میشا شفیع کے بعد مزید خواتین بھی علی ظفر کے خلاف میدان میں آگئیں


علی ظفر

Getty Images

جمعرات کو جب پاکستانی گلوکارہ، اداکارہ اور ماڈل میشا شفیع نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے گلوکار علی ظفر پر انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تو وہ ٹویٹ دیکھتے ہی دیکھتے ٹرینڈ کرنے لگی۔ اس کے بعد علی ظفر کی تردید اور میشا شفیع کے خلاف عدالتی کارروائی کی بات کرنے والا علی ظفر کا ٹویٹ سامنے آیا۔

یہ بات کل کی ہے لیکن یہ بحث آج بھی جاری ہے۔ تب سے اب تک جہاں ایک طرف کئی دیگر خواتین علی ظفر کے ہاتھوں جنسی طور پر ہراساں ہونے کی اپنی کہانیاں لے کر سامنے آئی ہیں، وہیں کچھ نے ان کی حمایت میں بھی آواز اٹھائی ہے۔

ٹوئٹر صارف ماہم جاوید نے لکھا کہ ’میشا شفیع کی ہمت سے مجھے کئی ساتھ پہلے علی ظفر کے ساتھ پیش آیا وہ واقعہ یاد آیا جب انھوں نے میری کزن کو چومنے کی کوشش کی، اور انھیں ریسٹ روم میں اپنے ساتھ کھینچنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے میری کزن کے دوستوں نے انھیں بچا لیا۔‘

اسی طرح لینیٰ غنی نے بھی اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’شکریہ میشا شفیع، آپ کی بہادری اور ہمت کے لیے۔ یہ آسان نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خاموش ہو جائیں۔ میں آپ کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑی ہوں۔ آپ اکیلی نہیں ہیں، کیوں کہ #می ٹو۔‘

اس ٹویٹ کے ساتھ پوسٹ کی گئی تصویر میں لینیٰ غنی نے علی ظفر پر کئی بار ان کے ساتھ نامناسب کامنٹس اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ہمنا رضا نے بھی علی ظفر پر اسی طرح کے برتاؤ کا الزام لگایا ہے۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’میشا شفیع آپ اکیلی نہیں ہیں۔ براہ مہربانی یہ پڑھیے۔‘

اس کے ساتھ پوسٹ کی گئی تفصیل میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’میرے لیے یہ سب لکھنا آسان نہیں ہے۔ لیکن میں پھر بھی ایسا کرنے جا رہی ہوں۔ ڈیڑھ سال پہلے میں ایک ایونٹ پر علی ظفر سے ملی تھی۔ میرے شوہر اور دوست میرے ساتھ تھے۔ میں انہیں دیکھ کر کسی بھی فین کی طرح بہت پوجوش تھی۔ سیلفی لینے کا فیصلے کیا۔۔۔‘

انہوں نے مزید لکھا ’سیلفی کھینچتے وقت میں نے علی ظفر کا ہاتھ میرے کمر کو پوری طرح سے چھوتے ہوئے محسوس کیا۔۔۔‘

لیکن اس طرح کے ٹویٹس کے ساتھ ساتھ علی ظفر کی حمایت میں بھی خواتین سامنے آئی ہیں۔ علی ظفر کی آنے والی پاکستانی فلم ’تیفا ان ٹربل‘ میں ان کی کوسٹار مایا علی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر علی ظفر کے ٹویٹ کے سکرین شاٹ کے ساتھ لکھا، ’میں یہاں یہ نہیں کہہ رہی کہ کون غلط ہے اور کون صحیح، یا کس نے کیا کیا، یا نہیں ۔۔۔ میں انہیں زیادہ دیر سے نہیں جانتی، لیکن پچھلے ایک سال سے ان کے ساتھ کام کر رہی ہوں۔ ہم نے لاہور اور پھر پولینڈ میں شوٹِنگ کی، اور مجھے کبھی ان کے رویے سے ایسا محسوس نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ فیس ٹائم ہی کرتے رہتے تھے۔‘

انہوں نے مزید لکھا، ’میں اس شخص، علی ظفر، کی عزت کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ سچائی سامنے آئے۔ تب تک کسی کے کردار پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔‘

اسی طرح صنم تاسیر نے بھی علی ظفر کی حمایت میں ٹوئٹر پر لکھا ’میں کسی اور کے تجربے پر سوال نہیں اٹھا رہی، ان کا تجربہ ان کا اپنا ہے۔۔۔ مگر میں یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ میں کئی بار نہایت ہی مشکل حالات میں ان کے آس پاس رہی ہوں، اور جانتی ہوں کہ علی ظفر پر پوری طرح بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔‘

میشا شفیع کے ٹویٹ سے جو بحث شروع ہوئی تھی وہ جلدی ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6312 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp