ہماری درسی کتابوں میں برطانوی نوآبادیت کا ذکر ہونا چاہیے


اکیسویں صدی میں پاکستانی درسی کتابوں پر بھرپور بحث ہو چکی ہے۔ ان مباحثات نے ہماری کتابوں کے انگنت نقص نکال چھوڑے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک پہلو اب بھی ہماری توجہ کا منتظر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں برطانوی نوآبادیت اور استعماریت کا ذکر ہی نہیں، اور ان موضوعات کی غیرموجودگی نے ہمارے معاشرے پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔

ہماری درسی کتابوں نے برطانیہ کا ہماری تاریخ اور سماج پہ اثرصحیح طرح سے نہیں جانچا۔ ان کتابوں میں برطانوی حکومت کی پالیسیوں اور ان کے منفی نتائج کا کوئی ذکر نہیں۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے سکولوں میں ملک کی تاریخ صرف مذہب کو مدِنظر رکھے تحریر کی جاتی ہے۔ جدہر جدہر برطانوی راج کے ظلم کی مثالیں مٹائی گئی ہیں وہاں ہمیں ہندوؤں اور مسلمانوں کے رشتہ میں موجود تناؤ سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اگر بنگالی قحط کا، ہمارے شہروں کی مسماری کا، اور پورے برِصغیر کی کاٹن انڈسٹری کی تباہی کا ذکر کہیں بھی موجود نہیں، تو ہندو مسلمان فساد کی مثالیں ہر دوسرے صفحے پر پائی جاتی ہیں۔

کوئی بھی کتاب کھولی جائے تو اس میں دیا گیا narrative ہندوؤں اور مسلمانوں کا زیادہ ہوتا ہے اور انسانوں کا کم۔ بیسویں صدی کی پیچیدہ تاریخ اور اس کے متعدد کٹھن مسائل کو صرف مسلم لیگ اور کانگریس اور قائدِ اعظم اور گاندھی کی سیاست کے ذریعے سمجھا جاتا ہے۔ ہماری تاریخ کا اسلوبِ بیان ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس کو ایسے فریم ورک کے ذریعے سمجھیں جو کہ برطانوی نوآبادیاتی راج اور ہندو اکثریت میں فرق نہیں کر پاتا۔ لہٰذا ہم جب 14 اگست مناتے ہیں تو ہمارے لیے آزادی کا مطلب برطانوی راج سے چھٹکارا نہیں بلکہ ہندوستانی اکثریت سے نجات ہوتا ہے۔ اسی کی کچھ وجہ تو یہ ہے کہ ہماری کتابیں برِصغیر کے مسلمانوں کی وضاحت ایسے تیار کرتی ہیں کہ قاری یہ سمجھنے میں غلط نہیں ہوگا کہ برِصغیر کے تمام مسلمان تحریکِ پاکستان سے متفق تھے۔ جب درسی کتابوں میں مولانا ابولکلام آزاد اور باچا خان جیسے اہم ترین مسلمان سیاسدان شامل ہی نہ ہوں تو اس بات پر یقین کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے دشمن صرف ہندو لوگ ہی تھے اور کہ ان مسلمانوں کو قیامِ پاکستان کے علاوہ آزادی کی کوئی راہ نہیں نظر آئی تھی۔

بے شک انیسویں اور بیسویں صدیوں میں برِصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کئی اہم لمحوں پہ تضاد رہ چکے ہیں، لیکن ہماری تاریخ میں ایسے بھی انگنت واقعات ہیں جو تعاون اور بھائی چارہ کا دلیل دیتے ہیں۔ ایسے واقعات کو تاریخ سے زائل کرنا نہ صرف سخت جھوٹ بلکہ تاریخ کو حال کے لیے محظ ایک کھیل بنا دینا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ ہماری تاریخ میں سے بھگت سنگھ جیسے کردار غائب ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں برطانوی استعماریت کے خلاف لگاؤ سے کام لیا۔ بھگت سنگھ کا پاکستان کی اجتماعی یادداشت سے غائب ہونے کا ثبوت ہماری درسی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ روز مرہ زندگی کے مناظر میں بھی پایا جاتا ہے۔ آج تک لاہور شہر میں بھگت سنگھ کی زندگی کا کوئی یاد گار موجود نہیں: اس تختہ دار کا کوئی نشان نہیں جدھر بھگت کو پھانسی چڑھائی گئی تھی اور بریڈ لا ہال — جس کے باہر اس نے جان سونڈرز کو ہلاک کیا — بند اور سنسان ہے۔

دراصل دشواری یہ ہے کہ جب ایک ملک اپنے آپ کو نظریاتی قرار دیتا ہے تو اس کی تاریخ میں سے ہر ایسی چیز کو زائل کرنا ضروری بن جاتا ہے جو اِس نظریے کے خلاف ہو۔ لہٰذا کیونکہ پاکستان اپنے آپ کو دو قومی نظریہ پر قائم سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ لازمی ہے کہ یہ اپنی تاریخ اور زمین سے ان تمام واقعات اور شخصیات کو مٹا دے جن کا وجود اس نظریے کے خلاف ثبوت بن سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ واضح ہے: ہم اکثر ایسی تاریخ پڑھتے ہیں جس میں نہ صرف بھگت سنگھ اور مولانا ابولکلام آزاد جیسی اہم شخصیتیں غائب ہیں بلکہ ہم ان سب واقعات کو بھی بھول جاتے ہیں جن میں لوگوں نے تمام مذہبی اختلاف کو ترک کر کے استعماریت اور نوآبادیت کے خلاف کام کیا: میثاق لکھنؤ اور تحریک خلافت ایسے واقعات کی صرف کچھ مثالیں ہیں۔

کسی بھی قوم کی تاریخ اس کی اجتماعی یادداشت اور شعور پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ تاریخ کا تعلق صرف ماضی سے نہیں بلکہ یہ اپنا کردار حال میں ہی تو ادا کرتی ہے۔ اس لیے جب ہم اپنی تاریخ میں سے برطانوی استعماریت اور نوآبادیت کے ذکر کو ختم کرتے ہیں تو ہم اس اجتماعی تجربے کو بھلا دیتے ہیں جس کا ہندوؤں اور مسلمانوں نے ساتھی بن کر سامنا کیا تھا۔ اور جب ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ماضی میں بھی کئی بار ساتھی رہ چکے ہیں تو ہمارے لیے ایک ایسے حال اور مستقبل کا تصور ممکن نہیں رہتا جس میں ہم پھر پرامن زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔ اگر ہم اب اپنی تاریخ کو برطانوی نوآبادیات کے بغیر تحریر کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک تقسیم کے بھیانک واقعہ سے آگے نہیں بڑھ پائے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان قائم ہو چکا ہے اور قائم رہے گا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اچھا رشتہ نہیں رکھ سکتے یا کہ ہم اکھٹے دونوں ملکوں کی ترقی کے لیے کام نہیں کر سکتے۔ یہ مقاصد بالکل پورے ہو سکتے ہیں اگر ہم ایک دوسرے کو دشمن کی جگہ ساتھی کے طور پر سمجھیں۔ اور یہ صرف ایک اجتماعی تاریخ کے ذریعے ممکن ہے جو کہ ہمیں برطانوی استعماریت اور نوآبادیت کے تجربے میں ملتی ہے۔

اس بات کا کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں درسی کتابوں کے علاوہ ایسے متعدد سنگین مسائل موجود ہیں جن کا حل ڈھونڈنا روز بروز مزید ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ سکولوں کی کمی، ان میں غیر معیاری تعلیم کی فراہمی، رٹا بازی کا رواج، اور اقلیتوں کے خلاف نفسیاتی اور جسمانی تشدد — ایسے عام اور روزمرہ مسئلوں کو مسترد کر کے انسان آخر کیوں تاریخی نیراٹِو جیسے عقلی موضوعات کو توجہ دے؟ اگر ہم اپنے تعلیمی نظام کے مسائل کو یوں ایک دوسرے سے الگ کر کے سمجھیں تو پھر شاید واقعی ایسے عقلی موضوعات پر غور کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر ہم ان مختلف مسائل میں موجود شباہات کو پہچانیں، اور اگر ہم ان کی جڑوں پر غور کریں، تو شاید یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کسی ایک مسئلے کا علیحدہ حل نہ صرف ناکافی ہے بلکہ نامکن بھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

زین رشید میاں کی دیگر تحریریں
زین رشید میاں کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں