مائی لارڈ، بادشاہ تو ننگا ہے


چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو طلب کرتے ہوئے کہا ”پی ٹی آئی کے بارے میں سنا تھا یہاں کی گڈ گورننس بہت مشہور ہے، یہاں آ کر معلوم ہو ا کہ عوام بہت ساری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، وزیراعلیٰ پیش ہو کر بتائیں اب تک انہوں نے عوام کو کیا دیا؟ “

پرویز خٹک صاحب نے جواب دیا ”آپ چار سال پہلے آتے تو تب دیکھتے، ہمارے اقدامات کے نتائج چار پانچ سال بعد آئیں گے“۔

خٹک صاحب درست کہتے ہیں۔ ہمارے جیسا ہر کس و ناکس کمال دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ادھر دور دیس میں ڈنمارک نامی ملک ہے، جس پر شیکسپئیر نے ہیملٹ نامی ڈرامہ لکھ رکھا ہے جس میں کوئی اقتدار کی کشمکش وغیرہ دکھائی گئی ہے۔ اس کا ہیرو انقلاب لانے کے بعد خود بھی فوت ہو جاتا ہے اور انقلاب کی قیادت اپنے ہمسائے شہزادے کو دے دیتا ہے۔ بہرحال وہ ڈرامہ اہم نہیں ہے۔ اس ڈرامے سے بھی زیادہ مشہور ڈنمارک کے ایک بچگانہ قسم کے رائٹر ہانز کرسچن اینڈرسن کی ایک کہانی ہے جو ایک بھولے بھالے بادشاہ اور چالاک کاریگروں کے بارے میں ہے۔ آئیں وہ کہانی سنتے ہیں۔

روایت ہے کہ ایک بادشاہ اچھے کپڑوں کا اتنا شوقین تھا کہ دربار میں وقت گزارنے کی بجائے زیادہ وقت اپنے ڈریسنگ روم میں گزارتا تھا۔ وہ روپ سنگھار میں تقریباً اتنا ہی وقت لگاتا تھا جتنا آج کل کی دلہنیں بیوٹی پارلر سے برائیڈل میک اپ کروانے میں لگاتی ہیں۔ بادشاہ اس تیاری کے بعد شہر کے کوچہ و بازار میں کل جاتا تھا تاکہ رعایا کو اپنے دیدار سے فیض یاب کرے۔

بادشاہ کی یہ شہرت سن کر دور دیس سے دو کاریگر آئے اور بادشاہ کو مطلع کیا کہ وہ ایسے کمال کے جولاہے ہیں جو مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ ہلکا پھلکا لباس بن سکتے ہیں اور اس لباس کی بنیادی خاصیت یہ ہے کہ وہ صرف عقلمندوں کو ہی دکھائی دیتا ہے۔

بادشاہ یہ سن کر نہایت خوش ہوا۔ اس نے لباس بنانے کا آرڈر دے دیا۔ کاریگروں نے سونا اور ریشم طلب کیا اور یہ سب لے کر ایک گھر میں کھڈیاں لگائیں اور کپڑا بننے میں مصروف ہو گئے۔ مہینے بھر بعد بادشاہ نے وزیر کو پراگریس چیک کرنے بھیجا۔ وزیر وہاں پہنچا تو دیکھا کہ کھڈیاں کھٹ کھٹ چل رہی ہیں اور کاریگر ہاتھ بڑھا بڑھا کر کپڑا سمیٹ رہے ہیں، مگر کپڑا دکھائی نہیں دیتا۔

کاریگروں نے وزیر کو دیکھا تو کام چھوڑ کر اس کے استقبال کے لئے بڑھے اور کپڑے کے بارے میں اس کی رائے پوچھنے لگے۔ کہنے لگ کہ کپڑے کا رنگ آپ کو پسند آیا؟ اس کا ڈیزائن دیکھا ہے کہ کیسا کمال ہے؟ وزیر بچارا پریشان ہو گیا کہ اسے کپڑا دکھائی کیوں نہیں دے رہا۔ اس نے سوچا کہ بادشاہ کو پتہ چل گیا کہ اس میں عقل نہیں ہے تو وہ اسے عہدے سے معذول کر دے گا۔ اس نے کپڑے کی خوب تعریف کی بلکہ اسے ہاتھ میں پکڑ پکڑ کر دیکھا بھی۔ کاریگر کپڑے کے جو جو خواص بتاتے گئے وزیر انہیں ذہن نشین کرتا گیا اور دربار میں جا کر بادشاہ کو سنا دیے۔

اگلے مہینے بادشاہ نے اپنے قاضی کو کپڑے کی پراگریس چیک کرنے بھیجا۔ قاضی بھی اپنی عقل کے بارے میں شدید شکوک کا شکار ہو گیا اور اس نے بھی کاریگروں سے کپڑے کے خواص سن کر یاد کر لئے اور بادشاہ سے خوب تعریف کی کہ کمال کا کپڑا ہے۔

آخر ایک دن کاریگروں نے خبر دی کہ کپڑا تیار ہے۔ بادشاہ نے سارے شہر میں اعلان کر دیا کہ اگلے دن وہ ایسا کپڑا پہن کر باہر نکلے گا جو صرف عقلمندوں کو دکھائی دیتا ہے۔ اگلی صبح بادشاہ کاریگروں کے پاس پہنچا۔ کاریگروں نے بادشاہ سے کپڑے کے بارے میں رائے طلب کی۔ اب بات ایسی تھی کہ بادشاہ بھی احمق نہیں تھا، اسے بھی وہ کپڑا دکھائی دے گیا۔ اس نے کپڑے کی خوشنمائی کی خوب تعریف کی اور اس بات پر خوب اطمینان کا اظہار کیا کہ واقعی کپڑا مکڑی کے جالے سے بھی مہین ہے اور جسم پر بالکل محسوس نہیں ہوتا۔

کاریگروں نے بادشاہ کی پوشاک اتروائی اور اسے اپنے عقلمندانہ کپڑے کا پاجامہ، قمیض اور قبا نہایت احتیاط سے پہنا دیے اور اس کے سر پر اسی کپڑے کی ٹوپی رکھ دی۔ کاریگروں سے ٹوپی پہننے کے بعد بادشاہ اپنے کر و فر کے ساتھ رعایا کو اپنا دیدار کروانے بازار میں نکلا۔ رعایا بھی نہایت عقلمند ثابت ہوئی اور اس نے بادشاہ کے کپڑوں کی خوب تعریف کی۔

بدقسمتی سے ادھر ایک بے وقوف سا چھوٹا بچہ موجود تھا۔ اس نے چیخ کر کہا ”بادشاہ تو ننگا ہے“۔ تمام رعایا بچے کی باتوں میں آ کر بے وقوفی کی باتیں کرنے لگی اور شور مچ گیا کہ ”بادشاہ تو ننگا ہے“۔ بادشاہ نہایت شرمندہ ہوا۔ اس نے تحقیقات کیں تو کاریگروں نے اس کے سامنے پیش ہو کر بیان دیا کہ ”حضور یہ بچہ تو ابھی بے وقوف ہے، چار پانچ سال بعد اسے عقل آ جائے گی تو اسے ہمارا اصل کام دکھائی دینے لگے گا“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 956 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar