آئی جی سندھ کب چیف جسٹس پاکستان کے سیلوٹ کے مستحق بنیں گے؟


چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار نے آئی جی کے پی کے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت سیلوٹ کر سکتی تو میں آپ کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔ یہ بات چیف جسٹس پاکستان کے حکم پر آئی جی کے پی کی طرف سے فورا ایکشن لیتے ہوئے غیر مستحق لوگوں کے پروٹوکول اور سیکیورٹی کے نام سے شو بازی پر مامور سترہ سو پولیس والے ہٹا دینے کی کارروائی کرنے پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کل دوسرے صوبوں کے آئی جیز کو بھی یہی حکم جاری کیا تھا جس پر کم از کم سندھ میں تو عمل شروع نہیں ہوا۔ سندھ میں اس معاملے میں بہت بری حالت ہے۔ کراچی پھر بھی بڑا شہر ہونے کے ناطے، میڈیا ہونے کی وجہ سے یا احتجاج کے ڈر سے کچھ حالت بہتر ہے مگر سندھ کے دیگر علاقوں میں پولیس کا حکمرانوں، ان کے خاندانوں، ان کے عزیزوں و اقارب، حکمران پارٹی کے عہدیداروں کو جو پروٹوکول دیا جاتا ہے اس سے خدا کی پناہ۔

وزیر، مشیر تو چھوڑیں، ان کی زوجات، اور خاص کر ان کے ایسے بیٹے، بھتیجے پوتے تک مکمل پولیس موبائل کے پروٹوکول میں ہوتے ہیں جن کو ابھی مونچھوں کی سانول تک نہیں آئی اور وہ اپنے بڑوں کی سیاسی گدی سنبھالنے کی پریکٹس کرتے ہیں۔

جب یہ وزیروں، مشیروں، پارٹی کے عہدیداروں کے چشم چراغ پولیس موبائل کی آگے اور پیچھے چلتی ہوئی گاڑی کے بیچ میں اپنی گاڑی لے کر نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ سفر کرنے والی پولیس، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار والا منظر پیش کرتی ہے اور، پولیس موبائل کے سائرن کے ساتھ ساتھ موبائل سے لٹکتے ہوئے پولس والے اپنے ہاتھ کے اشارے دیتے ہوئے، عوام کو حقیر جانتے ہوئے، چیختے چلاتے ہیں، رستہ چھوڑو، ہٹ جاؤ، گاڑی ہٹاؤ۔ کہیں کہیں اپنی گن بھی سیدھی کرتے یں۔ یہ سب مکمل طور پر غیر قانونی عمل ہے۔ سندھ پولیس کے ہزاروں جوان اور آفیسر اس قسم کی ڈیوٹی پر متعین ہیں۔ اس ڈیوٹی کا لکھت میں کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا، موبائل گاڑی کے پیٹرول کا خرچہ، گاڑی کی مرمت کا خرچہ سب پولیس خود کرتی ہے اور عوام سے نکالتی ہے۔ یہ پروٹوکول در اصل ان طاقتور لوگوں کی اجارہ داری قائم رکھنے میں ان کا مدد گار ہوتا ہے۔ لوگ ان سے ڈرتے ہیں، اور یہ ہی ڈر یہ لوگ الیکشن میں استعمال کرتے ہیں۔ الیکشن کم از کم سندھ میں تو، پولیس، پیسے، وڈیرے کی طاقت، کرپٹ سرکاری ملازم کی مدد اور اوپر کی آشیرواد سے جیتا جاتا ہے۔ عوامی ووٹ والی کہانی اب ختم ہو گئی ہے۔

بحرحال، سندھ میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ صاحب ان لوگوں سے اپنی پولیس تو واپس نہ لے سکے جن کو قانونی طور پر بھی اس کا استحقاق حاصل نہیں مگر اب چیف جسٹس پاکستان کے حکم پر عمل تو ان کو کرنا پڑے گا۔ ان کے لئے یہ شاندار موقعہ ہے کہ اپنی اس پولیس کی شان میں کچھ تو اضافہ کریں جو انڈین فلموں کی طرح چوبیس گھنٹے وزیروں، مشیروں، پارٹی کے عہدیداروں کے بچوں کے ناز اٹھانے میں مصروف ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں