اور خطرے کی گھنٹی بج گئی


آج صبح نیند سے اٹھی تو وقت بہت ہو چکا تھا۔ تیار ہونے لگی تو معلوم ہوا کہ پانی کی موٹر خراب ہے اور ٹینکی میں پانی جتنا بھی تھا وہ استعمال ہو چکا۔ اب جو ذرا سا پانی موجود تھا بھی اس وجہ سے استعمال نہیں کیا جا رہا تھا کہ اگر شام تک پانی کی موٹر ٹھیک نہ ہوئی تو کیا کریں گے۔ خیر پانی کی عدم دستیابی کا سننا ہی تھا کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔ گہری سوچ میں گم ہوگئی کہ اب کیا کرنا ہے؟ دفتر جانا ہے اور گھر میں ایک پانی کا قطرہ نہیں ہے۔ ایک قطرہ!

بس اس بات کا ذہین میں آنا تھا میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ پانی کے بغیر کیا زندگی ہے؟ اس کائنات میں بہت سی نعمتیں ہیں۔ جو خدا سے ہمیں زندگی گزارنے کے لیے ملی ہیں۔ ان نعمتوں میں ویسے بہت سی چیزیں ہیں مگر پانی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ صد افسوس یہ کہ اس نعمت کا ضیاع ہم روز کرتے ہیں۔ ابھی کچھ روز پہلے کی تو بات ہے کہ ہمارے ہاں! اخبار اور ٹی وی چینلز پر لال پٹی میں نشر ہوتی ہیڈلائنز بتا رہیں تھی کہ دنیا میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

کیپ ٹاؤن، جس کا شمار براعظم افریقہ کے متمول ترین شہروں میں ہوتا ہے، میں پانی کا بحران پیدا ہوگیا ہے بلکہ شدید بحران میں تبدیل ہوگیا ہے۔ وہاں پر پچھلے برس اگست سے ہی آبی قلت شروع ہوگئی تھی اور اب تو عالم کچھ یوں ہے کہ وہاں گاڑی دھونے، لان پانی سے صاف کرنے یہاں تک کہ ایک ڈیڑھ منٹ سے زائد نہانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور تو اور وہاں کے ہوٹلز میں آٹومیٹک باتھ سسٹم ہے یعنی ایک منٹ کہ بعد آپ کا شاور خود ہی بند ہوجائے گا۔ اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ مسئلہ ایک دم سنگین کیسے ہوگیا؟ تو جناب! کیپ ٹاؤن جیسے شہر میں ماہرین نے یہ گھنٹی آج سے دس سال پہلے ہی بجا دی تھی جب وہاں کی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے چھ ڈیم موجود تھے جن میں ہر وقت پچیس ارب گیلن پانی موجود رہتا تھا مگر شاید وہاں بھی غیر ضروری استعمال اور پانی کا ضیاع جاری تھا۔ اور ڈویلپمنٹ اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کا استمعال زیادہ ہونا، اب قدرت کی کرنی دیکھیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان ڈیموں میں آبی ذخائر کی سطح چوبیس فیصد رہ گئی ہے چنانچہ اب وہاں پر آبی مارشل لاء نافذ ہو چکا ہے۔

مزید خطرہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے تو شاید کیا یقیناً کیپ ٹاؤن دنیا کا پہلا ڈے زیرو بننے والا ہے۔ ایک ہوش ربا بات یہ کہ یہ مسئلہ کیپ ٹاؤن تک نہیں رہے گا بلکہ ماہرین کے مطابق اس کے باد ایک سو انہتر شہر آبی قلت کا سامنا کریں گے جن میں کراچی، لاہور اور کوئٹہ بھی شامل ہیں۔ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستان میں پانی کا بحران موجود ہے اور یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرے گا۔

ماہرین کے مطابق اس سال ملک میں بارشیں چالیس فیصد کم ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں دو بڑے ڈیموں تربیلا اور منگلا کی جھیلیں آدھی بھری ہوئی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مختلف ذخائر سے باسٹھ ہزار کیوسک پانی چھوڑے جانے کے باد تربیلا ڈیم میں آبی سطح 1389.45 فٹ ہے جوکہ ڈیڈ لیول سے محض 90.95 فٹ بلند اور منگلا ڈیم میں آبی سطح 1061.60 فٹ ہے جوکہ ڈیڈ لیول سے 21.61 فٹ بلند ہے۔ یعنی ڈرنے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں ڈیموں میں پانی کی آمد اخراج سے کم ہے۔

ظاہر ہے بدلتے ماحول اور بڑھتی گرمی کی وجہ سے گھروں میں بھی پانی کا استعمال دن بہ دن زیادہ ہو رہا ہے۔ اب ایک اور مسئلہ یہ بھی کہ مون سون سیزن آنے والا ہے مطلب کہ سیلاب کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ اب ایسے میں بھارت بھی پانی چھوڑے گا مگر المیہ یہ کہ ہم یہ پانی سٹور نہیں کر سکتے کیونکہ آج تک جتنی بھی حکومتیں آئیں ہیں، سب نے پانی کے بحران سے ملک کو نکالنے کی باتیں تو کی ہیں مگر عمل درآمد نہیں کیا۔ کوئی ایک بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا۔ اس کا مطلب کہ مون سون میں دریاؤں کا لاکھوں کیوسک پانی سمندر کی نذر ہوجائے گا اور پھر ہم ہر سال کی طرح اس نہج پہ آجاتے ہیں جہاں سے شروع کرتے ہیں۔ پھر ہم لوگ بھارت کو پانی چھوڑنے اور بعد میں سارا سال روکنے پر بھی لعن طعن کریں گے۔ مگر یہ بات نہیں کریں گے کہ ملک میں اس وقت کم از کم تین ڈیموں کی اشد ضرورت ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2040 تک دنیا میں بہت سے ممالک آبی بحران کا شکار ہوں گے ان میں ہمارا ملک بھی شامل ہے۔ پانی ایک نعمت ہے اور اس کا احساس یقیناً ابھی اتنا نہیں ہوگا جتنا اس نعمت کے مشکل سے ملنے پر ہوگا۔ اس لیے ہم سب کو کفایت شاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے سے نمٹنا ہے اور حکومت کو بھی چاہیے کہ ایک بہترین واٹر مینجمنٹ ملک میں لائیں جس سے ہم زیادہ سے زیادہ اس بحران سے دور رہیں کیونکہ پانی ضرورت ہی نہیں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں