ماں کے لئے عشق شجر ممنوعہ کیوں ہے؟


میں کون ہوں ؟ میں ہیر ہوں۔ وہی وارث شاہ کی ہیر۔ میں سسی بھی ہوں۔ میں سوہنی بھی ہوں۔ میں اس خطے کی رومان پرور فضا کی ایک تخلیق ہوں۔ میں وہ عورت ہوں جس کے عشق کی داستان اس کے خون سے رقم ہے۔ وہی ہوں جس پر شاعری ہوئی۔ جس کو عشق کا عین سمجھو یا عین عشق کہو۔ جس کو عشق کی لازوال داستان لکھو یا داستان ہو گئی، لکھو۔ مگر میں ہیر ہوں۔ میں زہر کھلائے جانے کے باوجود زندہ ہوں۔ مگر میں کہاں ہوں؟ یہ معرفت والے جانتے ہیں۔

مجھے رانجھے سے جدا کرنے کی کوشش کی گئی اور گمان کیا جاتا ہے کہ میں پھر اس سے کبھی نہ مل پائی۔ انھیں ڈر تھا کہ اگر میں عشق زادی رانجھے کے ساتھ وصال لمحے گزاروں گی تو ہو سکتا تھا کہ میرے یہاں اولاد ہو۔ میری رومان اور شاعری میں بڑی دور تک پہنچ ہے۔ میں وہ بدنصیب ہوں کہ میری داستان تک میں نے نہیں لکھی۔ میں لکھتی تو میں ایک فرضی کردار کو زندہ کر کے روح پھونک کر عاشق سے عورت بنا دیتی۔ میری کوک میں جو رانجھا رانجھا کی صدا ہے وہ رانجھا بھی میں خود ہوں کہ عشق کی چشم کرم سے ہر پتھر دیوتا ہوتا ہے۔

میں محبّت کی دیوی ہوں۔ ہیر پنجاب کا رومانس ہے۔ جانتے ہیں نا کہ اس رومانس کو شاعری میں ڈھالنے والا میرا نام پہلے لیتا ہے۔ کبھی سوچا کیوں ؟ میں بتاتی ہوں عشق عورت کی میراث ہے۔ عشق قابل عزت تبھی ہے اگر عورت کرے۔ مرد کی طرف سے عشق میں پہل ہو تو وہ عشق ہے ہی نہیں۔ عشق تو عورت کی جاگیر ہے۔ عورت کا ترکہ ہے۔ بلکہ عشق خود عورت ہے۔ عشق کی ایک منزل پر جب میں ڈولی میں بیٹھی اپنے رانجھے سے خلوت میں ملاقات کرنے جا رہی تھی تو جانتے ہیں، میرے اپنے چچا نے مجھے زہر کیوں دے دیا ؟ اس کو ڈر تھا کہ میرا عشق بچے جنے گا۔ میں ماں بن جاؤں گی۔ ایک ماں اور وہ بھی مرد پر عاشق ؟ عاشق اور ماں؟ ماں اور اس کا وجود رانجھے میں ضم ؟ ایک مرد میں ضم ؟ نہیں یہ ہماری اقدار کے خلاف ہے۔

ایک ماں عاشق نہیں ہو سکتی۔ ماں صرف ماں ہے، صدیوں سے۔ اس رشتے کے تقدس کا مان میں رکھتی مگر کسی نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں کہ میں اس تقدیس کے قابل ہوں یا نہیں۔ بس مجھے زہر دے دیا۔ کیونکہ میں رومان کی ملکہ تھی۔ ماں بن جاتی تو میرے بچے میرے عشق پر شرمندہ ہوتے۔ کیونکہ ماؤں کو عشق کرنے کی اجازت نہیں۔ اولاد ماں کی ممتا کو بھی کھرے کھوٹے کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔ میں جہاں ہوں، وہاں سے سب دیکھ رہی ہوں۔ اپنے اندر عشق کا بھڑکتا تنور لئے، شوہر کی خدمت کرتی، بچے پیدا کرتی مائیں۔ مگر کبھی اظہار عشق نہ کر پاتی ماؤں کو دیکھ سکتی ہوں کہ وہ اب بٹ گئی ہیں، دو رشتوں میں۔ مگر یہ تقسیم ظاہری ہے باطن میں وہ اپنا رانجھن ہی ہیں۔

میں دیکھ رہی ہوں بیوہ ماؤں کو، میں سمجھ رہی ہوں بچوں کے باپوں سے جدا اکیلی ماؤں کو۔ مائیں عشق نہیں کرتیں۔ بس قربان گاہ پر پاؤں تلے جنّت کے نام پر کسی مرگھٹ پر کفن پہن کر بیٹھ سکتی ہیں۔ میں ہیر ہوں۔ میری محبّت کا بڑا درجہ ہے۔ صد شکر کہ میں ماں نہیں، ورنہ عشق چھن جاتا اور ایک ایسی جنّت جو میرے لئے ہے بھی نہیں، میرے بچوں کے لئے ہوتی۔ اس کی خاطر میں رانجھا رانجھا نہ کر سکتی۔ آج میرا رانجھا میرے پاس ہے۔ میرے اندر سمایا ہوا ہے۔

مگر ایک سوال کا جواب آپ کے ذمہ ہے۔ میں آپ سب کا رومان ہوں۔ میں عشق کا مان ہوں جس کا دم ایک دنیا بھرتی ہے۔ پھر آپ اپنی بیٹیوں کا نام ہیر کیوں نہیں رکھتے۔ آپ شاید ڈرتے ہیں کہ آپ کی بیٹی ہیر بھی ماں بنے گی۔ آپ اور آپ کی نسلیں اس کے عشق سے ہراساں ہیں۔ نہیں آپ بیٹی کے عشق سے نہیں، ماں کے عشق سے ہراساں ہیں۔ مگر کیا کوئی باپ کے عشق سے ہراساں ہوا؟ نہیں ہوا تو کیوں؟

میں اپنے عشق کا انتساب ہر اس ماں کے نام کرتی ہوں جو محض اس لئے ایک جلتے الاؤ کا حصہ بنی ہوئی ہے کہ وہ جوان بچوں کی ماں ہے۔ اکیلی ہے تو کیا ہوا؟ سب جانتے ہیں کہ وہ ایسی فضا میں ہیں جہاں دل کی بات کہنے والی بےشرم سمجھی جاتی ہے۔ جہاں اپنی خواہشات کا دبانا بہت بڑا ثواب خیال کیا جاتا ہے۔ ایک بات بتاؤں! میں بہت خوش ہوں کہ میں مار دی گئی اور رانجھن میرے اندر سما گیا۔ ہے کوئی میرے جیسی خوش بخت! میں نے اپنی ذات میں مامتا اور عشق کے دو ٹکڑوں کو جوڑ کر ایسی تصویر بنا دی ہے جس کے رنگ کبھی پھیکے نہیں پڑ سکتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں