میرے ہاتھ میری مرضی تمہاری آنکھیں پھوڑوں یا چھوڑوں؟


انڈیا کے ایک علاقے میں ریپ کے بڑھتے ہوئے سنگین جرم پر ایک سوشل ادارے کی تحقیق پر رپورٹ اور وڈیو بنائی گئی، اس کے مطابق اس علاقے کے گاوئں کے لوگوں سے کیے جانے والے انٹرویوز مطابق ریپ کی تمام تر ذمہ داری، ریپ کا شکار لڑکی پر عائد ہوتی ہے۔ اس بات پر سوشل میڈیا میں بہت واویلا مچا، لوگوں نے گاؤں والوں کو خوب برا بھلا کہا۔ مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے، زیادہ تر مرد اور خواتین اسی سوچ کے حامل ہیں۔ ہمارے انٹلکچوئل دعوے اور ہماری پر سیپشن دو مختلف رخ ہیں، ویسے بھی منافقت ہمارا قومی رویہ ہے اس لیے، ہماری سوچ بھی منافق ہی ہو سکتی ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے اور ہمیں اس کے لیے بہت جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔ بیک وقت ہمارا زبانی دعوی اور ہماری سوچ دونوں مختلف ہیں۔

کچھ سال پہلے مجھے انگریزی رائٹر ہونے پر ایلیٹ ایکٹیویسٹ ہونے کا طعنہ ملا، لوگوں کا خیال ہے جو لوگ انگریری اخبار پڑھتے ہین ان کو انسانی حقوق کا بھی ادراک ہے اور انگریزی میں ہیومن رائٹ پر لکھنے کی ضرورت نہیں۔ بہرحال مجھے لگا کہ اردو کے ذریعے میری رسائی زیادہ لوگوں تک ہو جائے گی۔ اردو ٹائپنگ میں مجھے انگریزی کی نسبت دو گھنٹے زیادہ لگتے ہیں، مگر اس تمام محنت کا ایک فائدہ ہوگا یعنی بحیثیت چائلڈ ایکٹویسٹ، ریسرچر اور ٹیچر میرے تجربے کا فائدہ زیادہ لوگوں کو ہو گا۔ انگریزی کا ریڈر ہو یا اردو کا، ذہنی ارتقاء کا زبان دانی سے تعلق نہیں، بڑے بڑے انگریزی دان بھی سوچ میں جاہل ہیں۔ اسی طرح بہت پڑھے لکھے افراد بھی ذہنی جہالت کا شکار رہتے ہیں۔

وکٹم یعنی کی شکار ہونے والے فرد کو قصوروار سمجھنا سننے میں جتنا واہیات، لگتا ہے در حقیقت پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں طبقوں میں اتنا ہی کامن ہے۔ میری حالیہ ریسرچ چائلڈ ابیوز پر ہے کم از کم دو سو سکول ٹیچرز پر ریسیرچ کی جو کافی لمبی اور ملٹی ڈائمنشنل ہے۔ انیلیسز یعنی تجزیہ کی سٹیج کافی تکلیف دہ تھی، تقریبا پچاس فیصد اساتذہ ( جن میں اکثریت خواتین کی ہے ) کا یہ کہنا ہے کہ جنسی زیادتی میں قصوروار دراصل بچہ خود ہے۔ یہ بات سن کر آپ کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں گی مگر یقین کریں ہم سب اس قومی مجرمانہ سوچ میں سب برابر کے شریک ہیں۔ ریسرچ کے رزلٹ کے مطابق زیادہ تر اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو جنسی تحفظ پر تسلی بخش معلومات ہیں مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ اس ریسرچ کی حتمی رپورٹ ابھی کافی تفصیلی ہے اور بننی باقی ہے۔

قصوروار اساتذہ نہیں ہیں، کیونکہ وہ معاشرے کا حصہ ہیں۔ انڈیا کے ایک گاؤں میں ہونے والی تحقیق جس میں ریپ کی قصوروار لڑکی ہے اور لاہور کے پڑھے لکھے استاد کا یہ سمجھنا کہ جنسی زیادتی کا قصوروار بچہ خود ہے، ان دونوں میں اگر ایک متفقہ نکتہ ہے تو وہ ہے ایک خاص قسم کی سوچ کا، اس سوچ کو نام کچھ بھی دے دیں مسئلہ تو حل نہیں ہوگا۔ ہمیشہ مظلوم سے جرح کرنا اور شک کرنا یہ معاشرتی سوچ ہے۔ تربیت، ٹریننگ اور مسائل پر تحقیق کے بجائے ہم صرف تبصرہ کرتے ہیں۔ یہ ریسرچ میرے قابل احترام استاد ڈاکٹر احمد خلیل کی مدد کے بغیر ناممکن ہے۔ وہ ایک ماہر استاد کی طرح بڑی بڑی الجھن منٹوں میں حل کردیتے ہیں، ہم سب کی زندگی کے کئی مرحلے ہمارے اساتذہ کے بغیر ناممکن ہیں۔ تمام اساتذہ مورد الزام نہیں مگر اکثریت میں ایک ان پڑھ اور پڑھے لکھے کے شعور میں فرق نہیں تو پھر بات کیا کی جائے کجا استاد کا روحانی ماں اور باپ ہونے کا درجہ!

مسئلہ کی بنیاد وہاں سے شروع ہوتی ہے جب معاشرہ عدل پر قائم نہ ہو۔ سڑک، گھر، سکول، دفتر، کھیت اور بازار میں عورت، لڑکی یا بچی اور بچہ غیر محفوظ ہوں اور کسی معمولی یا بڑے حادثے کی صورت میں قصوروار بھی وہ خود ہو، تو پھر مسئلہ طاقت کے توازن کا ہے۔ ایک جنس کو کبھی بچپن میں روک ٹوک نہ کی جائے، ماں بہن کی گالی دینے سے، گھورنے سے، فحش ذو معنی آواز ے سے، واہیات مذاق سے، تو پھر یہ اس کی نیچر کا حصہ بن جائے گی، دوسرے طرف ایک جنس کو مستقل یہ بتایا جائے کہ تم کمزور ہو، تمہاری عزت تو راستے کا پتھر ہے، بس ٹھوکر سے خود بچو تو پھر عدل کیسا! ظالم کو ظلم کا حق دیا جائے اور مظلوم کو خاموش رہنے کا درس تو واقعی انجام اس قدر مایوس کن ہوتا ہے۔

اگر تیرہ سال کا لڑکا سڑک پر سائیکل چلا سکتا ہے، کنسرٹ پر خوش ہو کر تالیاں بجا سکتا ہے اور ایک تیرہ سال کی بچی کو کنسرٹ ِ سائیکل، پارک سب جگہ پر گھورا جائے، مردوں کی آنکھیں جائزہ لیں اس کے تمام جسمانی خطوط کا تو پھر، جیسے تمہاری آنکھیں تمہاری مرضی ویسے میرے ہاتھ میری مرضی، ایک آنکھ پھوڑوں یا دونوں پھوڑ دوں؟ کیونکہ طاقت کے اس بے ہنگم استعمال اور اس کو جائز سمجھنا کسی عقل یا دلیل سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں رہ گیا۔ جو لوگ آگے بڑھ کر سب سے زیادہ خواتین کی آزادی کے مخا لف ہیں اور زبردستی اس کا تعلق بے حیائی سے جوڑتے ہیں، بے ہودہ میسیج ان باکس کرنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں، ان کے فون میں پورن وڈیوز کی بہتات ہوتی ہے، خواتین کی عزت نہ کرنا اور ان کو نہ تسلیم کرنا ان کی اصل بیماری ہے۔ یہ جو کسی بھی بچی، لڑکی یا عورت کو دیکھ کر ان کی سرعام مخصوص حرکت کرنا، آنکھوں میں غلیظ سی چمک کا آنا اور پاس سے گزرنا یہ ایک بیمار ذہن ہے اور ایک بیمار ذہن کا تبصرہ اتنا ہی بیمار ہوتا ہے۔

اسی سوچ کی ایک اور کڑی ہے، ہیش ٹیگ می ٹو، کی مخالفت، جب دل و جان سے عورتیں اور مرد اس جنسی استحصال کو طاقتور کا حق سمجھ لیں تو پھر سوال کچھ ایسے ہی آتے ہیں۔ اس کی مرضی کے بغیر تو نہیں چھیڑا ہوگا؟ اب ہوش آیا ہے؟ اتنی بھولی تو کوئی بھی نہیں ہوتی؟ اب آپ کو سوالوں کی سمت سمجھ آئی تمام تر سوال وکٹم سے کیے جاتے ہیں، اور وکٹم کو جج کیا جا تا ہے، اگر کوئی عورت ماڈرن ہے یا کمزور ان پڑھ، اس کو ہراساں کرنا کسی کا حق نہیں یہ ایک جرم ہے۔ کسی بھی معاملے میں انصاف کے لئے ذہنی انصافیت بھی ضروری ہے۔ صرف عورت سے سوال کرنا تو اس با ت کا ثبوت ہے کہ فیصلہ طے شدہ ہے۔ میشا شفیع ہو یا کوئی گم نام مینا، بشری، صفیہ اس می ٹو کا شکار ہم روز سڑکوں، اداروں اور گھروں میں ہوتے ہیں، سوال ہم سے مت کریں۔ بلکہ صرف اپنے فون کے میسیج دیکھ لیں، کس قدر پورن، فحش مذاق اس میں موجود ہیں، پھر خود سے سوال کریں، آنکھوں کی اس بیماری کا علاج کیا ہے؟

ہو سکتا ہے اس کا تعلق ذہنی بیماری سے ہو، جہاں پر عزت اور تمیز کی کمی ہو۔ آیوڈین کی کمی سے ذہنی کمزوری ہوتی ہے مگر عزت اور احترام کی کمی سے معاشرتی کمزوریاں جنم لیتی ہیں۔ اس سوچ کا علاج ضروری ہے کیونکہ ہم ذہنی بیمار ہوچکے ہیں۔
کٹہرے میں مرد کو بھی لائیں، سوال اس سے بھی کریں جزا اور سزا، عدل اور انصاف کو جنسی تعصب کا چشمہ مت پہنائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں