ضمیر بڑی کُتی چیز ہے۔ سالا کبھی بھی جاگ جاتا ہے


ضمیر کیا ہے؟ اس کا جواب نہایت مشکل ہے۔

ہمارے ایک عالم (جو کہ آن لائن نہیں ہیں) دوست کے گمان کے مطابق ضمیر ممکنہ طور پر انسانی جسم کے اندرپیدائشی طور پر چھپا ہوا ایک ایسا درندہ ہے جو وقت پڑنے پر ویسے تو لمبی تان کر سویا رہتا ہے مگر اکثر وقت گزرنے کے بعد اور کافی امثال میں برسوں بعد ہڑبڑا کر جاگ جاتا ہے۔ اور پھر تماشے لگوانا شروع کر دیتا ہے۔ ان کی یہ رائے ہمیں کسی آن لائن عالم کے علم کے معیار کو چیلنج کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔

اس رائے کو مگر ہمارے ایک جاننے والے نے مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق ضمیر کی کارستانیوں سے پریشان ہو کر عمل جراحی کے ماہرین نے انسانی جسم کے اندر ایک مرتبہ ضمیر نامی درندہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ پورا کا پورا انسان چیر پھاڑ ڈالا گیا مگر ضمیر نامی یہ درندہ نہ ملا۔ اس پر جراحوں نے یہ رائے دی کہ ضمیر انسانی جسم کے اندر ہمیشہ سے موجود نہیں ہوتا بلکہ کسی بیرونی مداخلت کی وجہ سے اس کا انسانی جسم میں جراثیمی ظہور ہوتا ہے اور پھر یہ کسی کونے میں ایڈز کے جراثیم کی مانند چپ چاپ دہی کھا کر پڑ رہتا ہے اور سازگار حالات اور واقعات کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ جیسے ہی اس کو سازگار حالات یا واقعات یا پھر دونوں ایک ساتھ میسر آتے ہیں یہ ایک طویل انگڑائی لے کر جاگ جاتا ہے اور جس جسم کے اندر دہی کھایا ہوتا ہے اس کی نمک حرامی بلکہ دہی حرامی کرتے ہوئے اسی کے دل و دماغ پر قابض ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ انسان اپنے اندر قابض ضمیر کا قیدی ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ رائے حقیقت سے زیادہ قریب محسوس ہوئی۔

مشہور اداکار شاہ رخ خان نے اپنی ایک فلم ہیپی نیو ایئر میں ایک ڈائلاگ بولا تھا کہ ”قمست بڑی کُتی چیز ہے۔ سالی کبھی بھی پلٹ جاتی ہے۔ “ ہمارے ایک دوست نے شاہ رخ خان بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ ادا کیا تھا کہ ”ضمیر بڑی کُتی چیز ہے۔ سالا کبھی بھی جاگ جاتا ہے“۔ جبکہ ہمارے نزدیک ضمیر کے جاگنے کی سب سے آسان تعریف ”مؤقف کا تبدیل ہونا“ ہے۔

ضمیر کے جاگنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ اس کے جاگنے کی شرط محض سازگار حالات کا میسر ہونا ہے۔ اکثر جب کسی کا ضمیر جاگتا ہے تو اس سے منسلک یا غیر منسلک بہت سوں کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جب ضمیر جاگتا ہے تو مقبوضہ انسان صرف اپنے جاگے ہوئے ضمیر کی آواز سنتا اور اس پر لبیک کہتاہے۔ اسے اپنے ماضی کی ایسی ایسی باتیں یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں جن کو ماضی میں وہ بہت پسند کرتا رہا ہوتا ہے اور راضی و خوشی ان اقوال، افکار اور اعمال میں شامل رہا اور ان کا حصہ رہا ہوتا ہے۔

ضمیر نامی یہ جراثیم مگر دل و دماغ پر قبضہ جما کر ماضی کے پسندیدہ افکار، اقوال اور اعمال کی ایک نئی تصویر پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ننانوے فیصد واقعات میں یہ تصویر ماضی کے برعکس نہایت منفی ہوتی ہے۔ ضمیر انسانی دماغ کو ایسی ایسی توجیہات پیش کرتا ہے کہ وہ ان کے زیر اثر اپنے ماضی کے اکثر پسندیدہ اعمال سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پھر یہ ضمیر اس انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی اس نفرت کا سرعام اعلان کرے اور دنیا کو بھی اپنی نفرت میں شامل کر لے۔ اور پھر یہ ضمیر ایسے ایسے تماشے لگاتا اور لگواتا ہے کہ دیکھتے دیکھتے عقل خبط ہونے لگتی ہے۔

ضمیر ایک بین الاقوامی جراثیم ہے اور بلا تفریق رنگ، نسل، جنس اور مذہب کسی میں بھی گھس بیٹھتا ہے۔ دنیا میں ضمیر جاگنے کے بے شمار واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ضمیر صرف ایک بار ہی نہیں جاگتا بلکہ بعض اوقات یہ ایک بار جاگ کر پھر سے سو جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد دوبارہ جاگ جاتا ہے۔ کچھ واقعات میں ضمیر کے سونے اور جاگنے کے واقعات ایک ہی جسم میں تواتر سے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کے ضمیر تو اس قدر جاگ گئے تھے کہ انہوں نے اس کو سلانے کے لیے نیند کی گولیاں تک کھا لیں۔ اس کے علاوہ ضمیر کو سلانے کے لیے بارودی گولی اور دیگر مناسب لوازمات کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس کے بعد ضمیر اور مقبوضہءِ ضمیر دونوں ہمیشہ کی نیند سو گئے۔

پاکستان میں ضمیر کے جاگنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود پاکستان پرانا ہے یعنی ستر سال۔ کئی سرکاری ملازمین نے اپنے ضمیر جاگنے کے بعد صوفیانہ رنگ میں بیسٹ سیلر کتابیں تحریر کیں۔ ایک سابق صدر اور آمر نے ضمیر کے جاگے بغیر ہی یہ کام کر دکھایا۔

ہمارے سیاست دانوں کے ضمیر ہر کچھ عرصہ کے بعد عموماً گہری نیند سے غنودگی کے عالم میں آ جاتے ہیں۔ نیم خوابیدگی کے عالم میں معصوم سیاست دانوں سے وفاداریاں بدلوا دیتے ہیں۔ معصوم سیاست دان سمجھتا ہے کہ ضمیر جاگا ہوا ہے مگر ضمیر چندھیائی ہوئی آنکھوں سے سیاست دان کی غلط فہمی یا خوش فہمی پر مسکراتا ہے اور اطمینان سے کروٹ بدل کر مزید پانچ سال کے لیے سو جاتا ہے۔

کچھ لوگ ضمیر جاگنے پر نظریاتی بھی ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا ضمیر جاگنے کا ثبوت مل جائے تو انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس مل جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا ضمیر جاگ جائے تو کسی نئے صوبے کی جدوجہد شروع کر دیتے ہیں اور صوبے کی بجائے قسمت بنا کر ایک بار پھر ضمیر کے قیدی بن جاتے ہیں۔ کسی کا ضمیر جاگ جائے تو وہ کنٹینر پر جا چڑھتا ہے اور کوئی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش میں اپنے دانت بجوانا شروع کر دیتا ہے۔ سیاست دانوں کے علاوہ کچھ اوروں کا ضمیر بھی کبھی کبھار جاگ جاتا ہے مگر وہ اس کا اعلان نہیں کرتے بس خاموشی سے ضمیر کے کہنے پر اپنا کام دکھاتے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کی ایک معروف شخصیت کا ضمیر بھی کچھ برس کے بعد زوردار طریقے سے جاگا ہے مگر اس پر لب کشائی کر کے ہم خواتین کے حقوق کے مخالف ہونے کا طعنہ نہیں سہنا چاہتے اس لیے اپنی رائے محفوظ کر لیتے ہیں۔ ابھی صرف اتنا کہ دیتے ہیں کہ ہمارے گھر کی خواتین نے اس مظلوم خاتون سے اظہار یکجہتی سے یکسر انکار کر دیا ہے۔ اور ہم اپنے گھر کی خواتین سے اختلاف کی جرات اپنے اندر نہیں پا رہے کیونکہ ہمارے اندر ابھی ضمیر نے اپنی نیند ختم نہیں کی۔ جب ہمارا ضمیر کچھ برس کے بعد جاگے گا تب اس پر ہم بھی دھڑلے سے اظہار خیال کریں گے۔ اور ممکن ہے ہم آپ کو کسی ضمیر مارچ میں اس قسم کے بینر تھامے نعرے بلند کرتے دکھائی دیں کہ ”میرا ضمیر میری مرضی“ اور ”اپنا ضمیر خود جگاؤ“ اور ”جس نے ضمیر کو سلایا اس نے رکشہ چلایا“ وغیرہ۔

ویسے ایک مکہ ہوتا ہے جو لڑائی ختم ہو جانے کے بعد یاد آتا ہے۔ اس مکے کا اصولی پڑاؤ مکہ باز کا اپنا منہ ہی ہوتا ہے اور غالباً طویل نیند کے بعد جاگنے والے ضمیر کا بھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 80 posts and counting.See all posts by awais-ahmad