پورنو گرافی ، مذہب اور اخلاقی جرائم


(گزشتہ سے پیوستہ)
قصہ نہ سادہ ہے نہ مختصر۔ کچھ رنگینی ڈھونڈتے ہیں پر صاحب دل صرف سنگینی دیکھتے ہیں۔ یہ طویل بات پہلے مضمون میں سمٹ نہ سکی تو کچھ اور لفظ لکھ ڈالے ہیں۔ مفروضوں کا سلسلہ دراز ہے۔ داستان طولانی ہے۔

اس کڑی میں اگلا مفروضہ جو ہمیں بے حد پسںد ہے وہ یہ کہ پورن فلموں اور چائلڈ پورنو گرافی کی وجہ سے ریپ کی شرح بڑھ رہی ہے۔ کسی حد تک میڈیا والے مفروضے سے جڑا یہ مفروضہ بھی بہت عام ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ہیجان انگیزی سے کسی بھی انسان کے اندر موجود شر کو ہوا ملتی ہے لیکن اسے ریپ کی بنیادی وجہ سمجھنے سے پہلے کچھ اعدادوشمار اور حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔ پورنوگرافی یا عریانی کی تصویر کشی بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تاریخ۔

پورنوگرافی کا مقصد بلاشبہہ ہیجان انگیزی اور جنسی رغبت کو ابھارنا ہے لیکن مختلف زمانوں میں اور مختلف علاقوں میں پورنوگرافی کی تعریف بدلتی رہی ہے۔ دیکھنے والوں نے میکال انجیلو کے برہنہ داود کے مجسمے کو بھی اس ذیل میں رکھا۔ اجنتا کے غاروں میں موجود سنگتراشی کے شاہکار بھی اسی فہرست میں درج ہوئے۔ میسوپوٹیمیا کے قدیم مجسمے، سمیریوں کی تصاویر اور دیر المدینہ سے برآمد ہونے والے مصری ورق برد بھی اس تعریف میں سموئے گئے۔ منٹو،عصمت چغتائی اور واجدہ تبسم کو بھی اسی فہرست میں درج کیا گیا۔ وہ الگ بات ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فہرست ادب اور آرٹ کے عظیم سرمائے میں بدلتی گئی۔

آج بھی آپ نیویارک کے میوزیم آف ماڈرن آرٹ المعروف موما میں جائیں تو عریاں تصاویر کے ساتھ کئی ایگزیبٹس میں ایسی دستاویزی فلمیں بھی دیکھ سکتے ہیں جن پر ہمارے یہاں فوری فتویٰ صادر ہو جائے لیکن فنون لطیفہ کو سمجھنے والے سنجیدہ اذہان کے لیے ان میں کوئی ہیجان انگیزی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ گھٹیا پورنو گرافی دنیا کی ایک بڑی انڈسٹری ہے۔ ہر ملک میں ریڈ لائٹ ایریاز موجود ہیں۔ ہمارے یہاں لاہور کی ٹبی گلی پر جب ضیاء دور میں یلغار ہوئی تو یہ مخصوص ریڈ لائٹ ایریا پورے شہر میں پھیل گیا۔ زندگی میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ملا ہو جس نے پورنو گرافی کسی شکل میں نہ دیکھی ہو۔کیا یہ سب ریپسٹ بن گئے۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہے۔ پورنو گرافی بھی کسی حد تک ایک عمل انگیز ضرور ہے لیکن یہ ریپسٹ بنانے کی فیکٹری نہیں ہے۔ آپ پورنو گرافی پر پہرے کیسے بٹھائیں گے۔ ہم یہ دیکھ چکے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں ہر بچے نے بھی پراکسی کا لفظ سیکھ لیا اور پورنو گرافک ٹریفک کی فی کس شرح میں ہم دنیا کے اولین ممالک میں شمار ہونے لگے۔ تربیت سے ہمیں گریز ہے اور جا بجا ناکے لگا کر ہم ہر مسئلے کو حل شدہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں نوجوان نسل کے ساتھ اعتماد اور کھلی فضا کا رشتہ استوار کرنا ہے نہ کہ جنسی گھٹن اور بداعتمادی کا لیکن یہ بات بھی ہمارے اہل فکر کو گوارا نہیں ہے۔

اور آگے بڑھنے تو سب سے مقبول مفروضہ جس کا جاپ ہمارے دانشورانِ ملت اور وارثان منبر ہمہ وقت کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ مذہب سے دوری کی وجہ سے ریپ جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یہ مفروضہ اس بنیاد پر قائم ہے کہ اخلاقی اقدار مذہب کا ثمر ہیں۔ آرتھر سی کلارک نے کہا تھا کہ تاریخ انسانی کا سب سے عظیم المیہ اخلاقیات کا مذہب کے ہاتھوں اغوا ہو جانا ہے۔ تاریخ میں مذہب کے اساطیری ظہور کو اگر ایک طرف رکھ دیں تو یہ تجزیہ کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ معروف سامی اور غیر سامی مذاہب کے مروج ہونے سے پہلے معاشرتی اور سماجی شعور اس نہج پر پہنچ چکا تھا جہاں اخلاقی معیار ایک ناگزیر لازمہ بن گئے تھے ۔ مذاہب نے اسی مروجہ معیار کو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اپنا حصہ بنایا۔ نہ صرف یہ بلکہ علاقائی اور موسمی تہوار بھی اسی طرح مذاہب میں جذب ہوتے گئے لیکن اس کے بعد سے مذہب نے ان پر مکمل حق جما لیا۔  ویسے جو لوگ مذہب سے دوری کو ریپ کی وجہ سمجھتے ہیں انہیں فرانسیسی ناولسٹ ستان دال کا ناول سرخ و سیاہ اور ڈینئل ہاتھورن کا ناول سکارلٹ لیٹر تجویز کرنے چاہیے۔

اگر مذہب سے دوری اخلاقی پستی کا سبب ہے تو پہلا سوال تو یہ ہے کہ ہم کس مذہب کا ذکر کر رہے ہیں۔ علاقائی لحاظ سے مختلف قومیں مختلف مذاہب کی پیروکار رہی ہیں۔ ایک ہی مذہب کے اندر بے شمار تشریحات کی بنا پر ایک ہی مذہب کے اندر گروہ اور ان گروہوں کے اندر مختلف معاشرتی حیثیت رکھنے والے لوگ مذہب کی بالکل مختلف شکل کے قائل ہیں۔ بنیادی اخلاقی اقدار کے حوالے سے مذہبی اور غیر مذہبی معاشروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ بات جنسی رویے یا جنسی آزادی کے حوالے سے ہوتی ہے لیکن یہ بحث محض تضیع اوقات ہے۔ وہ معاشرے جو جنسی آزادی کے قائل ہیں وہاں اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ آپ کسی اور کی جنسی آزادی میں کسی بھی حوالے سے دخیل ہونے کا حق رکھتے ہیں۔ جبکہ وہ معاشرے جو مذہب کے حوالے سے جنسی پابندیوں کے قائل ہیں وہاں خواتین کے جنسی استحصال کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

ایک معاشرے میں شادی شدہ عورت پر زبردستی کرنا ممکن نہیں ہے لیکن دوسرے معاشرے میں جو نام نہاد اخلاق کا علمبردار ہے وہاں میریٹل ریپ کو ریپ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ کثیر الازدواجی اور کم عمری کی شادیاں اس کے علاؤہ ہیں جہاں مرد کے جنسی حقوق ہمیشہ عورت کے حقوق پر فائق اور اس سے برتر قرار پاتے ہیں۔اس سارے موازنے کو چھوڑ بھی دیا جائے تو غیر مذہبی معاشروں میں ریپ کی شرح مذہبی معاشروں سے کم تر ہے۔ ہمارے یہاں اس ضمن میں امریکا کی مثال دے کر بتایا جاتا ہے کہ وہاں کتنے ریپ ہوتے ہیں لیکن اس کا کیا کریں کہ امریکی معاشرہ مغرب کا سب سے قدامت پسند اور سخت گیر مذہبی معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے یہاں ریپ کے سو میں سے ننانوے کیس دبا دیے جاتے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہمنا تک اس ضمن میں وکٹم بلیمنگ کے قائل ہیں نہیں تو ان کا مشورہ یہ ہے کہ عورت کا خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ ونی یا سوارہ یا کم عمری میں بیاہ دی گئی بچی کا ریپ کا مقدمہ نہیں ہوتا۔ ازدواجی ریپ کی اصطلاح تو ہمارے پلے ہی نہیں پڑتی جب کہ اکثر غیر مذہبی معاشروں میں ریپ کا ہر کیس رپورٹ ہوتا ہے۔ اس کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ریپ کونسلنگ کے بہترین ادارے شب وروز کام کرتے ہیں اور بیشتر کیسز میں مجرم سزا پاتا ہے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر مذہب سے دوری وجہ ہوتی تو چرچ کے پادری، مندروں کے پروہت اور مساجد کے امام روزانہ اس جرم کے مرتکب نہ پائے جاتے۔ ہمارے یہاں مدارس میں اور مغرب میں چرچ سے ملحقہ اداروں میں ریپ کی شرح کس قدر زیادہ ہے اس پر بے شمار رپورٹس لکھی جا چکی ہیں۔ تو اگر مذہب کی تبلیغ کے دعویدار ہی اخلاقی برتری کے حامل نہیں ہوتے تو عام مذہبی شخص سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔

یہ محض ایک مفروضہ ہے کہ کسی ایسی شکل میں مذہب کا نفاذ ممکن ہے جو اس اخلاقی برائی کو جڑ سے اکھاڑنے پھینکے۔ مذہب بالکل اسی طرح برائیوں سے آپ کو روکتا ہے جیسے ایک قانون پسند غیر مذہبی معاشرے میں مروج سوشل کنٹریکٹ لیکن ہر دو صورتوں میں آپ کو جرم بھی دکھائی دیتا ہے اور مجرم بھی۔ PEW نے کچھ عرصہ قبل ایک سروے کیا تھا جس میں لوگوں کے جوابات کی بنیاد پر مذہب سے جڑے ہوئے اور مذہب سے دور ممالک کی فہرست مرتب کی گئی تھی۔ حیرت انگیز طور پر وہ معاشرے جہاں مذہب لوگوں کی اولین ترجیح تھا، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے ہر انڈیکس کی کم ترین سطح پر تھے۔ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مذہبی معاشرے کسی بھی طرح غیر مذہبی معاشروں پر اخلاقی برتری نہیں رکھتے۔ اردگرد نظر دوڑا لیجیے۔ خدا اور رسول کے نام پر جان لٹا دینے والوں کا روز کا رویہ دیکھ لیجیے۔ وہ ملاوٹ کرتے ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ جنسی استحصال کرتے ہیں۔ وعدہ خلافی کرتے ہیں۔ بدعنوانی کرتے ہیں۔ بات کرتے ہیں تو لبوں سے کیسے پھول جھڑتے ہیں۔ کتنے امن پسند ہیں۔ کتنے صلح جو ہیں۔ ایک نظر ڈالیے اور پھر اس کا موازنہ کسی یورپی معاشرے سے کر لیجیے۔ اس کے بعد بھی آپ آنکھیں بند کر کے خوش کن نعرے ہی لگانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ ہم تو عرض ہی کر سکتے ہیں۔
(جاری ہے)

ریپ اور برقع

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 127 posts and counting.See all posts by hashir-irshad