ہمارے جنسی ٹابوز


مفروضہ در مفروضہ کھلتی یہ کہانی اب تیسرے مضمون تک آن پہنچی ہے۔ بات یہاں سمیٹنی ہے۔ مذہب، میڈیا اور وجود زن ہی تک بات محدود نہیں ہے۔ واماندگی شوق اور پناہیں تراشنے کی بھی متمنی ہے۔ ایک اور مفروضہ جو بہت سے دوستوں کا پسندیدہ ترین ہے وہ یہ ہے کہ مخلوط تعلیم اور مردوزن کا آزادانہ اختلاط ریپ کی وجہ بنتا ہے۔ ہمارے خیال میں حقیقت شاید اس کے بالکل برعکس ہے۔ چھوٹے شہروں کی بات چھوڑیے۔ لاہور، کراچی یا اسلام آباد جیسے جدید شہروں کی کسی سڑک یا بازار میں نکل جائیے اور گنیے کہ فی مربع گز آپ کو مرد اور خواتین کا کیا تناسب ملے گا۔ عورت نایاب ہونے سے لوگوں کی شہوت پر بند نہیں بندھا ان کے ہوس کے اسپ اور مہمیز ہوئے ہیں۔ اسی لیے جب جہاں عورت دکھائی دیتی ہے، مردان باصفا کی آنکھیں حلقوں سے باہر آجاتی ہیں۔ نبض تیز ہو جاتی ہے اور نوک زبان پر دھری خواہشیں بازاری جملوں کی صورت باہر آتی چلی جاتی ہیں۔ اس مملکت اسلامیہ میں جہاں دعویٰ یہ ہے کہ ہم سے زیادہ عورت کو کوئی عزت نہیں دیتا، کوئی لڑکی سڑک پر دس قدم تنہا ٹہل کر تو دکھائے کہ دس اوباشوں سے پالا نہ پڑے تو۔ ہم نے مرد اور عورت کو اختلاط تو دور، بنیادی معاملات کے قرینے بھی سیکھنے نہیں دیے۔ شجر ممنوعہ کی کشش تو آدم کو بھی کھینچ لے گئی تھی۔ یہ قصہ تو ہمارے سامنے کا ہے کہ تمام عمر چھوٹے شہر کے تعلیمی اداروں سے گزر ایک بڑی جامعہ میں قدم رکھنے والے صاحب کو جب ایک دن تنگ آ کر ایک لڑکی نے کہہ ہی ڈالا کہ وہ ہمہ وقت گھورنے سے پرہیز کریں تو موصوف نے کہا کہ بی بی مجبوری ہے۔ میں نے لڑکیاں کبھی دیکھیں ہی نہیں۔ اختلاط کے حوالے سے اس مفروضے پر ایمان یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ جن اداروں میں مخلوط نظام تعلیم ہے وہاں بھی اب یہ وبا چل پڑی ہے کہ کسی بھی طرح مرد وزن کو دو الگ الگ پنجروں میں بند رکھا جائے۔

اس مفروضے کی موت دیکھنی ہو تو ذرا ان جنسی جرائم کی نہ ختم ہونے والی فہرست پر نظر ڈال لیجیے جو غیر مخلوط مشںری اداروں اور مدارس میں بچوں کے حوالے سے روز ضخیم تر ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارا مسئلہ مردوزن کے میل جول کی زیادتی نہیں بلکہ کمی ہے۔ اسی وجہ سے ہم اپنے معاشرے کو وہ آداب نہیں سکھا سکے جو ایک مہذب سماج میں مرد اور عورت کو ساتھ چلنا اور ساتھ زندہ رہنا سکھاتے ہیں۔ میرے مشاہدے میں جو لوگ مخلوط تعلیم یا عورت کی آزادی کے ناقد ہیں، ان کی اکثریت جنسی گھٹن اور ذہنی پسماندگی کا شکار ہے۔ چونکہ یہ خود ایسے ماحول کے پروردہ رہے ہیں جہاں جنس مخالف سے میل جول گناہ سے کم نہیں گنا جاتا اس لیے ان کے نزدیک ہر ایک کو اسی سوچ کا پالن کرنا چاہیے ورنہ معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔ ستر کی دہائی سے پہلا ہمارا معاشرہ کیا تھا جب ہم نے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ دنیا کی مخلوق نہیں بنایا تھا اور اب ہمارا معاشرہ کہاں ہے جس میں طارق جمیل اور فرحت ہاشمی جیسے لوگ لاکھوں پیروکار رکھتے ہیں۔ کیا ہم تب تباہ حال تھے یا اب ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر خود فیصلہ کر لیجیے۔ امرتا پریتم نے کہا تھا کہ مرد نے ابھی عورت کے ساتھ صرف سونا سیکھا ہے، جاگنا نہیں۔ یہ بات سچ ہے، آج بھی سچ ہے اور مزید سچ ہوتی چلی جائے گی کہ ہمارے دانشورانِ ملت عورت کو  گھر کی چار دیواری اور بستر کے چار پایوں سے باہر سوچ ہی نہیں سکتے۔ عورت جنسی تسکین کا سامان اور بچے بنانے والی مشین تو ہے پر آپ جیسی انسان ابھی سمجھی نہیں گئی کہ مباشرت کے آداب کے علاؤہ بھی اس کے ساتھ جاگتی حالت میں کوئی آداب سکھانے کی ضروت ہو۔ جو آداب ہم نے سیکھے ہیں وہ یہ کہ ہر وہ عورت جو دیواروں کے بیچ چنی ہوئی نہ پائی جائے اس کو بازار کا مال بھی نہیں بلکہ مال مفت سمجھا جائے گا۔ عورت کے احترام کا دعویٰ کرنے والوں کی ہر گالی میں عورت پروئی ملے گی۔ چھوڑیے صاحب۔۔۔

جب اس تمام ہوائی لٹھ بازی سے دل بھر جاتا ہے تو ہم  اپنا پسندیدہ ترین پںچنگ بیگ نکالتے ہیں اور اس پر لایعنی اخلاقی مکے بازی شروع کر دیتے  ہیں۔ ہم مغرب سے مرعوب ہیں، اس سے حسد کرتے  ہیں یا اس سے نالاں ہیں، یہ تو مجھے نہیں معلوم پر ہماراکوئی بھاشن اس ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں بھی ہمارا خیال یہ ہے کہ ریپ اور جنسی جرائم کی  شرح مغرب میں ہمارے ملک سے زیادہ ہے اور اس کی وجہ وہاں پھیلی ہوئی جنسی بے راہ روی ہے۔ اس مفروضے کو تقویت پہنچانے کے لیے جن اعدادوشمار کا سہارا لیا جاتا ہے وہ بیچارہ مغرب خود مرتب کر کر کے چھاپتا رہتا ہے تاکہ ہمارے صالحین اس سے عبرت پکڑتے رہیں۔ چلیے اس بات کو پرے رکھ دیتے ہیں کہ ان ناقدین کی اکثریت نے کبھی کسی مغربی معاشرے کو خود سے نہیں دیکھا۔ وہ اس لیے کہ اب مغربی معاشرے میں بھی یہ چورن بیچنے والے بہت ہیں کہ جو بکتا ہے اور بہت بکتا ہے وہ بیچنا بھی مغرب ہی نے سکھایا ہے۔

پہلی گزارش اس ضمن میں یہ ہے کہ مغرب کے اعدادوشمار پر قیاس آپ کے ملک سے نہیں ہو سکتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہاں جنسی جرائم کو انتہائی سنجیدہ لیا جاتا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے جرم کی بھی پولیس رپورٹ بنتی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے شہر اور گاؤں میں کونسلنگ کے مراکز قائم ہیں۔ پر تشدد جنسی جرائم اور بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کے حوالے سے باقاعدہ ادارے قائم ہیں جن کا اربوں کا بجٹ ہے۔ تحقیقاتی اداروں کا ایک جال بچھا ہے جو اس حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرتے ہیں۔ جنسی مجرموں کی باقاعدہ ڈائریکٹری مرتب ہوتی ہے تاکہ کوئی اخلاقی جرائم یافتہ سزا مکمل کرنے کے بعد بھی کسی ایسی جگہ ملازمت پانے میں کامیاب نہ ہو سکے جہاں اسے جرم کرنے کا موقع میسر آسکے۔ بچوں کے حوالے سے قوانین دس گنا زیادہ سخت ہیں اور اکثر مجرم قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ دوسری طرف ملک عزیز ہے۔ ہمارے یہاں بہت سے جرائم تو جنسی جرائم سمجھے ہی نہیں جاتے۔ ازدواجی ریپ جرم نہیں ہے۔ کم عمری کی شادی کا قانون ہے جس کی روزانہ درجنوں خلاف ورزیاں ہوتی ہیں کوئی پوچھتا نہیں ہے۔ بچوں کے ساتھ ہونے والی جسمانی چھیڑ چھاڑ سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ جنسی جرم کے شکار کو پہلا مشورہ خاموشی کا ہوتا ہے کہ عزت کا جنازہ گھر ہی رکھا رہے۔ شاید ہزار میں سے ایک جرم رپورٹ ہوتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ لاہور کے بادامی باغ یا راولپنڈی کے پیرودھائی اڈے پر چھوٹے بچوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ کتنی پولیس رپورٹیں کٹتی دیکھی ہیں آپ نے اس حوالے سے۔ چھوٹے گاؤں اور قصبے تو ایک طرف، صوبائی اور وفاقی مراکز میں بھی کوئی ریپ کونسلنگ سنٹر موجود نہیں ہے۔ نفسیاتی امرض کے علاج کے کتنے مستند ادارے ہیں ملک میں، ذرا گنتی کر کے بتائیے۔ جنسی جرائم کا شکار لوگ کہاں جاتے ہیں۔ کیا آپ کو ایک کی بعد ایک وہ لڑکیاں بھول گئی ہیں جو ریپ ہونے کے بعد دربدر پھرتی رہیں۔ اور پھر انصاف کی آس میں ایک دن آگ لگا کر مر گئیں۔ اس کے بعد ہمارے وزراء اعلیٰ اور خدام اعلی کے فوٹو سیشن ہوتے رہے۔ امداد کا اعلان ہوتا رہا۔ آہنی ہاتھوں والے دعوے ہوتے رہے اور ہر چند روز بعد پھر یہی المیہ ہوتا رہا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 123 posts and counting.See all posts by hashir-irshad