ابوالکلام آزاد‘ قائد اعظم اور پاکستان (2)


Syed Abid Ali Bukhariشکیل چودھری صاحب نے جس طرح بنگلہ دیش کا ذکر کیا میرا حسن ظن ہے کہ وہ اس بارے میں ضرورجانتے ہوں گے کہ آزاد کا تعلق بھی بنگال سے تھا۔ اے کے فضل حق بنگالی مسلمانوں کا لیڈر تھا ۔ اس نے مسلمانوں کے دباﺅ پر کانگریس کی بجائے مسلم لیگ سے اتحاد کیا جو ابوالکلام آزادکی بہت بڑی ناکامی تھی۔ وہاں کے مسلمانوں نے کلکتہ میں ابولکلام آزاد کی امامت میں عید کی نماز ادا کرنے سے کیوں انکار کر دیا تھا؟ مولانا آزادکی سب سے زیادہ تضحیک ان کے اپنے شہر کلکتہ میں کیوں ہوئی؟

موصوف جیسے کتابوں کے حوالے دے کر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس حوالے سے میرا حسن ظن ہے کہ وہ کتابوں کا مطالعہ صرف اپنے مطلب کی باتیں تلاش کرنے کے لیے نہیں کرتے ہوں گے ۔ زاہد چوہدری کی کتاب ”بنگالی مسلمان اور تحریک ِ پاکستان“ شاید ان کی نگاہوں سے گزری ہو۔ زاہد چوہدری کہتے ہیں۔ قائداعظم بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے خلاف تھے لیکن گاندھی اور نہرو تیار نہ تھے لہٰذا بنگالی مسلمانوں نے آخری آپشن کے طور پر پاکستان کا حصہ بننا پسند کیا۔ 23مارچ 1940 کی قرارداد کے مطابق مسلمانوں کی ایک سے زائد مملکتیں وجود میں آ سکتی تھیں لیکن کانگریس نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے ساتھ مل کر ایک طرف متحدہ بنگال کا راستہ روکا دوسری طرف کشمیر کی آزادی کا راستہ روکا۔ “یہ درست ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا اور ابوالکلام آزاد کااندازہ بھی درست ہو گیا لیکن 23 مارچ 1940 کی قرارداد کی سچائی بدستور قائم ہے۔ 16دسمبر 1971 کو بنگالی پاکستان سے علیحدہ ہو گئے لیکن اس سب کے باوجود کئی بنگالی دانشور آج بھی کیوں کہتے ہیں کہ دوقومی نظریہ ختم نہیں ہوا؟ وہ کیوں کہتے ہیں کہ بنگالیوں نے بنگلہ دیش بنا لیا۔ ہندوستان میں واپس نہیں گئے اور آج بھی کچھ بنگالی دانشوروں کو کیوں یقین ہے کہ ایک دن مغربی بنگال بھی بنگلہ دیش کا حصہ بن جائے گا؟

چودھری صاحب نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کا ذکر کر کے آزاد کی کی گئی پیش گوئیوں کا ذکر کیا ۔ آزاد نے نے پیش گوئیوں سے اٹااٹ اپنے اس انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ پارسی اور یہودی مذاہب کی طرح ہندو بھی موروثی مذہب ہے۔ آزاد نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا۔ 2012-13ء تک پاکستان کے غیر ملکی قرضے ساٹھ بلین ڈالر تھے جب کہ بھارت کے 390 بلین ڈالر تھے۔ اس کے بارے میں شکیل صاحب کا کیا خیال ہے؟ اگر آپ نے وہ پیش گوئیاں پڑھی ہیں تو آزاد کی یہ پیش گوئی بھی آپ کو یاد ہو گی کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑے رہیں گے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑوں کا خوفناک حد تک شکار نہیں ہے؟ آزاد کے خوابوں کا مرکز شاید بھارت نہیں مریخ تھا کیونکہ ہندستان کے 14 صوبوں میں تو علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ پاکستان کے بارے میں مولانا آزاد کی ہر پیش گوئی کا جواب منیر احمد منیر کی تصنیف ”مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان…. ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط“ میں بھی دیا ہے ۔ کیا وہ کتاب چوہدری صاحب کی نگاہوں سے گزری؟

شکیل صاحب نے جناب سید سردار احمد پیرزادہ صاحب کی تحریر سے ایک حوالہ دیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے پیرزادہ صاحب موصوف کے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔ جناب پیرزادہ صاحب میرے مہربانوں میں سے ہیں۔ پیرزادہ صاحب اپنے 25 جون 2015 کے کالم ”بیان دے کر مکر جانے والا نیا سیاسی فیشن“ میں لکھتے ہیں۔ ” الطاف حسین کے بعد اس فیشن کا چلن بھارتی وزیراعظم مودی کے رویئے میں بھی دیکھا گیا جب اس ”موذی“ نے پاکستانی سیکورٹی اداروں کو شکست دینے کا احسان بنگلہ دیشی عوام پر جتلایا مگر جونہی اس ”موذی“ نے جنرل راحیل شریف کے جوابی بیان کو ڈی کوڈ کر کے بھارت کی عملی تباہی کا نقشہ دیکھا تو فوراً ہی معاملات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پاکستانی وزیراعظم کو رمضان کی مبارک باد کا فون کردیا۔ ”پہلے بیان دیکر ذلیل کردو، پھر نیچے نیچے ہو کر بھاگ لو“۔ کیا تنقید نگار پیرزادہ صاحب کے ان الفاظ سے بھی اتفاق کرتے ہوئے سیکولر مودی کو موذی سمجھتے ہیں؟

IMG_20150805_135202سید سردار احمد پیرزادہ 10 ستمبر 2015 کے کالم”شرمیلی دلہن اچھی لگتی ہے مگر شرمیلی خارجہ پالیسی نہیں“ میں لکھتے ہیں۔ دسمبر 1971ء میں پاکستان کے مجرم انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے 2015ءمیں پوری دنیا کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا لیکن پاکستان نے اس ظلم پر اتنا شور بھی نہیں مچایا جتنا کہ کوا چڑیا کے بچے اور انڈے اٹھائے تو چڑیاں مچاتی ہیں۔ “ کیا پیرزادہ صاحب کے قول کے مطابق اور مودی کے اعتراف جرم کے بعد موصوف مشرقی پاکستان کو توڑنے میں بھارت کو مجرم سمجھتے ہیں؟

کبھی موقع ملے تو مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ”انڈیا وِنز فریڈم“ کے ان 30 صفحات پر بھی کچھ لکھیں جو ان کی وفات کے 30 سال بعد شائع ہوئے اور جس میں انہوں نے کانگریسی لیڈر شپ کی منافقت اور مسلم دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔ کہیں سے ملے تو  10 اکتوبر 1992 کو ٹائمز آف انڈیا میں سکینہ یوسف خا ن کے انکشافات پر مبنی تحریر بھی پڑھیے گا جس میں وہ کہتی ہیں کہ آزادکی ایک کتاب ”جشن آزادی یا تقسیم ہند“ کو شائع نہیں ہونے دیا گیا ۔ آخر کیوں؟ کیونکہ اس کتاب میں مولانا آزاد نے نہرو اور پٹیل کے علاوہ گاندھی پر بھی تنقید کی۔ میرا حسن ظن ہے کہ موصوف صرف دکھانے کی حد تک تحقیق اور تلاش کے متلاشی نہیں رہتے ہوں گے اس لیے کبھی موقع ملے توآزاد کی لکھی وہ تحریریں بھی تلاش کیجئے گا جو آزاد کی وصیت کے باوجود بھارتی حکومت نے چھپا لی تھیں۔

میری دونوں تحریروں میں سے کہیں بھی موصوف کے لیے لبرل فاشسٹ کا لفظ استعمال نہیں کیاگیا اس کے باوجود وہ لکھتے ہیں کہ” بخاری صاحب کی نظر میں ان کا ناقد لبرل فاشسٹ ہے ۔ “میرے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے کیا معنی؟ اگر وہ خود ہی یہ سمجھتے ہیں کہ تو میں کیسے انکار کر سکتا ہوں ۔ وہ لبرل فاشسٹ کو جمع اضداد تصور کرتے ہیں۔ بہت سارے پاکستانی‘ لبرل فاشسٹ کو ضدِ اجداد بھی سمجھتے ہیں۔ سوال پوچھا ہے کہ ایک لبرل شخص فاشسٹ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس اصلاح کو سمجھنے کے لیے پاکستان میں پائے جانے والے لبرلز کی انتہا پسندانہ سوچ کے بارے میں تحقیق فرما لیں تو خود اس اصطلاح کے معانی سمجھ لیں گے۔ اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو معروف کالم نگار جناب حامد میر صاحب سے استدعا کر لیں مجھے یقین ہے کہ جواب ضرور مل جائے گا ۔ جناب حامد میر صاحب سے استدعا کرنے سے قبل خیال رہے کہ میر صاحب رائے ٹھونسنے‘ تاریخ کی غلط تشریح کرنے، بے معنی پروپیگنڈا کرنے، دانستہ یا نادانستہ قائد، اسلام، پاکستان اور اقبال کے خلاف بے بنیاد باتیں پھیلانے والے اور جھوٹ کی تجارت کرنے والے نام نہاد لبرل لوگوں کے لیے لبرل فاشسٹ کے ساتھ لبرل ظالمان کا استعمارہ بھی استعمال کرتے ہیں ۔ ہو سکے تو لگے ہاتھوں لبرل ظالمان کے معنی بھی دریافت کر لیجیے گا۔

جناب سید سردار احمد پیرزادہ نے جو 26 فروری 2015 کے اپنے کالم میں جماعت اسلامی کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے تھے ۔ اگر شکیل صاحب واقعی اس تشنہ پن کو دور کرنا چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کے کسی ترجمان سے رابطہ کریں۔ موصوف نے پوچھا کہ” اگر ”واقعی“ قادیانی غیر مسلم ہیں تو ایک قادیانی پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ کیسے بن گیا؟ “عرض خدمت ہے کہ کسی کو مسلمان قرار دینا یا غیر مسلم کا فیصلہ سنا دینا میرا کام نہیں ۔ اگر موصوف کو واقعی قادیانی مسلمان لگتے ہیں تو اسمبلی اور عدالت کے ذریعے ان کے آئینی حق کے لیے جدو جہد کیوں نہیں کرتے؟

رہا میرے ہندستان کے دورے کا سوال تو فی الحال میرا اس پر سفرنامہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ شکیل صاحب پڑھتے وقت اگر الفاظ پر غور فرما لیتے تو بے بنیاد طولانی و طوفانی تمہید باندھنے اور اس پر مفروضات کی عمارت تعمیر کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اگر وہ چالیس سے زائد مقامات، شہروں یا ریاستوں میں فرق نہیں کر سکتے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ موصوف نے آزاد اور ہندستان کے بارے میں میری معلومات کے بارے میں لکھا ہے کہ ”بخاری صاحب کی معلومات سنی سنائی بلکہ خیالی باتوں پرمشتمل ہیں۔ “ مدیر” ہم سب “کی خدمت میں کچھ تصاویر بھیج رہا ہوں تاکہ بہت سے شک میں مبتلا لوگوں کی غلط فہمی رفع ہو جائے۔

IMG_20150805_135333 سید مودودی کے ایک قول کا ایک حوالہ لکھنے پر موصوف نے پرجوش انداز میں انکشاف کیا تھا کہ میں نے بڑے ذوق و شوق سے یہ حوالہ دیا ہے۔ میں نے اس کے لیے خود ساختہ الہام کا لفظ استعمال کیا تھا۔ موصوف نے الفاظ واپس لے کر نیا خود ساختہ الہام یہ فرمایا کہ میں نے انتہائی بد دلی سے ایسا کیا تھا۔ جہاں تک سید مودودی کی رائے کے بارے میں جاننے کی بات تو اگر اس میں انہیں کوئی ابہام ہے تو کچھ محنت اور تحقیق کر لیں تو جواب ملنا مشکل نہیں ہو گا۔ میری آخری اطلاعات کے مطابق سید مودودی کی کتابیں پاکستان میں بغیر کسی پابندی کے مل جاتی ہیں۔ اگر کوئی خود ساختہ پابندی لگا رکھی ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔

 شکیل صاحب نے آزاد مرحوم کے حوالے سے میری تحریر کو ناپسندیدہ کہتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کے ایک قول کو ناشائستہ ترین پھبتی قرار دیتے ہیں۔ مقرر عرض کروں کہ میں قائد کے قول کو پھبتی نہیں حقیقت سمجھتا ہوں۔ آج کا بیانیہ آزاد کے منظرنامے کو سمجھنے اور قائد کے وژن کے حوالے سے کیا بیان کرتا ہے وہ سب اظہر من الشمس ہے۔ جہاں تک میری ناپسندیدہ تحریرکا تعلق ہے تو آپ قائد کے قول کو جس نظر سے دیکھتے ہیں وہاں میری رائے کی کیا وقعت ہو گی اس کا مجھے اندازہ ہے۔

 قاضی عبدالحنان کی کتاب میرِ کاررواں کے صفحہ239 پر وہ لکھتے ہیں” قائدِا عظم نے ابوالکلام آزاد سے کہا ”میں آپ سے خط و کتابت یا کسی اور ذریعے سے گفتگو کے لیے تیار نہیں ہوں کیونکہ آپ نے مسلمانوں کا اعتماد بالکل کھو دیا ہے۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ آپ کو ایک ”شو بوائے“ صدر بنا کر رکھا گیا ہے؟ آپ نہ ہندوﺅں کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ مسلمانوں کی۔ اگر آپ کے اندر عزتِ نفس کی ایک رمق بھی باقی ہے، تو آپ کانگریس کی صدارت مستعفی ہو جاتے“۔ آزاد نے قائد کو کوئی جواب کیوں نہیں دیا۔ کیا وہ اس سے اتفاق کرتے تھے؟

تنقید نگار نے پوچھا ہے کہ ”ناشائستہ پھبتی انہیں قابل اعتراض نہیں لگتی تو پھر انہوں نے یہ کیوں لکھا کہ ‘ابوالکلام آزاد کے بارے میں جو اندازِ بیان ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ قابل تحسین اور لائق ستائش نہیں۔ “ میں نے یہ جملہ ان” لکیر کے فقیر“ لوگوں کے لیے لکھا تھا جو سانپ گزر جانے کے بعد بھی لکیر پیٹتے رہتے ہیں۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی اس کو تسلیم کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور جو کسی جواز کے بغیر نہرو، گاندھی اور ابوالکلام آزاد جیسوں کو درست قرار دے کر قائد اور پاکستان کو غلط ثابت کرنے کے حوالے سے رطب اللسان رہتے ہیں۔ یہیں پر شکیل صاحب نے قائد اعظم کو بالواسطہ کج فہم قرار دیا۔ اس کی ایک مثال تو قارئین کے سامنے ہے کہ دلیل کی زبان سے بھی اگر کوئی آزاد کی منظر نامہ سمجھنے کی غلطی کو سمجھنے سے قاصر ہے اور قائد جیسے عظیم انسان کو کج فہم اور پھبتیاں کسنے والا انسان سمجھتا رہے تو ایسے انداز بیان کو قابل تحسین اور لائق ستائش کہنا کہاں کا انصاف ہے؟

جناب شکیل صاحب پوچھتے ہیں کہ” قائداعظم نے اپنی کابینہ میں سر ظفراللہ اور جوگندر ناتھ منڈل جیسے غیر مسلموں کو کیوں شامل کیا؟ منڈل صاحب 1950 میں پاکستان چھوڑ کر ہندوستان کیوں چلے گئے تھے؟ “تنقید نگار کیا ان کی شمولیت کو اچھا نہیں سمجھتے؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کو ایوان میں شامل نہیں کرنا چاہیے تھا؟ کیا وہ اسے قائد اعظم کی سیاسی غلطی سمجھتے ہیں؟

تنقید نگار نے یہی سوالات جناب ارشاد احمد عارف صاحب سے بھی پوچھے تھے ۔ تحقیق کے لیے محنت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ موصوف کے بقول ہمارے ہاں مفقود ہے۔ جناب ارشاد احمد عارف صاحب نے بہت پہلے قائداعظم، نظریہ اور ریاست کے عنوان سے اپنے ایک کالم کے ذریعے ان الفاظ میں اس موضوع پر قلم اٹھایا تھا۔ ”قائداعظم نے اپنی کابینہ میں سر ظفراللہ اور جوگندر ناتھ منڈل کو شامل کیا۔ یہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو تحفظ کا احساس دلانے اور انہیں امور سلطنت میں شامل کرنے کی عمدہ تدبیر تھی۔ میثاق مدینہ کی روح کے عین مطابق۔ اس اقدام سے کانگریس اور انگریز کے اس پروپیگنڈے کی نفی ہوئی کہ حقیقی اسلامی ریاست میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک روا رکھے جانے کا احتمال ہے۔ انہیں اہلیت و صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا اور ان کی وفاداری پر شک کیا جائے گا مگر قائداعظم کی اس رواداری، اعلیٰ ظرفی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیت نوازی کا صلہ دونوں نے خوب چکایا۔ ایک نے اپنے اور قوم کے قائد کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا اور دوسرا پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے بعد بھارت بھاگ گیا کیونکہ اسے ایک ہندو ریاست ہی راس تھی۔ “

 متحدہ ہندستان بہت سوں کا سپنا تھا لیکن شاید گاندھی اور آزادکا تو سب سے بڑا خواب تھا۔ ان دونوں نے متحدہ ہندستان کی ایک عقیدے کی طرح پرورش کی تھی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے اور جغرافیہ بھی کہ ہندستان تقسیم ہو گیا۔ انجام کار انھوں نے اپنے خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھا اور اس کی کرچیاں چنتے ہوئے اس جہاں سے گزر گئے۔ قائد کا بھی ایک سپنا تھا ۔ انہوں نے جو خواب دیکھا اس کو حقیقت کی شکل دینے میں کامیاب ہوئے ۔ متحدہ ہندوستان کے لیے دل کے درد کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ جہاں تک رہی قائد پر بے معنی تنقید ‘ تو اس سے قائد کا قد چھوٹا نہیں ہو جائے گا۔ آزاد نے قائد پر بے سروپا باتیں تھوپنے والے ایک منشی جی کو کہا تھا کہ ”ناروا الفاظ بولنے سے آدمی بڑا نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے الفاظ حلق سے نیچے نہیں اترتے“۔ پاکستان ایک دیوانے کا خواب نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے اس لیے اس کو تسلیم کر لینے سے کسی کی توہین نہیں ہو گی۔ ابوالکلام آزاد کہا کرتے تھے کہ “پاکستان وجود میں آ گیا ہے تو اب اسے باقی رکھنا چاہیے، اس کا بگڑ جانا سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا”۔ (بحث ونظر‘ نوائے وقت۔ 23 مارچ 1973)

ہم ایک ایسے دور ِ ستم سے گزر رہے ہیں جب اپنے بانیاںِ پاکستان کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ”چھڑک“ کر، قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا کر، قیام پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم سے دشمنی کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی خدمت سر انجام دی جا رہی ہے۔ مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں کو پیش کر کے یہ رونا روتے رہنا کہ ان کو حقائق چھپانے کے لیے نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے درست نہیں۔ لفظوں سے کھیلنا کوئی بڑا کام نہیں ہوتا ۔ ایسے نغمہ بے نوا کی نے نوائی کسی کام نہیں آتی ۔

 چودھری صاحب کے ملکی تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے تخلیقی مرحلے سے گزرنے والے حل سے اتفاق کرتا ہوں کہ طلبہ کو برین واشنگ سے بچا کر ان کی تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ نوجوان نسل جس نے نہ ہند ذہنیت کے چرکے کھائے، نہ پاکستان بنتے دیکھا اور نہ ہی قائد اعظم کی عظمت کو جگمگاتے دیکھا، اس نسل کو پاکستان سے بدظن کرنے والوں، عظیم قائد کی بصیرت اور ویژن کو مشکوک کر نے والوں اور تنقید اور تنقیص کے معنی سے ناآشنا نوم چومسکی اور اورن دھتی رائے بننے والے دانشوروں کی برین واشنگ سے بچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟

یہ تو آدھا بھی نہیں جس پہ تڑپ اٹھے ہو

تونے دیکھا ہی نہیں ہجر مکمل جاناں

محترم شکیل چودھری صاحب میری گفتگو کو ناشائستہ بھی کہتے ہیں، قائد کے قول کو ناشائستہ ترین پھبتی بھی قرار دیتے ہیں اورساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ” بخاری صاحب dissent  کے تصور سے ناآشنا معلوم ہوتے ہیں۔“ یہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس طرح کی زبان کے کیا معنی لیتے ہیں؟

 سنگ ہیں، ناوکِ دشنام ہیں، رسوائی ہے

 یہ ترے شہر کا اندازِ پذیرائی ہے


Comments

FB Login Required - comments

12 thoughts on “ابوالکلام آزاد‘ قائد اعظم اور پاکستان (2)

  • 18-04-2016 at 1:20 am
    Permalink

    Zabardast.

    • 18-04-2016 at 1:33 am
      Permalink

      بہت شکریہ سر

  • 18-04-2016 at 4:16 am
    Permalink

    مولانا ابوالکلام کے بارے میں ساری بحث جو عابد محمود صاحب نے شروع کی، پڑھنے کے بعد میرے اور شاید بہت سے پڑھنے والوں کے ذھن چند بنیادی سوالات پیدا ھونا قدرتی ھیں جن میں سے سر دست ایک سوال پیش خدمت ھے؟
    آخر وہ کیا وجہ یا وجوھات ھیں کہ پاکستان کے قائم کیے جانے کے جواز کو تقریبا ۷۰ سال بعد سوالات کا سامنا کرتا پڑتا ھے؟ ضمنی سوال یہ کیا پاکستان کا جواز صرف اور صرف مولانا آزاد کی مخالفت سے ہی ثابت کیا جا سکتا ھے؟
    ان سوالات کی اہمیت موجودہ بحث میں اس لیے بھ بڑھ جاتی ھے کہ عابد صاحب نے بغیر کسی کے کہے یا پوچھے پاکستان کے جواز کا مقدمہ مولانا آزاد کی ذات پر حملہ کی آڑ میں شروع کیا، جس کا جواب اور پھر جواب الجواب اور پھر مجودہ مضمون سامنے آیا

    آخر کیا وجہ ھے کہ دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں صرف پاکستان اور اسرائیل ھی دو ایسے ملک ھیں جن کے وجود کے جواز کو اپنے قیام کے وقت سے لیبکر آج تک مسلسل سوالات کا سامنا ہے؟

    کہیں ایسا تو نہیں، کہ خدانخواستہ بقول غالب،

    میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی ۔۔۔۔!!!! ؟؟؟

    مندجہ بالا سوالات کے جواب دینا کسی پر بھی فرض نہیں لیکن اگر مجمون نگار یا جو بھی کوئی جواب دینے کی زحمت کرے ان کی خدمت میں اتنی استدعا دست بستہ ہے کہ جواب میں “سازشی نظریات” اور اغیار کی سازش وغیرہ جیسے دلائل کا سہارا لینے سے پرہیز کریں اور یہ یاد رکھیں کہ جو بھی دلیل دی جائے گی وہ کم وبیش وہیسے ھی اسرائیل کے جواز پر بھی اپلائی ھوگی جو کہ ایک ایسا ملک ہے جسے ہاکستان نے اور اس نے پاکستان کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔
    منتظر

    • 19-04-2016 at 12:39 pm
      Permalink

      جناب سلمان یونس صاحب
      یہ جو عابد محمود صاحب ہیں نہ جانے کون ہیں؟ بہرحال میری تحریر کا الزام ان پر لگائیں گے تو ان کو دکھ ہوگا۔
      جو سوالات آپ نے ان سے پوچھے ہیں وہی جواب دیں تو اچھا ہے۔ :

  • 18-04-2016 at 9:35 am
    Permalink

    بخاری صاحب، آپکی یہ تحریر بھی بہت شاندار اور معلوماتی ہے، اب شکیل چوہدری صاحب کے جواب کا انتظار ہے، امید ہے وہ اپنا سابقہ طرز تحریر نہیں اپناینگے۔

  • 18-04-2016 at 2:44 pm
    Permalink

    عابد صاحب ہندوستان کو جو مسائل دار پیش ہیں اس کے غیر منطقی دلائل دینے سے کچھ نہیں ہو گا.
    “تج کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو”

  • 18-04-2016 at 6:52 pm
    Permalink

    دو باتیں مجھے پسند آئیں۔ نوجوان عابد بخاری نے قبلہ شکیل چودھری صاحب کے سخت اور قدرے طنزیہ لہجے کے باوجود نہایت شائستگی سے کلام کیا ہے۔ خاص کر پہلا جملہ تو کلاسیکل رائٹسٹ لکھاریوں کی سی شائستگی کا عمدہ نمونہ ہے۔ مولانا ابوالحسن ندوی یاد آگئے، مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف کتاب لکھی تونبوت کے جھوٹے دعوے دار کو بھی نہایت شائستگی سے ہر بار مرزا صاحب کہہ کر پکارا۔ میرے خیال میں مکالمہ میں علمی شائستگی ہونا بہت ضروری ہے۔ دوسرا مجھے عابد بخاری کی محنت اور عرق ریزی اچھی لگی۔ ممکن ہے اس میں سےبعض نکات دینے زیادہ ضروری نہ ہوں، مگر بہرحال نوجوان نے محنت کر کے، مختلف کتابوں سے حوالے لے کر لکھا ہے۔ اس طرح پڑھنے والوں کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے وقت ضائع ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ بہت خوب عابد بخاری۔ اللہ آپ کی تحریر اور علم میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

    • 19-04-2016 at 11:56 am
      Permalink

      محترم جناب عامر خاکوانی صاحب
      آپ کی رائےاور پسندیدگی کے اظہار کے لیے شکریہ
      آپ کی اس رائے سے مکمل اتفاق ہے کہ اس میں سےبعض نکات دینے زیادہ ضروری نہ تھے۔ میری نگاہ میں بعض نہیں بہت سے نکات دینے ضروری نہیں تھے کیونکہ ان کی وجہ سے تحریر طویل اور بوجھل ہو جاتی ہے۔
      دراصل اس کی بنیادی وجہ جناب شکیل چودھری صاحب کے وہ طویل سوالات تھے جو کہ انہوں نے آخری تحریر میں اٹھائے تھے۔
      اگر چھوڑ دئیے جاتے تو پہلے بھی وہ شکوہ کناں تھے کہ بخاری صاحب نے اس پر بات کرنا گوارا نہیں کی۔ میں جواب الجواب اور اس کے بعد پھر سے جواب، الجواب کے انداز گفتگو کو ویسے بھی پسند نہیں کرتا۔
      دوسری اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ قاری کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ایک دوسرے پر کیا تنقید کی جا رہی ہے۔ اصل بات مکالمے کو آگے بڑھانا اور اپنے موقف کی وضاحت کرنی ہوتی ہے۔
      آپ کی تجویز اور رائے کے پیش نظر مستقبل میں کوشش کروں گا کہ قارئین کو تحریر کی طوالت سے بچایا جا سکے۔
      تحریر اور علم میں برکت کی دعا کے لیے بے حد شکریہ

    • 25-04-2016 at 6:43 pm
      Permalink

      عامرخاکوانی صاحب‘ آپ نےعابد بخاری صاحب کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انہوں نے میرے سخت اور قدرے طنزیہ لہجے کے باوجود نہایت شائستگی سے کلام کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے ان کا یہ طولانی مضمون غور سے پڑھنے کی زحمت نہیں کی۔کونسا الزام ہے جو بخاری صاحب نے مجھ پر نہیں لگایا۔میں اپنے پرانے سوالات ہر ایک کے منہ میں ڈال دیتا ہوں۔ میرا مقصد کہ مکالمے کی روایت کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ اپنی بات منوانا اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا ہے۔میں بحث مباحثہ نہیں کج بحثی کرتا ہوں اور مجھے تنقید اورتنقیص کا فرق بھی معلوم نہیں۔

      بخاری صاحب کی شائستگی کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔’’ہم ایک ایسے دور ِ ستم سے گزر رہے ہیں جب اپنے بانیاںِ پاکستان کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ”چھڑک“ کر، قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا کر، قیام پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم سے دشمنی کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی خدمت سر انجام دی جا رہی ہے۔ مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں کو پیش کر کے یہ رونا روتے رہنا کہ ان کو حقائق چھپانے کے لیے نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے درست نہیں۔‘‘ کیا مولانا علی میاں کی تحریروں میں بھی اسی طرح کی شائستگی پائی جاتی ہے؟

      جہاں تک بخاری صاحب کی عرق ریزی اورمختلف کتابوں کے حوالے دینے کا تعلق ہےبرہ مہربانی اسیم کاویانی صاحب کا مضمون ’تقسیم ہند‘ (بزم اردو) اورفیروز بخت احمدکاجسونت سنگھ کے بارے میں ملی گزٹ میں شائع ہونے والی تحریردیکھ لیں تو بہت سی حقیقتیں کھل کرآپ کے سامنے آجائیں گی۔

      http://lib.bazmeurdu.net/%D8%AA%D9%82%D8%B3%DB%8C%D9%85-%DB%81%D9%86%D8%AF-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%B3%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C/

      http://www.milligazette.com/news/5848-partition-jinnah-debate-dont-demonize-jaswant-singh

  • 20-04-2016 at 12:04 am
    Permalink

    Exellent
    کیا بات ہے عابد علی صاحب، آ پ کی اکثر تحاریر میری نظر سے گزری ہیں۔ سچ بتاوں پہلی بار آپ کی تحریر سے متاثر ہوا ہوں۔ بہت شائستہ طرز تکلم۔ حوبصورت انداز، محنت اور عرق ریزی، دلائل اور حوالہ جات سے بھرپور تحریر۔ دوسروں کے ناشائستہ انداز کو اپنے پے اثر انداز نہ ہونے دینا۔ ما شا اللہ خوبیوں سے بھر پور تحریر ہے۔ شکیل صاحب تو گمان کیے بیٹھے تھے کہ شائد انڈیا سے آنے والی ہوا بھی آپ کے قریب سے نہیں گزری ہے لیکن ”مینار صاحب” کے ساتھ آپ کی تصویر بھی آپ کے خوبصوت جواب کا ہی ایک انداز ہے۔
    امید ہے اب شکیل چوہدری صاحب ون بائی ون آپ کے اٹھائے گئے ایک ایک سوال کا جواب اسی طرح دلائل کے ساتھ دیں گے۔ میدان چھوڑ کے بھاگیں گے نہیں۔ آپ کے سوالات کا جواب دینے کے بعد ہی کوئی بات کریں گے۔well done Abid Ali
    شکیل صاحب آپ کے جواب کا انتظار ہے۔

    • 25-04-2016 at 11:00 pm
      Permalink

      محمد علی صاحب‘ شائستہ اورناشائستہ کی بحث میں بڑے بغیر آپ کو بتانا چاہتا ہوں اللہ کے فضل سے میں میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ جہاں تک بخاری صاحب کے ہندوستان کے دورے کا تعلق ہے تو میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بخاری صاحب اس حوالے سے جھوٹ بول رہے ہیں۔

      بخاری صاحب نے بڑے پرجوش انداز میں انکشاف کیا تھا ہے کہ وہ ‘مہا بھارت‘ کے چالیس سے زیادہ مقامات پر گھوم کر اور وہاں سینکڑوں مسلمانوں سے مل چکے ہیں۔ اس پر میں نے لکھا تھا کہ ان سب وارداتوں کے باوجود بخاری صاحب کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ’مہابھارت‘ کسی ملک کا نام نہیں ۔ اس کے معنی بڑی لڑائی کے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ جن ہندی مسلمانوں سے ملے ’وہ تو اپنی بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کے لیے بھی پریشان نظر آئے۔ ان کی بے چارگی اور بے بسی کی کہانیوں کے اظہار کے لیے شاید یہ مختصر مضمون نا کافی ہو۔ وہ خود کو سیکولر اور لبرل کہلاتے اتنا نہیں شرماتے جتنا خود کو مسلمان کہتے ان کے چہروں پر خوف نظر آتا ہے۔ ‘

      میں نے مزید یہ لکھا تھا کہ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے پاکستانیوں کو ہندوستان کے تین شہروں کا ویزا ملتا ہے ۔ بخاری صاحب نے ہندوستا ن کے چالیس سے زائد مقامات کی سیر کر کے واقعی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ کیا بخاری صاحب نے کسی مسلمان صحافی ‘پروفیسر‘سیاستدان یا مصنف سے ملاقات کی؟ انہوں نے کن کن شہروں میں قدم رنجہ فرمایا؟ کیا وہ جامعہ ملیہ جیسی کسی جگہ بھی تشریف لے گئے؟

      میں نے ان سے یہ سوالات بھی پوچھے تھے۔ بخاری صاحب ‘ دیانت داری سے بتائیں کہ تقسیم ہند سے ان مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا ہوئے یا آسانیاں؟ کیا ان میں سے کسی نے تقسیم ہند اور دو قومی نظریہ کے بارے میں تنقیدی خیالات کا اظہار کیا؟ ان میں سے کتنے پاکستان منتقل ہونا چاہتے ہیں؟ مجھے اب تک ان سوالات کے جوابات نہیں ملے ہیں۔

  • 25-04-2016 at 6:46 pm
    Permalink

    عابد بخاری صاحب ایک طرف تو مکالمے کو آگے بڑھاناچاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ ہمیں اس کے نتائج سے تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ میرے سوالوں جواب دینےکے بجائےبخاری صاحب نے حب الوطنی کے نام پر زبان بندی کا حکم جاری کردیا ہے۔ انہیں اگر کبھی کسی غیر ملکی سے بحث کرنی پڑ گئی تو وہ اسے کیسے چپ کرائیں گے؟ وہ چاپتے ہیں کہ مسلم لیگی رہنماؤں اورخاص طور پر جناح صاحب کو تنقید سے بالاتر قراردینے کے بعدکھل کر مکالمہ کیا جائے۔ مکالمے کا یہ تصورصرف پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ ان سے اختلاف کرنے والے بانیان پاکستان کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ”چھڑک“ کر، قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا کر‘ قیام پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم سے دشمنی کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی خدمت سر انجام دی جا رہی ہے۔

    وہ نوجوان نسل کو اس گمراہی سے بچانے کے لئے بہت فکر مند ہیں جو’’سرکاری سچ‘‘ سے اختلاف کرنے والےپھیلاتے ہیں۔ ان کے بقول یہ وہ نوجوان نسل ہے جس نے نہ ہند ذہنیت کے چرکے کھائے، نہ پاکستان بنتے دیکھا اور نہ ہی قائد اعظم کی عظمت کو جگمگاتے دیکھا‘ اس نسل کو پاکستان سے بدظن کرنے والوں‘ عظیم قائد کی بصیرت اور ویژن کو مشکوک کر نے والوں اور تنقید اور تنقیص کے معنی سے ناآشنا نوم چومسکی اورارون دھتی رائے بننے والے دانشوروں کی برین واشنگ سے بچانے کی سخت ضرورت ہے۔ کیا ان ارشادات کے بعد مکالمےکی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟

    انہوں نے فرمایا ہے کہ ’’مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں کو پیش کر کے یہ رونا روتے رہنا کہ ان کو حقائق چھپانے کے لیے نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے درست نہیں۔‘‘ وہ کونسی ’مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں ‘کی مذمت کررہے ہیں؟ بخاری صاحب سے درخواست ہے کہ ان مصنفین کے نام بتا کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔ میں نے تو مولانا مودودی ‘چودھری خلیق الزماں اور سردار شوکت حیات کے حوالے دئے تھے۔ ہاں ‘ یاد آیا میں نے ٖفریڈم اَیٹ مِڈنائٹ کا ذکر بھی کیا تھا۔ یہ تقسیم ہند پر دنیا کی مقبول ترین کتا ب ہے۔ اس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اگر یہ تعصب اور بد دیانیتی پر مبنی ہےتو آج تک کسی غیر متعصب پاکستانی مورخ نے اس کے تعصب کا چاک کیوں نہیں کیا؟ اس موضوع پر اس سے بہتر کون سی پاکستانی کتاب ہے؟ ویسے ہم نئی نسل کو چھوئی موئی بنا کر کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ ہم کیوں یہ چاہتے ہیں کہ ان کی رسائی صرف’ سرکاری سچ‘ تک محدود ہو؟ کیا ہمیں ان پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا ہمیں یہ دھڑکا تو نہیں لگا رہتا کہ اگر دوسرے نقظہ ٔ ہائے نظر تک ان کی رسائی ہوگئی تو پھر وہ’ سرکاری سچ ‘ پر یقین کرنا چھوڑ دیں گے؟اگر نئی نسل کا ایک حصہ’ سرکاری سچ‘ پر یقین کرنا چھوڑ بھی دے تو کونساآسماں ٹوٹ پڑے گا؟ ملک آراء کے تنوع نہیں انہیں برداشت نہ کرنےسے نقصان اٹھاتے ہیں۔

    بخاری صاحب اپنے اصل مقدمہ سے کافی دورچلے گئے ہیں۔ ان کا اصل مقدمہ یہ تھا کہ مولانا آزاد نے بھارت کے مسلمانوں کو غلامی کا درس دیا ۔ اس مقدمہ کو ثابت نہ کرسکنے پر اب انہوں نے فرمایا ہے کہ ’’کبھی موقع ملے تو مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ”انڈیا وِنز فریڈم“ کے ان 30 صفحات پر بھی کچھ لکھیں جو ان کی وفات کے 30 سال بعد شائع ہوئے اور جس میں انہوں نے کانگریسی لیڈر شپ کی منافقت اور مسلم دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔‘‘ انہوں نے ان صفحات میں سے کوئی ایسا اقتباس پیش نہیں کیا جس سے ان کے اصل مقدمہ یا موجودہ دعوے کو تقویت مل سکتی ہو۔

    انہوں نے دیانت داری اور تحقیق کے تقاضوں کوروندتے ہوئے مولانا آزاد کےیہ الفاظ نقل کئے ہیں ’پاکستان‘ کا نام ہی میرے حلق سے نہیں اترتا۔ ‘ اس کے بعد انہوں نے یہ سوال قائم کیاہےکہ ’پاکستان کا نام آخر آزاد کو اس قدر کڑوا کیوں لگتا تھا؟‘ بخاری صا حب ‘ آپ نے یہ قول پوراکیوں نقل نہیں ؟ پورا قول یوں ہے’’پاکستان‘ کا نام ہی میرے حلق سے نہیں اُترتا۔ کیا دنیا میں کچھ حصّے پاک ہیں کچھ ناپاک؟‘‘ یہ تو وہی بات ہوئی کہ لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ (نماز کے قریب نہ جاؤ) تک پڑھ لیاجائے اور وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ (جب تم نشے کی حالت میں ہو) کو چھوڑ دیا جائے۔ کیا ایسی چالاکیوں کے ساتھ دیانتدارانہ مکالمہ ممکن ہے؟

    بخاری صاحب نے کچھ اسی طرح کی چالاکی کا مظاہرہ شیخ عبداللہ صاحب کی کتاب آتش چنار کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کیا ہے۔ صفحہ ۲۴۱ پر دی گئی پوری عبارت اس طرح ہے۔ ’’مولانا ابوالکلام آزادرہنماؤں کی اسی صف میں بڑی ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ کتابی معیاروں کے لحاظ سے ان سے بہترمسلمانوں کی رہنمائی کے اوصاف کسی اور میں نہیں تھےاور انہوں نے اس صدی کی ابتدا میں مسلمانوں میں بیداری کا صور اسرافیل پھونکا تھا۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ ہوکہ مسلمانوں کی قیادت کے معاملے میں وہ جناح صاحب جیسے مغرب کے رنگ میں رنگے وکیل کے مقابلے میں جم نہ سکے۔ اس میں ان کے قوم پر ستانہ اعتقادات کا بھی بڑا دخل تھا۔ وہ ایک بلند پایہ عالم دین‘ ایک صاحب طرزادیب‘ ایک شعلہ بیان خطیب اور قوم پر ست رہنما تھے۔ ان کو قدرت نے طاقت ور زبان اور قلم عطا کئے تھے جن سے انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں ایک تازہ روح پھونکی۔ الہلال اور البلاغ مسلمانوں کو بیدار کرنے والے پہلے دو جریدےتھے اور ان کے ذریعے انہوں نے شکست خوردگی کی بجائے امید اور ولولے کی لہر پیدا کی لیکن حق یہ ہے کہ ان کی طبیعت کی ساخت ایک عوامی رہنما کی نہیں تھی۔ ان کے عادات و اطوار میں بڑا رکھ رکھاؤ تھا۔ وہ عوامی مسائل کا میدانِ کارساز میں سامنا کرنے کی بجائے گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں جناح صاحب جذباتی نعرے دے کر مسلم عوام کو اپنی طرف کھینچ لینے میں کامیاب ہو گئے وہاں مولانا آزاد اپنی خلوت گاہ سے غبار ِ کارواں کو دیکھتے رہ گئے۔‘‘ اختلاف رائے کے باوجود میں اُن سے اِن دانشورانہ بددیانتیوں کی توقع نہیں کررہاتھا۔

    اس سے پچھلے صفحہ پر شیخ صا حب نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بارے میں بخاری صاحب کیا فرماتے ہیں۔ ’’جناح صاحب کے کردار کو سمجھنے کے لئے اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیئے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد جب ان کی زخمی انا آسودہ ہوگئی تو وہ دوقومی نظریے سے دست بردار ہوگئے۔ انہوں نے اپنی ایک اولین تقریر میں کہا کہ ہم میں سے اب کوئی ہندو یا مسلمان نہیں بلکہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ جنا ح صاحب مغرب کے لبرل ازم کے پروردہ تھے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ زندہ رہتے تو پاکستان میں سیاسیات کا رخ کچھ اور ہوتا۔ ‘‘

    بخاری صاحب نے ہندوستان کو ’دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت‘ قراردیا ہے۔وہ ہماری رہنمائی فرماتے ہوئے بتائیں کہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقی جمہوریت کونسی ہے؟ اس کے علاوہ انہوں نے ’ہندو ذہنیت‘ کی بھی بات کی ہے۔ یہ اصطلاح کب اورکس نے وضع کی اور اس سے کیا مراد ہے؟ ؟ کیا تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زیادہ ہندو ایک سا ذہن رکھتے ہیں؟ کیا مسلم ذہنیت بھی اپنا وجود رکھتی ہے؟

    ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آزاد کے خوابوں کا مرکز شاید بھارت نہیں مریخ تھا کیونکہ ہندستان کے چودہ صوبوں میں تو علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔بخاری صاحب‘ کیا ان چودہ ریاستوں کے نام بتاکر ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں گے؟ ویسے ہمارے ایک نامور کالم نویس جناب ہارون الرشید صاحب نے ۲۸ نومبر۲۰۱۵ کو دنیا ٹی وی پر ہمیں یہ مژدہ سنایا تھاکہ ہندوستان کی چالیس ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ میرا تو خیال تھا کہ وہاں صرف انتیس ریاستیں ہیں۔ بہرحال مستند ہے ان کا فرمایا ہوا۔ جہاں تک منیر احمد منیرصاحب کی کتاب کا تعلق ہے اس میں یہ دعویٰ بھی موجود ہے کہ چھبیس فیصد بھارتی علاقہ انتہاپسندوں کے کنٹرول میں ہے۔کیا کسی غیر پاکستانی صحافتی ادارے نے بھی کبھی ایسی بات کی ہے؟ اس بارے میں بخاری صاحب ہماری رہنمائی فرمادیں تو ان کی مہربانی ہوگی۔ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ عبدالقادر حسن صاحب نےمنیر صاحب کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا آزاد کے خلاف گستاخانہ زبان استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’قائد کا بھی ایک سپنا تھا ۔ انہوں نے جو خواب دیکھا اس کو حقیقت کی شکل دینے میں کامیاب ہوئے ۔‘بخاری صاحب‘ انہوں نے اپنے قائم کردہ ملک کو کرم خوردہ اور کٹا پھٹا کیوں قراردیا تھا؟

    بخاری صاحب حامد میر کے مداحوں میں سے ہیں۔ انہوں نے تائیدی انداز میں میرصاحب کی اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ رائے ٹھونسنے‘ تاریخ کی غلط تشریح کرنے‘بے معنی پروپیگنڈا کرنے‘ دانستہ یا نادانستہ قائد‘اسلام‘پاکستان اور اقبال کے خلاف بے بنیاد باتیں پھیلانے والے اور جھوٹ کی تجارت کرنے والے لبرل فاشسٹ ہوتے ہیں۔ میر صاحب نے یہ تعریف ۱۹ اپریل ۲۰۱۴سے پہلے کی یا بعد میں؟ بہرحال اس کا مطلب یہ ہے کہ لبرل فاشسٹ صرف پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ بخاری صاحب‘ اس تعریف پر پورے اترنے والے چند لوگوں کے نام تو ہمیں بتادیں۔ میں نےاس سے جڑے کچھ اور سوال بھی بخاری صاحب سے پوچھے تھے لیکن انہوں نے اب تک میری رہنمائی نہیں فرمائی۔ کیا پاکستان میں کوئی حقیقی لبرل لوگ بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو ہمیں ان کے اسمائے گرامی سے آگاہ فرما دیں۔ اور کیا پاکستان میں مذہبی اور نظریاتی فاشسٹ بھی پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو چند ایک کی نشان دہی فرما دیں۔بخاری صاحب ‘ حامد میر کوغدار قراردینے والےکونسی قسم کے فاشسٹ ہیں؟

    بخاری صاحب نے میر ی فردجرم میں وہ مکالمہ بھی شامل کردیا ہے جو میں نے ’نامور‘کالم نگارارشادعارف صاحب سے کیا تھا ۔ اس کے بعد ان کافرمانا ہے کہ ’’وہی سوالات اٹھا کر ہر ایک کے منہ میں ڈالنے کا آخر مطلب کیا ہے؟ اس سے واضح بات جو ظاہر ہوتی ہے کہ مکالمے کی روایت کو آگے بڑھانا ان کا مقصد نہیں بلکہ اپنی بات منوانی اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا مقصد ہے ۔ خیال رہنا چاہیے کہ بحث و مباحثہ اور کج بحثی میں بڑا فرق ہے۔ تنقید اور تنقیص کے فرق کو اگر سمجھ لیا جائے تو نگاہ صرف نقص پر ہی نہیں پڑتی ۔‘‘ میری کیا مجال کہ میں اپنے سوالات کسی کے منہ میں ڈالوں ۔ میں نے تو کچھ سوالات ارشاد صاحب اور آپ سے پوچھے تھے۔ ان میں کچھ شاید ایک جیسے ہوں ۔ لیکن ان میں سے اکثر کا جواب مجھے اب تک نہیں مل پایا ہے۔ بخاری صاحب کا چیزوں کو دیکھنے کا انداز بہت زبردست ہے۔ ان سے اگر کوئی اختلاف کرے تو وہ نہ صرف اپنی رائے ان پر مسلط کررہا ہوتا ہے بلکہ وہ کج بحثی کا بھی ارتکاب کرتاہے۔ انہوں نے جوکچھ لکھا ہے اس میں تنقیص کا شائبہ تک نہیں ۔ میں نے جو کچھ لکھا وہ سراسر تنقیص ہے۔

    خِرد کا نام جنوں پڑگیا جنوں کا خِرد
    جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

Comments are closed.