ماں جی


بیٹا آپ کھڑے ہو جاؤ، آنٹی کو بیٹھنے دو۔۔۔۔ یہ پہلا حکم تھا جو سن شعور کی ابتدائی یادوں میں آج بھی زندہ ہے اور ماں جی کے اس حکم نے ذہن پر کچھ ایسی مہر ثبت کی کہ آخر دم تک تابعداری نہ گئی۔ پلٹ کر جواب دینا کیونکہ اس زمانے کا رواج نہ تھا اس لئے ہر بات پر سرتسلیم خم کئے رکھا یہاں تک کہ بچوں نے چھیڑ بنا لی کہ پاپا تو مما جان سے زیادہ دادی اماں سے ڈرتے ہیں۔۔۔ بات بہ بات بلیک میل بھی کرتے۔۔۔ اپنی ضد منوانے کیلئے دھمکی بھی دے ڈالتے۔۔۔اچھا تو پھر بتائیں دادی اماں کو …. میں چھپ چھپ کر سگریٹ پیتا ہوں۔۔

بات اس وقت کی ہے جب لاہور کی تنگ سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بس دوڑتی تھی۔۔ میں اور ماں جی خواتین کے جالی دار حصے میں سوار تھے۔۔۔ میں کھڑکی کی طرف بیٹھا بھاگتے درختوں کا نظارہ کر رہا تھا جو ماں جی کی پیار بھری آواز کانوں سے ٹکرائی۔۔۔ منہ پھیر کر دیکھا تو ایک خاتون کھڑی میری ہی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔ میں اٹھا، پلٹا اور ماں جی کی سیٹ کے برابر جم کر کھڑا ہو گیا۔ خاتون شکریہ کہہ کر بیٹھ گئیں لیکن ماں جی کی آنکھیں میری سعادت مندی کے باعث چمک اٹھیں۔۔۔۔ میں نے جب تک بس یا ویگن میں سفر کیا اس چمک نے کسی خاتون یا بزرگ مسافر کی موجودگی میں مجھے سیٹ پر ٹک کر نہیں بیٹھنے دیا۔۔۔ لڑکپن، جوانی اور پھر 55 برس کی اس ادھیڑ عمری میں ماں جی کی چمکتی آنکھیں آج بھی میرا طواف کرتی رہتی ہیں۔۔۔

شہر لاہور کے سر سبز و شاداب علاقے مسلم ٹاون میں پیدا ہونیوالی سرور بیگم بس پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکیں۔ ایک ساتھ گڈی گڈے کا بیاہ رچانے، اسٹاپو کھیلنے اور دیو قامت درختوں پر پینگ جھولنے والی ایک ہم جماعت ڈاکٹر بشری کہلائیں تو دوسری سہیلی سرفراز بیگم نے افسانہ نگاری میں خوب نام کمایا۔۔۔ اس دور کا مسلم ٹاون برصغیر کے چند بڑے ناموں کا مسکن تھا جن میں ایک طرف مولانا عبدالمجید سالک، مولانا غلام رسول مہر، استاد اللہ بخش تو دوسری طرف صبیحہ خانم، سنتوش، درپن، اکمل، ایس سلیمان، لقمان اور ایسی کئی نامور ہستیاں پڑوس میں رہتی تھیں۔۔۔۔ ہمیں تختی کی مشق کرواتے ماں جی اکثر کہتیں ابا جی نے پڑھنے ہی نہیں دیا بس یہی کہا۔۔۔ لڑکیوں نے شادی کے بعد چولہا چوکہ ہی تو سنبھالنا ہے، قرآن پاک پڑھنے کے قابل ہو گئی۔۔۔ بہت ہے۔۔.

اپنا شوق پورا کرنے کیلئے ہمیں مشق ستم بنایا گیا۔ ہم بہن بھائیوں کو سلیٹ، تختی، کاپی پنسل کی کبھی کمی نہیں ہوئی۔۔۔ تختی دھونا، اسے کڑکتی دھوپ یا پنکھے کے نیچے رکھ کر سکھانا، اس پر گاچنی جمانا، قلم بنانا اور پڑیوں کی روشنائی تیار کرنا۔۔۔ الغرض ہم انگلش میڈیم کے جنٹلمین، دیسی بچوں کے مقابلے میں کسی کمپلیکس کا شکار نہیں رہے۔۔۔ ماں جی کی انگریزی ہمارے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی۔۔۔ ہمارے درجے بڑھتے رہے ان کی انگریزی میں نکھار پیدا ہوتا گیا۔۔۔ ہم سوچتے ماں جی کو ہمارا سبق کیسے یاد ہوتا ہے۔۔۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ ہمارا سبق ہم ہی سے سن کر ہمیں پڑھا دیتی تھیں۔۔۔ البتہ حساب میں وہ ہمیشہ چار قدم آگے رہیں۔۔۔۔ ہم ٹو، ٹو از فور پڑھتے۔۔۔ وہ ایک، سوایا، ڈیوڑھا، پونے دو، دو، سوا دو، ڈھائی، پونے تین اور آگے کے تمام پہاڑے فر فر سنا دیتی تھیں۔۔۔۔

باو خدا بخش کی بیٹی سرور بیگم دفعدار اللہ بخش کی بہو بنیں تو سسرال کے آنگن میں اترتے ہی ملکہ کہلائیں اور پھر زندگی بھر ملکہ بن کر ہی راج کیا۔ ساس، سسر اور سات نندوں پر مشتمل خاندان کے ہر فرد کی آنکھ کا تارا بن گئیں۔ خدمت گزاری کو ایمان کا درجہ دیا تو کیا بچہ کیا جوان سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔۔ ساس وارے وارے جاتیں تو نندیں صدقہ نہارتیں۔ اس وقت ساس بھی کبھی بہو تھی کی سیریل ابھی عام نہیں ہوئی تھی۔ گھروں کی دیواریں پردہ داری کیلئے تعمیر کی جاتی تھیں، بٹوارے کیلئے نہیں۔ زندگی اس ڈھب پر چل نکلی تو پھر رکی نہیں تا وقتیکہ گاوں سے شہر لاہور آنیوالا دیہاتی جوان اور ملکہ کا ہیرو شہری بابو بن گیا۔۔۔۔

بھلے وقتوں میں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ والدین بیٹی کو بیاہتے تو چپکے سے اس کے کان میں کہہ دیتے جس گھر تمھاری ڈولی جا رہی ہے اب وہاں سے تمھارا جنازہ ہی نکلے۔۔ اور وہ بھی بھیگی آنکھوں کو گواہ بناتی ماں باپ کی نصیحت پلو سے باندھ لیتی۔۔۔ ماں جی بھی اسی قبیل کی تھیں، نصیحت کو آخر دم تک نبھائے رکھا۔۔۔ زمانے کی دھوپ چھاوں ان کے روز و شب کے معمولات نہ بدل سکی۔۔۔۔

میکے سے گھر گرہستی کا سبق پڑھ کر آنے والی سرور بیگم کیلئے چودھری صلاح الدین ہی سب کچھ تھے۔۔۔ ماں جی نے تو شاید مجازی خدا کا تصور ہی بدل ڈالا۔۔۔ خدمت کو کچھ یوں اوڑھنا بچھونا بنایا کہ کولہو کا بیل بھی شرما جائے۔۔۔۔ شکر دوپہر، کڑکتی دھوپ میں صحن کے بیچ دو چارپائیاں کھڑی کر کے اوپر چادر ڈال دی اور سائبان تیار کر لیا۔۔۔ اب نمک، مرچ، ہلدی اور دیگر مسالے پیسنا شروع کر دیئے۔۔۔ اس وقت مشینیں دستیاب نہیں تھیں اس لئے ہر خاتون خانہ اسی طور اپنے گھرانے کو توانا رکھتی تھی۔۔۔

ماں جی ہفتے میں ایک بار کپڑے دھونے کا اہتمام ضرور کرتیں۔۔۔۔ سرکاری ٹونٹی کسی کسی گھر میں ہوتی تھی لیکن نلکا ہر آنگن کا جزو تھا۔ قمیض، شلوار، پتلون، بش شرٹ تو کسی کھاتے میں نہیں آتی تھی۔۔۔ گھر بھر کی چادریں، میز پوش، تکیئے،غلاف، لحافوں کے اوچھاڑ اور پھر قالین نما فرشی دریاں۔۔۔ محشر کے روز اپنی گٹھڑی اپنے سر اٹھانے کی روایت فقط ایک یوم کیلئے ہے لیکن ہر اتوار کی چھٹی کے دن ان دھلے کپڑوں کا یہ گٹھڑ نلکے کے ساتھ علی الصبح رکھ دیا جاتا۔۔۔ اس زمانے میں گھروں کی عورتیں کچھ دم رکنے کیلئے دھوبی کی چھوا چھو کہنے کی نعمت سے بھی محروم تھیں کہ آواز کا دیوار پار جانا معیوب خیال کیا جاتا تھا۔۔کپڑوں کو تہہ در تہہ پھیلایا اور بڑے دیگچے کا کھولتا پانی انڈیل دیا۔۔۔ ولائتی اور انگریزی صابن تو چہروں کے نکھار کیلئے ہوتا تھا یہاں تو کاسٹک سوڈے سے بنا دیسی صابن ہوتا جو کپڑے کی میل کیساتھ ہاتھ کی کھال بھی نکال ڈالتا۔۔۔۔ ماں جی اپنی دھن میں سوار صبح سے شام کر دیتیں۔۔۔ اس دوران صحن کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک پھیلے تاروں پر اجلے کپڑے قطار اندر قطار جمع ہوتے رہتے۔۔۔۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
محمد شجاع الدین کی دیگر تحریریں
محمد شجاع الدین کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں