اتوار کی واک اور سدا بہار ناسٹیلجیا


husnain jamal (3)آج اتوار کا مبارک دن تھا۔ موسم بے حد خوش گوار، ٹھنڈی ہوا اور رومانوی فضا تھی۔ طبیعت دو تین روز بعد کچھ سنبھلی تو سوچا بیگم کے ساتھ واک ہو جائے۔ شہر سے کافی دور اس جنگل میں رہنے کا یہ فائدہ بہرحال ہے کہ جب دل کرے واک پر نکل جائیے۔ یہ الگ بات کہ اس فائدے کے باوجود گزشتہ تین برسوں میں فقیر نے یہ تکلف کل ملا کر تین ہفتے بھی نہیں کیا۔ دفتری مصروفیات کسی لگی بندھی ترتیب سے آزاد ہیں، صبح اپنے وقت پر ہوتی ہے، رات کب آئے گی، یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ رات کی بھی الگ ہی کہانی ہے، جب ہم لوگ چھوٹے تھے تو رات بہت بری لگتی تھی۔ سونا جو پڑتا تھا۔ امی سلانے لٹاتیں تو جھلا کر ایک ہی سوال پوچھا جاتا، امی، یہ رات کم بخت کیوں آتی ہے۔ امی کہتیں، ہائے، بیٹا شکر کرو رات آتی ہے تو کچھ وقت آرام کا ملتا ہے۔ اب یہی شکر ہم لوگ بھی رات کو باجماعت بجا لاتے ہیں۔ رب کا شکر ادا کر بھائی، جس نے کالی رات بنائی!

واک پر نکلے، بیگم سے مزے کی گپ شپ کی، واپس آئے، کوک کا ایک ٹھنڈا ٹھار گلاس پیا، طبیعت کو کچھ راحت محسوس ہوئی تو سوچا ذرا پرانی واکیں یاد کر لی جائیں۔

اس زمانے میں صبح کی سیر ہوتی تھی۔ اور وہ اتنی مشرف و مرعوب بہ ولایت نہیں تھی کہ اسے واک کہا جاتا۔ ہم لوگ شاید چوتھی پانچویں جماعت میں ہوتے تھے۔ فجر کی نماز گرمیوں میں پانچ سوا پانچ بجے صبح ہوتی۔ ہم لوگ اس سے ایک گھنٹہ پہلے اٹھ جاتے تھے۔ اکثر خاور ساتھ ہوتا، کبھی کبھی فقیر اکیلا نکل جاتا۔

ہفتے میں تین چار روز ضرور صبح کی سیر کی جاتی اور جب جانا ہوتا تو دادی کو کہہ کر سو جاتے۔ وہ بے چاری صبح صبح جیسے ہی خود جاگتیں ہمیں بھی جگا دیتیں۔ اور صبح بھی کیا، ہوتی تو وہ رات ہی تھی۔ چار بجے جوان اٹھ جاتے۔ منہ ہاتھ دھویا، رات والی پتلون چڑھائی اور نکل پڑے دونوں بھائی فٹافٹ۔ پہلی منزل حسین بھائی کا گھر ہوتی تھی۔ وہ گھر بچپن کے ان گھروں میں سے تھا جہاں اماں ابا آرام سے جانے بھی دیتے تھے اور خود بھی تحفظ کا احساس رہتا تھا کیوں کہ وہ ہم سے بڑے تھے اور فل ٹائم نمازی، پرہیز گار اور اچھے بچے تھے۔

اس زمانے میں موبائل وغیرہ کا تو کوئی تصور نہیں تھا، ان کا گھر دو گلیاں چھوڑ کر تھا، تو بس پہنچ کر ہلکے سروں میں دروازہ بجا دیا جاتا، حسن یا حسین بھائی دروازہ کھول دیتے اور ہم لوگ اندر۔

اصل میں ہم لوگ چار بجے اس لیے اٹھتے تھے کہ حسن حسین بھائی کو نماز کے وقت سے پہلے جا لیں۔ اگر نماز کا وقت ہو جاتا تو بھیا پھر پندرہ بیس منٹ کا انتظار تو کہیں نہیں گیا تھا۔ حسین بھائی بے چارے کبھی کبھی ساتھ چل بھی پڑتے لیکن حسن بھائی کی نماز قضا ہو جائے، ناممکن۔ تو بس مجبورا جانماز کے ساتھ بیٹھے رہتے کہ وہ فارغ ہوں تو روانگی کا قصد کریں۔ کبھی کبھار جعفر بھی ساتھ چلنے کو تیار ہو جاتے، وہ چھوٹے تھے سب سے، لاڈلے بھی تھے، تو اس طرح چار پانچ بچوں کی ٹیم تیار ہو جاتی اور سب کے سب اقبال پارک روانہ ہو جاتے۔

یہ ملتان کا اقبال پارک تھا، اب بھی ہے، وہیں ملتان کرکٹ کلب کے ساتھ، نواں شہر چوک پر، تو ہم سب صبح سوا چار یا حد ساڑھے چار بجے وہاں پہنچ جاتے۔ گلیاں بالکل سنسان، سڑک پر اکا دکا گاڑی گزر جاتی یا ہمارے ہی جیسے کوئی سحر خیز کرکٹ کھیل رہے ہوتے، اس سے زیادہ آدم ذات نظر نہیں آتی تھی۔ وہاں پہنچ کر پارک کے چکر لگانا شروع ہو جاتے۔ جو بچہ تھک جاتا وہ سلائیڈز کا رخ کرتا۔ سیڑھیاں چڑھ کر پھسلنے میں ہی اچھی خاصی ورزش ہو جاتی۔ پھر جب پھرتیاں زیادہ آ جاتیں تو اسی سلائیڈ پر دونوں طرف پاوں رکھ رکھ کر اوپر چڑھ جاتے اور سیڑھیوں کا تکلف بھی ختم ہو جاتا۔ پھر یہ مقابلہ شروع ہو جاتا کہ سلائیڈ سے ہی چڑھ کر پہلے کون اوپر پہنچے گا۔

ادھر یہ سب چل رہا ہوتا ادھر خاور میاں ننگے پاوں خوب زور زور سے قدم رکھ کر گھاس پر چلتے۔ شبنم کے قطرے بھی بے چارے ان کے اس لالچ میں رگڑے جاتے کہ آنکھیں خوب تیز ہوں گی۔ باقاعدہ آنکھیں کھول کھول کر سبزہ دیکھتے کہ خوب طراوت ملے گی اور نظر ہمیشہ چھ بٹا چھ رہے گی۔ فوج میں جانے کا بھی شوق تھا اور صبح کی سیر کا مضمون بھی رٹا ہوا تھا بھائی کو، تو بس اسی دھن میں بڑھے چلو، بڑھے چلو ہوتا رہتا۔ لیکن، چند برس بعد ہی سن چھیانوے میں چشمہ لگوا بیٹھے۔ پھر زندگی کا ہر میڈیکل یاروں نے کانٹیکٹ لینز لگا کر بھگتایا۔ آج کل انہیں نہار منہ پانی پینے کے فوائد معلوم ہو گئے ہیں، خدا زندگی دے اور وہی فوائد دے جو پڑھے تھے کہ روز صبح ایک جگ پانی کا ختم کرتے ہیں تو آنکھیں کھلتی ہیں۔

تو یہ سب کرتے کرتے باقاعدہ روشنی پھیلنا شروع ہو جاتی اور دوسرے لڑکے بھی پارک میں پہنچنا شروع ہو جاتے۔ بس وہ وقت ہماری واپسی کا ہوتا، ہاں کبھی کبھی نانا ابا کے گھر سے خرم بھائی اور فہیم آئے ہوتے تو پلاسٹک کے انڈے اور بیٹ سے کرکٹ بھی کھیل لی جاتی۔ یہ سب بھی مگر آدھ پون گھنٹے میں سمٹ جاتا اور ٹولی واپسی کو رواں دواں ہوتی۔

اب ہمیں مسجدوں سے نکلتے ہوئے نمازی ملتے۔ تھکے ہارے چوکی دار ڈیوٹیاں نمٹا کر جا رہے ہوتے۔ تانگے والے گھوڑوں کو چست کر رہے ہوتے، کوئی بہت ہی تنگی کے مارے مسافر بھی نظر آ جاتے جو سواری کے انتظار میں کھڑے ہوتے۔ واپسی پر بھی پہلا سٹاپ حسین بھائی کا گھر ہوتا۔ ان کو رخصت کر کے اپنے گھر کی راہ لی جاتی۔ گلی میں داخل ہوتے تو اکثر پہلا چہرہ ماسٹر رشید کا نظر آتا یا پھر صوفی اکرم صاحب کا، جن کا آنا جانا پانچ وقت مسجد میں رہتا تھا۔ پھر وہ چنوں والا نظر آتا جو چھابا سر پر اٹھائے گھومتا تھا اور اس کے بعد گھر آ جاتا۔

واک کے بعد ڈٹ کر ناشتہ ہوتا اور اکثر ہم لوگ دوبارہ سو جاتے۔ ایک آدھ گھنٹے بعد دوبارہ اٹھتے اور اسکول کی تیاری پکڑی جاتی۔ لیکن اس وقت تک گلیاں اور سڑکیں ہر رنگ کی مخلوق سے بھر چکی ہوتیں اور مرزا یار سنجی گلیوں کی آس لیے بستہ لٹکائے لٹل سکالرز سکول کی راہ لیتے۔

آج کیا آپ اپنے بچوں کو، جو چوتھی یا پانچویں جماعت میں ہوں، اس طرح صبح یا دن کو بھی کہیں کھیلنے بھیجیں گے؟

ہرگز نہیں بھیجیں گے۔ جواب ہو گا، بھئی حالات ہی اتنے خراب ہیں۔ وہ تو واقعی ہیں، اسی لیے آپ کے اور ہمارے بچے اب موبائل، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ پر پلتے ہیں اور ان کا بچپن ویسا ہو ہی نہیں سکتا جیسا آپ کا تھا، جیسا ہمارا تھا، جگ سے نیارا تھا۔ رہے نام سائیں کا!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain