عمرا ن خان کا درست اقدام


 

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے روپیہ لے کر سینٹ الیکشن میں ووٹ دینے والے بیس ارکان صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کرکے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مختلف سیاستدان ہیں۔ ان کا شمار ان سیاستدانوں میں نہیں ہوتا جو گنگا گئے تو گنگا رام اور جمنا گئے تو جمنا داس کا راگ الاپتے ہوں۔ یا پھر محترمی چودھری شجاعت حسین کی طرف مٹی پاؤکے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے برے اور بھلے کی تمیز ہی بھول جائیں۔ یہ فیصلہ پاکستان کی سیاست میں تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں۔ دیگر جماعتوں کو بھی یہ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ پارٹیاں ان ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی کریں جنہوں نے پارٹی کے فیصلے برعکس اپنے ووٹ اورضمیر کے دام لے کر اپنی اور پارٹی کی جگ ہنسائی کا باعث بنے۔ دقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو صرف الیکشن جیتنے والے گھوڑے درکار ہوتے ہیں نہ کہ اخلاقی ساکھ رکھنے والی شخصیات۔ اس لیے دیگر جماعتوں سے یہ توقع نہیں کہ وہ بکے ہوئے ارکان کو اپنے صفوں سے بے دخل کریں گے۔

ووٹ اور ضمیر فروخت کرنے کے کلچر نے نوے کی دہائی میں جناب نواز شریف اور بے نظیر بھٹوکی چھتر سایہ میں جڑیں پکڑیں اور ابھی تک جسد قومی کے ساتھ کمبل کی طرح چمٹاہوا ہے۔ ان پارٹیوں نے ووٹ کی خریدوفروخت کے بیوپار کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا۔ غلام اسحاق خان جو اس وقت صدر پاکستان تھے ‘نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: پارلیمنٹ میں ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے۔ ارکان کو بکنے اور بھگوڑاہونے سے روکنے کی خاطر انہیں پنجاب اور وفاقی حکومت ”حفاظتی‘‘ تحویل میں لے لیتی تھی۔ اس وقت سے سیاست میں گدھے گھوڑے کی تمیز مفقود ہوگئی اور یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے۔

تحریک انصاف اور عمران خان نے اپنی پارٹی کی بنیاد تبدیلی کے نعرے پر رکھی۔ اس نعرے نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف مائل کیا۔ گزشتہ چار پانچ برسوں کے دوران انہوں نے ڈٹ کر عدالتوں اور عدالتوں سے باہر کرپشن کے خلاف بھرپور جنگ لڑی۔ اس کالم نگار کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ کرپشن کے خلاف لڑنے کا ہمارے معاشرے میں کوئی فائدہ نہیں۔ ہماراسماجی شعور ابھی اس سطح کا نہیں جہاں رائے عامہ برے اوربھلے کی تمیز کرسکے۔ بدعنوانی کے داغ دھبوں سے پاک اور سچائی کے پرچارکوں کے ساتھ کھڑی ہو اور بدعنوانوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردے۔ تحریک انصاف نے جس طرح اپنے ارکان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا اس نے مجھے اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی پر مجبور کردیا ہے۔ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ عمران خان سیاسی نفع نقصان سے بالاتر ہوکر پاکستان کی بھلائی کے لیے سوچنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عام الیکشن سر پر ہیں۔ عمران خان کے سوا کوئی نہیں‘ جو الیکشن کے زمانے میں اپنے منتخب نمائندوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اعلان کرسکتاہے۔ الیکشن کے زمانے میں ایک ایک کارکن اور حامی کی سیاسی جماعتیں اور امیدوار ترلے کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کھڑارہے۔ ان حالات میں عمران خان کے اس اعلان نے پورے ملک میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کردی کہ کرپشن اور بدعنوانوں کے خلاف بھی لڑا اور جیتا جاسکتاہے۔ اگر عمران خان اپنے اعلان پر قائم رہتے ہیں اور بکے ہوئے ارکان اسمبلی کے خلاف قانون حرکت میں لاتے توا نہیں پاکستان میں ایک بار پھر قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ الیکشن میں بھی لوگوں کی بھاری اکثریت ان کی حمایت کرسکتی ہے۔ حالیہ برسوں میں جو لوٹے اور چلے ہوئے کارتوس ان کے قافلے میں شامل ہوئے عوام انہیں بھی معاف کرسکتے ہیں بشرطیکہ عمران خان تحریک انصاف سے کرپٹ عناصر کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

اس کے برعکس نون لیگ کا المیہ یہ ہے کہ اس کی ساری کی ساری قیادت بری طرح دھری گئی ہے۔ مقدمات پر مقدمات پر کھل رہے ہیں اور شریف خاندان کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں بچا۔ عدالتوں، ججوں اور سلامتی کے متعلقہ اداروں سے تصادم کے باعث ان کے مقبول امید واردوسری جماعتوں کا رخ کررہے ہیں۔ شہباز شریف کی کوششوں کے باوجود نون لیگ چھوڑے والوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتاجارہاہے۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ زیادہ مقبولیت نہیں حاصل کرپارہا کیوں عام شہری پریشان حال ہیں اور پوچھتے ہیں کہ گزشتہ دس سال سے پنجاب میں اقتدار میں ہونے کے باوجود ووٹ کو کتنی عزت دی گئی؟ یہ ووٹروں کے روزگار، صاف پانی، صحت اور تعلیم کا کوئی انتظام کیا گیا۔ سب سے تکلیف دہ عمل یہ ہے کہ حکمران خاندان اوربا اثر سیاستدانوں کا کوئی بھی فرد بیمار ہوتو فوری طور پر لندن کے معالجوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ بچے بالغ ہوجائیں توا نہیں تعلیم کے لیے برطانیہ یا امریکہ کے تعلیمی اداروں میں داخل کرادیا جاتاہے۔ چنانچہ عام آدمی حکمرانوں کے ان لچھنوں سے نہ صرف تنگ ہے بلکہ اس میں انتقام کا جذبہ بھی ابھر چکا ہے۔ اس جذبے کا اظہار اگلے عام الیکشن میں ہونے کا امکان ہے۔

اگر پنجاب میں نوازشریف کی نون لیگ کی جڑیں گہری ہیں لیکن گزشتہ دس برس سے مسلسل حکمرانی اور قومی اداروں سے ٹکراؤ کی موجودہ کیفیت نے تحریک انصاف کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر میدان میں اتار دیا ہے۔ شہبازشریف اور چودھری نثا رکے درمیان ہونے والی پے درپے ملاقاتوں سے امید پیدا ہوئی ہے کہ نون لیگی اسٹبلشمنٹ اور ”اداروں ‘‘ کے مابین جاری سردجنگ ختم کو ہے۔ غالباً نوازشریف کو لندن میں بیگم کلثوم نوازکی عیادت کے لیے جانے کی اجازت دینا مفاہمت کی طرف ایک قدم ہے لیکن ابھی عشق امتحان اور بھی ہیں۔ نوازشریف کا لب ولہجہ بھی اس امر کی چغلی کھاتاہے کہ وہ مفاہمت کا کوئی معاہد ہ کرنے کے خواہش من ہیں۔ ابھی یہ کہنا ہے قبل ازوقت ہے کہ نون لیگ اور اسٹبشلمنٹ میں مفاہمت ہوجائے گی یا نہیں لیکن جس طرف ملکی صورت حال جارہی ہے اس کے مطابق تحریک انصاف کا ستارہ چمک رہاہے جب کہ نون لیگ کا ستارہ مسلسل گردش میں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بلوچستان کے بعد نون لیگ کی آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتوں کے خلاف عدم اعتماد کی تیاریاں عروج پر ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 81 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood