہاں سینکڑوں مسلمانوں سے مل چکے ہیں۔ اس پر میں نے لکھا تھا کہ ان سب وارداتوں کے باوجود بخاری صاحب کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ’مہابھارت‘ کسی ملک کا نام نہیں ۔ اس کے معنی بڑی لڑائی کے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ جن ہندی مسلمانوں سے ملے ’وہ تو اپنی بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کے لیے بھی پریشان نظر آئے۔ ان کی بے چارگی اور بے بسی کی کہانیوں کے اظہار کے لیے شاید یہ مختصر مضمون نا کافی ہو۔ وہ خود کو سیکولر اور لبرل کہلاتے اتنا نہیں شرماتے جتنا خود کو مسلمان کہتے ان کے چہروں پر خوف نظر آتا ہے۔ ‘

      میں نے مزید یہ لکھا تھا کہ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے پاکستانیوں کو ہندوستان کے تین شہروں کا ویزا ملتا ہے ۔ بخاری صاحب نے ہندوستا ن کے چالیس سے زائد مقامات کی سیر کر کے واقعی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ کیا بخاری صاحب نے کسی مسلمان صحافی ‘پروفیسر‘سیاستدان یا مصنف سے ملاقات کی؟ انہوں نے کن کن شہروں میں قدم رنجہ فرمایا؟ کیا وہ جامعہ ملیہ جیسی کسی جگہ بھی تشریف لے گئے؟

      میں نے ان سے یہ سوالات بھی پوچھے تھے۔ بخاری صاحب ‘ دیانت داری سے بتائیں کہ تقسیم ہند سے ان مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا ہوئے یا آسانیاں؟ کیا ان میں سے کسی نے تقسیم ہند اور دو قومی نظریہ کے بارے میں تنقیدی خیالات کا اظہار کیا؟ ان میں سے کتنے پاکستان منتقل ہونا چاہتے ہیں؟ مجھے اب تک ان سوالات کے جوابات نہیں ملے ہیں۔

      ارشاد عارف صاحب کے مندرجہ ذیل ارشادات بخاری صاحب نے تا ئیدی انداز میں نقل فرمائے ہیں ”قائداعظم نے اپنی کابینہ میں سر ظفراللہ اور جوگندر ناتھ منڈل کو شامل کیا۔ یہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو تحفظ کا احساس دلانے اور انہیں امور سلطنت میں شامل کرنے کی عمدہ تدبیر تھی۔ میثاق مدینہ کی روح کے عین مطابق۔ اس اقدام سے کانگریس اور انگریز کے اس پروپیگنڈے کی نفی ہوئی کہ حقیقی اسلامی ریاست میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک روا رکھے جانے کا احتمال ہے۔ انہیں اہلیت و صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا اور ان کی وفاداری پر شک کیا جائے گا مگر قائداعظم کی اس رواداری‘ اعلیٰ ظرفی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیت نوازی کا صلہ دونوں نے خوب چکایا۔ ایک نے اپنے اور قوم کے قائد کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا اور دوسرا پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے بعد بھارت بھاگ گیا کیونکہ اسے ایک ہندو ریاست ہی راس تھی۔ “

      کیا یہ درست نہیں کہ میثاق مدینہ میں مسلمانوں اور یہودیوں کو ایک امت قراردیا گیا تھا؟ اس بات کی روشنی میں دوقومی نظریہ کی حیثیت رہ جاتی ہے؟ کیا 1947میں پاکستان ایک حقیقی اسلامی ریاست بن چکاتھا؟کیا یہ اب ایک حقیقی اسلامی ریاست ہے؟جماعت اسلامی کے ترجمان’کوثر ‘ نے 16 نومبر 1947 کو کیوں لکھ دیا تھا کہ’’ہم اس تحریک کو آج بھی صحیح نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں پاکستان بنا ہے اور پاکستان کا اجتماعی نظام جن اصولوں پر قائم ہو رہا ہے ان اصولوں کو اسلامی نقطہ نظر سے ہم کسی قدر و قیمت کا مستحق نہیں سمجھتے‘‘؟ ظفراللہ خان نے جب جناح صاحب کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکارکیا تو انہیں فوری طور پر ا ن کے عہدے سے برخاست کیوں نہ کیاگیا؟ وہ 1954 تک اپنے عہدے پر برقرار کیسے رہے؟ اس کے بعد بھی وہ بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کیوں کرتے رہے؟ اور ہاں ‘ وہ 1931میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کیسے بن گئے تھےاور قیام پاکستان کے لئے احمدی خلیفہ سے دعااور حمایت کی درخواست کیوں کی گئی؟ ارشاد صاحب نے جوگندر ناتھ منڈل کے بارے میں جس طرح گفتگو کی ہے کیا وہ تنقیص کے زمرے میں نہیں آتی؟ کیا ایک ’نامور‘ کالم نگار کوپاکستان کےبانیان میں سے ایک اور اس کے پہلے وزیر قانون کے بارے میں اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ زبان زیب دیتی ہے؟ وہ حلف اٹھانے کے فوراً بعد بھارت’ بھاگ‘ نہیں گئے تھے۔ اگر انہیں ’ہندوریاست‘ ہی راس ہوتی تو وہ تقسیم ہند سے پہلے کانگریس کو ناراض کرکے مسلم لیگ کی حمایت کیوں کرتے؟ اگرارشاد صاحب نے ان کے استعفا کا متن دیکھنے کی زحمت اٹھائی ہوتی تو شاید وہ ایسی زبان استعمال نہ کرتے۔ منڈل صاحب نےمشرقی پاکستان میں دس ہزاروں ہندوؤں کے قتل کے بعد کہا تھا کہ غیر مسلموں اور خاص طور پر ہندوؤں کے لئے پاکستان ایک موزوں ملک نہیں۔ روزنامہ مسلم‘ اسلام آباد کے سا بق ایگزیکٹو ایڈیٹر غنی جعفرکے مطابق منڈل صاحب ہمارے ایسے ہیرو تھے جن کی خدمات کا کبھی اعتراف نہیں کیا گیا۔ وہ اعلیٰ اخلاقی کردار کے مالک تھے (ڈیلی ٹائمز‘ 4مئی2011 )۔ بخاری صاحب کی طبیعت مائل ہو تو منڈل صاحب کے بارے میں پروفیسر طاہر کامران کا یہ مضمون دیکھ لیں ۔
      http://tns.thenews.com.pk/jogendra-nath-mandal-a-founding-father-we-dont-know/#.Vxw4uk0cRMs
      منڈل صاحب کے استعفے کا متن اس لنک پر موجود ہے۔
      https://en.wikisource.org/wiki/Resignation_letter_of_Jogendra_Nath_Mandal

      جہاں تک بخاری صاحب کی عرق ریزی کا تعلق ہےبرہ مہربانی اسیم کاویانی صاحب کا مضمون ’تقسیم ہند‘ (بزم اردو) اورفیروز بخت احمدکاجسونت سنگھ کے بارے میں ملی گزٹ میں شائع ہونے والی تحریردیکھ لیں تو شاید آپ کی رائے میں کچھ تبدیلی آجائے۔

      http://lib.bazmeurdu.net/%D8%AA%D9%82%D8%B3%DB%8C%D9%85-%DB%81%D9%86%D8%AF-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C/

      http://www.milligazette.com/news/5848-partition-jinnah-debate-dont-demonize-jaswant-singh

      • 30-04-2016 at 4:59 pm
        Permalink

        درست لفظ مہان بھارت تھا جو غلطی سے مہا بھارت لکھا گیا۔
        زرا سی بات تھی اندیشہِ عجم نے جسے
        بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے

  • 20-04-2016 at 1:49 pm
    Permalink

    good، شکیل چوہدری کو عورتوں کے بارے میں جاننے اور ان کے حدود اربعہ دریافت کرنے کی تو بڑی فکر ہوتی ہے۔ جب کوئی سجنیدہ سوالات سامنے ہوں تو آئیں بائیں شائیں شروع ہو جاتی ہے۔ اس نے کیا جواب دینا ہے بس تو تکار ہی کرنی ہے۔ اس بندے سے بحث کرنا بیکار ہی نہیں فضول ہے۔ نہ جانے کس بات پر بھرا پڑا ہوتا ہے۔ پھٹ پڑھنے کو تیار ہو جیسے۔ شائستگی سے جواب دینا بھی نہیں آتا۔ نہ جانے کیوں منہ سے جھاگ، آنکھوں سے آگ، کانوں سے دھواں نکل رہا ہوتا ہے؟

    • 25-04-2016 at 2:11 pm
      Permalink

      ڈاکٹرثناء سلم صاحبہ‘ میراخیال تھا کہ میرے ۱۶ اپریل کے جواب سےآپ کی تشفی ہوگئی ہوگی۔ لیکن لگتا ہے آپ پر شائستہ اورمنطقی گفتگوکا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بہرحال آپ کو سدھرنے کا ایک اور موقعہ دے رہا ہوں۔ آپ کے استفادہ کے لئے دوبارہ اپنی گزارشات پیش کررہاہوں۔ کوشش کیجئے گا کہ مجھے بھینس کے آگے بین بجانے والی ضرب المثل نہ سنانی پڑجائے۔

      مجھے آپ نے مشورہ دیا ہے کہ میں اپنی زبان کو لگام دوں۔ایسا لگتا ہے کہ آپ کواس مشورے پر عمل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ میرا خیال تھا کہ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ شائستہ ہوتی ہیں۔ لیکن آپ نے میرا یہ خیال غلط ثابت کردیا ہے۔ میرےاس مضمون پر سب سے زیادہ ناشائستہ تبصرہ آپ ہی نے فرمایا ہے۔ لیکن اپنے الزامات کو ثابت کرنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی۔ اس کے باوجود آپ کا دعویٰ ہے کہ مجھے شائستگی سے جواب بھی دینا نہیں آتا۔ آپ اپنے میں بارے میں یہ غلط فہمی کب سے ہے کہ آپ مجسم شائستگی ہیں؟

      برا نہ مانئے گا لیکن شاید آپ کو حدود اربعہ کے معنی معلوم نہیں۔ انگریزی میں اسے credentials کہا جاتا ہے۔ اب سمجھ آگئی کہ نہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے کون کون سی تعلیمی اسناد حاصل کررکھی ہیں اور اس کے علاوہ آپ کون کون سے علمی اور تحقییقی کارنامے سرانجا دے چکی ہیں۔ کیا بحث میں حصہ لینے والے کسی شخص سے اس طرح کا سوال کرنا خلاف شرع ہے یا شائستگی کے تقاضوں کے منافی؟ ہمیں کم از کم یہ تو بتادیں کہ آپ نے ایم بی بی ایس کیا ہے یا پی ایچ ڈی یا پھر ہومیوپیتھی کا کوئی کورس؟

      منہ سے جھاگ‘ آنکھوں سے آگ‘ کانوں سے دھواں؟ یہ لفاظی پرانی ہونے کے علاوہ مضحکہ خیزبھی ہے۔ آپ کے علاوہ کسی کو یہ چیزیں نظر کیوں نظرنہیں آئیں؟ آپ کا ارشاد ہے کہ ’میں نے جو محسوس کیا وہی لکھا۔‘ یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ آپ کے محسوسات باقی نارمل لوگوں سے اتنے مختلف کیوں ہیں؟

      میں معذرت خواہ ہوں کہ میں نے ایک دفعہ آپ کا نام ثناءسلم کے بجائے ثناءاسلم لکھ دیا تھا۔ لیکن میں نے ایک دوسرے کمنٹ میں اپنی اصلاح کرلی تھی۔ آپ نے میرا نام شکیل چودھری کے بجائے شکیل چوہدری کیوں لکھا ہے؟ کیا آپ کو بھی آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے؟

      آپ نے ابھی تک ہمیں یہ بھی نہیں بتایا کہ آپ نے کبھی کچھ لکھا ہے کہ نہیں۔ اگرلکھا تو ہمیں اس سے استفادہ کرنے کا موقع مرحمت فرمائیں تا کہ ہم جان سکیں کہ تحقیق اورتوازن سے بھرپورتحریر کیسی ہوتی ہے۔

      اگرآپ کوناگوار نہ گزرے تو اپنے پچھلے کمنٹ کا ایک حصہ دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ اس دفعہ آپ جواب مرحمت فرمائیں گی۔

      آپ کو میری تحریرتحقیق اور توازن سے عاری لگی۔آپ کو میرے سوالات بے ربط اور میرے دلائل خودساختہ لگے۔آپ نے میری تحریر کو’ملا کے فتوے پر مبنی‘ تحریر تک قراردے دیا۔میری تحریر کونسے ملا کے کس فتوے پر مبنی ہے؟ کیا آپ تحقیق کی ابجد سے بھی واقف ہیں؟ آپ نے آج تک کیا تحقیق کی ہے؟ کیا آپ کو خود ساختہ اور غیر خودساختہ دلائل کا فرق معلوم ہے؟ میری کونسی دلیل خود ساختہ ہے؟ وہ کونسی حقیقت ہےجس کی خبر آپ کو ہے اور مجھےنہیں۔ اس کی وضاحت آپ نے کیوں نہیں کی؟

      آخرمیں گزارش ہے کہ اب غصہ تھوک دیجئے۔ آپ کو غصہ زیب نہیں دیتا۔ تین دن زیادہ کسی سے ناراض رہنا ویسے بھی جائز نہیں۔ خداآپ کو خوش رکھے اور اچھی اچھی باتیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وما علینا الا البلاغ۔

  • 22-04-2016 at 11:05 pm
    Permalink

    مولاناابوالکلام آزاد:جواب آں غزل
    محمدعماراحمد
    جناب عابدبخاری صاحب نے’مولاناعبدالکلام آزاد،منظرنامے کوسمجھنے کی غلطی‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃاللہ علیہ کے حوالے سے بہت سی باتیں لکھی ہیں اورسوال اٹھائے ہیں۔موصوف نے عنوان میں ہی مولاناکانام غلط لکھاہے پھر متضاد اور مبہم ساطرزِتحریر ہے۔پڑھناشروع کیاتولگاکہ مولاناکے حق میں لکھاہواہے اور موصوف مولاناکے حوالے سے پائے جانے والے منفی رویے پر بات کرناچاہتے ہیں مگر آگے کی چند سطریں پڑھ کر اندازہ ہواکہ موصوف خودبھی مولاناسے بہت نالاں ہیں۔پہلے لکھتے ہیں کہ مولانا کی زندگی کامقصد مسلمانوں کو غلامی کادرس دیناتھاپھر آگے فرماتے ہیں کہ مولاناکی زندگی بے مقصد تھی۔خودفرماتے ہیں کہ ایسے علم وتقویٰ سے پناہ مانگنی چاہئے جس کاحامل شخص قوم کوغلامی کادرس دیتاہومگر آگے مولانامودودی رحمہ اللہ کی بات کاسہارالے کر مولانا کے تقویٰ پرخود ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کی نمازوں کا یہ حال تھا۔خود ہی لکھتے ہیں کہ مولانا نے قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مولانا نے انگریز کی حمایت کی۔
    مضمون نگار کی نگارشات کا حاصل کچھ یوں ہے’’ہندوستان کے مسلمانوں کی حالتِ زار کے سب سے زیادہ ذمہ دارمولانا آزادہیں۔مولانانے پاکستان کے حالات کی تصویرکشی کی مگر ان کی بصارت بھارت کے مسلمانوں کی حالت نہ دیکھ سکی۔مولانابہت بڑے عالم تھے مگر بے عمل علم کاکچھ فائدہ نہیں۔انہیں کعبۃاللہ کی بجائے گاندھی کے یہاں سکون ملتاتھا۔مولانا کی زندگی کا مقصد مسلمانوں کو انگریزکی غلامی کادرس دیناتھااور زندگی کاحاصل وزارت تعلیم۔مولانانے انقلابی تصورات اوراسلام کابوریابسترلپیٹ کرسیکولرانڈیاکی بنیادوں کواپنالہودیا۔مولانافکری انتشار کاشکاررہے۔ ‘‘
    موصوف کے مطابق مولاناہندوستان کے مسلمانوں کی موجودہ حالت کے ذمہ دارہیں۔جناب !مولانا آزاد نے تقسیم کی مخالفت ہی اسی بنیاد پر کی تھی کہ اس سے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔قائدِاعظم رحمہ اللہ جب ہندوستان سے پاکستان آنے لگے تو مولانا آزاد کا بنیادی سوال ہی یہ تھا کہ اکثریتی علاقوں میں بسنے والے مسلمان تو پاکستان کاحصہ بن گئے ہیں مگر ادھر رہ جانے والے مسلمانوں کاکیاہوگا۔؟ مولاناکامؤقف یہ تھاکہ تقسیم کی وجہ سے مسلمان کمزور پڑجائیں گے اس طرح نہ پاکستان میں وہ مقصد حاصل کرسکیں گے جس کے لئے پاکستان بنائیں گے اور نہ ہی ہندوستان کے مسلمان اپنے حقوق آسانی سے حاصل کرسکیں گے۔یہ اعتراض کہ مولاناکی نگاہِ بصیرت پاکستان کے حالات کو دیکھ سکی مگر ہیندوستان کے کیوں نہ دیکھ سکی ۔؟جناب آپ نے جس جگہ پاکستان کے بارے میں مولاناکی پشین گوئیاں پڑھیں وہیں بھارت کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔یہ پشین گوئیاں زیادہ ترشورش مرحوم کے لئے گئے انٹرویومیں موجودہیں جسے شورش مرحوم کی مولانا آزاد پرلکھی گئی کتاب ’ابوالکلام آزاد‘میں پڑھاجاسکتاہے۔اس تصویرکشی میں مولانانے جہاں پاکستان کے بارے میں بات کی وہیں بھارت کی بھی تصویرکشی کی۔مولاناکاایک جملہ ہی اس بھیانک منظرنامے کی تصویرکشی کرتاہے جواب ہمیں دکھائی دے رہاہے۔مولانانے پاکستان بننے کے بعد فرمایاتھا’’آج کے بعدپاکستان میں اسلام کی خیر نہیں ہوگی اور ہندوستان میں مسلمان کی۔‘‘اسی طرح مولانا نے فرمایاتھا’’دونوں ممالک اپنا زیادہ تربجٹ دفاعی اخراجات پر خرچ کریں گے جبکہ تعمیروترقی اورتعلیم ان کے نزدیک ثانوی حیثیت کی حامل ہوگی۔دونوں ممالک کے درمیان ہروقت جنگ کاخطرہ منڈلاتارہے گا جس سے خطے میں امن کی صورتحال اطمینان بخش نہ ہوگی۔‘‘مولاناکے علم سے مسلمانوں کوفائدہ نہ پہنچنے اورمولانا کے ہندوستان سے اسلام اور انقلابی تصور کابوریابستر لپیٹنے کی بات سمجھ سے بالاترہے۔البلاغ اورالہلال کے بارے میں مسلم لیگ کے ہی راہنماء مولانا ظفر علی خان ہی فرماتے ہیں کہ یہ قرنِ اولیٰ کی آواز تھے ۔مولانا نے اپنے فکری انتشارکے بارے میں ترجمان القرآن میں لکھا ہے اور فرمایا’ لوگ قرآن کے مطالعے سے سیرت کے مطالعے کی طرف آتے ہیں مگرجب میں سیرت کے مطالعے سے قرآن کی طرف لوٹاتومیرے ذہن کاہرکانٹاصاف ہوچکاتھا۔‘مولانا علم پرکتناعمل کرتے اس کی گواہی کے لئے آپ کی ضرورت نہیں بلکہ شیخ الہند محمود الحسن رحمہ اللہ جیسے عالم دین نے ہی مولانا کوامام الہند کالقب دیاتھااور فرمایا’ہندوستان میں اگرکوئی ایساشخص ہے جومسلمانوں کی امامت کااہل ہے تووہ ابوالکلام کے علاوہ کوئی نہیں۔‘مولاناکی زندگی کامقصدانگریزوں کی غلامی کادرس ہی دیناتھاتومولانانے قیدوبندکی صعوبتیں کس جرم کی پاداش میں برداشت کیں ۔؟انگریزوں کے خلاف اٹھنے والے ہرقدم سے قدم ملاکرچلنے والے شخص پر یہ الزام کس قدر مضحکہ خیزہے۔چلئے یہ مان ہی لیں کہ مولانانے انگریز کی حمایت کی توکوئی مراعات بھی توبدلے میں ملی ہوں گی ان کی کوئی تفصیلات۔؟مولاناکے نزدیک ریاست سیکولر ہوتی ہے اوراس کا کوئی مذہب نہیں ہوتااسی نظریہ کے تحت انہوں نے سیکولربھارت کی حمایت کی ۔پھر بھارت کے مسلمانوں کی بقاء ہی اسی میں ہے کہ بھارت ایک سیکولرریاست رہے کبھی یہ سوچئے کہ اگر بھارت میں ہندومذہب بھارت کاسرکاری مذہب قراردے دیاجائے تو وہاں مسلمانوں کے ساتھ کیاسلوک ہوگا۔؟مولانامودودی رحمہ اللہ کی بات سے ملتی جلتی باتیں سن کر ہی ایک شخص مولانا سے ملنے گئے اورپوچھا’مولانا!سنا ہے کہ آپ نماز میں غفلت کرتے ہیں ‘ تومولانا نے جواب دیا ’’بھائی میں اس حدیث کاقائل ہوں کہ بلاعذرنمازچھوڑنامنجملہ کفر ہے۔‘
    بخاری صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جیسے یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ کسی شخص کا علمی مقام ہمیں حق گوئی سے بازرکھے اسی طرح یہ بھی قابلِ افسوس ہی ہے کہ ہم کسی کی مخالفت میں آکران کے بارے میں لکھتے اوربولتے وقت تعصب کامظاہرہ کرنے لگیں۔مولانا کی باتوں سے ان کے کام سے اختلاف کی گنجائش ہے کہ وہ اسی زمانے کے ہی شخص تھے مگراس میں کچھ اعتدال ہوناچاہئے۔ان کی شخصیت،ان کی خدمات ،جدوجہداورہندوپاک سے متعلق ان کے مؤقف سے آگہی کے لئے ان پرلکھی گئی چند کتب کا ہی مطالعہ کرلیں تو آ پ کا ذہن کم از کم نفرت سے پاک ہوجائے گا۔

  • 25-04-2016 at 6:39 pm
    Permalink

    عابد بخاری صاحب ایک طرف تو مکالمے کو آگے بڑھاناچاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ ہمیں اس کے نتائج سے تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ میرے سوالوں جواب دینےکے بجائےبخاری صاحب نے حب الوطنی کے نام پر زبان بندی کا حکم جاری کردیا ہے۔ انہیں اگر کبھی کسی غیر ملکی سے بحث کرنی پڑ گئی تو وہ اسے کیسے چپ کرائیں گے؟ وہ چاپتے ہیں کہ مسلم لیگی رہنماؤں اورخاص طور پر جناح صاحب کو تنقید سے بالاتر قراردینے کے بعدکھل کر مکالمہ کیا جائے۔ مکالمے کا یہ تصورصرف پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ ان سے اختلاف کرنے والے بانیان پاکستان کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ”چھڑک“ کر، قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا کر‘ قیام پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم سے دشمنی کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی خدمت سر انجام دی جا رہی ہے۔

    وہ نوجوان نسل کو اس گمراہی سے بچانے کے لئے بہت فکر مند ہیں جو’’سرکاری سچ‘‘ سے اختلاف کرنے والےپھیلاتے ہیں۔ ان کے بقول یہ وہ نوجوان نسل ہے جس نے نہ ہند ذہنیت کے چرکے کھائے، نہ پاکستان بنتے دیکھا اور نہ ہی قائد اعظم کی عظمت کو جگمگاتے دیکھا‘ اس نسل کو پاکستان سے بدظن کرنے والوں‘ عظیم قائد کی بصیرت اور ویژن کو مشکوک کر نے والوں اور تنقید اور تنقیص کے معنی سے ناآشنا نوم چومسکی اورارون دھتی رائے بننے والے دانشوروں کی برین واشنگ سے بچانے کی سخت ضرورت ہے۔ کیا ان ارشادات کے بعد مکالمےکی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟

    انہوں نے فرمایا ہے کہ ’’مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں کو پیش کر کے یہ رونا روتے رہنا کہ ان کو حقائق چھپانے کے لیے نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے درست نہیں۔‘‘ وہ کونسی ’مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں ‘کی مذمت کررہے ہیں؟ بخاری صاحب سے درخواست ہے کہ ان مصنفین کے نام بتا کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔ میں نے تو مولانا مودودی ‘چودھری خلیق الزماں اور سردار شوکت حیات کے حوالے دئے تھے۔ ہاں ‘ یاد آیا میں نے ٖفریڈم اَیٹ مِڈنائٹ کا ذکر بھی کیا تھا۔ یہ تقسیم ہند پر دنیا کی مقبول ترین کتا ب ہے۔ اس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اگر یہ تعصب اور بد دیانیتی پر مبنی ہےتو آج تک کسی غیر متعصب پاکستانی مورخ نے اس کے تعصب کا چاک کیوں نہیں کیا؟ اس موضوع پر اس سے بہتر کون سی پاکستانی کتاب ہے؟ ویسے ہم نئی نسل کو چھوئی موئی بنا کر کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ ہم کیوں یہ چاہتے ہیں کہ ان کی رسائی صرف’ سرکاری سچ‘ تک محدود ہو؟ کیا ہمیں ان پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا ہمیں یہ دھڑکا تو نہیں لگا رہتا کہ اگر دوسرے نقظہ ٔ ہائے نظر تک ان کی رسائی ہوگئی تو پھر وہ’ سرکاری سچ ‘ پر یقین کرنا چھوڑ دیں گے؟اگر نئی نسل کا ایک حصہ’ سرکاری سچ‘ پر یقین کرنا چھوڑ بھی دے تو کونساآسماں ٹوٹ پڑے گا؟ ملک آراء کے تنوع نہیں انہیں برداشت نہ کرنےسے نقصان اٹھاتے ہیں۔

    بخاری صاحب اپنے اصل مقدمہ سے کافی دورچلے گئے ہیں۔ ان کا اصل مقدمہ یہ تھا کہ مولانا آزاد نے بھارت کے مسلمانوں کو غلامی کا درس دیا ۔ اس مقدمہ کو ثابت نہ کرسکنے پر اب انہوں نے فرمایا ہے کہ ’’کبھی موقع ملے تو مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ”انڈیا وِنز فریڈم“ کے ان 30 صفحات پر بھی کچھ لکھیں جو ان کی وفات کے 30 سال بعد شائع ہوئے اور جس میں انہوں نے کانگریسی لیڈر شپ کی منافقت اور مسلم دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔‘‘ انہوں نے ان صفحات میں سے کوئی ایسا اقتباس پیش نہیں کیا جس سے ان کے اصل مقدمہ یا موجودہ دعوے کو تقویت مل سکتی ہو۔

    انہوں نے دیانت داری اور تحقیق کے تقاضوں کوروندتے ہوئے مولانا آزاد کےیہ الفاظ نقل کئے ہیں ’پاکستان‘ کا نام ہی میرے حلق سے نہیں اترتا۔ ‘ اس کے بعد انہوں نے یہ سوال قائم کیاہےکہ ’پاکستان کا نام آخر آزاد کو اس قدر کڑوا کیوں لگتا تھا؟‘ بخاری صا حب ‘ آپ نے یہ قول پوراکیوں نقل نہیں ؟ پورا قول یوں ہے’’پاکستان‘ کا نام ہی میرے حلق سے نہیں اُترتا۔ کیا دنیا میں کچھ حصّے پاک ہیں کچھ ناپاک؟‘‘ یہ تو وہی بات ہوئی کہ لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ (نماز کے قریب نہ جاؤ) تک پڑھ لیاجائے اور وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ (جب تم نشے کی حالت میں ہو) کو چھوڑ دیا جائے۔ کیا ایسی چالاکیوں کے ساتھ دیانتدارانہ مکالمہ ممکن ہے؟

    بخاری صاحب نے کچھ اسی طرح کی چالاکی کا مظاہرہ شیخ عبداللہ صاحب کی کتاب آتش چنار کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کیا ہے۔ صفحہ ۲۴۱ پر دی گئی پوری عبارت اس طرح ہے۔ ’’مولانا ابوالکلام آزادرہنماؤں کی اسی صف میں بڑی ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ کتابی معیاروں کے لحاظ سے ان سے بہترمسلمانوں کی رہنمائی کے اوصاف کسی اور میں نہیں تھےاور انہوں نے اس صدی کی ابتدا میں مسلمانوں میں بیداری کا صور اسرافیل پھونکا تھا۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ ہوکہ مسلمانوں کی قیادت کے معاملے میں وہ جناح صاحب جیسے مغرب کے رنگ میں رنگے وکیل کے مقابلے میں جم نہ سکے۔ اس میں ان کے قوم پر ستانہ اعتقادات کا بھی بڑا دخل تھا۔ وہ ایک بلند پایہ عالم دین‘ ایک صاحب طرزادیب‘ ایک شعلہ بیان خطیب اور قوم پر ست رہنما تھے۔ ان کو قدرت نے طاقت ور زبان اور قلم عطا کئے تھے جن سے انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں ایک تازہ روح پھونکی۔ الہلال اور البلاغ مسلمانوں کو بیدار کرنے والے پہلے دو جریدےتھے اور ان کے ذریعے انہوں نے شکست خوردگی کی بجائے امید اور ولولے کی لہر پیدا کی لیکن حق یہ ہے کہ ان کی طبیعت کی ساخت ایک عوامی رہنما کی نہیں تھی۔ ان کے عادات و اطوار میں بڑا رکھ رکھاؤ تھا۔ وہ عوامی مسائل کا میدانِ کارساز میں سامنا کرنے کی بجائے گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں جناح صاحب جذباتی نعرے دے کر مسلم عوام کو اپنی طرف کھینچ لینے میں کامیاب ہو گئے وہاں مولانا آزاد اپنی خلوت گاہ سے غبار ِ کارواں کو دیکھتے رہ گئے۔‘‘ اختلاف رائے کے باوجود میں اُن سے اِن دانشورانہ بددیانتیوں کی توقع نہیں کررہاتھا۔

    اس سے پچھلے صفحہ پر شیخ صا حب نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بارے میں بخاری صاحب کیا فرماتے ہیں۔ ’’جناح صاحب کے کردار کو سمجھنے کے لئے اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیئے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد جب ان کی زخمی انا آسودہ ہوگئی تو وہ دوقومی نظریے سے دست بردار ہوگئے۔ انہوں نے اپنی ایک اولین تقریر میں کہا کہ ہم میں سے اب کوئی ہندو یا مسلمان نہیں بلکہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ جنا ح صاحب مغرب کے لبرل ازم کے پروردہ تھے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ زندہ رہتے تو پاکستان میں سیاسیات کا رخ کچھ اور ہوتا۔ ‘‘

    بخاری صاحب نے ہندوستان کو ’دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت‘ قراردیا ہے۔وہ ہماری رہنمائی فرماتے ہوئے بتائیں کہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقی جمہوریت کونسی ہے؟ اس کے علاوہ انہوں نے ’ہندو ذہنیت‘ کی بھی بات کی ہے۔ یہ اصطلاح کب اورکس نے وضع کی اور اس سے کیا مراد ہے؟ ؟ کیا تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زیادہ ہندو ایک سا ذہن رکھتے ہیں؟ کیا مسلم ذہنیت بھی اپنا وجود رکھتی ہے؟

    ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آزاد کے خوابوں کا مرکز شاید بھارت نہیں مریخ تھا کیونکہ ہندستان کے چودہ صوبوں میں تو علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔بخاری صاحب‘ کیا ان چودہ ریاستوں کے نام بتاکر ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں گے؟ ویسے ہمارے ایک نامور کالم نویس جناب ہارون الرشید صاحب نے ۲۸ نومبر۲۰۱۵ کو دنیا ٹی وی پر ہمیں یہ مژدہ سنایا تھاکہ ہندوستان کی چالیس ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ میرا تو خیال تھا کہ وہاں صرف انتیس ریاستیں ہیں۔ بہرحال مستند ہے ان کا فرمایا ہوا۔ جہاں تک منیر احمد منیرصاحب کی کتاب کا تعلق ہے اس میں یہ دعویٰ بھی موجود ہے کہ چھبیس فیصد بھارتی علاقہ انتہاپسندوں کے کنٹرول میں ہے۔کیا کسی غیر پاکستانی صحافتی ادارے نے بھی کبھی ایسی بات کی ہے؟ اس بارے میں بخاری صاحب ہماری رہنمائی فرمادیں تو ان کی مہربانی ہوگی۔ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ عبدالقادر حسن صاحب نےمنیر صاحب کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا آزاد کے خلاف گستاخانہ زبان استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’قائد کا بھی ایک سپنا تھا ۔ انہوں نے جو خواب دیکھا اس کو حقیقت کی شکل دینے میں کامیاب ہوئے ۔‘بخاری صاحب‘ انہوں نے اپنے قائم کردہ ملک کو کرم خوردہ اور کٹا پھٹا کیوں قراردیا تھا؟

    بخاری صاحب حامد میر کے مداحوں میں سے ہیں۔ انہوں نے تائیدی انداز میں میرصاحب کی اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ رائے ٹھونسنے‘ تاریخ کی غلط تشریح کرنے‘بے معنی پروپیگنڈا کرنے‘ دانستہ یا نادانستہ قائد‘اسلام‘پاکستان اور اقبال کے خلاف بے بنیاد باتیں پھیلانے والے اور جھوٹ کی تجارت کرنے والے لبرل فاشسٹ ہوتے ہیں۔ میر صاحب نے یہ تعریف ۱۹ اپریل ۲۰۱۴سے پہلے کی یا بعد میں؟ بہرحال اس کا مطلب یہ ہے کہ لبرل فاشسٹ صرف پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ بخاری صاحب‘ اس تعریف پر پورے اترنے والے چند لوگوں کے نام تو ہمیں بتادیں۔ میں نےاس سے جڑے کچھ اور سوال بھی بخاری صاحب سے پوچھے تھے لیکن انہوں نے اب تک میری رہنمائی نہیں فرمائی۔ کیا پاکستان میں کوئی حقیقی لبرل لوگ بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو ہمیں ان کے اسمائے گرامی سے آگاہ فرما دیں۔ اور کیا پاکستان میں مذہبی اور نظریاتی فاشسٹ بھی پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو چند ایک کی نشان دہی فرما دیں۔بخاری صاحب ‘ حامد میر کوغدار قراردینے والےکونسی قسم کے فاشسٹ ہیں؟

    بخاری صاحب نے میر ی فردجرم میں وہ مکالمہ بھی شامل کردیا ہے جو میں نے ’نامور‘کالم نگارارشادعارف صاحب سے کیا تھا ۔ اس کے بعد ان کافرمانا ہے کہ ’’وہی سوالات اٹھا کر ہر ایک کے منہ میں ڈالنے کا آخر مطلب کیا ہے؟ اس سے واضح بات جو ظاہر ہوتی ہے کہ مکالمے کی روایت کو آگے بڑھانا ان کا مقصد نہیں بلکہ اپنی بات منوانی اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا مقصد ہے ۔ خیال رہنا چاہیے کہ بحث و مباحثہ اور کج بحثی میں بڑا فرق ہے۔ تنقید اور تنقیص کے فرق کو اگر سمجھ لیا جائے تو نگاہ صرف نقص پر ہی نہیں پڑتی ۔‘‘ میری کیا مجال کہ میں اپنے سوالات کسی کے منہ میں ڈالوں ۔ میں نے تو کچھ سوالات ارشاد صاحب اور آپ سے پوچھے تھے۔ ان میں کچھ شاید ایک جیسے ہوں ۔ لیکن ان میں سے اکثر کا جواب مجھے اب تک نہیں مل پایا ہے۔ بخاری صاحب کا چیزوں کو دیکھنے کا انداز بہت زبردست ہے۔ ان سے اگر کوئی اختلاف کرے تو وہ نہ صرف اپنی رائے ان پر مسلط کررہا ہوتا ہے بلکہ وہ کج بحثی کا بھی ارتکاب کرتاہے۔ انہوں نے جوکچھ لکھا ہے اس میں تنقیص کا شائبہ تک نہیں ۔ میں نے جو کچھ لکھا وہ سراسر تنقیص ہے۔
    خِرد کا نام جنوں پڑگیا جنوں کا خِرد
    جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

Comments are closed.