سیالکوٹ میں مسلمان لڑکے نے مسیحی لڑکی کو آگ لگا دی


پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کو ایک مسلمان لڑکے نے جمعہ کے روز آگ لگا دی جس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

آگ لگنے سے 24 سالہ عاصمہ کا 80 فیصد جسم جھلس گیا تھا اور وہ لاہور کے میئو ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

بی بی سی کےنامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق سیالکوٹ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کو آگ لگانے والے نوجوان محمد رضوان گجر کو گرفتار کر کے انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ 336 بی کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ کے والد یعقوب مسیح نے بتایا کہ ملزم عاصمہ سے شادی کا خواہش مند تھا۔ سیالکوٹ پولیس نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ طور پر ملزم لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے پر اکسا رہا تھا۔ جبکہ ملزم کے پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق جواب میں لڑکی اس کو لڑکی کا مذہب اپنانے کا کہہ رہی تھی۔

عاصمہ کے والد یعقوب مسیح نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری بیٹی نے اس کو بتایا دیا تھا کہ وہ مختلف عقائد سے تعلق رکھتے ہیں اوروہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی اور یہ کہ جہاں اس کے والدین چاہیں گے وہ وہیں شادی کرے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ رضوان نے لڑکی کے انکار کے بعد اس کو آگ لگائی۔

ملزم اور لڑکی سیالکوٹ میں محلہ پومن پورہ کے رہائشی ہیں۔ یعقوب مسیح نے بتایا کہ ان کی بیٹی کسی محلہ دار کے گھر پر کام کی غرض سے گئیں تھیں اور جیسے ہی وہ گھر واپس آنے کے لیے لوٹیں تو گلی میں کھڑے رضوان نے ان کو آگ لگا دی۔

محلے کے لوگوں نے عاصمہ کو سول ہسپتال سیالکوٹ منتقل کیا تاہم ان کا جسم زیادہ جلا ہونے کی وجہ سے بعد میں انہیں میئو ہسپتال لاہور کے برن سنٹر منتقل کر دیا گیا۔

یعقوب مسیح کو خدشہ تھا کہ ان کی بیٹی پر تیزاب سے حملہ کیا گیا ہے جس سے ان کے چہرے سے لے کر پاؤں تک تمام بدن جل گیا ہے۔ تاہم سیلکوٹ میں تھانہ سول لائنز کے انچارج انسپکٹر شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکے نے پولیس کو دیے جانے والے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ لڑکی کو مٹی کے تیل سے آگ لگی۔

گرفتار ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ عاصمہ کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اور آگ حادثاتی طور پر لگی۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ وہ عاصمہ سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر اصرار کر رہے تھے جس پر دونوں میں رضا مندی نہیں ہوئی۔

انسپکٹر شاہد کے مطابق ملزم نے دعوٰی کیا کہ وہ لڑکی کو آگ نہیں لگانا چاہتا تھا اور محض اسے ڈرانا چاہتا تھا۔ اس نے لڑکے ساتھ کھڑے ہو کر پیروں میں مٹی کے تیل کی بوتل توڑی اور ماچس کی تیلی جلائی جو تیل پر گر گئی جس سے لڑکی کے کپڑوں کو فوراٌ آگ نے لپیٹ میں لے لیا۔

’اس کو آگ لگتا دیکھ کر ملزم پیچھے ہٹا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ تاہم بعد میں اسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر لڑکا اور لڑکی دونوں کافی عرصہ سے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملزم پر مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6312 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp