پشتون تحفظ تحریک سے کس کو کیا خطرہ ہے؟


قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کی طرف سے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے سامنے آنے والی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پنجاب حکومت نے اس تنظیم کو آج لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک خط میں اس انکار کی وجہ سیکورٹی خدشات بتائی گئی ہے۔ لیکن اسی شہر میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے اور احتجاج بھی ہوتے ہیں اور جلسے جلوسوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے لیکن حکومت کا کوئی ادارہ ان پر قابو پانے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ ابھی چند روز پہلے تک داتا دربار کے باہر لبیک تحریک کا غیر قانونی دھرنا دو ہفتے سے زائد مدت تک جاری رہا۔ اس دھرنےکی قیادت کرنے والے لیڈر وں کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت بھگوڑے قرار دے کر گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے چکی تھی لیکن پنجاب حکومت نے ان لوگوں کو گرفتار کرنے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ بالآخر ان لوگوں کے ساتھ درپردہ مفاہمت کے ذریعے انہیں دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ اس ’افہام و تفہیم ‘ کے نتیجہ میں دہشت گردی ، توڑ پھوڑ، معصوم انسانوں کے قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے معاملات میں ملوث لوگوں کے خلاف تمام مقدمات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ لیکن وہی حکومت پشتون نوجوانوں کی تحریک کی آواز دبانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس تحریک کو پاکستان دشمن قرار دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کے بارے میں خبروں کا بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں مختلف اخبارات میں لکھنے والے کالم نگاروں کی تحریروں کو صرف اس وجہ سے شائع کرنے سے انکار کردیا گیا کہ ان میں پشتون نوجوانوں کے مطالبات کو سننے، سمجھنے اور ان کی جائز باتوں کو ماننے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ حیرت ہے کہ ملک میں آزادی صحافت کا غلغلہ ہے۔ ٹاک شوز اور اخباری تبصروں میں سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں اور جس کا جو دل چاہتا ہے الزام عائد کرتا ہے اور اس پر کسی قسم کی کوئی اخلاقی، پیشہ وارانہ یا قانونی قدغن عائد نہیں ہوتی۔ لیکن پشتون نوجوانوں کی ایک مقبول تحریک کو ان کی بات سننے سے پہلے ہی مسترد کرنے کا سخت گیر رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لئے پی ٹی ایم کو جلسہ کرنےکی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ یہ بات مستحسن اور خوش آئند ہے کہ قبائلی علاقوں کے نوجوان ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت میں اپنے دل کا حال بتانے کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے سے نکل کر لاہور میں جلسہ کے ذریعے ان افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ علاقائی یا علیحدگی کی تحریک ہے۔ اس تحریک کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کی ریاست پاکستان سے کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن وہ اپنے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ چاہتے ہیں۔ وہ لاپتہ کئے جانے والے لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے دکھ درد کو پوری قوم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

 آخر کیا وجہ ہے کہ یہ قوم اور اس کے ادارے ان کی بات سننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کیا وجہ ہے کہ میڈیا پر اس تحریک کے بارے میں خبریں اور تبصرے شائع نہ کرنے کی پابندی عائد کی گئی ہے اور ملک کے مین اسٹریم میڈیا نے ’خوش دلی‘ سے اس پابندی کو قبول بھی کر لیا ہے۔ اپنے ٹاک شوز میں آزادی اظہار رائے کی بنیاد پر ہر جھوٹ سچ عام کرنے والے اینکر اور مبصر اس معاملہ پر مہر بلب ہیں۔ کیا پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں کی طرف سے ملک کی پشتون آبادی یا دیگر اقلیتی گروہوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر انہوں نے مقررہ حدود اور محاورہ میں سیاسی گفتگو نہ کی توان کی آواز کو دبا دیا جائے گا۔ کیا کسی نے غور کیا ہے کہ اس رویہ کے کیا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ جیسا سانحہ ریاست کے مقررہ دائرے سے باہر نکل کر بات کرنے کی کوششوں کو روکنے کے نتیجہ میں ہی رونما ہؤا تھا۔ کیا یہ ملک اپنا ایک بازو کھو دینے کے بعد بھی اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اور ملک کی جغرافیائی حدود میں آباد سب گروہوں اور لوگوں کو ان کا حق دینے یا ان کے شکوے شکایات سننے کا موقع دینے سے انکار ہی قومی مفاد کی سب سے بڑی علامت بنی رہے گی۔

اسی پالیسی کی وجہ سے بلوچستان میں احساس محرومی ہر آنے والے دن کے ساتھ قوی ہو رہا ہے۔ ملک کا ایک ایسا صوبہ جس کے وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، وہاں اب بھی قلیل تعداد میں آباد لوگوں کو بنیادی سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ اسکولوں کا قحط ہے، طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور عام آدمی سیاسی عمل اور معاشی فیصلوں میں خود کو حصہ دار نہیں سمجھتا۔ لیکن ملک کی سیاسی پارٹیاں اور طاقتور ادارے لوگوں کی بات سننے اور جمہوری عمل کے ذریعے ان شکایات کا ازالہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ہر اختلاف رائے کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور حقوق یا انسانی جان کے تحفظ کے لئےاٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حیرت ہے کہ جن عسکری اداروں کو لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، ان پر ہی لوگوں کو لاپتہ کرنے کے الزامات عائد ہوتے ہیں لیکن سننےوالا کوئی نہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں اس معاملہ پر بہت کچھ کرنے اور تمام اداروں کو قانون کے دائرے میں لانے کے بلند بانگ دعوے کئے گئے لیکن نہ مسئلہ حل ہؤا، نہ اداروں کا طرز عمل بدلا اور نہ ریاست نے بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی۔

پاک فوج 2014ء سے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف مصروف عمل ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن رد الفساد کے تحت قبائلی علاقوں کو محفوظ بنانے کا کام شروع ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان علاقوں سے ہر قسم کے دہشت گردوں کا صفایا کرکے عام لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ معلومات پاکستان کے عام لوگوں اور دنیا کو پاک فوج کے ذریعے ہی موصول ہوتی ہیں۔ کوئی صحافی اپنے طور پر ان علاقوں میں جاکر حالات اور فوج کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ فوج کی اطلاعات سو فیصد درست بھی ہوں تو بھی یہ ایک فریق کا بیان ہی تصور ہوگا۔ جب تک ان علاقوں میں میڈیا اور عالمی اداروں کے نمائیندے خودمختارانہ طریقے سے جاکر ان تمام حقائق کی تصدیق نہیں کرتے جو قوم تک پہنچائے جاتے ہیں ، اس وقت تک یہ معلومات پاک فوج کے میڈیا سیل کے ایک ہینڈ آؤٹ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کی طرف سے کامیابی کے دعوؤں کے باوجود نہ امریکہ اس بیان پر پورا یقین رکھتا ہے اور نہ ان علاقوں میں آباد لوگوں کی طرف سے ان حالات کی تصدیق ہو رہی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ دراصل قبائلی علاقوں میں چار سالہ فوجی کارروائی کے بارے میں سامنے آنے والے سرکاری عسکری بیانیہ کو مسترد کرنے کا اعلان ہے۔ اسی لئے پاک فوج کے سربراہ یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ جب فاٹا میں امن قائم کیا گیا تو ایک نئی تحریک شروع کر دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک میں شامل نوجوانوں کے صدق دلی کی گواہی دینے والی تحریروں کو سنسر شپ کا سامنا ہے اور پنجاب حکومت کو پریشانی لاحق ہے کہ اگر یہ نوجوان موچی دروازہ میں اپنا درد دل بیان کریں گے تو اس صوبے کے چاک گریباں بھی ان کی باتوں کو سچ مانتے ہوئے حالات کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے لگیں گے۔ لیکن سوچنے کی بات صرف اتنی ہے کہ مواصلاتی تیز رفتاری کے اس دور میں کب تک کسی بھی گروہ کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ پشتون نوجوان گلے شکوے کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ یک جہتی کا اعلان کرتے ہیں اور صرف اپنے درد کا مداوا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان کی بعض شکایات غلط فہمیوں پر مبنی ہوں۔ لیکن اگر ڈائیلاگ کی صورت پیدا نہیں ہوگی، اگر بات کرنے کا حق چھینا جائے گا، اگر بات سننے سے پہلے ہی حب الوطنی پر سوالیہ نشان ڈالا جائے گا تو اس سے اشتعال اور دوریوں میں اضافہ ہوگا۔ فوج سمیت ملک کے سب اداروں کو یہ جان لینا چاہئے کہ طاقت اور اختیار کی بنیاد پر آواز دبانے کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس سے خرابی ہی پیدا ہو گی۔

ان نوجوانوں کو اپنی بات کہنے دیں۔ ان کی بات کو غور سے سنیں۔ ان سے محبت سے پیش آئیں۔ ان کو بتایا جائے کہ وہ ہمارے جسم کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا درد ہمارا دکھ ہے۔ وہ تکلیف میں ہیں تو ہم کیسے مطمئن اور خوش ہو سکتے ہیں۔ ان نوجوانوں کے بارے میں موجودہ طرز عمل بدلا نہ گیا تو قومی یک جہتی کے نعرے کتابوں میں رکھے سوکھے پھولوں کی مانند ثابت ہوں گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 818 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali