’دو نہیں، ایک پاکستان‘ کے لئے عمران خان کی جبری مشقت


پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے آج لاہور میں ’دو نہیں ایک پاکستان ۔ ہم سب کا پاکستان‘ کے نعرہ کو سال رواں کے دوران ہونے والے انتخابات میں لوگو کے طور پر اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ان کا ایک نکاتی ایجنڈا ملک سے بدعنوانی ختم کرکے سب کے لئے نیا پاکستان کی تعمیر ہے۔ عمران خان کا سیاسی نظریہ سماجی انصاف کی کسی اصول پر استوار نہیں ہے اور نہ ہی وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرح سوشلزم کے ذریعے معاشرے میں طبقاتی تقسیم ختم کرنے کی بات کرتے ہیں بلکہ ان کا مؤقف اور طرز عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہوں نے ملک کی مقتدر سیاسی اشرافیہ میں اپنی جگہ بنانے کے لئے پہلے سے برسر اقتدار خاندانوں اور افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ اسی لئے وہ ۲۰۱۳ کے انتخابات میں دھاندلی کے نام سے شروع ہونے والی مہم جوئی کو پاناما لیکس کی صورت میں ملنے والے غیبی انعام کےذریعے نواز شریف کی نااہلی کے انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اگرچہ نواز شریف کی نااہلی اور مشکلات کی متعدد وجوہ بیان کی جاسکتی ہیں لیکن اس کا کریڈٹ اگر عمران خان لینا چاہتے ہیں تو اسے تسلیم کرنے میں بخل سے کام لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کرواکے نیب عدالت کی پیشیاں بھگتنے پر لگا نے میں عمران خان کی مسلسل تگ و دو کو بھی اہمیت حاصل ہے اور وہ عناصر جو کسی نہ کسی طریقے سے نواز شریف سے کوئی حساب برابر کرنا چاہتے تھے، انہیں عمران خان کی پر جوش مہم جوئی اور ’نیا پاکستان‘ کے نعرے کی صورت میں ایک مؤثر ہتھیار ہاتھ آگیا تھا۔ اب عمران خان بھلے یہ سمجھتے رہیں کہ سپریم کورٹ نے ان کے وکیلوں کی عرق ریزی کی وجہ سے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا لیکن تاریخ ان واقعات کو کسی دوسرے طریقے سےبیان کرے گی۔

پاکستان میں یہ تاثر ہر سطح پر موجود ہے کہ ملک کے مسائل حل کرنے کا آسان طریقہ اس کے پاس موجود ہے۔ ان طریقوں میں عام طور سے چند ہزار یا چند لاکھ لوگوں کو جیلوں میں بھر دینے اور بعض انتہا پسندوں کے نزدیک اتنے ہی لوگوں کو قتل کردینے سے سارے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ حالانکہ دنیا کے واقعات پر اچٹتی نظر بھی ڈالی جائے تو سماجی انصاف کے لئےخون ریزی مسائل میں اضافہ اور معاشرتی تقسیم کو گہرا کرنے کا سبب ہی بنتی ہے۔ لیکن جس معاشرہ میں جمہوریت کے نام پر دھوکہ دہی کا ایک نظام استوار ہو اور اس نظام کی اصلاح کے لئے منطقی عمل کو روکنے کے لئے ہر دور میں تگ و دو کی جاتی رہی ہو، اور عام لوگوں سے ووٹ لینے والے جوابدہی کے لئے تیار نہ ہوں ۔۔۔ وہاں عام ووٹر بھی اس بات پر آمادہ ہو چکا ہے کہ وہ اپنے گروہی، علاقائی یا ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے سودے بازی کرے اور جو امید وار بھی اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے قابل ہو یا اس کا وعدہ کرسکے، اسی کو گھرانہ، برادری یا قبیلہ کے لوگ ووٹ دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چونکہ ووٹ ذاتی اور گروہی مفاد کے حصول کے کےلئے دیئے جاتے ہیں اور اس موقع پر کسی ارفع قومی مقصد کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا ، اس لئے قومی مسائل کے حل کے لئے معاشرہ کا ہر فرد کسی انتہائی حل کی تبلیغ کرتا دکھائی دیتا نظر آتا ہے۔ یعنی جو لوگ ووٹ کے ذریعے تبدیلی سے عملی طور پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور ایک فعال جمہوریت میں تبدیلی کے سب سے مؤثر ہتھیار ووٹ کو ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہیں ، وہ بھی قوم کی اصلاح کے لئے جیلیں بھرنے یا قبرستان آباد کرنے کی بات کرتے ہوئے قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس مزاج کی وجہ سے الیکٹ ایبلز کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اور وہ خواہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ شامل ہوں اور سیاسی طور سے کتنی ہی بے اصولی کا مظاہرہ کریں ، اپنے علاقے میں انہیں ووٹ لینے میں دشواری نہیں ہوتی کیوں کہ انہوں نے علاقے کے لوگوں کو یہ یقین دلایا ہوتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کی سہولت کے لئے ہی اقتدار میں آنے والی پارٹی میں شامل ہوتے ہیں۔ اس قومی سماجی مزاج کا نفسیاتی تجزیہ کرنا ماہرین کا کام ہے ۔ لیکن سیاست دانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی پالیسی، حکمت عملی اور طرز عمل سے عام لوگوں کی بے یقینی کو ختم کرکے معاشرہ میں ایسے چلن کو فروغ دیں جو جمہوریت کی افزائش کے لئے سود مند ہو سکے۔ لیکن بد قسمتی سے ملک میں جمہوریت کی بات کرنے والے اور اسے بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے بھی جمہوریت کو پھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے کے لئے اتنا موقع بھی نہیں دینا چاہتے جو کسی پودے کو دینا ضروری ہوتا ہے۔ کسی بھی فصل یا پھلواری کی پرداخت کے لئے موسمی حالات، مناسب بیج، بر وقت پانی اور اسے مناسب آب و ہوا فراہم کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

 اگر جمہوریت کو بھی ایک پودا سمجھ لیا جائے تو اس کے لئے بھی ان تمام ضرورتوں کا خیال رکھنا اہم ہے۔ جس طرح فصل کی افزائش کے لئے زمین کی تیاری ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح جمہوریت کی فصل تیار کرنے کے لئے ووٹروں میں یہ احساس پیدا کرنا بھی اہم ہوتا ہے کہ انہیں وقتی ، ذاتی یا گروہی و علاقائی مفاد کی بجائے ایک وسیع تر مقصد کے لئے اس پارٹی یا امید وار کو ووٹ دینا چاہئے جو ان کے نزدیک ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کے لئے کام کرسکتا یا کرسکتی ہو جہاں سب کو انصاف اور سہولتیں میسر آسکیں۔ اسی طرح جس طرح فصل کی بڑھوتی کےلئے کھاد، حفاظت کے لئے نگرانی اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی طرح جمہوریت کی حفاظت کے لئے بااصول پارٹیاں اور ان کے صاحب کردار لیڈر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پارٹیوں کی طرف سے ملک و قوم کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے منشور پیش کرنا اور اس کی تکمیل کے لئے ایجنڈا کی وضاحت سیاسی جمہوری عمل میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جوفصل کی بڑھوتی کے لئے کھاد کی اہمیت ہوتی ہے۔ لیکن جب سیاسی پارٹیاں نعروں کو منشور قرار دیں اور پارلیمنٹ میں کامیابی کے لئے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملانے کے لئے ایک دوسرے سے سیاسی دنگل رچایا جائے تو اس جمہوری نرسری سے جو پھل برآمد ہوتا ہے اس سے قوم کو توانائی یا قابل اعتبار نظام میسر نہیں آسکتا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 871 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali