جب تک میشا شفیع جیسی عورتیں ہیں، جنسی ہراسانی ہوتی رہے گی


اس سے پہلے کہ آپ عنوان پڑھ کر برانگیختہ ہوں ٹھنڈے دل سے چند گذارشات سن لیجیے۔ میں خواتین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی ہراسانی کو حد درجہ کمینگی مانتا ہوں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں خواتین کو کمزور سمجھ کر ان کا ناشائستہ رویہ پورے معاشرے کے منہ پر الٹے ہاتھ کو زناٹے دار تھپڑ ہے۔ میں اس منطق کو بھی فضول مانتا ہوں کہ خواتین کے الزامات کو بنا ثبوت سچ کیوں مان لیا جاتا ہے جبکہ مرد اگر ایسا الزام کسی عورت پر لگائے تو لوگ یقین نہیں کرتے۔ آ ج کے متمدن معاشرے میں بھلے ہی آپ کو گاڑیاں دوڑاتی اور دفتروں میں اعلیٰ منصب پر کام کرنے والی خواتین نظر آتی ہوں لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے کہ خواتین کی اکثریت آ ج بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھی جا رہی ہے۔

افسوس ہوتا ہے کہ برصغیر کی خواتین بالخصوص مسلمان عورتوں کو تعلیمی میدان میں جس پسماندگی کا سامنا ہے اس کی تلافی میں کم از کم ایک صدی درکار ہوگی۔ خواتین کے ساتھ تفریق، ان کو ہراساں کیا جانا، ان کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا یہ سارے مسائل خواتین کا امپاور نہ کیے جانے کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک عورت جو نہ تو پڑھی لکھی ہے، نہ اقتصادی اعتبار سے خود کفیل ہے، نہ اس کا کوئی آسرا ہے اس کے ساتھ زیادتی کرتے وقت زیادتی کرنے والا بے فکر ہوتا ہے کہ یہ عورت اپنی فریاد لے کر کہیں نہیں جا سکتی۔ یہ زیادتی کرنے والا کوئی غیر بھی ہو سکتا ہے اور اس کا شوہر بھی۔ افسوس ناک صورت اس وقت بنتی ہے جب معاشرے کی نسبتا بیدار، با اختیار اور صاحب آواز عورتیں زیادتی ہونے پر خاموش رہتی ہیں۔

اداکار علی ظفر نے ماڈل میشا شفیع کے ساتھ زیادتی کی یا نہیں؟ اس کا تعین تو جانچ پڑتال اور کچہری میں ہوگا لیکن میرا پہلا شکوہ علی ظفر سے نہیں میشا شفیع سے ہے۔ میری رائے میں اگر میشا شفیع چاہتیں تو ان کے ساتھ ایک بار کے بعد ہراسانی ممکن تھی ہی نہیں۔ ذرا سوچیئے انہوں نے علی ظفر پر الزام لگایا اور دنیا بھر میں یہ بات سرخی بن گئی۔ اگر یہی کام انہوں نے علی ظفر کی پہلی حرکت کے بعد کیا ہوتا تو کیا انہیں دوسری، تیسری، چوتھی بار اس اذیت سے گزرنا پڑتا؟ اب بہت سی دیگر خواتین کہہ رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی علی ظفر نے ہراسانی کی، اگر میشا شفیع نے بروقت علی ظفر کو بے نقاب کر دیا ہوتا تو شاید ان کے بعد کسی اور خاتون کو علی ظفر کے ہاتھوں ہراسانی کا شکار نہ ہونا پڑتا۔ معلوم ہوا کہ میشا شفیع کی خاموشی نہ صرف ان کے لئے مزید ہراسانی کا سبب بنی بلکہ دیگر عورتیں بھی اس عذاب سے گزریں۔

اب ذرا اس سوال پر آ جائیے کہ میشا شفیع چپ کیوں رہیں؟ اس سلسلہ میں خود میشا ایک انٹرویو میں کہتی ہیں کہ جب علی ظفر نے انہیں پہلی بار جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا تو انہوں نے اپنے شوہر محمود رحمان کو اس بارے میں بتایا جس پر دونوں میاں بیوی نے خاموش رہنا ہی مناسب جانا۔ اس خاموشی کی تاویل میں میشا کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوچا کہ میں (میشا) اور وہ (علی ظفر) کون ہیں؟ آ خیر یہ جو ہوا ہے یہ کہاں تک جائے گا۔ بس اب اسی مرحلے پر رک جائیے، میشا کے بیان کا مطلب نکلتا ہے کہ انہوں نے جنسی ہراسانی جیسے گھٹیا جرم پر اس لئے پردہ ڈال دیا کہ اب یہ دوبارہ نہیں ہوگا اور شاید اس لئے کہ اس بات کے پھیلنے سے میشا کی ہی بے عزتی ہوتی۔

اس مرحلہ پر مجھے یہ قبول کرنے میں تردد نہیں کہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی شعور اکثر خواتین کے منہ پر پٹی کا کام کرتا ہے۔ جنسی جرائم کی وارداتوں میں ہم مجرم سے زیادہ متاثر کو اچھوت بنا دیتے ہیں۔ مطلب ہمیں اپنی اس فکری بیماری کا علاج کرنا چاہیے۔ معاشرے کی بیمار ذہنیت کے باجود میشا جیسی بیدار اور با اختیار عورت سے ہم یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ جنسی ہراسانی پر چپ رہے گی اور اس کا شوہر بھی اس پر خاموشی کو ہی بہتر جانے گا۔ یہ رویہ ہی ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے کہ کیا میشا اور ان کے شوہر نے تابناک کریئر اور پیشہ وارانہ مستقبل کی خوشگوار امیدوں کے سبب جنسی ہراسانی جیسی حرکت کو ٹالنے لائق مان لیا۔

میشا آگے کہتی ہیں کہ دوسری مرتبہ علی ظفر نے انہیں اُس وقت ہراساں کیا جب وہ دونوں ایک کنسرٹ کے سلسلے میں جیم روم میں تھے۔ سوال کیا گیا کہ جب علی ظفر پہلے ہی آپ کو چھیڑ چکا تھا تو پھر اس کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کا کیا سبب؟ اس کے جواب میں میشا نے کہا کہ گائیکی ان کی روزی روٹی ہے اور ان کا کام انہیں مل رہا تھا اس لیے وہ انکار نہیں کرسکتی تھیں۔ بس اسی مرحلے پر مجھے میشا شفیع سے شکایت ہے۔ مطلب پیشہ وارانہ کامیابی کے لئے نہ صرف جنسی ہراسانی جیسے گھٹیا رویے کو نہ صرف برداشت کیا جا سکتا ہے بلکہ اسی شخص کے ساتھ کام جاری رکھ کر اس کو مزید جسارت کی تحریک بھی دی جا سکتی ہے؟

اگر مجبوریوں کے نام پر جرائم پر خاموش رہنے کی منطق اگر رواج پا جائے تو سماج میں نراج کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ دفتروں میں رشوت دینے سے لے کر اعلیٰ افسران کے دباؤ میں ذیلی افسران کا قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنا یہ سب مجبوری اور مصلحت کے کمبل میں چھپ سکتا ہے۔ میشا کے ساتھ علی ظفر نے جس وقت زیادتی کی اس وقت وہ اپنی پہچان بنا چکی تھیں۔ ہراسانی کے واقعہ کے بعد ان کے لئے امتحان کی گھڑی تھی کہ وہ پیشہ وارانہ مفادات اور خواتین کو جنسی تفریح کا سامان سمجھنے والی ذہنیت کے خلاف اقدام میں سے کسی ایک کو چن لیں۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ انہوں نے خواتین کو جنسی تفریح کا سامان سمجھنے والی ذہنیت کو ننگا کرنے کے بجائے اپنے پیشہ وارانہ مفادات کو مقدم جانا۔ انہوں نے جنسی ہراسانی کے مجرم فرد کے چہرے سے نقاب نوچنے کے بجائے اپنے کریئر کی کامیابیوں کو زیادہ ترجیح دی۔ میشا جیسی عورتوں سے ہم یہ امید رکھتے تھے کہ وہ بیمار مرد ذہنیت کے خلاف آواز بنیں گی لیکن یہ کیا وہ تو مصلحت کے پردوں کے پیچھے جا چھپیں؟

میشا اس وقت آواز اٹھاتیں تو علی ظفر کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ ملتی، وہ دوسری خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے سے پہلے سو بار سوچتا اور شاید اس کو اپنی سابقہ حرکتوں کی کوئی مناسب سزا بھی ملتی لیکن میشا نے آواز نہ اٹھا کر یہ سب ہونے کا راستہ بند کر دیا۔ آ ج میشا تاویل کر سکتی ہیں کہ میرے سامنے میرا کیرئر تھا، روزی روٹی تھی، جگ ہنسائی کا ڈر تھا لیکن ان کی دلیلیں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ با اختیار اور بیدار خواتین کی ایسی مصلحت پسندی ہی کی وجہ سے کسی علی ظفر کی ہمت ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے من کی کرتا رہے۔ مجھے تو می ٹو کیمپین کی بھی یاد آتی ہے، کیسا ہنگامہ کٹا تھا جب اداکاراؤں نے فلم سازوں پر ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ ان کی بھی تو یہی فریاد تھی کہ ہم اس وقت بولتے تو فلموں میں کام نہیں ملتا، کریئر کیسے بنتا؟ میں کسی جنسی ہراسانی کو جواز فراہم نہیں کر رہا ہوں لیکن جب میشا جیسی کوئی بااختیار، صاحب آواز اور بیدار خاتون کسی بھی مصلحت کے سبب کسی مرد کی کمینگی پر چپ رہتی ہے تو وہ اس مرد کو آئندہ جرم کے لئے حوصلہ دیتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 77 posts and counting.See all posts by malik-ashter