امریکہ اور سعودی عرب آمنے سامنے


phpThum اگلے ہفتے کے دوران امریکی صدر باراک اوباما جب ریاض میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کریں گے تو دونوں رہنماﺅں کے درمیان فوٹو سیشن کے خوشگوار لمحوں کے بعد اہم اور سنگین امور پر بات ہو گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان سات دہائیوں سے زیادہ پر محیط باہمی تعلقات اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکی کانگریس میں یمن میں سعودی بمباری اور 6 ہزار سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے پس منظر میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس دوران ایک بل بھی سینیٹ کی کمیٹی نے منظور کیا ہے جس کے تحت امریکہ میں دہشت گردی میں ملوث ملکوں کو مقامی عدالتی کارروائی سے استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ قانون 1976 کے ایک قانون کو معطل کر سکتا ہے جس میں غیر ممالک کو امریکی قوانین سے استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے۔ اوباما حکومت اس بل کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس کے منظور ہونے کی صورت میں 9/11 کے سانحہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سعودی عرب پر ہرجانے کے دعوے دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ مسودہ قانون اس قدر حساس اور اہمیت کا حامل ہے کہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے گزشتہ ماہ واشنگٹن کے دورہ کے دوران اس بل کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔ انہوں نے وزیر خارجہ جان کیری اور کانگریس کے اراکین سے ملاقاتوں میں سعودی وزیر خارجہ شاہ سلمان کا یہ پیغام امریکی سیاستدانوں کو پہنچایا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو سعودی عرب، امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری ختم کرنے اور مختلف شعبوں میں لگے ہوئے ساڑھے سات سو ارب ڈالر نکالنے پر مجبور ہو جائے گا۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مجوزہ بل منظور ہونے کی صورت میں امریکی عدالتیں سعودی اثاثوں کو منجمد کر سکتی ہیں۔ اس لئے اپنے سرمائے کے تحفظ کے لئے ان کا ملک اپنا سرمایہ امریکہ سے نکال کر کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اگرچہ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کے لئے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس لئے عام طور سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے یہ دھمکی محض خوفزدہ کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اول تو سعودی عرب کے لئے اتنا کثیر سرمایہ نکالنا اور سکیورٹی سرٹیفکیٹ اور دوسرے اثاثے فروخت کرنا عملی طور سے ممکن نہیں ہو گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایسے اقدام سے پورا عالمی مالیاتی نظام شک و شبہ اور شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔ دنیا کے سب ملک ایسی صورت میں سعودی عرب کو اس کا ذمہ دار قرار دیں گے۔ دنیا کا مالیاتی نظام بنیادی طور پر بھروسہ اور اعتمار پر استوار ہے۔ کسی ایک ملک کی طرف سے کسی مخصوص ملک سے کثیر اثاثے نکالنے کا مقصد یہ ہو گا کہ موجودہ نظام خامیوں کا شکار ہے کہ دنیا کا انتہائی دولت مند ملک بھی اس پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ لیکن مالی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دریں حالات سعودی عرب اس قسم کا اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتا۔ سعودی ریال ڈالر کے ساتھ منسلک ہے۔ امریکہ میں سعودی اثاثے فروخت ہونے کی صورت میں ڈالر پر فوری منفی اثر مرتب ہو گا جس کے نتیجے میں سعودی ریال اور معیشت بھی تباہ ہو جائے گا۔ ایک مالی تبصرہ نگار کا کہنا ہے کہ ”آپ ہمیں تباہ کریں گے تو خود بھی برباد ہو جائیں گے“۔

صدر اوباما کی حکومت نے کانگریس کو بتایا ہے کہ ایک ایسا بل منظور کرنے سے جو براہ راست سعودی عرب کو متاثر کرے گا، ملک پر سنگین اقتصادی اور سفارتی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح اگرچہ 9/11 کے مقتولین کے لواحقین کو امریکی عدالتوں میں سعودی عرب کے خلاف مقدمات قائم کر سکیں گے لیکن اس کے نتیجے میں دہائیوں پر استوار دو ملکوں کا قریبی تعلق بھی برباد ہو جائے گا۔ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بعد امریکہ کا قریب ترین حلیف ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں بڑھی ہیں۔ صدر باراک اوباما نے اگرچہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کر کے سعودی شاہی خاندان کو مشتعل کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی سعودی عرب اور اس کے حامی خلیجی ممالک کو فروخت کیا ہے۔ امریکی سینیٹرز اب اس فروخت پر بھی پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کے اس قسم کے فیصلے ملکی مفادات کے لئے شدید نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ خاص طور سے سعودی عرب کو بطور مملکت استثنیٰ کو ختم کرنے کا بل منظور ہونے کی صورت میں دوسرے ملک بھی ایسے ہی قانون منظور کر سکتے ہیں۔ اس طرح دوسرے ملکوں میں امریکی شہریوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ خاص طور سے دوسرے ملکوں میں خدمات سرانجام دینے والے فوجیوں کے مشن پر اس کے دور رس اور مہلک اثرات مرتب ہوں گے۔ ناقدین امریکی حکومت کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجوزہ قانون میں صرف اس ریاست کا استثنیٰ ختم کرنے کی بات کی گئی ہے جو امریکہ میں دہشت گردی اور امریکی شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہو۔ بعض تبصرہ نگار اس صورتحال میں یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر سعودی عرب واقعی 9/11 کے واقعات میں کسی سطح پر ملوث تھا تو امریکی حکومت کو نہ تو اس کا دفاع کرنا چاہئے اور نہ ہی اس بات کی پرواہ کرنی چاہئے کہ اس فیصلہ کے سفارتی اور مالی اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ امریکی زندگیوں کی حفاظت امریکی ریاست کی سب سے اولین ذمہ داری ہے۔

سعودی عرب پر 9/11 کے دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات گزشتہ پندرہ برس سے امریکہ میں کسی نہ کسی طرح سے گردش کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ 9/11 کمیشن نے جو رپورٹ تیار کی تھی اس میں سعودی عرب کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ شواہد سامنے نہیں آئے کہ سعودی عرب کی حکومت یا اعلیٰ عہدیدار دہشت گردوں کی براہ راست مدد کرنے میں ملوث تھے۔ سعودی عرب اور امریکی حکومت اس سے یہی نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ کمیشن نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم 2002 میں کانگریس نے 9/11 سانحہ کے بارے میں ایک علیحدہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کی تھی۔ 900 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے 28 صفحات کو سابق صدر بش کی حکومت نے کلاسیفائیڈ قرار دیتے ہوئے شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب ان 28 صفحات میں پوشیدہ ہے کہ کیا سعودی حکام کسی طرح القاعدہ اور 9/11 کے حملوں میں ملوث حملہ آوروں کی اعانت میں ملوث تھے۔ صدر باراک اوباما آئندہ 60 روز کے اندر ان خفیہ صفحات کو عام کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اگر ان صفحات کے شائع ہونے سے یہ بات سامنے آئی کہ رپورٹ میں سعودی عرب کو 9/11 حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا لیکن امریکی حکومت نے ان حصوں کو شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو یہ معاملہ سعودی امریکہ تعلقات کے علاوہ صدر باراک اوباما کی شہرت اور قوت فیصلہ کے بارے میں بھی سنگین سوالات سامنے لا سکتا ہے۔ اس سال صدارتی انتخاب بھی منعقد ہو رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی 8 سال تک وہائٹ ہاﺅس سے محروم رہنے کے بعد اب بہر صورت یہ انتخاب جیتنا چاہتی ہے۔ یہ 28 صفحات شائع ہو گئے تو ملک کی انتخابی مہم پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

ان حالات میں صدر باراک اوباما اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ایک پیچیدہ اور مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ دونوں لیڈروں کی خواہش ہو گی کہ وہ ماضی کی طرح اس بحران سے بھی صحیح سلامت باہر نکل آئیں اور دونوں ملک باہمی تعلقات سے استفادہ کرتے رہیں۔ امریکہ نے سعودی عرب کے تعاون سے ہی مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور مختلف ملکوں میں اپنی مرضی کی حکومتوں کو استوار کرنے کے لئے کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم 9/11 کا حملہ امریکہ کا اہم ترین اور حساس ترین معاملہ ہے۔ وہاں کے عوام کسی صورت ایسے کسی ملک یا قوت کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو ان حملوں میں ملوث رہا ہو۔ سعودی عرب نے 2001 سے اب تک اس قسم کے ہر الزام کو مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا محافظ رہا ہے۔ لیکن شام کی خانہ جنگی اور اس کی وجہ سے دولت اسلامیہ یا داعش جیسے دہشت گرد گروہ کی افزائش میں سعودی اور دیگر عرب ملکوں کے سرمائے نے جو رول ادا کیا ہے، وہ امریکی رائے عامہ کے شبہات کو تقویت دینے کا سبب بن رہا ہے۔ عالمی جہادی تحریک کے قوت پکڑنے کے ساتھ سعودی عرب کا سخت گیر شرعی نظام بھی زیر بحث آتا ہے اور مغرب میں عام طور سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف سعودی عرب میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور عدم مساوات پر مبنی نظام کے خلاف کیوں بات نہیں کرتے۔

اس دوران امریکہ میں دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے فرانسیسی شہری ذکریا موسووی ZAKRIA MOUSSAOUI نے گزشتہ برس ایک عدالتی بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ سعودی شاہی خاندان اور اعلیٰ عہدیدار القاعدہ اور اسامہ بن لادن کی حمایت و مدد کرتے تھے۔ اس بیان میں موسووی نے سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل السعود پر بھی القاعدہ کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ وہ 1979 سے 2001 تک سعودی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر اور 2005 سے 2007 تک امریکہ میں سفیر رہے تھے۔ وہ شاہی خاندان کے اہم رکن ہیں۔ انہوں نے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے فلاحی ادارے شاہ فیصل فاﺅنڈیشن کی بنیاد رکھی تھی۔ اگرچہ سعودی حکومت نے الزامات کو لغو اور واہیات قرار دیتے ہوئے، اسے ایک مجرم کی ہرزہ سرائی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد سعودی امریکہ تعلقات میں دراڑ ڈالنا ہے۔ تاہم اس بیان میں سعودی عرب کے شاہی خاندان پر براہ راست الزام نے شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔ اس کی روشنی میں لواحقین اور ماہرین کی طرف سے یکساں طور سے کانگریس کی رپورٹ کے خفیہ رکھے جانے والے 28 صفحات کو جاری کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

صدر باراک اوباما کی قیادت میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ اور افغانستان سے فوجیں نکالنے اور ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا آغاز کر کے اس پورے خطے کے بارے میں نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن شام کی جنگ ، داعش کی طرف سے خلافت قائم کرنے کے اعلان اور افغانستان میں اتحادی افواج کے اہداف پورے نہ ہونے کی وجہ سے امریکہ کو بدستور خطے میں سعودی عرب جیسے طاقتور اور قابل بھروسہ ساتھی کی ضرورت ہے۔ اسی لئے امریکی حکومت ان تعلقات کو محفوظ رکھنے کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہی ہے۔ لیکن اسے ایک طرف امریکی رائے عامہ کے دباﺅ کا سامنا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب کی حکومت بدلتے ہوئے حالات میں اپنا رویہ اور حکمت عملی تبدیل کرنے میں سست روی کا شکار ہے۔

ملک کے اندر بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور سعودی شاہی خاندان شہری آزادیاں دینے اور جمہوری اصلاحات متعارف کروانے کی بجائے یمن اور شام کی جنگ کی آڑ میں اپنی اہمیت جتانا چاہتا ہے۔ یہ حکمت عملی مسلسل مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ریاض میں صدر اوباما اور شاہ سلمان جب آمنے سامنے بیٹھیں گے تو پوری صورتحال ان کے سامنے ہو گی۔ اس موقع پر ہونے والے فیصلہ امریکہ سعودی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن اور دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کے لئے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ اس بار سعودی عرب کو سفارتی زبان میں ”زیادہ رعایتیں“ دینے کی ضرورت ہو گی۔ بصورت دیگر سعودی عرب ، شاہی خاندان اور پورا مشرق وسطیٰ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali