آمریت سے لڑنے والا شاعر اور محبت کی تاریخ لکھنے والی صحافی


اگر ٹائم ٹریولنگ ممکن ہو جائے تو میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں اُتر کر اُن تمام شخصیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہوں گی جو آج نہ ہوتے ہوئے بھی، اپنے جری کارناموں کی بدولت ہمارے درمیان موجود ہیں۔ جن کے نام اپنے اپنے عہد کے روشن ستارے ہیں۔ اوریانا فلاشی کے معروف تاریخی شخصیات کے تاریخی انٹرویوز تو یقیناَ آپ نے پڑھ رکھے ہوں گے،دو دن قبل بیکن بکس کے جبار صاحب کی وساطت سے اوریانا فلاشی کا ایک انٹرویو،جسے نفسیات کے مشہور محقق اورقابل پروفیسر خالد سعید صاحب نے ’حلقہ زنجیر میں زباں‘ کے نام سے ترجمہ کیا، دوبارہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ دوبارہ اس لیے کہ یہ اوریانا کی کتاب ’Interview With History‘ (تاریخ کا دریچہ) کا سب سے آخری انٹرویو ہے، جسے ہم بہت پہلے پڑھ چکے ہیں۔

خالد سعید صاحب کے ترجمے اور تحقیق کی بدولت اس انٹرویو کے قضیے کے بارے میں اور بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ میں سوچتی ہوں تاریخ کی گرد میں کیسے کیسے انمول خزانے ہیں۔ ایسے ایسے شاندار لوگ، جن کا موت بھی کچھ نہ بگاڑ پائی، وقت نے ان کو وہ ابدیت عطا کی جسے پانے کے لیے کتنے آمروں نے جتن کیے اور جانے کتنے ہی جابر اپنے اپنے مظالم کی بنا پر دعویٰ خدائی سے گزرے۔ اپنے عہد کے ظالم آمروں کے سامنے ڈٹ جانے والے یہ وہ جری لوگ تھے جن کی خاکِ گور کو وقت نے کندن بنا ڈالا۔

یونانی مزاحمتی شاعر ’الیگزینڈرآلیکاس پانا گاﺅلِس‘ یونانی معاشرت کا وہ اجتماعی ضمیر تھا جس نے آمریت کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کے حوالے سے تاریخ میں نام رقم کیا۔ یہ وہی شاعر تھا جس نے تنِ تنہا یونانی فوجی آمر کو 1967 میں ہلاک کرنے کی سعی کی تھی اور اپنی ناکامی پر گرفتار ہوا اور جسے فوجی عدالت میں سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ لیکن اِ س ڈر سے اُس سزا پر عمل درآمد نہ کیا گیا کہ کہیں اِس کی بدولت اُسے وہ عوامی مقبولیت اور پسندیدگی نہ حاصل ہو جائے، جو آگے جا کراس جبری اقتدار کی راہ میں آڑے آئے۔ عقوبت خانوں میں اُس پر بد ترین ذہنی اور جسمانی تشدد روا رکھا گیا۔ اُس کے جسم کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جسے داغا، چھیلا یا کریدا نہ گیا ہو۔ اور پھر 1973 میں یورپی انسانی حقوق کی تنظیموں، ادبی تنظیموں اور خود امریکی صدر کے دباﺅ پر اُسے بظاہر رہا کر دیا گیا۔ لیکن نگرانی اور تذلیل بدستور قائم رہی۔ یہ وہی سال تھا جب اوریانا فلاشی نے اُس سے اپنا مشہورِ زمانہ انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کے وقت اُسے جیل سے رہا ہوئے ابھی دو روز ہی گزرے تھے۔ یہ انٹرویو اوریانا کی کتاب کا سب سے زور دار انٹرویو تھا جس میں اوریانا کی آلیکاس سے محبت اور وارفتگی کہیں پنہاں نہیں ہے۔

اوریانا نے جان بوجھ کر اس انٹرویو کو اپنی کتاب کے آخر میں رکھا۔ بقول اوریانا:

” میں نے اِس انٹرویو کو اس کتاب کا آخری اور نتیجہ خیز باب بنایا ہے۔۔ کہ میرا بے اختیار انتخاب، وہ لوگ ہیں جو طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں، اور یہی نہیں بلکہ طاقت کے ننگے اور بے شرمانہ استعمال کے خلاف بے جگری سے لڑتے بھی ہیں۔۔“

 1976 میں صرف چھتیس سال کی عمر میں اِس ہر دل عزیز شاعرکو نیم تاریک راہوں مارڈالا گیا۔ محبت کی اس داستان کو اوریانا نے اپنے ناول ’A Man‘ میں بڑی مہارت سے رقم کیا ۔ یہ ناول بیسویں صدی کے چند پُراثر ناولوں میں سے ایک ہے جو اپنے عہد کے فکری رزمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ وہی پانا گاﺅلِس آلیکاس تھا، جسے تین ضرب ڈیڑھ میٹر کے تشدد بھرے عقوبت خانے میں نہ تو کچھ پڑھنے کی جازت تھی اور نہ ہی کچھ لکھنے کی، یہ کنکریٹ کی وہ مختصر قبر تھی جس میں اُسے پشت پر بندھے ہاتھوں اورجسمانی و نفسیاتی عذاب سمیت زندہ درگور کر دیا گیا تھا۔ دس ماہ بعد جب ڈاکٹروں کی منت پر اُس کے سوجے ہوئے، زخمی ہاتھ کھولے گئے تب وہ نظر بچا کر اپنے زخموں پر باندھی جانے والی پٹیوں پر اپنے لہو اور دیا سلائی کی نوک سے کچھ نہ کچھ لکھتا رہا۔

انھوں نے اپنے گماں میں

مجھے میری متاعِ لوح و قلم سے محروم کر دیا ہے

لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے

کہ قلم کی جگہ، جلی ہوئی دیا سلائی کی نوکِ سیاہ

تو میرے ہاتھ میں ہے

میں جیل کے فرش پراپنے زخموں سے رس رس کر

 گرنے والے لہو سے سیاہی کا کام لیتا ہوں

اور میں نے اپنے زخموں کی سوتی پٹی کو

اپنے لیے کاغذ بنا لیا ہے

اور دیس یونان کے ایک زنداں سے

میں تم کو اِک خط لکھتا ہوں

لہو سے رقم ہونے والی یہ سجل نظمیں جب عوام تک پہنچتیں تو والہانہ عقیدت، محبت اور شہرت پاتیں کہ وہ ایک ایسے شخص کی نظمیں تھیں، جو سب کے ضمیر کی آواز تھا۔ لوگ اسے دیوانوں کی طرح چاہتے تھے اور اُس کے ایک اشارے پر کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ کیونکہ آمریت کے اِس دورِ سیاہ میں وہ اُن کے لیے روشنی کی ایک کرن اور مزاحمت کی ایک علامت تھا، جسے بجھانے اور مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ وہ جو ہمیشہ اُن کے حق کے لیے لڑتا رہا، جن پر تاریکی کا عذاب مسلط کیا گیا۔ وہ جسے ایک جمہوری اور پُرامن ریاست کی تلاش تھی۔ وہ بہت تکلیف سے کہتا:

”خدا تمہیں غارت کرے۔۔ تم کیسے ایک قوم کو بھیڑوں کے گلے میں تبدیل کرنے کی اجازت دے سکتے ہو۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ عدلِ مطلق کہیں موجود نہیں ہے اور یہ کبھی موجود بھی نہیں ہوگا۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ دنیا میں چند ایسے مہذب ممالک ضرور موجود ہیں جہاں عدل کے قوانین کا عملی اطلاق کیا جاتا ہے۔ سو میں جس ریاست کا خواب دیکھتا ہوں وہ ایک ایسی ریاست ہے جس میں اگر کسی پر بلا جواز حملہ کیا جائے یا کسی کی تذلیل کی جائے یا کسی کو اُس کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جائے، تو وہ قانون کی عدالت میں انصاف کا مطالبہ کر سکیں۔ کیا یہ مطالبہ بہت بڑا ہے؟ میری رائے میں تو یہ حق وہ کم سے کم شے ہے کہ جس کا مطالبہ کرنا ہر شخص کا استحقاق بنتا ہے۔۔“

وہ بڑے دکھ اور افسوس سے کہا کرتا،”مجھے بزدلوں پر طیش آتا ہے، وہ لوگ جو اُس وقت بھی بغاوت نہیں کرتے جب اُن کے بنیادی حقوق پائمال کیے جا رہے ہوں، میں نے اپنی جیل کی ایک دیوار پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ ’میں آمروں سے نفرت کرتا ہوں، لیکن بزدلوں سے مجھے کراہت محسوس ہوتی ہے۔“

وہ اُن حساس لوگوں میں سے تھا جن کی ذاتی خوشی اپنی ریاست اور عوام کی خوشحالی سے جڑ جاتی ہے اور جب ریاست یرغمال ہوجائے، عوام مجبور اور بے بس اورایک بے حسی کی چادر آہستہ آہستہ آپ کی اجتماعی اُمنگوں کو ڈھانپ لے، توکسی فرد کی ذاتی خوشی کی بات کیونکرکی جا سکتی ہے۔”آپ کیسے خود کو مکمل طور پر خوش رکھ سکتے ہیں، جب آپ کو ساتھ ہی ساتھ یہ احساس بھی رہے، کہ دوسرے لوگوں کو اُن چیزوں کی بہت کم پرواہ ہے جو آپ کو بہت پیاری اور بھلی لگتی ہیں اور جب میں نے زندگی کے اہم مسائل کے بارے میں اپنے ہم عصروں کی لاتعلقی اور بے حسی کا مشاہدہ کیا تو میں خوش ہونے کے قابل نہ رہا۔۔“

لیکن اِ س سب کے باوجود وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ محبت اور امید پر زندہ رہنے والا شخص تھاجو کائنات میں خوشی اور خیر کو پھیلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ اُس وقت بھی جب اُس کو زدو کوب کرنے والے اور اُس کے چہرے پر تھوکنے والے، پُر تشدد گروہ کے ایک کارکن نے اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجسم شرمساری ہو کر اُس سے معافی کی درخواست کی اور اُس نے اُسے کھلے دل سے اُسے معاف کر دیا کہ اُس کے نزدیک ’انسان کو بنیادی طور پر بھلائی کے لیے پیدا کیا گیا ہے وہ دانستہ کبھی برائی کا انتخاب نہیں کرتا۔۔“ جیل کی اندوہناک اذیتوں کو سہنے والا اور اپنی حالت پہ ہمیشہ سینہ تان کر فخر کرنے والا یہ باہمت اور حوصلہ مند شاعر، جیل کی صفائی کرنے والی اُس بوڑھی عورت کے ذکر پر رو دیا،جس نے ایک بار پیار سے اُس کی گرم پیشانی کو سہلا کر اُس سے اُس کا حال پوچھا تھا اور جس کے اِس عمل پر فوجی پہرے دار اُسے زدوکوب کرتے، گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گئے اور جس کا شفیق چہرہ پھر اِس کے بعد اُس نے کبھی نہ دیکھا۔ یہ سب وہ نمناک آنکھوں سے بڑے دکھ سے بتاتا اور حوصلہ دیتا کہ، ”بد کردار لوگ ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں اورہر بدکردار شخص کے مقابلے میں ہزاروں لاکھوں بھلے لوگ ہوتے ہیں، بالخصوص وہ لوگ جو اُن کے مظالم کا نشانہ بنتے ہیں اور ظلم سہتے ہیں۔۔ وہ سادہ اور معصوم لوگ، جن کی خاطر تمہیں خود اِ س جنگ میں اُترنا پڑتا ہے۔۔“

 اپنی ریاست اور عوام کے لیے خلوص اورسچے دل سے جدوجہد کرنے والا یہ وہ شاعر تھا جس نے یونان میں ایک جمہوری ریاست کے خواب کو تقویت دینے میں اپنا کردار خوب نبھایا۔ اگرچہ جبر و استبداد روا رکھنے والی سیاہ طاقتوں نے اُسے زیادہ جینے کی مہلت نہ دی اورصرف چھتیس سال کی عمر میں اُسے کار ایکسیڈنٹ میں مار ڈالا، تاہم اِ س مختصر سی عمر میں بھی، یہ وہ شخص تھا جودنیا بھر میں، ظلم و نا انصافی کے خلاف مزاحمت کی ایک بلند آہنگ آوازبن کر ابھرا ۔ جس نے اپنے جائز حقوق کے لیے لڑنے اور طاقت کے ناجائز اور کریہہ استعمال کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی وہ تعلیم دی، جس نے تاریخ میں اُس کے نام کو روشن اورامر کردیا۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ کیا ٹائم ٹریولنگ کے ممکن ہو جانے تک، ہمیں ایسے تابندہ اور درخشاں ناموں کے ستارے اپنی جھولی میں جمع کرنے کی اجازت ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں