’ووٹ کی عزت‘ کی تائید میں چیف جسٹس کا بیانیہ


بہت سوں کو یہ سننا اچھا نہیں لگے گا مگر سیاست دانوں کو چیف جسٹس ثاقب نثار سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہفتہ کے روز ایوان اقبال لاہور میں انہوں نے جس طرح اصلاح احوال کے لئے دوٹوک اور واضح ایجنڈے کا اعلان کیا ہے، اس سے ان کی قانونی استعداد کے علاوہ سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور مخالف کو دھکا دے کر خود اقتدار سنبھالنے کے خواہشمند سیاست دان، اس صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے تعلیم کو ملک کا بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ کوئی ذی فہم کسی بھی جمہوری معاشرہ کی ترویج و ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کرسکتا۔ جس ووٹ کو عزت دینے کے سلوگن پر پانچ سیاسی پارٹیوں کے لیڈر اسلام آباد میں ہاتھ میں ہاتھ دے کر کھڑے ہوئے تھے، اس کی تفہیم اور تکمیل کے لئے ملک میں تعلیم عام کرنا ضروری ہے۔ تعلیم ہی عام لوگوں کو بتائے گی کہ علاقے کا جو چوہدری اس سے ان کے مسائل حل کرنے کے نام پر ووٹ اینٹھتا ہے اور نئے انتخاب کے موقع پر نئے بہانوں اور عذر کے ساتھ پھر سے یہ کہہ کر ووٹ لیتا ہے کہ مجھے ووٹ دو، میں اس بار تمہارے سارے مسئلے حل کردوں گا۔ اور تعلیم سے نابلد لوگ بار بار ڈسے جانے کے باوجود اس کی باتوں کا اعتبار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

لاعلم ہونے کی وجہ سے ان کے پاس اپنے علاقہ کے ’چوہدری‘ کی باتیں ماننے اور ان پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔ ان کی پوری دنیا فصل کی پیداوار، گھر کی عسرت کو ختم کرنے کی خواہش اور چوہدری کی بتائی ہوئی باتوں پر غور کرنے تک محدود ہوتی ہے۔ اگر ان لوگوں کو تعلیم کے مواقع حاصل ہوں تو وہ سیاسی چوہدریوں کی باتوں کا جائزہ لینے اور انہیں حالات حاضرہ اور اپنی صورت حال کے تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو سکتے ہیں۔ ووٹ کو باعث عزت بنانے میں یہی صلاحیت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

اسی طرح تعلیم ہی کسی ان پڑھ شخص کو غلامی سے نجات حاصل کرنے اور سر اٹھانے کا حوصلہ و شعور عطا کرتی ہے۔ یہی جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لئے بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیم عام ہونے سے لوگوں کے پاس حصول روزگار کا جہان آباد ہو جاتا ہے۔ وہ تعلیم کے ذریعے حاصل ہونے والی صلاحیت سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے علاوہ تخلیق، تحقیق اور جستجو کی صلاحیتوں سے مالامال ہو کر معاشرتی انقلاب اور معاشی ترقی و احیا کا سبب بنتے ہیں۔ جس معاشرہ میں یہ ساری خوبیاں جنم لینے لگتی ہیں، اس کا سیاست دان خود ووٹ کی قدر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اور ووٹر کو بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اگر ان کے نمائیندے ان خطوط پر کام نہیں کریں گے جو ان کی بہبود کے لئے ضروری ہیں تو وہ ایسے لوگوں کو مسترد کرکے نئے باصلاحیت لوگوں کو ووٹ دیں گے ۔ اس طرح ووٹ کا احترام استوار ہو گا اور جمہوریت مستحکم ہوگی۔

حیرت صرف اس بات پر ہے کہ جس سادگی سے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک بنیادی جمہوری اصول کو بیان کیا ہے، ہمارے سیاست دان اسے سمجھنے اور عام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ انتخابات کی تیاری کے لئے سیاسی مخالفین کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکالنے کی بجائے قومی اصلاحی منصوبے پر عمل درآمد کے لئے دو ٹوک اور واضح منشور دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ جسٹس ثاقب نثار نے ایوان اقبال لاہور میں تقریر کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کو بنیادی ضرورت قرار دے کر ایک واضح اور قابل عمل مقصد پیش کیا ہے۔ اگر اسے سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے یا تصور کیا جائے کہ یہ الفاظ ایک سیاست دان نے ادا کئے ہیں تو اسے کسی بھی سیاسی پارٹی کا منشور کہا جائے گا۔ ہمارے سیاسی رہنما ایسا سیاسی منشور سامنے لانے میں ناکام رہتے ہیں۔ شاید اسی لئے ملک کے عسکری ادارے اور اب چیف جسٹس یہ رہنمائی کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ سیاست دانوں کے کرنے کے کیا کام ہیں۔ سیاست دان اور کسی حد تک ملک کے دانشور، یہ اعتراض تو کرتے ہیں کہ یہ کام سیاست دانوں کے کرنے کا ہے۔ اور فوج یا عدالت کا ان امور سے کیا لینا دینا۔ ۔۔یہ بات درست ہونے کے باوجود تفہیم کی حقیقی قوت سے محروم رہتی ہے۔ کیوں کہ ہر دعویٰ عمل کی گواہی مانگتا ہے اور ہمارے سیاست دانوں کا عمل یہ شہادت فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جو کام سیاست دان نہیں کریں گے، وہ کسی کو تو کرنا ہے۔ فوج کرتی ہے تو کیا برا ہے۔ عدالت کرتی ہے تو بھی بھلا ہے۔

 یہ تصور اور احساس بھی دراصل ایک لاعلم معاشرہ میں ہی عام ہو سکتا ہے۔ ورنہ آسانی سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ فوج سیاست میں بار بار مداخلت کر کے ناکام ہو چکی اور اب مارشل لا کا نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتی ہے۔ تاہم درپردہ ’پولیٹیکل انجینرنگ‘ کی ڈاکٹرائن پر عمل کرنا زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔ اسی لئے جب سپریم کورٹ اپنا کام چھوڑ کر سیاسی منشور کی تکمیل کے لئے کوششوں کا آغاز کرے گی تو اس ادارے کی اہمیت اور قدر و قیمت متاثر ہوگی۔ شاید اسی لئے کہا گیا ہے کی جس کا کام اسی کو ساجھے۔ لیکن ہمارے سیاست دان اگر اڑیل ٹٹو بن کر ’ہوم ورک‘ کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو آخر ادارے کیا کریں۔

اس کا جواب تین لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ کہ وہ ’ اپنا کام کریں‘ ۔ اگر فوج عسکری شعبہ میں اور عدالت انصاف کی فراہمی کے لئے بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی تو کسی چیف جسٹس کو سیاسی ایجنڈا پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ نہ ہی اسے امور مملکت چلانے کے لئے ججوں کو بلا معاوضہ اضافی کام پر مجبور کرنا پڑے گا۔ پھر ملک کے چیف جسٹس تقریبوں میں تقریروں کی بجائے قانون کی کتابیں پڑھنے، اہم عدالتی فیصلوں پر غور کرنے اور زیر غور مقدمات کو انصاف کے بہترین اصولوں کے مطابق پرکھنے اور ان پر مناسب فیصلے صادر کرنے کے کام پر توجہ دیں گے۔ پھر کوئی یہ نہیں کہے گا کہ چیف جسٹس سیاست دانوں کی طرح تقریریں کرتے ہیں۔

قابل قدر چیف جسٹس نے جمہوریت کو لاحق خطرہ کی صورت میں عدالت عظمیٰ کے تمام سترہ ججوں کے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان غیر ضروری اور بے سود ہے۔ جس جوڈیشل مارشل لا سے سراسیمہ ہو کر چیف جسٹس یہ اعلان کرنے ہپر مجبور ہوئے ہیں، وہ چیف جسٹس کے کسی مارشل لا اید منسٹریٹر کی طرح ملک کا حکمران بن جانے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اظہار ججو ں کے رویوں، باتوں، ریمارکس اور فیصلوں کی صورت حال سے ہوتا ہے۔ یہ بات آئین کی شق 184 دفعہ تین کے بارے میں سپریم کورٹ کے ججوں کے غیر واضح اور مبہم طرز عمل سے بھی مترشح ہوتی ہے۔ جوڈیشل مارشل لا کے گمان کو یہ رویہ بھی یقین میں بدلتا ہے کہ چیف جسٹس اصلاح معاشرہ کے بارے میں کسی مصلح قوم کی طرح باتیں کرنا اپنا آئینی فریضہ سمجھتے ہیں۔

جوڈیشل مارشل لا کا راستہ روکنے کے لئے سترہ ججوں کو استعفیٰ دینے کی بجائے فل کورٹ کی صورت میں مل کر 184 (3) کی تشریح اور نفاذ کے حوالے غور اور فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ یہ شق ججوں کو کیا اختیار دیتی ہے اور ان پر کون سےسی حدود و قیود عائد ہوتی ہیں۔ تاکہ اس شق پر آئین سازوں کی منشا اور تصور کے مطابق عمل ہو سکے۔ بصورت دیگر ملک میں جوڈیشل مارشل لا نہ ہونے کے باوجود عدالتوں کی حکومت مضبوط ہوگی اور حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے ساری خرابیوں کا ذمہ دار عدالتوں کو قرار دینے میں آسانی محسوس کریں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 902 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali