انڈیا میں نیا قانون منظور، بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سزا موت


انڈیا

AFP

انڈیا کی کابینہ نے حالیہ چند کیسز کے بعد بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے سزائے موت کی تجویز منظور کر لی ہے۔

ملک کی تعزیرات میں اس تبدیلی کے تحت 12 سال سے کم عمر بچیوں کا ریپ کرنے والوں کو موت کی سزا دی جائے گی۔

خیال رہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے حلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔

ریپ کے حالیہ واقعات اور مظاہروں کے بارے میں مزید پڑھیے!

انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

دپیکا سنگھ: ’مجھے بھی قتل کیا جا سکتا ہے‘

کٹھوعہ ریپ کیس کی منتقلی پر حکومت سے جواب طلب

آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا

حکومت کو اس حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ جنسی زیادتی کے واقعات جن میں سے زیادہ تر بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔

انڈیا کی تعزیرات میں کئی جرائم ہیں جن کے لیے انڈیا میں سزائے موت دی جاتی ہے لیکن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ان جرائم میں شامل نہیں تھی۔

انڈیا میں 2016 کے دوران 19 ہزار ایسے کیس رجسٹر کروائے گئے ہیں جو کہ یومیہ 50 سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔

نئے قانون میں کیا ہے؟

یہ ایگزیکیٹیو آرڈر وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں کابینہ کے خصوصی اجلاس میں منظور کیا گیا۔

اس کے تحت 12 سال سے کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے گی۔

16 سال سے کم عمر لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے افراد کے لیے کم سے کم جیل کی سزا کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے اس حکم نامے کی کاپی کو دیکھا ہے اور اس میں بچوں یا آدمیوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اب کیوں؟

جنسی زیادتی کے حالیہ دو واقعات کی وجہ سے پورے ملک میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہو گیا جب پولیس نے ایک آٹھ سالہ مسلمان بچی کے ساتھ انڈیا کے زیرا انتظام کشمیر کے کھٹوعہ علاقے میں جنوری میں چند ہندوؤں کی جانب سے کی جانے والی جنسی زیادتی کی تفصیلات جاری کیں۔

عوام میں اس وقت غصہ بڑھ گیا جب گذشتہ ہفتے حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک رکن پر 16 سالہ لڑکی کا ریپ کرنے کا الزام سامنے آیا۔

انڈیا میں سزائے موت پر عمل درآمد کیسے ہوتا ہے؟

انڈیا میں بہت کم ہی سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ گذشتہ دہائی میں ایسا صرف تین بار ہی ہوا ہے۔

سال 2012 میں دہلی بس کیس میں چار افراد کو سزائے موت دی گئی تھی لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

آخری بار کسی شخص کو موت کی سزا 2015 میں دی گئی تھی جس پر 1993 کے ممبئی حملوں کی مالی معاونت کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

خیال رہے کہ انڈیا میں سزائے موت پھانسی کے ذریعے دی جاتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6312 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp