سعودی عرب: تبدیلی کے اشارے


khurram niaziجیسے جیسے ہماری منزل قریب آ رہی تهی ذہن میں نت نئے خدشات سر اٹھا رہے تهے۔ ہم پہلی مرتبہ نوکری کی غرض سے ارضِ مقدس جا رہے تهے۔ جہاز نیچے آیا تو ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا اور دیکهتے ہی رہ گئے۔ ہمیں کسی نے نہیں بتایا تھا کہ ریاض دنیا کے سر سبز و شاداب خطوں میں سے ایک ہے۔ گرد و غبار کی جگہ ہلکے ہلکے بادل چهائے نظر آئے۔ پهوار پڑ رہی تهی۔ دور دور تک پھیلی ہریالی میں ہرن اور خرگوش چھلانگیں مارتے دیکھے جاسکتے تهے۔ جغرافیہ میں پڑھی بات سفید جھوٹ نکلی کہ پورے ملک میں ایک بهی دریا نہیں کیونکہ میلوں میل نیلے پانی کا دهارا بہتا اندهے بهی دیکھ سکتے تهے۔ جہاز کچھ اور نیچے آیا تو ہمیں پانی کی سطح پر اچهلتی چند شریر مچھلیاں بھی دکھائی دیں۔

ائیرپورٹ پر اتر کر تو ایک کے بعد دوسرا سرپرائس ہمارا منتظر تها۔ پاسپورٹ کے لیے قطاروں پر سعودی، غیر سعودی، جی سی سی، یورپین اور ‘دیگر پاسپورٹ’ کی کوئی تختی نہیں لگی ہوئی تهی بس مسلم اور غیر مسلموں کی جدا جدا قطاریں تهیں۔ اسلامی ملکوں سے آنے والی کسی بھی با پردہ خاتون کا نقاب اتار کر تصویر نہیں بنائی گئی۔ پاسپورٹ کی جانچ پر متعین عملہ خوش اخلاقی، مستعدی اور خندہ پیشانی میں اپنی مثال آپ تها۔ نہ کہیں چائے اور قہوہ کے دور چلتے نظر آئے اور نہ ہی نو واردوں کی توہین کے واقعات۔

یہاں سے باہر نکلتے ہی مختلف غریب ممالک سے آنے والی گھریلو خادمائوں کے جلوس رواں دواں ملے۔ مغرب کے جهوٹے پروپیگنڈہ کے برخلاف کہ ان کو کنیز بنا کر مظالم ڈھائے جاتے ہیں ہم نے یہی دیکها کہ پورے پورے خاندان ان غمزدہ لڑکیوں کو لینے آئے ہوئے ہیں۔ بڑی عمر کی مامائیں بنِتی بنِتی (میری بیٹی) کہہ کر خادمائوں کو گلے لگا رہی تھیں۔ مساوات انسانی کی ایسی عمدہ مثال ڈھونڈنا مشکل ہوگا۔ حیف کہ صرف سنی سنائی پر یقین کرکے ایتھوپیا، یوگانڈا اور انڈونیشیا کی حکومتوں نے اپنی نوجوان لڑکیوں کی بطور خادمہ سعودیہ میں ملازمت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔۔

خود ہمارے استقبال کے لئے ہماری کمپنی سے ہمارے ہم رتبہ سعودی مینیجر صاحب آئے تهے۔ جنہوں نے پہلے ہمارے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے پهر گرم جوشی سے گلے لگا کر معزرت کرنے لگے کہ آنا تو ڈائریکٹر صاحب کو خود تها لیکن آج صبح ہی ہمارے ایک انڈین سیلزمین کے والد گرامی حیدرآباد میں وفات پا گئے چنانچہ وہ اس سوگوار کو فلائٹ پر بیٹهانے خود تشریف لے گئے ہیں۔ ہمارے مذہب میں ویسے بھی یتیم کے حقوق پر بار بار زور دیا گیا ہے۔

کمپنی کی گاڑی چلانے والا ڈرائیور ایک باریش بنگالی تها۔ ہمیں دیکھ کر نہال ہوگیا۔ اردو میں کہنے لگا کہ صاحب آپ بهی میری طرح بہت خوش قسمت ہیں۔ میں نے ڈھاکہ سے انجینئرنگ پڑهی تهی چار ہزار ریال تنخواہ بتا کر لایا گیا۔ یہاں آکر پتہ چلا کہ ڈرائیوری کرنی ہوگی اور تنخواہ ایک ہزار ریال ہوگی۔ جو بہت بڑی رقم ہوتی ہے یقیناً کسی بنگالی نے مہندس (انجینئر) کا ترجمہ سائق (ڈرائیور) کردیا ہوگا۔ اب تین سال بعد چهٹی پر بنگلہ دیش جاؤں گا تو اپنے ڈاکٹر بهائی کو بهی مشورہ دوں گا کہ وارڈ بوائے کی نوکری پر یہاں آجائے کیونکہ یہاں نماز،روزہ اور حج اور عمرہ کی بہت آسانی ہے۔ ہم نے پوچھا تین سال بعد کیوں؟ تو بولا یہاں چهٹی تین سال میں ایک دفعہ ملتی ہے جس کی ذمہ دار بنگلہ دیشی حکومت ہے۔

ارض مقدس کے باشندوں کے مساویانہ سلوک سے متاثر ہو کر ہر سال لاکھوں غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر فلپائن اور انڈین کیرالہ کی اکثریت اب مسلمان ہوچکی ہے۔

 سعودی اخبار عرب نیوز میں حال ہی میں مملکت کی نئی معاشی منصوبہ بندی پڑھ کر یہ تصوراتی مناظر لہرا گئے۔ دنیا میں تیل پیدا کرنے والے اس سب سے بڑے ملک نے پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے اپنے حریف روس اور ایران کی معیشتوں کو دھچکا پہنچانے کے لئے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تخفیف جاری رکھی۔ اتوار کو دوحہ میں اٹھارہ ملکی اوپیک کانفرنس (جس میں ایران نے غیر حاضر رہا) سعودیہ کو اپنی پیداوار منجمد کرنے پر آمادہ کرنے میں نا کام رہی۔ لیکن نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان کافی عرصے سے اپنی واضح حکمتِ عملی کا اعلان کر چکے ہیں۔ جس کے مطابق ملک تیل کی دولت پر اپنا انحصار کم کرتا جائے گا اور معیشت میں تنوع لائے گا۔ تیل کی گری ہوئی قیمتوں نے سعودی معیشت کو جو نقصان پہنچایا وہ بجٹ میں 85 ارب ڈالر خسارے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس رقم کی فراہمی کے لئے نئی منصوبہ بندی کے تحت تارکینِ وطن کو امریکہ کی طرح گرین کارڈ کے اجراء کا اعلان کیا گیا ہے جس سے سالانہ دس ارب ڈالر کی آمدنی ہوگی اور یہ بھی توقع ظاہر کی گئی ہے کہ غیر ملکی باشندے ساری بچت وطن بھیجنے کے بجائے اس کا کم از کم تیس فیصد جائداد اور سرمایہ کاری پر خرچ کر کے سعودی آمدنی میں گرانقدر اضافے کا باعث  بنیں گے۔

بعد از تیل (پوسٹ آئل) معیشت کے نام سے متعارف اس خوش امید منصوبے کی کامیابی کی ایک شرط تو غیر ملکی تجارتی پارٹنرز ہیں جس میں بھارت اور سعودی تعلقات مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن ساتھ ہی سعودیہ کی اپنی داخلی سیاست کا استحکام بھی لازمی ضرورت ہے۔ حال ہی میں سعودی شاہی خاندان کے بعض منحرف اور مخالف شہزادوں کے یورپ سے اغواء اور مبینہ طور پر زبردستی ریاض روانگی کی خبریں عالمی اخبارات کی زینت بنیں۔ جبکہ دوسری طرف سعودی کابینہ نے مذہبی پولیس کے حراستی اختیارات واپس لیتے ہوئے اسے ملزموں سے نرمی کا برتاؤ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تیل کی کم ہوتی آمدنی، عوام کی مفت سہولیات میں کٹوتی، بڑھتی ہوئی بیروزگاری، بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ پیشہ وروں کی درآمد، صنعت و تجارت کے پھیلنے سے خود دیسی(مواطن) درمیانہ طبقے میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی مسلسل بڑھتی ہوئی شمولیت ایسے عوامل ہیں جن سے مزید سیاسی اور سماجی آزادیوں اور اختیارات کے مطالبات تقویت پائیں گے۔ ایسے میں بہت کچھ سعودی قیادت کے رویہ پر منحصر ہو گا کہ وہ کس طرح ان مسائل سے نمٹ کر اقوامِ عالم میں خود کو ایک ترقی یافتہ اور مہذب ریاست کا درجہ دلواتے ہیں یا پھر اپنی موجودہ پہچان کو برقرار رکھتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments