عاصمہ یعقوب مسیح: ایک آوازہ انکار گناہ ٹھہرا ہے


خبر ہے کہ تبدیلئ مذہب اور رشتے سے انکار پر عاصمہ یعقوب پہ تیزاب پھینکا گیا، شان تاثیر کے مطابق عاصمہ یعقوب اس وقت وینٹی لیٹر پہ ہیں جبکہ میری رائے میں عاصمہ یعقوب نہیں یہ معاشرہ وینٹی لیٹر پہ ہے، کبھی ثمینہ سندھو کو مار دیتے ہیں، کبھی عاصمہ رانی کو جینے کا حق نہیں دیتے، کبھی کسی فرزانہ کو عدالت کے باہر مرنا پڑتا ہے اور کبھی کسی آسیہ کو جیل پہنچا دیتے ہیں۔

(تازہ ترین اطلاع کے مطابق 22 اپریل بروز اتوار رات ساڑھے نو بجے، عین اس وقت جب محترمہ رامش فاطمہ “ہم سب” کے لئے یہ سطور تحریر کر رہی تھیں، عاصمہ یعقوب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہو گئیں۔ عاصمہ یعقوب چل بسیں۔ معاشرہ بدستور وینٹی لیٹر پر ہے۔ مدیر و۔ مسعود)

پسند کی شادی، رشتے سے انکار، مذہب کے نام لیوا یا طاقت کے خمار میں مبتلا سب میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان کو انکار سننا اچھا نہیں لگتا۔ جو ان کی مرضی ہے، جو ان کا جی چاہے وہی ہونا چاہیے۔ یہ آپ کو آپ کی مرضی کے برخلاف چھونا چاہیں تو آپ احتجاج مت کیجیے، یہ آپ سے شادی کرنا چاہیں تو ہاں کر دیں، آپ کسی موڑ پہ تعلق ختم کرنا چاہیں تو بھی ایسا ممکن نہیں، آپ رشتے سے انکار کرنا چاہیں یہ بھی آپ کا حق نہیں۔ عاصمہ رانی نہیں جانتی تھی کہ ڈینٹل ڈاکٹر بننے سے پہلے کسی مجاہد آفریدی کے خواب پورے نہ کرنے کی قیمت اس کی زندگی ہے، ثمینہ سندھو نہیں جانتی تھی کہ اگر وہ گلوکارہ ہے تو اسے رقص سے انکار کا حق حاصل نہیں، فرزانہ نہیں جانتی تھی کہ پسند کی شادی کرنے پہ اس کے گھر والے عدالت کے باہر اسے جان سے مار دیں گے، راجن پور کے جوڑے نے کب سوچا ہو گا کہ پسند کی شادی کے دو سال بعد لڑکی کا بھائی اپنے بہنوئی کی ناک کاٹ کر اسے زخمی کر دے گا۔

عاصمہ یعقوب مسیح

ایک عام سی تکرار بڑھتی ہے۔ آسیہ مسیح جیل پہنچائی جاتی ہے ، وقت کا پہیہ مگر گھومتا رہتا ہے، سلمان تاثیر قتل ہو جاتا ہے، ممتاز قادری اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے، اشتعال انگیز تقریر کرنے والا ایک بیانِ حلفی کے بعد آج بھی آزاد ہے اور آسیہ کا نصیب زنداں ہے۔ ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے، ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، اس بیچ کسی کے من کو بھا جاتی ہے، رشتے سے انکار ہوتا ہے ، ڈاکٹر بننے کا خواب لہو میں نہلا دیا جاتا ہے۔ ایک لڑکی کسی کو چاہتی ہے، اس سے شادی کی خواہشمند ہے، سب مخالفتوں کے باوجود شادی کر ہی لیتی ہے، ابھی ڈھنگ سے وہ سب خواب بھی نہیں جی پاتی کہ شادی کے چند روز بعد ہی اس کے گھر والے اسے جلا دیتے ہیں۔ ایک لڑکی تبدیلئ مذہب پہ آمادہ نہیں، آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی آپ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں، من ہی من میں موقع موقع گنگناتے ایک روز تیزاب پھینک دیتے ہیں۔ایک لڑکی کن حالات سے گزرتی ہے، کہیں اپنا شوق کہیں اپنی ضرورت گلوکاری سے پوری کرتی ہے اور بس ایک محفل میں آپ کی مدہوش فرمائش پوری نہیں ہوتی تو اسے مرنا پڑتا ہے۔ یہاں پہنچ کر لکھنے والے کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔

قندیل، زینت، عاصمہ رانی، عاصمہ یعقوب، فرزانہ، ثمینہ…..کچھ وہ ہیں جو خبر بن جاتی ہیں ، کچھ وہ جو بےنام قبروں میں اتار دی جاتی ہیں اور کچھ وہ جو زندہ ہیں مگر زندگی سے دور ہیں۔

جو قتل کر سکتا ہے وہ قتل کرے گا، کوئی خنجر کے وار کرے گا، کوئی تصاویر فوٹوشاپ یا وائرل کرے گا۔ پھر ہم کیوں نہ کہیں کہ مصنوعی تنفس پہ تو یہ معاشرہ جی رہا ہے جس کا اجتماعی شعور پسماندہ ہے، جس کی بنت جگہ جگہ سے ادھڑ چکی ہے ، جو علاقے زبان نسل سے بالاتر کم از کم اِس ایک معاملے پر متفق ہے کہ انکار کا مطلب موت یا تذلیل ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں